Uncategorized
Comment 1

یس سر


تحریر:ساحرہ ظفر

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سات فروری دو ہزار سترہ  کو مری سے اسلام آباد تشریف لا رہے تھے۔پرائم منسٹر کے موٹر کیٹ پر دو روٹس لگے تھےایس پی حسیب شاہ موٹر کیٹ کے پائلٹ تھےایس پی وزیر اعظم کے قافلے کو غلط ڈائریکشین میں لے گئے جس کی وجہ سے نواز شریف صاحب رش میں پھنس گئے جناب کی نظر میں یہ ایک سنگین جرم اور بہت بڑی بے عزتی تھی کہ ملک کے وزیراعظم کو  ایک معمولی ایس پی  کا غلط  طرف لے کر جانا ریاست کے ساتھ ساتھ شہزادے کی بھی توہین ہے چنانچہ چیف سیکرٹری نے فورا ایس پی کو معطل کر کے تحقیقات کا حکم دیا ۔

اس سے اگلے دن یعنی ہفتہ آٹھ فروری  2017 کو وزیر اعظم کی گاڑی چند لمحوں کیے لیے لاہور  کے کلب چوک میں پھنس گئی اس جرم میں بھی  ڈی ایس پی میمونہ رشید اور انسپکٹر فخر زمان  کو معطل کر دیا گیا ۔

یہ دونوں واقعات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ جناب وزیر اعظم صاحب کا ٹریفک میں تھوڑی دیر رُک جانا عوام کا بہت  بڑا  جُرم ہے دنیا کے اس بڑے جرم میں ایس پی ڈی ایس پی تک معطل ہو گئے۔

جبکہ دوسری طرف  ریاست کےسب سے بڑے صوبے صوبہ پنجاب میں پچھلے ایک برس کے دوران ہونے والے جرائم کا ڈیٹا  دیکھیں تو صرف 2013 میں 3لاکھ 90 ہزار 3 سو بتیس کیس درج ہوئے  کوئی ایس پی کوئی وزیر کوئی ڈی ایس پی معطل نہیں ہوا ۔

2 لاکھ 92 ہزار 3 سو تینتیس  کیسوں کے چالان پیش ہوئے  کچھ بھی نہیں ہوا  نہ زمین ہلی نہ آسمان نیچے آیا  پولیس 32 ہزار 9 سو سرسٹھ کیسوں کا سراغ ہی نہیں لگا سکی  جبکہ قتل کے ساڑھے 6 ہزار واقعات رپوٹ ہوئے  اقدام قتل کے 7 ہزار واقعات سامنے آئے  اغوا کے  14 ہزار 6 سو چھیالیس  واقعات ہوئے لیکن ایک بھی واقعہ حل نہیں کیا گیا۔

ریپ کے 2 ہزار 5 سو چوہتر واقعات سامنے آئے گینگ ریپ کے 139 واقعات ہوئے ڈکیتی اور چوری کی 21 ہزار وارداتیں ہوئی نقف زنی کی  کی 14 ہزار وارداتیں ہوئی لیکن کسی نے کوئی دھیان نہیں دیا ۔

پنجاب میں تقریبا  21 ہزار گاڑیاں اور موٹر سائیکل چوری ہوئے لیکن کوئی  گاڑی بازیاب نہیں کروائی جاسکی اورساڑھے 6 ہزار گاڑیاں گن پوائنٹ پر چھینی گئی لیکن کوئی ایس پی معطل نہیں ہوا۔

اس کے باوجود ملک کے حاکم نے اپنی گاڑی کو رش میں پھنسنے پر فورا عملے کو معطل کیا  اور تحقیقات بھی شروع کر دی ۔

کیونکہ جناب حاکم ہیں اور جس کی لاٹھی اُس کی بھینس  کے محاورے پر مسلسل چل رہے ہیں اور یہ سارے واقعات عوام کے ساتھ ہوئے ہیں پولیس سے لیکر حکمرانوں تک کوئی بھی ادارہ عوام کا محافظ نہیں کیونکہ اداروں کے سربراہان کالی بھیڑیں ہیں جو نوچ نوچ کر اپنی ہی عوام کا خون پی رہے ہیں

اس وقت پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں کام کرنے والے سرکاری بندوں کا صرف اور صرف ایک ہی کام ہے وہ یہ کہ  اپنے سرکار کو خوش کرنا  اور حاکم بالا کے نخرے  برداشت  کرنے کے ساتھ ساتھ  رایا کا گوشت  کھانا اس کے علاوہ حاکم کی جی حضوری کرنا  اگر غلطی سے کسی دن کسی  بندے سے کوئی غلطی ہو جائے تو اُسے فورا ڈی ایس پی اور ایس پی کی طرح اپنی نوکری سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

جس ملک میں اس طرح کے واقعات ہوں وہاں صرف اور صرف طالبان ہی پیدا ہوں گے اور  دُنیا  جنگل جیسی ریاست کے بجائے طالبان سے ہی مذاکرات کرنے پر مجبور ہو جائے گی جب طالبان کی اہمیت کرسی پر براجمان حیوانوں سے ذیادہ ہو گی تو اُس ملک میں صرف مائیں یس سر  کرنے والے بچے پیدا کریں گی۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

1 Comment

  1. عمرحیات says

    Beshak ap ki bat bilkul haq bajanib ha
    Ameer e shehar say onche suroon ma bat karu
    Ameer e shehar ko oncha sunai deta hai

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s