Uncategorized
Leave a Comment

تیسری جنگ کا آغاز ہوا تو وجہ ؟


تحریر:ساحرہ ظفر

سائنس کی نت نئی دریافت  کے ساتھ ساتھ کڑوڑوں سیاروں ،ستاوروں اور دیگر ٹکڑوں میں سے ہماری زمین ہی وہ واحد سیارہ ہے جس پر انسانی مخلوق موجود ہے اس کی وجہ اس سیارے پر پانی  کا ہون ہے ۔

ایک انسان  کھانے کے بغیر کچھ دن زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر نہیں اللہ تعالی  نے اس نعمت سے انسانی مخلوق کو مالا مال کیا ہوا   تھا یہ وہ قیمتی نعمت ہے جو بغیر پیسوں کے ہر انسان کو میسر تھی لیکن بدقسمتی سے اب شاید صاف پانی صرف  اُن لوگوں کو  میسر ہے  جو صاحب حیثیت ہیں  یا جن کو  حقیقت کا علم ہے۔

ہماری زمین کا 70 فیصد حصہ پانی اور صرف 30 فیصد  حصہ خشکی پر مشتمل ہے تقریباً یہی حال ہمارے جسم کا بھی ہے ہمارا دو تہائی جسم پانی ہی پر مشتمل ہے۔ ایک عام انسان کے جسم میں35 سے 50 لیٹر تک پانی ہوتا ہے۔ مردوں میں کل وزن کا65 تا 70 فیصد حصہ پانی ہے۔ جبکہ خواتین میں 65 فیصد پانی ملتا ہے۔ صرف دماغ کو ہی لیں تو اس کا85 فیصد حصہ پانی ہے۔ امراض سے لڑنے والے ہمارے خلیے خون میں سفر کرتے ہیں۔ خون بذاتِ خود 83 فیصد پانی ہی ہے۔ ہمارے ہر جسمانی خلیے میں موجود پانی ہی سے بدن کے تمام نظام چلتے ہیں۔ ان میں نظام ہضم کے علاوہ دوران خون اور فضلات کے اخراج کا نظام بھی شامل ہے

وی او اے کو جاری کی گئی خصوصی رپورٹ کے مطابق 27 ملین سے بھی زیادہ پاکستانی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اورتقریبا 40 ملین پاکستانیوں کے پاس بیت الخلا دستیاب نہیں نہ ہونے کی وجہ سے گندہ فضلہ پانی میں مل جا تا ہے ۔

پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اس قلت کے سبب کاروبار، کھیت اور آبادیوں کو قحط جیسی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان 180 ممالک کی فہرست میں 36 ویں نمبر پر ہے جہاں پانی کی کمی کی وجہ سے حکومت، معیشت اور عوام تینوں شدید دباؤ میں ہیں ۔

ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بہت تیزی سے پانی کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہاں زراعت کے ساتھ ساتھ گھریلو اور صنعتی استعمال کے لئے موجود پانی بھی بہت تیزی سے ختم ہورہا ہے جس کے نتیجے میں کاروبار، کھیت اور آبادیوں کو قحط کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

نوائے وقت  میں شائع ہونے والی خبر میں  اور دیگر اخبارات میں اس  بات کی توثیق کی گئی ہے  اس کے علاوہ

کئی تحقیقاتی ادارے اپنی رپورٹس میں کہہ چکے ہیں اگر دنیا میں تیسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو اس کی وجہ پانی ہی ہوگا، جبکہ اس وقت بھی دنیا کے کئی ممالک کے درمیان پانی کے حوالے سے تنازعات جاری ہیں۔مختلف رپورٹس اور اندازوں کے مطابق اس وقت بھی دنیا میں 2 ارب انسان مضرصحت پانی پینے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی ممالک میں پانی کی قیمت عام افراد کی پہنچ سے بھی دور ہے۔امریکی محکمہ صحت کے ماتحت سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے سائنس جنرل سی ڈی سی میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں پینے کا پانی کولڈ ڈرنک سے بھی مہنگا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک میں سادہ پانی کی بوتل سافٹ ڈرنک سے زیادہ مہنگی ہے۔سروے کے بعد جاری رپورٹ میں 1990 سے 2016 تک کے اعدادوشمار میں 40 امیر ترین اور زیادہ کمانے والے ممالک جب کہ 42 غریب، متوسط اور پسماندہ ممالک میں کولڈ ڈرنک اور پانی کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2016 تک 82 میں سے 47 ممالک میں پانی کی قیمتیں کم ہوئیں، جب کہ حیران کن طور پر 35 ممالک میں پانی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔سروے کے مطابق پاکستان اور بھارت سمیت متوسط اور کم آمدنی والے 42 ممالک میں 1990 سے 2016 تک کولڈ ڈرنک کی ایک لیٹر بوتل کی قیمت 0.66 سے 0.60 ڈالر رہی، جب کہ اسی عرصے کے دوران ان ممالک میں پانی کی ایک لیٹر بوتل کی قیمت 1.64 ڈالرز تک رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی عرصے کے دوران امیر ترین اور زیادہ آمدنی والے ممالک میں کولڈ ڈرنک کی قیمت 1.03 اور پانی کی قیمت 1.48 ڈالر رہی۔

مسئلے کے حل کے لئے ایسی  پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے پانی کی قلت کو نہ صرف کم کیا جائے بلکہ  ایک عام انسان  کو صاف پانی پینے تک  کی رسائی ممکن بنائی جا سکے ۔

اس کے لیے پانی  کے ذخائر  میں ذیادہ سے  ذیادہ اضافہ کرنے کے  ساتھ ساتھ لوگوں میں پانی کے مسائل کے بارے میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے  اس کے علاوہ بارش کے پانی کو ذخیرہ  کر کے کاشتکاری میں استعمال کیا جا نے کو یقینی اور قانونی بنایا جائے
ہر گھر صنعت  اور کارخانے میں حکومت میٹر سسٹم کو یقینی بنائے جو جتنا پانی استعمال کرے گا اس سے  پانی خرچ کرنے کے حساب کے ساتھ ساتھ اُسے بل بھی بھرنا ہو گا آئندہ پانی کی فضول خرچ  پر احتیاط برتے گا۔

سیلابی پانی سے متعلق  اور ذیادہ فصلوں  میں پانی خرچ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین بنانے ہوں گے۔

پانی کے بہتر اور کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کے لئے اسکولوں اور میڈیا پرمہم چلائی جائے  تاکہ گھروں میں بیٹھی خواتین  کو پانی کے بحران اور بچائو کے بارے میں  آگاہی مل سکے۔

 

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s