Uncategorized
Leave a Comment

میڈیا اور ہم


تحریر:ساحرہ ظفر

اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی تو میں نے زبردستی آنکھیں کھولنے  کی کوشش کی تاکہ نماز پڑھ  سکوں زبردستی اُٹھی اور نماز پڑھنے کا ارادہ کیا  نماز ادا کی تو  گھڑی میں  وقت  کافی آگے نکل جانے کا اشارہ دے رہا تھا۔جلدی جلدی   نا شتہ بنایا  اور ساتھ ساتھ گھر کے ضروری کام  نمٹانا شروع کیے ابھی دفتر  جانے کا کافی وقت تھا۔

حسب معمول  ٹی وی آن کیا تو ریموٹ سے چینلز  آگے پیچھے کیے خبروں کے چند چینلز  پر عوامی نمائندے اپنے ساتھیوں کو ایسے القابات سے نواز رہے تھے جسے کوئی بھی ذی شعور انسان دیکھے تو اُس کو اپنے اُوپر شرم آئے کہ ہم نے کن لوگوں کو اپنی خدمت کے لیے چُنا ہے۔

حنیف عباسی  جو پاکستان مسلم لیگ کے  ساتھ کافی عرصے سے منسلک ہیں اُن کا بیان میڈیا بار بار دکھا رہا تھا  جو مسلسل کہہ رہے تھے کہ شیخ رشید  راولپنڈی کا میراثی اور عمران خان اسلام آباد کا آوارہ کنوارہ ہے جبکہ دوسری طرف عابد علی شیر کہہ رہے تھےبلاول اپنی آنٹی آیان علی خان سے پوچھو  وہ کس کی کرنسی ملک سے باہر لیکر جا رہی تھی اُسی کے جواب میں پاکستان پیپلز پاڑٹی کے رہنما میاں سومرو    وزیراعظم کو وارننگ دیتے ہیں اور کہہ رہے ہیں اپنے اس منہ پھٹ وزیر کو کہو کہ زبان کو لگام دے ورنہ اس کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔

ہارن کی آواز آئی ٹی وی بند کیا اور جلدی جلدی میں اپنا بیگ لیا سآکر گاڑی میں بیٹھ گئی  راستے میں  مسلسل اپنے نمائندوں کے رویے کے بارے میں سوچے جا رہی تھی  کہ اچانک  گاڑی بند ہو گئی چاچا نے گاڑی کو  ٹھیک کرنے کی کوشش کی اور ساتھ میں مجھے گاڑی سے باہر نکلنے کا کہا تاکہ وہ گاڑی کو کھول کر دیکھ سکیں باہر نکلی تو چند گلی کے بچے ساتھ ہی چھوٹی سی گلی میں کھیل رہے تھے میں نے اُن  سے بات کرنے کے لیے آگے قدم بڑھایا ہی تھا کہ تینوں بچوں نے آپس میں لڑائی شروع کر دی ایک بچہ دوسرے کو کہتا ہے ٹھیک ٹی وی والے انکل کہہ رہے تھے کہ راولپنڈی والے میراثی ہوتے ہیں ابھی اُس نے بات پوری ہی نہیں کی تھی کے ایک گبھرو نوجوان  آیا اور کہنے لگا اوئے تم ہوتے کون ہو پنڈی والوں کو ایسا کہنے والے چھوٹے ہو تو چھوٹے ہی رہو اسی کشمکش میں بچوں کے والدین بھی آگئے بات ہاتھا پائی اور گالیوں تک پہنچ گئی۔

میں بغیر کچھ کہے بولے وہاں سے آگئ اور گاڑی میں بیٹھے پورے راستے یہ سوچ  رہی تھی کہ ہمارے نمائندے جو عوام کی خدمت کا حلف لیتے ہیں وہ ہماری آنے والی نسل  کو کیا سبق سکھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف میڈیا مسلسل ایسے لوگوں کو کوریج دے رہا ہے جو اس کے قابل ہی نہیں ہیں تیسری طرف ہمارے معاشرے کو مار ڈار کا سبق سکھایا جا رہا ہے۔

ان سارے معاملات میں ذمہ دار ادارہ اور ذمہ دار  نمائندے معاشرے کے لیے  نہ  گرنے والی دیوار تعمیر کر رہے  ہیں جس کی تعمیر نو کے لیے شاید پھر 62 سال انتظار کرنا ہو گا۔

 

 

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s