Uncategorized
Comment 1

(اسفند یار خان(ایس ایل پی طالبعلم


 

تحریر:ساحرہ ظفر:

میرے ابو ایک مزدور ہیں۔میری پیدائش سے پہلے والد صاحب ایک کوٹھی میں کام کرتے تھے۔مالک نے کام کے ساتھ رہنے کے لیے سرونٹ کواٹر دیا   اس وجہ سے امی بھی ابو کے ساتھ اسلام آباد آگئی ۔

کچھ عرصے میں میری پیدائش  ہوئی  میرا نام بھی اُن آنٹی نے رکھا تھا جن کے گھر میں  ہم رہتے تھے۔کچھ عرصے بعد  ابو  کی نوکری چُھوٹ گئی  ہم سب گاؤں چلے گئے۔

گاؤں میں پڑھنے لکھنے کا کوئی اتنا خاص رواج نہیں تھا  اور  سکول نہ ہونے کے برابر تھے  ابو شہر میں نوکری ڈھونڈتے رہے آخر کار ابو  ایک دفعہ پھر نوکری ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جس سے ہمارے گھر کا خرچ  آرام سے چل سکتا تھا ہم  دوبارہ گاؤں چھوڑ کر شہر آگئے  اور کرائے کے گھر میں  رہنا شروع کر دیا   والد صاحب کو پڑھانے کا بہت شوق تھا انہوں نے ہم دونوں بھائیوں کو سکول میں پہلی کلاس میں  داخل کروایا  چھوٹے بھائی نے کچھ دن سکول جانے کے بعد صاف انکار کر دیا کہ وہ اب سکول نہیں جائے گا لیکن مجھے سکول جانے کا بہت شوق تھا میں نے   اپنے  سکول جانے اور سیکھنے کو اپنا مقصد بنا لیا   ۔

کچھ مہینے بعد سکول والوں نے کہا کہ کل آپ نے   پیسے جمع کروانے ہیں کیونکہ آپ کے سکول کا فنڈ بڑھ گیا ہے اس طرح روز اساتذہ ایک نئی رسید ہاتھ میں تھما دیتے کبھی کاپیاں اور کبھی کتابیں لانے کا کہتے

مجھے اپنے  گھر کے حالات کا پتا تھا کہ میرے والدین کتنی مشکل سے میری فیس پوری کرتے ہیں   میں نے تنگ آکر سکول چھوڑ دیا ۔

ابو نے گورنمنٹ سکول میں میرے داخلے کا پتا  کیا لیکن  بے فارم نہ ہونے کی وجہ سے   میرا  داخلہ وہاں بھی نہ ہو سکا اب میں تھک ہار کر ابو کے ساتھ مزدوری کرنے لگا  لیکن ایک آس اور یقین اب بھی تھا کہ میں سکول ضرور جاؤں گا ۔

تقریبا 10 سال میں نے  ابو کے ساتھ مزدوری   کی اس دوران مجھے بہت شرمندگی ہوتی جب  حساب کتاب کے چھوٹے  چھوٹے معاملات مالک لکھنے کے لیے کہتا تو میں لکھ نہیں پاتا اس طرح اکثر موقعوں پر بہت باتیں سُنی پڑتی ۔

مزدوری کے دوران میرے ایک دوست نے   بتایا کہ سکیم تھری میں ایک سکول ہے جو بچوں کو مفت پڑھاتے ہیں  میں نے جونہی یہ بات سُنی تو دوسرے دن سکول  میں داخلہ لے لیا  مجھے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا تھا میں اپنی کلاس میں سب سے بڑا تھا  لیکن اس کے باوجو میں نے  اپنی پڑھائی کا ایک سال پورا کیا اب اللہ کا شکر ہے نہ صرف میں اپنا نام لکھ سکتا ہوں بلکہ میں نویں کلاس کا طالب علم ہوں  میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ نوکری کرتا ہوں  میرے خواب میری منزل ابھی بہت  بڑی اور آگے ہے ابھی  یہ شروعات ہے ۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

1 Comment

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s