Uncategorized
Comment 1

لڑکی ہی کیوں


تحریر:ساحرہ ظفر

اُف 10 منٹ ہو گئے ہیں آج تو چا چا کسی صورت میں بھی میرا انتظار نہیں کریں گے  میں  جلدی جلدی   کالج کی تیاری کرنے کی کوشش کرنے لگی    تاکہ کالج وقت پر پہنچ سکوں سوچا آج مامی زیتون کی گلی سے نکل جاؤں گی جب تک رفیق چاچا  سٹاپ تک آتے میں گاڑی تک پہنچ جاؤں گی کیونکہ گلی  سے سٹاپ تک کا راستہ کم تھا جب کہ  ہائی وے روڈ  کافی دور پڑتی تھی اکژ جب بھی مجھے اُٹھنے میں دیر ہوتی  تو میں جلدی جلدی میں  سڑک

تک پہنچنے کے لیے  سب سے  کم وقت لینے  والا راستہ گلی سے ہو کر ہی گزر کر جاتی۔

میں نے جلدی جلدی منہ  ہاتھ دھویا اور یونیفارم پہنا

اماں بار بار  ایک ہی بات دُہرائے جا رہی تھی صبح جلدی اُٹھتی ہوں اس لیے کہ میرے بچے ناشتہ کر کے جائیں لیکن  بچے ہیں ان کو پرواہ ہی نہیں سب سے بڑی کا یہ حال ہے کوئی دن ایسا نہیں جب اسے کالج جانے میں دیر نہ ہوئی ہو اماں تو بس ایسے بو لی جا رہی تھی جیسے فون بند ہونے کی صورت یا سنگنل نہ ہونے کی صورت میں  خاتون بولنا شروع کر دیتی ہے کہ ہم معذرت خواہ ہیں کہ اس وقت مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا ہے۔اماں بھی بس ذرا سا کسی کا  وقت کا سنگنل آگے پیچھے دیکھتی تو   یا   کوئی گھر کا نیٹ ورک ٹھیک کام نہ کر رہا ہوتا تو بغیر بٹن دبائے اپنی ریکارڈنگ آن کر دیتی  اور جب تک ہم سکول کالج روانہ نہیں ہوتے تب تک چلتی رہتی

خیر اماں اللہ حافظ  آگے بہت دیر ہو گئی ہے

ارے۔۔۔۔۔۔

کہاں چل دی میں تمھیں خود چھوڑنے جاؤں گی اکیلی لڑکی اللہ اللہ گلی تم نے دیکھی ہے نا  اور جانتی ہو نا زیتون کی اپنی گلی ہونے کے باوجود اُس کی بیٹی کی ذلت کی کہانیاں  پورا محلہ صبح شام بیان کر رہا ہو تا ہے  تم تو جانتی ہو تمھارے خاندان میں تقریبا ہر  تیسری لڑکی کو رسوائی کی وجہ سے گھر بٹھا دیا ہے ۔

اماں  2 منٹ میں تقریبا 16 لڑکیوں کے نام لے چکی تھی  میں  بغیر غصہ کیے ایک لمحے کے لیے رُکی اور  دماغ پرچڑھتے خون کو مشکل سے کنٹرول کیے ہوئے اماں سے پوچھا آپ نے 2 منٹ کے اندر اتنی لڑکیوں کے نام گنوا دیے یعنی سترواں میرا نام شامل کر لیں

لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا جن کی ذلت ہو گئی یا اگر آپ کے مطابق اکیلے جانے سے میری بھی ہوگی تو کس کی وجہ سے ہو گی کیا لڑکیاں دیوار کے ساتھ گلی کے ساتھ یا پھر اپنے آپ کے ساتھ خراب ہو جاتی ہیں ۔

اماں ایک دم غصے سے بولی یعنی اب تم مجھے سمجھاؤ گی مجھ سے سوال کرو گی میری بات کو رد کرو گی

ماں جی میں ایسا ویسا کچھ نہیں کہہ  رہی ہوں صرف اپنی یادہانی کے لیے پوچھ رہی ہوں امی  آئیں بائیں شائیں کرنے کے بعد بولی  ظاہر ہے لڑکے کے ساتھ ہی

جی ماں جی بالکل لڑکے  ماں جی آپ ان سترہ لڑکیوں کی بجائے اُن سترہ لڑکوں کا  بھی نام لے سکتی تھی جنہوں نے ان لڑکیوں کو رُسوا کیا ہے معاشرے میں بدنام کیا ہے لیکن نہیں آپ نے معاشرے کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ہمیشہ سے  یہی کہا کہ فلاں لڑکی کی طرح یہ وہ۔

کالج جانے کی بجائے میں  نے چھٹی کرنا ہی بہتر سمجھا اور  بے جان جسم کے ساتھ آج اپنے آپ کو بہت ہی اکیلا اور غلیظ سمجھ رہی تھی  اس میں میری اماں کی نہیں بلکہ معاشرے کو ایک ہی جملہ رٹا دیا ہے کہ لڑکیاں بہت خراب ہیں لیکن کس کے ساتھ  اور کس لیے اس بات کا جواب جاننے اور ہونے کے باوجود نہیں دیا جاتا کیونکہ سوسائٹی کے مطابق لڑکے  کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بدنامی ہمیشہ لڑکی کی ہی ہوتی ہے ۔

اگر ہر ماں اپنے بیٹے کو گھر سے نکلنے سے پہلے  ایک لڑکی کی طرح  کا رویہ اختیار کرے تو یقین مانے پچاس فیصد رسوائی کا نام ہی مٹ جائے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

1 Comment

  1. عمرحیات says

    ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s