Uncategorized
Comments 3

اغواشدگان۔۔۔


 

تحریر:سا حرہ ظفر

آئین پاکستان کسی کو یہ اختیارنہیں دیتا کہ کوئی خود ہی کسی پر الزام بھی لگائے خود ہی عدالت لگائے اور پھر اغوا کر لے اور زیادہ غصہ آئے تو قتل بھی کر دے۔ملک یا مذہب کی خدمت کر نے کایہ طریقہ کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔

سائبر سیکورٹی این جی او کے مطابق وقاص گورائیہ اور عاصم سعید  کو 4 جنوری  سلمان حیدر کو 6 جنوری اور احمد رضا نصیب کو 7

جنوری  کو اغوا کیا گیا ہے۔

ایک طرف نیوز چینلز اور اخبارات ہیں جو اغوا شدگان کو بلاگرز اور سماجی کارکنوں کے نام سے پکار رہے ہیں اوردوسری طرف سوشل میڈیا پر اغوا ہونے والے افراد کے خلاف دن رات ایک تحریک چلائی جا رہی ہے جس میں ان افراد پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے توہین رسالت کی ہے۔

یہ ساری کہانی فیس بک اور ٹوئیٹر پر موجود پیجز بھینسا،موچی او ر روشنی کے گرد گھومتی ہے جن کے ایڈمن وقاص گورائیہ،پروفیسر سلمان حیدر اور عاصم سعید تھے ۔اب نہیں ہیں کیونکہ انہیں اغوا کرنے کے بعداغوا کاروں نے اُن سےصفحات  کا خفیہ کوڈ حاصل کر کے سارا مواد نکال  دیا ہے

سلمان حیدر فاطمہ جناح یونیورسٹی کے پروفیسر اور   بہت اچھے لکھاری ہیں وہ اکثر بلوچستان میں اغوا ہونے والے لوگوں اور کراچی میں ریاستی اقدامات پر کھل کر بولتے تھے۔

سب سے پہلے وقاص گورائیہ لاپتہ ہوئے جو ہالینڈ میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہیں ۔ وہ اسی روز پاکستان پہنچے تھے کہ انہیں لاہور میں ان کے گھر سے اٹھالیاگیا ۔اسی طرح عاصم سعید کو بھی ان کے گھر سے اغوا کیا گیا۔ یہ سنگا پور کی ایک کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز ہیں   اپنی فیملی سے ملنے پاکستان آئے تھے ان پر الزام لگایا جا رہاہے کہ وہ بھینسا نامی فیس بک پیچ چلاتے تھے جس پر توہین مذہب اور توہین رسالت کی جاتی تھی۔ اغواکے بعد اس پیج کا ایڈمن تبدیل ہو گیا ہے اور پیج کے تعارف میں لکھا ہے کہ اب اس پیج کی مالک ایلیٹ سائبر فورس آف پاکستان ہے۔تمام توہین آمیز مواد ہٹا دیا گیا ہے۔پاکستان اور اسلام زندہ باد۔

اس پیج پر ایک پوسٹ شائع کی گئی ہے جس پر سلمان حیدر، وقاص گورائیہ اور عاصم سعید کی تصویر ہے اور اس کے نیچے لکھا ہے یہ تین لوگ اس نیٹ ورک(بھینسا نیٹ ورک) کا حصہ ہیں جس کا کام پاکستان دشمن قوتوں سے ڈالر پکڑ کر اسلام اور پاکستان کی نظریاتی اساس کو نشانہ بنانا ہے۔سماج کے لئے ان کارکنوں کی خدمات بھینسا، روشنی،موچی اور ٹھاہ جیسے پیجز ہیں جہاں سے توہین رسالت، توہین اللہ، شعائر اسلام کی توہین اور پاکستان کے خلاف توہین آمیز مواد کا پراپیگنڈہ کرنا ہے۔

حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اغوا ہونے والے افراد کو بازیاب کرائے اور اس معاملے میں جو بھی گناہ گار ہے اسے کڑی سے کڑی سزا دلوائے ۔تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے 14 جنوری کو میڈیا کے ساتھ گفتگو فرماتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حساس او رپیچیدہ معاملہ ہے اسلئے لواحقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں یعنی حکومت کی طرف سے جواب ہی سمجھیں جو دل میں آئے گا وہ کیا جائے گا۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ سب افراد گناگار تھے سب  نے بہت بڑے گناہ  کیے لیکن کیا کسی بھی قصور وار کی سزا یہ ہے اُسے اغوا کر لیا جائےکوئی قانون ایسا نہیں ہے جو ان لوگوں کو قانون و قاعدے کے مطابق سزا دے سکے۔

میں سمجھتی ہوں  ہوں کہ سلمان حیدر نام کا شخص اور دوسرے لوگ  جو کہ ڈھیر سارے شواہد کے ساتھ بھینسا یا اس طرح کے کچھ اور توہین آمیز پیجز بھی چلا رہا تھا اس کو اغوا کرنے کی بجائے باقاعدہ گرفتار کرنا چاہئے تھا

قانون  کے مطابق سزا دینی چاہیں۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

3 Comments

  1. I agree ak aisa qanun bna chaea k hamri agencies ko logo ko gaib na karna pary media k samny girftar kary aur qanun ijzat ho dono parties ko apny maquf k difa ki

  2. عمرحیات says

    ماشااللہ کافی اچھا لکھا اور صاف گوئی سے کام لیا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s