Uncategorized
Comments 2

شاہی خاندان


تحریر:ساحرہ ظفر

با ادب

با ملا حظہ

ہوشیار—————-

نگاہ رو برو

شہنشاہ  دولت تشریف لا رہے ہیں

متحرم شہزادہ  صاحب  کچھ لمحے طیارے میں انتظار کریں گے کیونکہ عظیم محزب کے پاؤں  مٹی سے بچانے کے لیے شاندار ریڈ کارپٹ کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ ایک قدم بھی جناب مٹی میں نہ چلیں

 جی ہاں  میں بات کر رہی ہوں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین جناب آصف علی زرداری کی  جن کی پارٹی کا منشور و مقصد روٹی ،پانی کپڑا  ہے

اسلام آباد سے  کراچی  کے لیے جہاز میں سوار ہوئے  تو کچھ لمحے کے بعد جب منزل  مقصود آئی تو  جناب  نے  طیارے میں بیٹھ کر کارپٹ   کے     بچھنے کا انتظار کیا جو صرف اور صرف  جہاز سے اُتر  کر گاڑی تک جانے کا  راستہ تھا  راہ کا اندازہ لگایا جائے تو کوئی پہاڑی علاقے میں  پھیلی ہوئی سُرنگ نہیں تھی بلکہ ایک خوبصورت  اور اچھا  خاصا گراؤنڈ تھا  ۔

 دوسری طرف دوسرے شہزادے جناب  شہنشاہ ِ پاکستان جن کو شاید ہم میں سے پانچ  فیصد لوگ جانتے ہیں کہ   پاکستان کے صدر ممنون حسین بول بھی سکتے ہیں اور سُن بھی سکتے ہیں لیکن عمر ذیادہ ہونے کی وجہ سے بات   کرتے ہوئے تہذیب کا دائرہ بھول جاتے ہیں  اور ہاں یہاں ایک اور بات بتاتی چلوں بات بھولنے کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ وہ   میاں صاحب کے ساتھ ایسی ویسی بات کرتے ہیں بلکہ اُس وقت  تہذیب کا دائرہ کار کھو بیٹھتے ہیں جب وہ عوام سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔

گزشتہ روز بلڈنگ کوڈ آف  پاکستان آتشز گی سے بچائو   کے دفعات کے اجراء سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا ہے کہ ہماری قوم کو حرام خوری کی عادت پڑ گئی ہے ۔

اُن کا کہنا تھا میرے بار بار بتانے کے باوجود کرپٹ لوگوں کو نکالا نہیں جا رہا ہے اس میں انھوں نے  بالکل کسی وزیر کا نام نہیں لیا جو اس سب صورت حال کا ذمہ دار ہیں  ہاں اگر اس بات کو ٹھیک انداز میں بیان کرتے  کہ ہمارے شاہی دربار میں  صرف حرام خوروں کا ڈھیرہے تو پھر شاید بات ہضم ہو جاتی ۔

لیڈرانِ پاکستان  کی باتوں اور شاہ خر چیوں اس بات کو صاف اور واضح ثبوت ہے عوام کی خدمت کے بجائے عوام شاہی  بادشاہوں کی خدمت کر رہی ہے۔

کسی بھی قوم و ملک کو بنانے  اور اُس کو آگے لیکر جانے کے لیے کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کو لیڈر یا رول ماڈل کا نام دیا جاتا ہے   بانی کو دیکھ کر  اُن کے لائے عمل کی پیروی کرتے ہوئے  ڈھانچے کی تشکیل کو مظبوط بنای جاتا ہے لیکن  ریاست پاکستان میں  نہ کوئی نظام ہے اور نہ کوئی قانون  ہاں اگر قانون کا اطلاق کیا جاتا ہے تو عوام سے شروع ہوتا ہے اور عوام پر ختم ہوتا  ہے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

2 Comments

  1. عمرحیات says

    حق بات ہے عوام کو سہی معنوں میں اس بات کا ادراک ہو جانا چاہیے

  2. Maharaja says

    زبردست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فٹیچر حکمران۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s