Uncategorized
Comment 1

جنگل منگل


 

تحریر:ساحرہ ظفر

“میرا  اور تمھارا معاہدہ صرف اس جنگل تک آنے کا ہوا تھا  یہ دیکھو لمبے لمبے دانت ناکام  جانورو میں تم سب کو کھا جاؤں گا ایک ایک کر کے

مگر میں نرم دل ہوں  میں تم سب کو جہموری حق دوں گا کہ تم لوگ اپنا فیصلہ آپ کر سکو تاکہ مجھے اپنا فیصلہ  کرنے میں آسانی ہو۔”

یہ ڈائیلاگ  سٹیج ڈرا مہ جنگل منگل  میں ہاتھی(فاران رسول باجوہ ) نے بولے

معاشرتی  عکاسی ،فنون و جدت اور تفریح پر مبنی سٹیج ڈرامہ  جنگل منگل  14 فروری 2017 کو  پاکستان نیشنل کونسل آرٹ میں  منعقد کیا گیاجس میں  سپیڈ لڑیسی پروگرام کے  اُستاد حماد رضا اور طالب علموں  محمد اقرار خان،اسد خان ،یاسمین گُل اور مبشر مظہر نے حصہ لیا

ڈرامے میں علم سے  بھر پور معلومات ہنسی   اور طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ بچوں بڑوں کو  سیکھنے کا موقع  فراہم کیا گیا  جس میں بچوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں نوجوان نسل نے بھی ڈرامے سے خوب فائدہ اُٹھایا۔

ڈرامے کا مقصد معاشرے میں پھیلتی ہوئی حرس و لالچ ،حسد،کمینگی اور سب سے بڑھ کر علم کے فقدان پر بات کی گئی ہے کہ سوسائٹی  کس طرح  چھوٹی چھوٹی برائیوں کو    چھوٹا سمجھ کر  کر رہی ہےجو آہستہ آہستہ ایک سمندر  کی مانند  گہری اور نا ختم ہونے والا ناسور بنتی جا رہی ہیں۔

ڈرامے کا  ایک عکس  یہ تھا کہ انسان  جنگل کو پے در پے  نقصان پہنچا رہا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس میں بھی ایک جاندار نسل بستی ہے جس کو زندہ رہنے کے لیے جنگل کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔اس کے علاوہ انسان اپنے فائدے کو مد نظر رکھ کر جانوروں کا شکار کبھی گھر کی سجاوٹ کے لیے کرتا ہے تو کبھی  اپنے لالچ کیے لیے تاکہ وہ اپنی بستی پر سکون جگہ پر قائم و دائم رکھ سکے

اس کے ساتھ ساتھ جہموری  طرز حکومت کو بیان کیا گیا ہے جس میں جہموری کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ   حاکم عوام کی عزت و نفس کو مجروع کرے جو فیصلہ اُس کے دل میں آئے کرے

چھوٹے چھوٹے کلپ  میں معاشرے  کی عکاسی کرنے کی کوشش کی گئی اور خصو صا بچوں  کو اُن کے  اندر چھپی ہوئی صلاحتیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی تاکہ آنے والا مستقبل  نڈر اور  روشن پاکستان بن سکے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

1 Comment

  1. عمرحیات says

    بہت عمدہ تحریر
    دعا گو ہوں کے پاکستان کے تمام اداروں اور شہروں میں ایسے پروگرام تسلسل کے ساتھ ہوں
    آمین

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s