Uncategorized
Leave a Comment

چیف جسٹس کی کرپشن کہانی


 

اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو سکتا ہے؟ خود چیف جسٹس کہہ دے کہ اس ملک میں ہر طرف کرپشن کا راج ہے مگر اس کرپشن کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہ کرتا ہو، اپنی پگڑی پر داغ نہ لگے اس لیے پانامہ پیپرز کیس پر کوئی فیصلہ نہیں دیتے مگر کہتے ہیں کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے اس دیمک نے ملک کو چاٹ لیا ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے فائر بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر میں آگ لگ جائے اور وہ آگ بجھانے کے بجائے پولیس کو مدد کے لیے پکارے بلکہ مس کال مارے، ایسے ہی ہے جیسے تھانے میں گھس کر ڈاکو تمام پولیس والوں کو لوٹ کر لے جائیں اور وہ پولیس والے اپنی سیکورٹی کا مطالبہ کر دیں۔ یہ ایسے ہی ہوا جیسے کوئی خود کش بمبار کسی فوجی کے پاس جا کر کہے جناب میرا یہ بٹن ٹھیک کام نہیں کر رہا جس سے جیکٹ پھٹ سکے ، فدوی جنت میں جانے کے لیے آپ کی مدد کا خواستگار ہے برائے مہربانی اسے ٹھیک کر دیں۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے ملک کا کوئی نامور معالج لاکھوں روپے فیس لینے کے بعد اپنے مریض کو بتائے آپ کا مرض خطرناک سٹیج پر جا چکا ہے اس لیے بہتر ہو گا اب آپ کسی ڈاکٹر کا بندو بست بھی کر لیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ٹیچر بچوں کے والدین کو بلا کر بتائے کہ آپ کا بچہ پڑھنے میں بہت اچھا ہے لیکن اسے کسی اچھے استاد کی ضرورت ہے آپ کہیں تو میں کوئی اچھا استاد تلاش کرنے میں آپ کی مدد کروں؟
چیف جسٹس صاحب نے کرپشن کی بات تو کر دی، اس کا حل نہیں بتایا۔۔ اس کے لیے کوئی اچھا نظام انصاف تجویز نہیں کیا ، کہتے ہیں کرپشن کو ختم کرنا ہو گا۔ بھلا بتایئے، نائی کے پاس بال کٹوانے جائیں وہ آپ کو کرسی پر بٹھا کر چادر آپ کی گردن پر باندھے اور پھر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جائے، آپ پوچھیں تو وہ کہے بھائی صاحب آپ کے بال بہت اچھے ہیں انہیں کاٹنے کو دل بھی چاہ رہا ہے لیکن کیا کروں کسی اچھے نائی کا بندوبست کرنا ہوگا۔
واہ صاحب۔ گھر میں چوری ہوئی ہو، آپ پولیس سٹیشن جائیں اسے بتائیں کہ آپ کے گھر چوری ہوئی ہے۔ وہ آپ سے ساری تفصیل سن کر تاسف میں سر ہلا کر کہے، دل تو بہت چاہتا ہے آپ کی رپورٹ درج کر لوں مگر کوئی فائدہ نہیں ۔۔ دو ہفتہ پہلے میرے گھر چوری ہوئی ، میں نے رپورٹ درج نہیں کی، میں چور کو جانتا بھی ہوں لیکن کیا کروں کوئی اچھا پولیس والا ملتا ہی نہیں جو اسے پکڑ لے۔۔ ویسے آپ کوشش کریں چور کو پکڑنے کی پھر دیکھتے ہیں، میں آپ کی کیسے مدد کرسکتا ہوں۔
