Month: March 2017

پرایا دھن

تحریر:ساحرہ ظفر شادی کے بیس  برس ہو گئے تھے  اولاد نہیں تھی  سفید بال چہرے پر جھریاں  واضح طور پر بڑھاپے کی نشاندہی کر رہی تھی  شادی غیروں میں ہونے کی وجہ سے  خاوند کو یہ بات ہر گز گوارہ نہیں تھی کہ میرے بہن بھائیوں میں سے کوئی مجھ پر ترس کھا کر اپنی اولاد مجھے دے اس سے کہیں زیادہ  بہتر بڑھاپے میں کام کرتے کرتے کہیں گر کر مر جانا ٹھیک تھا بیوی کے خاندان میں سے کوئی بچہ لینے سے گو کہ اللہ کے ہر فیصلے میں نہ صرف بہتری ہوتی ہے بلکہ بہت ہی بہتری ہوتی ہے  یہ سوچ کر میں نے خدا کو کبھی تنگ نہیں کیا کہ مجھے اولاد سے نواز بس اُس کی رضا میں خوش تھی۔ گھر  روپیہ پیسہ سب تھا بس نہیں تھا تو  صرف آنگن  کو مہکانے والے پھول نہیں تھے حسب معمول میں آج جلدی جلدی اپنے کام سے فارغ ہوئی اور  باغبانی   کے لیے اپنے چمن کا رُخ کیا   اپنے پودوں کے ساتھ  مصروف رہنے کی وجہ سے کبھی  ذیادہ اولاد  نہ …

The man behind Minar-e-Pakistan

. Nasreddin Murat-Khan TI (1904–1970) was a Russian-born Pakistani architect and civil engineer. He is remembered most for designing the national monument, the Minar-e-Pakistan. Murat-Khan was born in 1904 in a Turkic Muslim family, in the North Caucasus region of Dagestan located in the Russian Empire (later part of the Soviet Union, and now the Russian Federation). In 1930, he obtained his degree of civil engineering from the Institute of Architects, Town Planners and Civil Engineers, Leningrad State University (now the Saint-Petersburg State University). Murat-Khan was keen to free the Muslim Caucasus region from Soviet control. As a result, he had to flee from Dagestan—for the fear of his life—to Germany in 1943. He stayed as a refugee in one of the camps established by the UNRRA in Berlin. There, he married Hamida Akmut, a Turkish refugee, in 1944. After the seven-year-long exile in West Germany, Murat-Khan migrated with his family to Pakistan, in 1950. In 1930, Nasreddin held a variety of posts in Dagestan and in Leningrad. He was arrested during the “Engineers’ Purges” …

میں امن سلامتی اور محبت کا داعی پاکستان ہوں

تم مجھے بتاتے ہو کہ پاکستان میں پانی کے کولر سے گلاس باندھنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ بے ایمان ہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ جس کولر کے ساتھ یہ گلاس بندھا ہوا تھا وہ بھی کسی پاکستانی نے کبھی ایصال ثواب کے لئے اپنے کسی عزیز کا نام لکھ کر یا ویسے ہی آخرت میں ثواب کے حصول کے لئے اس چلتی راہ میں لگا دیا – تم مجھے بتاتے ہو کہ مسجد سے جوتے اٹھا لئے جاتے ہیں اب تو اللہ کا گھر بھی محفوظ نہیں لیکن تم یہ نہیں بتاتے کہ اس مسجد کی تعمیر میں کتنے پاکستانیوں نے اپنی محدود اور لامحدود آمدنی سے چند سکے جوڑ کر یا لاکھوں کے چیکس کی صورت میں حصہ ڈالا ہے تم یہ نہیں بتاتے کہ مسجد میں لوگوں کے سکون کی خاطر بجلی کا بل کوئی بھر رہا ہے وہاں پنکھے ہیٹرز اور اے سی سسٹم کے لئے کچھ لوگ خاموش رہ کر مسلسل حصہ ڈالتے ہیں – تم مجھے بتاتے ہو کہ کسی ایک جگہ ایکسیڈنٹ ہوا تو لوگوں …

The games politicians play!

Dr Ikramul Haq, Huzaima Bukhari March 26, 2017 Pakistan has been borrowing or begging for bailouts while trillions of untaxed money are lying abroad Federal Finance Minister Ishaq Dar, on March 7, 2017, told the National Assembly that “Pakistan will sign an agreement with Switzerland on exchange of information regarding bank accounts on March 21”. He informed the parliamentarians that “several media reports have surfaced over the years alleging that Pakistanis have evaded taxes — a hefty amount of over $180-200 billion — and stashed the money in Swiss banks”. He claimed the situation demanded that Pakistan should approach the Swiss government for a treaty surrounding the exchange of information. Ishaq Dar did not tell the House what happened in August 2014 when the Chairman of Federal Board of Revenue (FBR) was to lead a delegation to Switzerland to “re-negotiate and upgrade treaty on Avoidance of Double Taxation [DTA] to retrieve and/or tax undeclared money deposited in the Swiss banks by Pakistani nationals. At the last moment, he was asked not to go and the …

سنجیدہ اور نہایت با وقار تحریر.

