Uncategorized
Leave a Comment

کسی ملک کو تباہ کرنا ہو تو سب سے پہلے اس کی شناخت ہر حملہ کرو


اس بات کی اہمیت سمجھنے والے بہت تھوڑے ہیں آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں

1947ء سے پہلے ہمارے پاس کوئی ملک نہیں تھا محض ایک نظریہ تھا کہ ہم بطور مسلمان ہندو سے الگ شناخت رکھتے ہیں … آپ دیکھ لیجیے کہ اس نظریے میں اتنی طاقت تھی کہ اسنے ایک ملک حاصل کر لیا

1971ء میں ہماری شناخت زبان کے بل پر تقسیم کی گئی … جب مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کو بہکایا گیا کہ تم … بنگالی … ہو اور ملک تقسیمِ کر دیا

کسی قوم کی شناخت میں دو چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں عقیدہ یا مذہب اور زبان

پاکستان کے چالاک اور عیار دشمن اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں اور نہایت خوفناک اندازہ میں ہماری شناخت پر حملہ آور ہیں … ان کا یہ حملہ ہماری مذہبی شناخت پر ہی نہیں بلکہ ہماری زبان پر بھی ہے مذہبی شناخت پر حملے میں مختلف مسالک کے درمیان نفرت اور خونریزی کا ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا ہے

لیکن زیادہ خطرناک حملہ ہماری زبان یعنی اردو پر ہے .. آپ نوٹ کیجیے کہ پاکستان کو مذہبی بنیاد پر نہیں توڑا جا سکا ہے لیکن زبان کی نبیاد پر صرف ایک بار توڑا جا چکا ہے بلکہ اب دوبارہ بھی ویسے ہی حالات پیدا کیے جا رہے ہیں

بنگال ہم سے زبان کی بنیاد پر الگ کیا گیا ….

بلوچستان میں زبان کی بنیاد پر فساد پیدا کیا جا رہا ہے ….

خیبر پختوںخوا کی اے این پی اور سندھ کی جسقم وغیرہ بھی ….
زبان کی بنیاد پر بغاوت اور الگ شناخت کی بات کرتی ہے ….

اردو پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے اور ایک باقاعدہ مسلط کی گئی جنگ سے زیادہ خطرناک حملہ ہے … ہمارا یہ نعرہ تھا کہ ہم سب مسلمان ہیں اور ہماری زبان اردو ہے جس کو بدل دیا گیا اور .. پنجابی .. پٹھان .. سندھی .. اور .. بلوچی .. میں لوگوں کو تقسیمِ کر دیا گیا .. اردو کو قومی زبان تو بنا دیا گیا لیکن اس کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا جا سکا تعلیم کی بات کریں تو ہمارے ڈاکٹر اور انجینیرز اردو زبان کے بجائے انگریزی میں تیار کیے جا رہے ہیں .. اردو کو رومن انداز میں لکھنے کو عام کیا جا رہا ہے .. اور عام اردو میں اتنے انگریزی کے الفاظ شامل کیے جا رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ اردو اور انگریزن کا ایک نیا مکسچر سامنے آئے لگا ہے

یہ ساری صورت حال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں اپنی شناخت کے معاملے میں جار حانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے .. ہمیں اپنی اردو کی حفاظت کرنی ہے .. ہم نے بطور پاکستانی ایک بار پھر خود کو یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ … ہم مسلمان ہیں اور ہماری زبان اردو ہے … یہی بطور پاکستانی ہماری شناخت ہے .. اور اس شناخت کی ہم نے حفاظت کرنی ہے اور اس پر ہمیں فخر بھی ہونا چاہئے

تاکہ پھر کوئی اندر گاندھی یہ نہ کہہ سکے کہ .. ہم نے پاکستان کو خلیج بنگال میں غرقِ کر دیا

یاد رکھیے اگر اردو کمزور پڑ گئی تو آپ کو بکھرتے دیر نہیں لگے گی

تحریرa ABBASi

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s