ٹریفک بلاک ہوئی ہو، آپ نظر دوڑائیں آپ کو ٹریفک پولیس کا اہلکار سامنے کھڑا دکھائی دے ۔۔ آپ اسے ٹریفک بلاک ہونے کا بتائیں تو وہ جواب میں رو نے لگ جائے۔۔ آپ کے گلے لگ کر کہے اس سڑک پر ٹریفک کا یہی مسئلہ ہے کل وہ بیمار بیٹے کو ہسپتال لے کر نہیں جا سکا کیونکہ کوئی ٹریفک کنٹرول کرنے والا نہیں تھا اور سڑک پر رش بہت تھا، اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ان لوگوں میں ڈرائیونگ کا شعور آ جائے۔ آپ اسے کہیں کہ آپ خود ٹریفک کیوں کنٹرول نہیں کرتے تو وہ کہے میں حالات پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ کنٹرول کو اطلاع کر دی ہے امید ہے جلد ہی کوئی ہماری مدد کرنے آئے گا۔
آپ قصاب کی دکان میں داخل ہوں وہ آپ کا استقبال کرے، آپ کو دکان میں بٹھا کر خود چائے لینے چلا جائے، واپسی پر پوچھے خیریت سے آئے ہیں۔۔ آپ چانپ یا ران کا گوشت لینے کی خواہش کا اظہار کریں تو وہ کہے جناب آپ کی چوائس بہت شاندار ہے میں بھی کئی روز سے چانپ کا گوشت کھانے کو ترس رہا ہوں، آپ کو ملے تو مجھے بھی بتائیے گا۔ آپ اگر اسے بتائیں کہ جناب آپ کی دکان میں اتنے سارے بکرے لٹک رہے ہیں ان میں سے کسی ایک کا گوشت عنایت کر دیجئے تو وہ کہے جناب میں گوشت دیکھ تو سکتا ہوں کاٹنے سے قاصر ہوں اگر کوئی قصاب مل جائے تو کیا بات ہے؟ پھر میں یہ سارے بکرے آپ کو دینے کے لیے تیار ہوں۔
چیف جسٹس صاحب کی بے بسی دیکھ کر تو پرانی پاکستانی فلموں کا منظر یاد آ گیا جب ڈاکٹر صاحب آپریشن تھیئٹر سے باہر آ کر ماسک اتار کر گہرا سانس لینے کے بعد مریض کے رشتے داروں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے اب انہیں دواؤں کی نہیں دعاؤں کی ضرورت ہے۔ چیف صاحب کی یہ بات سن کر تو شدید سردی میں بھی سیاچین گلیشئیر پگھل سکتا ہے ، اتنے جذبات۔۔ سبحان اللہ۔۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ مسجد میں نماز پڑھنے جائیں ۔۔ مولوی صاحب آپ کو ہاتھ پکڑ کے اگلی صف میں لے جائیں اور آپ سے فرمائش کریں نماز کا وقت گزر رہا ہے جناب آپ امامت کیوں نہیں فرماتے۔ آپ انہیں بتائیں جناب امام آپ ہیں تو وہ شرما کر بولیں آہستہ بولیں جناب ، کیوں شرمندہ کرتے ہیں میں مولوی ضرور ہوں پر نماز پڑھانے اور دعا کرنے سے قاصر ہوں اس کے لیے کسی معزز شخصیت کا انتظار کر لیتے ہیں۔سبزی لینے جائیں تو سبزی والا اپنی سبزی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دے ، آپ آدھا کلو بینگن ، آدھا کلو شلغم مانگیں تو وہ کہے جناب سبزی تو شاندار ہے لیکن کیا کروں فروخت کیسے کرنی ہے مجھے اس کا طریقہ نہیں معلوم، آپ کسی سبزی والے سے رابطہ کرلیں۔
چیف صاحب کا یہ بیان پڑھ کر نیب کی جانب سے بھیجے جانے والے ایس ایم ایس کا مطلب سمجھ میں آیانیب بھی جو کہہ رہا ہے کرپشن سے انکار کیجئے۔۔ اس کا بھی مطلب یہی ہے جو چیف جسٹس صاحب کا تھا ۔۔یعنی بھائی کرپشن ختم کرنی ہے تو ہمارے پہ نہ رہئے گا، خود ہی کچھ نہ کچھ کرتے رہیں۔ انشاء اللہ کسی نہ کسی دن معاشرہ ضرور کرپشن سے پاک ہو جائے گا۔ ملک کا قاضی بھی کہے جناب ملک میں کرپشن بہت ہے ، امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہے بس سب دعا کریں کہ حالات ٹھیک ہو جائیں۔ ٹھیک ایسے جیسے وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کہتے ہیں گرمی بہت ہے عوام بارش کی دعا کریں تاکہ اے سی کم چلیں اور لوڈ شیڈنگ بھی کم ہو جائے ورنہ ہمارے بس کی بات تو نہیں۔
