Uncategorized
Leave a Comment

قاتل بھی میں مقتول بھی میں


تحریر:ساحرہ ظفر

میرے مولا کرم ہو کرم ۔ میرے مولا کرم ہو کرم

تم سے فریاد کرتے ہیں ہم

میرے مولا کرم ہو کرم

یہ زمیں اور یہ آسماں

تیرے قبضے میں ہے دو جہاں

تو ہی سنتاہے سب کی صدا

تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم

اللہ تو پاک ہے رحمان ہے رحیم ہے ساری کائنات کا خالق ہے محبتوں کے علمبردار  کی روح  خون  و خون ہو گئی۔ماں کا لعل  بیوی کا سہاگ  بیٹے کا باپ  بیوی کا شوہر  اور بوڑھے باپ کا واحد سہارا  اُس کا جوان بیٹا  سفاک دشمن نے ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹادیا ۔

اگر تھوڑی سی نظر دوڑائی جائے کے دھماکہ کرنے والی جگہ کا مقام اور مرتبہ کیا تھا تو  ہر ذی شعور انسان  اس طرح  کے مکرو کام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے اصل میں قلندر ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ایسا شخص جو دُنیا   کو چھوڑ کر صرف اللہ کا ہو جائے اس  مقام پر ایک روضہ ہے  اس روضے  میں  حضرت ابراہیم مجاب کی قبر مبارک ہے ۔

مجاب کے معنی جس کا جواب آتا ہو  تاریخ میں آتا ہے کہ  ابراہیم مجاب کو امام حسین علیہ السلام   کو سلام کا جواب دیتے تھے ابراہیم مجاب حسین علیه السلام کے روضے میں بہت آتے اور وہیں انکا ٹھکانہ تھا۔

صرف روضے کی خدمت میں  اپنی پوری زندگی زندگی گزار دی

اس سے پہلے

آج چوتھے دن سے پاکستان میں یکے دیگر انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے پشاور ،کراچی  اور کوئٹہ کے بعد اب

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار کے احاطے میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 88 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔ لعل شہباز قلندرؒ کے مزار کے احاطے میں اس وقت دھماکا ہوا جب زائرین کی جانب سے دھمال ڈالا جا رہا تھا۔.

مارنے والا بھی انسان اور مرنے  والا بھی  انسان جہاں صوفیوں کی محفل سجی تھی وہا ں کھیلا  دشمن نے اپنا  ایسا کھیل جس کو دیکھ کر انسانیت بھی شرما گئی ۔شیعہ برادری کو ایک دفعہ  ٹارگٹ کر کے  پھرشعیہ   سُنی جنگ کو ہوا دی جا رہی ہے چلو ایک سیکنڈ کے لیے مان لیتے ہیں  یہ سب ناگہانی آفات ہیں کسی وقت کسی جگہ  بھی ہو سکتی ہیں لیکن ان آفات سے بچنے کے لیے ہمارے پاس  اتنے گندے انتظامات ہیں   کہ ایک مریض کو ہسپتال تک پہنچتے پہنچتے  ایک ایک دن گزر جاتا ہے آگ بجھانے کیے لیے مناسب  انتطامات  نہ ہونے کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوتا ہے  برائے نام ہسپتال اور ایمولینس کی قلت  کی وجوہات  ان سارے حالات کو   ایک طرف رکھ کر ہر  دفعہ سیکورٹی ہائی الرٹ کرنا  دہشت گردی سے بچنے کا حل نہیں بلکہ  بنیادی ضرورتوں  کو مہیا کرنے کی ضرورت ہے اگر یہی حالات رہے تو ریاست خون خوار جنگل کی شکل اختیار کر جائے گی۔  میں اس حوالے سے مزید بات اپنے اگلے بلاگ میں کروں گی۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s