میں اطمینان سے بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا کہ اچانک ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور میرے دوست کے والد صاحب کی شکل نظر آئی۔میں نے جلدی سے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھا دیا اورسلام لیتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ وہ مسکرا دیے اور اپنے نحیف بدن کو لاٹھی کے زور پر چلاتے ہوئے میرے قریب آگئے۔ میں نے احتراماً پاس پڑی صوفے کی گدی ایک طرف کر دی۔ وہ میرے سر پر پیار بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے بیٹھ گئے۔ میں اپنے دوست سے ملنے اُس کے گھر آیا ہوا تھا‘ دوست مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھا کر بیٹے کو سکول سے لینے گیا تھا ۔میں عموماً کسی کے گھر سگریٹ پینے سے گریز کرتا ہوں لیکن میرا دوست بھی چونکہ سموکر ہے اس لیے میں نے بھی اطمینان سے سگریٹ سلگا لیا تھا۔ میرے دوست کے والد صاحب بھی سگریٹ نوشی فرماتے ہیں ‘ ان کی عمر 70 سال ہے ‘ایک بڑے سرکاری ادارے کے سربراہ رہے ہیں اور اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔جب وہ آن جاب تھے تو اصولوں …

خیرات

March 21, 2017 حضرت علی ہجویریؓ کا دربار لگا تھا‘ آپ درمیان میں تشریف فرما تھے اور مریدین آپ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھے تھے‘ ایک مرید نے ادب کے ساتھ عرض کیا ’’حضور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں افضل ترین عبادت کیا ہے‘‘ حضرت داتا صاحب مسکرائے اور دیر تک اس شخص کی طرف دیکھتے رہے اور مسکراتے رہے۔ ہمارے نبیﷺ علم کی ترویج‘ علم کے پھیلاؤ کے اس طریقے کے موجد ہیں‘ ہمارے رسولﷺ روزانہ مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے‘ صحابہؓ آتے تھے اور آپ ﷺکے گرد پروانوں کی طرح بیٹھ جاتے تھے‘ وہ سوال پوچھتے جاتے تھے اور اللہ کے رسول ﷺجواب دیتے جاتے تھے اور یوں علم ٹرانسفر ہوتا جاتا تھا‘ علم کی ترویج کا یہ سلسلہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد بھی جاری رہا‘ خلفاء راشدین بھی روزانہ مسجد نبوی تشریف لے جاتے تھے‘ وہ بھی سنت کے مطابق وہاں بیٹھ جاتے تھے۔ لوگ آتے تھے‘ سوال کرتے تھے اور فہم و فراست کے وہ عظیم مینار بھی ان سوالوں کے جواب دیتے تھے‘ یہ روایت …

لڑکی ہی کیوں

تحریر:ساحرہ ظفر اُف 10 منٹ ہو گئے ہیں آج تو چا چا کسی صورت میں بھی میرا انتظار نہیں کریں گے  میں  جلدی جلدی   کالج کی تیاری کرنے کی کوشش کرنے لگی    تاکہ کالج وقت پر پہنچ سکوں سوچا آج مامی زیتون کی گلی سے نکل جاؤں گی جب تک رفیق چاچا  سٹاپ تک آتے میں گاڑی تک پہنچ جاؤں گی کیونکہ گلی  سے سٹاپ تک کا راستہ کم تھا جب کہ  ہائی وے روڈ  کافی دور پڑتی تھی اکژ جب بھی مجھے اُٹھنے میں دیر ہوتی  تو میں جلدی جلدی میں  سڑک تک پہنچنے کے لیے  سب سے  کم وقت لینے  والا راستہ گلی سے ہو کر ہی گزر کر جاتی۔ میں نے جلدی جلدی منہ  ہاتھ دھویا اور یونیفارم پہنا اماں بار بار  ایک ہی بات دُہرائے جا رہی تھی صبح جلدی اُٹھتی ہوں اس لیے کہ میرے بچے ناشتہ کر کے جائیں لیکن  بچے ہیں ان کو پرواہ ہی نہیں سب سے بڑی کا یہ حال ہے کوئی دن ایسا نہیں جب اسے کالج جانے میں دیر نہ ہوئی ہو اماں تو …