اس ملک کے حالات پر کڑھنے والے قاضی صاحب یعنی چیف جسٹس صاحب اب رخصت ہونے لگے ہیں انہیں کوئی پوچھے تو سہی ۔۔ جناب اس وقت ملک بھر کی عدالتوں میں تئیس لاکھ سے زیادہ کیسز زیر التوا ہیں۔ ملک میں کرپشن کا رونا آپ نے رو لیا، ان کیسوں کو نمٹانے میں آپ کا کیا کردار رہا؟ کیا آپ کا کام صرف خرابیوں کی نشاندہی کرنا ہے یا ذمہ داران کو سزا دینا بھی آپ کے فرائص میں شامل ہے۔ خدا کے لیے اب بس کریں۔
اس ملک میں سیاسی جماعتیں بھی اللہ کی نعمت ہیں۔ جنہیں مے فیئر فلیٹس نظر آتے ہیں انہیں سرے محل، سوئس اکاؤنٹس ، ایس جی ایس کوٹیکنا، اے آر وائی گولڈ ریفرنس جیسی چیزوں کا معلوم نہیں، انہیں یہ معلوم نہیں بحریہ ٹاؤن لاہور میں کیوں ملک ریاض نے ایک پارٹی سربراہ کو دو سو کنال کا محل تعمیر کر کے دیا۔ ایک دوسرے پر الزامات لگا کر بھی یہ تمام افراد شرفاء میں شمار ہوتے ہیں، ۔۔
ہمیں انصاف مانگنا ہے تو کس سے مانگیں؟ جب سب چور ہیں ، سب کہتے ہیں ن لیگ والے چور ہیں، ن لیگ کہتی ہے الزام لگانے والے سارے کے سارے خود چور ہیں۔ تو پھر ٹھیک کون ہے؟۔ نیب نے کرپشن ختم کرنے کا عہد کیا ہے مگر پلی بارگین کے ذریعہ کرپشن کو فروغ دیتا ہے۔ عدالتوں نے کرپٹ افراد کو سزائیں دینی ہیں مگر وہ ایسی ایجنسی کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ فلاں شہر میں فلاں جگہ دہشت گردی کی واردات ہونی ہے لیکن اس دہشت گرد کو نہیں روک پاتی۔ دھماکہ ہو جاتا ہے ، بالکل ایسے ہی عدالتیں بھی کہتی ہیں کرپشن عروج پر ہے مگر کرپٹ افراد کو سزائیں نہیں دیتیں۔
اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ جس نے اصلاح کرنی ہے وہ خود اصلاح احوال کا رونا روتے ہیں، جنہوں نے آگ بجھانی ہے وہ فائر فائٹر کا انتظار کرتے ہیں،کمال کا نظام ہے۔ مجھے یاد آیا سعودی عرب سے آنے والے ایک صاحب نے بتایا ایک خوانچہ فروش کے پاس کیلے نظر آئے اس سے نرخ معلوم کرنے کے بعد اسے کہا یہ سارے کیلے پیک کر دو تو وہ عربی سوداگر بولا اگر سارے کیلے تمہیں فروخت کر دیئے تو میں سارا دن کیا بیچوں گا؟
اپنے جج صاحبان کا بھی یہی حال دکھائی دیتا ہے ، ان کی الوداعی تقریر بتاتی ہے وہ کہنا چاہتے تھے کرپشن بہت ہے لیکن اگر ہم نے کرپٹ افراد کو سزائیں دے دیں اور اس کے نتیجہ میں کرپشن ختم ہو گئی تو پھر آنے والے جج صاحبان کے پاس تقریر کرنے کے لیے کیا موضوع بچے گا؟
ویسے بھی ملک کو کرپشن فری بنانا ہے تو کرپشن کو فری کرنا ہوگا، بس اسی مقصد کو پورا کرنے کی کوشش سب کیے جارہے ہیں۔ تو چلیں جاری رکھیں یہ کوششیں۔۔ ایک دن تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
شہریاریاں ۔۔۔شہریار خان

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s