Uncategorized
Comments 2

پرایا دھن


تحریر:ساحرہ ظفر

شادی کے بیس  برس ہو گئے تھے  اولاد نہیں تھی  سفید بال چہرے پر جھریاں  واضح طور پر بڑھاپے کی نشاندہی کر رہی تھی  شادی غیروں میں ہونے کی وجہ سے  خاوند کو یہ بات ہر گز گوارہ نہیں تھی کہ میرے بہن بھائیوں میں سے کوئی مجھ پر ترس کھا کر اپنی اولاد مجھے دے اس سے کہیں زیادہ  بہتر بڑھاپے میں کام کرتے کرتے کہیں گر کر مر جانا ٹھیک تھا بیوی کے خاندان میں سے کوئی بچہ لینے سے

گو کہ اللہ کے ہر فیصلے میں نہ صرف بہتری ہوتی ہے بلکہ بہت ہی بہتری ہوتی ہے  یہ سوچ کر میں نے خدا کو کبھی تنگ نہیں کیا کہ مجھے اولاد سے نواز بس اُس کی رضا میں خوش تھی۔

گھر  روپیہ پیسہ سب تھا بس نہیں تھا تو  صرف آنگن  کو مہکانے والے پھول نہیں تھے

حسب معمول میں آج جلدی جلدی اپنے کام سے فارغ ہوئی اور  باغبانی   کے لیے اپنے چمن کا رُخ کیا   اپنے پودوں کے ساتھ  مصروف رہنے کی وجہ سے کبھی  ذیادہ اولاد  نہ ہونے کا دُکھ نہیں ہوا

پودے کی ٹہنی سیدھی کی  او میرا بچہ ساری رات ایسے ہی گرا پڑا  ہو گا

اچانک فون کی  گھنٹی بجی

بجلی سے تیز  چھبتی ہوئی   فون کی بل ہفتے پندرہ دن بعد جب بھی کوئی  فون کرتا   کال پک کرنے سے پہلے ہی میری ٹانگوں  سےجان نکل جاتی

یا اللہ خیر آج صبح صبح   کال

اپنے آپ کو گھیسٹے ہوئے  آہستہ سی آواز میں ہیلو بولا

جی میں نسرین بات کر رہی بغیر رُکے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بولی باجی کی وفات ہو گئی ہے

لیکن

ٹون ٹون —-

فون بند

ریسیور ہاتھ سے نکل کر نیچے لگا

آنسو رُک گئے تھے جسم بے جان ہو گیا تھا

نہ جانے کب سے میاں بر آمدے میں کھڑے آوازیں دے رہے تھے ارے لے آؤ ناشتہ مجھے دیر ہو رہی ہے

ارے تمھیں کیا ہو گیا کیوں تمھارے جسم سے جان نکلی ہوئی ہے

وہ وہ وہ وہ۔۔۔۔۔۔۔

صا صا صا صا صا ئمہ کی

کیا ہوا صائمہ کو

میاں کی چھوٹی بہن ہونے کی وجہ سے وہ اُن کی بہت لاڈلی بہن تھی اماں کی وفات کے بعد اُسے بیٹیوں کی طرح پالا تھا

تم بتا کیوں نہیں رہی ہو

خدا کیے لیے بتاؤ میرا دل پھٹ جائے گا بولو بھی

میں لڑکھڑاتی اور مریل سی آواز میں بولی صائمہ کی وفات ہو گئی ہے

نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ہے میری بہن نے ابھی دُنیا میں دیکھا ہی کیا ہے کیسے وہ مجھے چھوڑ کر جا سکتی ہے ؟میرے شوہر کی حالت مجھ سے بھی بدتر ہو رہی تھی

تدفین کے بعد   فورا صائمہ کے دونوں بچوں کی زیر نگرانی کی بحث چھڑ گئی  بڑی آپا نے بیٹی کو لے لیا میں اور میرے میاں نے  بیٹے کو خود لے لیا

آج صائمہ کی وفات کو 23 برس  گزر گئے تھے میں نے  اُس کے بیٹے کو اپنا بیٹا مانا

دھوم دھام سے شادی کی اب تو اولاد کا دُکھ  میں بھول گئی تھی بیٹا مل گیا تھا   شادی کے بعد بیٹے نے کہا ماں اپنا زیور بیچ دو میں نے اپنا کاروبار سیٹ کرنا ہے

نہیں بچے وہ نہیں بیچ سکتی تیرے ابا نے بہت محنت سے کما کر بنوا کر دیا تھا  بیوی نے کہا ابا زندہ تھا تو تیری ہر بات مانتا تھا  اب اماں تیری کوئی بات نہیں مانتی

میں نے فورا زیور بیچ دیا اور پیسے بیٹے کے ہاتھ میں رکھ اس سے پہلے وہ یہ کہے کے تو اگر سگی ماں ہوتی سب میری باتیں مانتی

اماں پیسے تو کم پڑ گئے ہیں  اب ہمیں گھر بیچنا ہو گا  ایک دفعہ میرا کاروبار چل جائے پھر دیکھنا اس سے اعلی گھر بنا کر دوں گا

نہیں نہیں ایسا میں نہیں کر سکتی سب کچھ تمھیں دے چکی ہوں

اچھا تو  تم اب مجھے طعنہ دو گی

ٹھیک ہے  میں یہ  گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا رہا ہوں

میں نے  گھر بھی بیچ دیا

آج میں ایک اولڈ ہوم میں رہتی ہوں اور میرا بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کسی  امیر جگہ ایک محل نما گھر میں رہتا ہے

شاید اپنا نہیں تھا اس لیے یا پھر  پرا دھن تھا

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

2 Comments

  1. عمرحیات says

    آپ کہ آج تک کی سب سے عمدہ تحریر
    کمال دل کو چھو لینے والی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s