Uncategorized
Comments 2

اولڈ ہوم


تحریر:ساحرہ ظفر

لبوں پہ  اس کے بددعا نہیں ہوتی

بس ایک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی

سفید بال، کانپتے ہاتھ ،جریوں بھرا چہرہ ،آنکھوں میں کئی سوال سجائے ہوئے اداس نظریں ادھر اُدھر دوڑاتے ہوئے بس ایک ہی اُمید ہمیں گھر  واپس جانا ہے ہمیں گھر  واپس جانا ہے باہر گومنے پھرنے جانا ہے لیکن یہ  سب جانتے ہیں کہ ہمارا کوئی گھر نہیں کوئی اپنا نہیں ہے ۔

مطلب  رشتےدار تو بہت ہیں بہن بھائی سب ہیں لیکن اپنا کوئی نہیں ہےکسی کے پاس اتنی جگہ نہیں ہے کسی کے پاس فالتو کا وقت نہیں

ہے جو ہم پر خرچ کرےایک کہاوت سُنی تھی ماں باپ کے علاوہ کوئی رشتہ   بغیر لالچ  کے ساتھ نہیں دیتا سب لالچی ہوتے ہیں۔

خوشی خوشی بیٹے کی شادی کی میں پھولے نہیں سما نہیں رہی تھی  کہ گھر میں بہو آگئی ہے اب تو بہو میرے نازنخرے اُٹھائے گی لیکن قسمت نے اتنا ساتھ نہ دیا ذہنی مفلوج ہو گئی عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا  بیٹے کو گھر میں مشکل ہو رہی تھی گھر سے نکال دیا 3 مہینے پشاور اور لاہورکی سڑکوں پر رُلتی رہی  میڈیا نے خوب  کوریج دی بیٹی نے دیکھا تو وہ مجھے اولڈ ہوم میں چھوڑ آئی ۔

اپنے زمانے کی مشہور جانی مانی میڈیم  نور جہاں کے ساتھ کام کیا  یاداشت  ابھی بھی  ٹھیک کام کرتی ہےباتیں ماضی کی خوبصورت  یادیں آج بھی یاد ہیں بوڑھی ہڈیوں کی وجہ سے تھکاوٹ زیادہ ہو جاتی ہے بعض دفعہ بہت غصہ آتا ہے  لیکن پھر بھی کوشش کرتی ہوں کہیں کسی کو میری بات بُری نہ لگ جائے۔

10 بچے ہیں  وجہ میں نہیں بتاؤں گی کیونکہ میں اولڈ ہوم میں رہتی ہوں ہاں اتنا ضرور پتہ ہے کہ میرے بچے مجھے ضرور یاد کرتے ہوں گے میں نے بارہو یں کلاس سے کا لج چھوڑ دیا  والدین مجھے چھوڑ کر چلے گئے بچے میری بہن کے پاس رہتے ہیں ۔

لٹریچر سے شدید محبت ہے اسی لیے  میں نے انگلش لڑیچر میں ماسٹر کر لیا وجہ میں اس لیےنہیں  بتاتی کیونکہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔

اولڈ ہوم کیوں بنے کس لیے بنے اور  آج  ان سب سوالوں کے جوا ب مل  مجھے مل گئے کیا کوئی  بچہ اپنی اُس ماں کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے  جو 9 ماہ پیٹ میں  رکھتی ہے اور پھر پالتی پوستی ہے بڑا کرتی ہے  جب اولاد کی باری آتی ہے کہ وہ ماں کو  اولڈ ہوم چھوڑ آتی ہے کیونکہ بچے نہیں برداشت کر سکتے  کہ اُن  کے بچوں کو کوئی بیماری لگ جائے ان بوڑھے لوگوں سے بیٹوں کی بیویوں کو معیوب لگتا ہے ایک  بوڑھی ماں  کی خدمت کرنا۔

 

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

2 Comments

  1. عمرحیات says

    عمدہ تحریر ہے جی آپ کی
    ماں کی تو کسی قرنانی کا بدلہ بھی نہیں چکایا جا سکتا
    وہ لکھتے ہیں نا
    یہ ایک ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
    میں جب تک گھر نہیں پہنچوں ماں میری سجدے میں رہتی ہے

  2. Ghazanfar says

    Parenthood is something that you can not understand untill u bocome one. And once u r there if u hav parents thn ull die for thm but yes there are people who are different i guess God gave made it clear when he made our hand telling us that not are people are same.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s