Uncategorized
Leave a Comment

فلاحی مملکت کا خواب شرمندء


۔ تعبیر ہوتے ہوتے ملک میر و جعفر کی بدولت دو لخت ہو گیا اور اپنے پیچھے بہت کم رونے والے چھوڑ گیا۔ قائد۔ اعظم کی جیب کے کھوٹے سکے ابتدائے آزادی سے ہی سامراج کی اطاعت میں اقتدار پر اپنے راستے سے لیاقت علی خان جیسے لوگوں کو سازش کے تحت ہٹا کر اقتدار کی راہ ہموار کرنے لگے اور بالآخر فوج جسے سامراج کسی بھی کم ترقی یافتہ ملک کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے لبیک کہتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہو گی۔ کھوٹے سکوں کی اولین شکل تو روائتی جاگیردار تھی بعد میں یہی ٹولہ صنعت کار بیوروکریٹس جرنیل سیاستدان اور صحافت کے ماسک پہن کر معاشرے کے سامنے اپنا اصل جاگیردارانہ چہرہ چھپانے میں کامیاب ہو گیا اور آج یہ سارے لوگ آپس میں اس طرح رشتے داریوں میں بندھے ہوئے ہیں کہ بظاہر اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی بالواسطہ اقتدار میں ہی نظر آتے ہیں۔ باپ جرنل ایک بیٹا ایک پارٹی میں دوسرا دوسری پارٹی میں یعنی خود ہی اسٹیبلشمنٹ خود ہی سیاستدان۔ اس صورت۔ حال میں اگر کسی بھی کمیشن رپورٹ کا سامنے نہ آنا عین منطقی ہے اس گھر کو آگ لگ گئ گھر کے چراغ سے آدھا پاکستان مختلف ٹرکوں کی بتیوں کے پیچھے گزشتہ تقریبآ دس دہائیوں سے مسلسل دوڑے جا رہا ہے۔ اور کسی نجات دہندہ کی تلاش تک بھاگتا اور بہتر مستقبل کے حصول کی خاطر ایڑھیاں رگڑتا ہی رہے گا تا وقتیکہ عوام ایک مناسب حد تک باہر نہ نکلے تا کہ اللہ کو قرآن میں اپنے کئے ہوئے تقدیر۔ قوم بدلنے کے وعدے پر راضی کیا جا سکے ۔ یہ تعداد بیس کروڑ کی آبادی میں دس لاکھ مرکز میں اور پچاس پچاس ہزار ہر ضلع میں ہو سکتی ہے۔ جس نجات دہندہ کو ہم ڈھونڈ رہے ہیں وہ کسی غلیظ “پولیٹیکل پراسس” میں سے نہیں نکلے گا بلکہ اللہ عوامی کوشش کے عوض اور اپنے فضل سے اسطرح عطا کرے گا جیسے کیچڑ سے کنول کھلاتا ہے۔ موجودہ لیڈرشپ اور بوقت۔ آزادی قیادت کا موازنہ کچھ یوں ہے کہ بھٹو کے الیکشن کے زمانے میں پی این اے ستاروں کے اتحاد میں شامل مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم اور مفتی محمود مرحوم کے بارے ایک روشن خیال مولوی مولانا کوثر نیازی نے ایک بیان دیا کہ اگر مذکورہ بالا مولانا حضرات اکٹھے نماز پڑھ کر دکھا دیں تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ کچھ دن بعد لاہور آئر پورٹ پر ان دونوں ہستیوں نے شاہ احمد نورانی کی امامت میں نماز پڑھی اور بیان دیا کہ لیں ہم نے اکھٹے نماز پڑھ لی۔ کوثر نیازی نے جواب دیا کہ شاہ احمد نورانی اگر مفتی محمود کی امامت میں نماز پڑھیں تب استعفی دے دوں گا ۔ اور پھر ایسا کبھی نہ ہوا اور اب تک شائد نہ ہو سکے۔ دور۔ حاضر کی جو لیڈرشپ ہے وہ یا تو سابقہ فوجیوں یا فوج کی ہی نرسریوں میں پل کر جوان ہوئ ہے۔ ان میں اتنا ویژن نہیں جتنا درکار ہے۔ لیفٹ ونگ لیڈرشپ زندہ اس لئے ہے کہ دنیا کو یہ دکھانا ضروری ہے کہ ہم لبرل ہیں ورنہ بھیک نہیں ملے گی ۔ اور جو رائٹ ونگ ہے وہ بڑے میاں سبحان اللہ کی مانند ہے۔ اور قرار داد۔ مقاصد کی روح سے کوسوں دور ہے۔ پاکستان کے آغاز میں ایک مرتبہ تبلیغی جماعت کے روح۔ رواں مولانا الیاس مرحوم اور مولانا مودودی مرحوم اکٹھے سفر کر رہے تھے تو مودودی صاحب نے الیاس صاحب کو دعوت دی کہ ہم دونوں کے مفادات ایک ہیں آپ ہماری جماعت میں مل جائیں تو اس پر الیاس مولانا نے جواب یہ دیا کہ ہم آپ کے مقاصد کے لئے ہی اینٹیں اکٹھی کر رہے ہیں۔ آج مدت ہوئی نہ ہی جماعت۔ اسلامی ہی ملک کو اسلامی نظام دے سکی اور نہ ہی تبلیغی جماعت اس قدر اینٹیں جمع کر سکی کہ اسلامی فلاحی مملکت۔ خداداد ریاست معرض۔ وجود میں آ سکتی۔ بلکہ دوسری اسلامی سیاسی پارٹیاں دو دو اینٹ کی اپنی اپنی مساجد بنا کر ان میں قید ہو کر رہ گئیں۔ لیڈر شپ کے بارے کہا جاتا ہے کہ نظام کو چلنے دیا جائے لو بخود چھلنی میں اوپر صیح قیادت رہ جائے گی اور گند صاف ہو جائے گا۔ یا ہم سب انفرادی طور پر ٹیک ہو جائیں تو معاشرہ بہتر ہو جائے گا۔ پولیٹیکل پراسس سے یا خود کی صلاح سے معاشرہ سدھرنے کی ہمارے پاس کوئ مثال نہیں۔ دنیا میں اگر کسی قوم نے ترقی کی ہے تو لیڈر شپ کے تحت کی ہے وہ قیادت رب کی عطا تھی اس کوشش کے عوض جو اس ملک کے عوام نے کی۔ اگر یہ قاعدہ نہ ہوتا تو قوموں کی طرف پیغمبر نہ آتے۔ الغرض اب جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ماسک پہنے جاگیردار، مذہبی و سیاسی سپانسران اور سیاسی آقا مل کر پاکستان کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں تو پھر لمحہ۔ فکریہ یہ ہے کہ کیا کیا جائے؟ گندگی کی جب انتہا ہو جائے یا اندھیرا گہرائ پکڑ لے تو کنول کا کھلنا اور سویرا ہونا ٹھر جاتا ہے ۔ پاکستان میں گندگی اپنی حدوں کو اور اندھیرے گہرائیوں کی انتہا کو چھونے لگے ۔ سچی آوازیں کہیں کہیں سنائ دینے لگی ہیں مگر ہمیں ایک قدم آگے بڑھ کر لوگوں کو یہ ببانگ۔ دہل بتانا ہو گا کہ پاکستان آزاد نہیں ہے ۔ آؤ ہم جو اہل۔ وفا ہیں آزاد پاکستان کا نعرہ پوری شد و مد کے ساتھ بلند کریں تا کہ سچے پاکستانی ملکی سطح پر نکلیں اور پھر سامراجی اور استعماری قوتوں سے پاکستان کو پہلے آزاد کرا کر پھر اقبال اور قائد۔ اعظم کے پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں۔

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
ہمیں تلاش تھی جس کی یہ وہ سحر تو نہیں

تحریر: میجر ریٹائرڈ طارق احمد

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s