Uncategorized
Leave a Comment

ٓانٹرنیشنل میڈیا اور دنیا


ڈاکٹر عفان قیصر

ہٹلر بڑا دانا تھا، وہ جس ملک پر حملہ کرنے کی ٹھان لیتا، کسی طور اس ملک کا میڈیا یا تو خرید لیتا،یا پھر پہلے ہی حملے میں نیست بابود کر کے قبضہ کرلیتا، پھر جو وہ چاہتا،وہی اس ملک کے لوگوں تک پہنچتا، اور ہٹلر اصل جنگ جیتنے سے پہلے ہی خبروں کی جنگ میں جیت جاتا، قوم حونصلے ہار جاتی اور ہٹلر کے آگے جھک جاتی۔ میں نے بچپن سے اپنے اشتہارات پر گہری نظر رکھی ہے، چھوٹا تھا،تو صابن،ٹوتھ پیسٹ، چائے کی پتی وغیرہ کے اشتہارات دیکھ کر بڑا ہوا،یہی سب سڑک پر لگے بل بورڈز پر بھی نظر آتا۔ مگر اب سب بدل گیا۔ شروع سے ایک ہی تجزیہ رہا ہے ،آپ کے اشتہارات قومی میلان کی ترجمانی کرتے ہیں۔بس Interest پیدا ہونے کی دیر ہوتی ہے، اور مارکیٹ میں دوڑ لگ جاتی ہے اور وہی سب آپ کے بل بورڈز اور ٹی وی پر نظر آنے لگتا ہے۔ جیسے ہی سمارٹ فون نے پاکستان میں قدم رکھا، ہر جگہ ٹیلی فون اور ان کے نیٹ ورک فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اشتہارات کی بھرمار نظر آنے لگی۔اس میں Interest کے ساتھ ساتھ ، جوش بھی ابھارا جارہا تھا اور یوں ہر کسی کے ہاتھ میں سمارٹ فون نظر آنے لگا،اور یہ اشتہاری میلان آج بھی جاری ہے۔اسی سے بس اتنا سا اندازہ ہوا کہ اشتہارات کا ہماری ذاتی زندگی میں بہت عمل دخل ہے، جب اس سب کو بڑے Canvas پر دیکھا اور تحقیق کی تو ہٹلر کا لگایا اشتہاری فارمولہ ہر سطح پر نظر آنے لگا اور یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ صابن ،ٹوتھ پیسٹ کے اشتہارات سے شروع ہوئی کہانی انٹرنیشنل سیاست ،ایجنسیوں کے کھیل اور جنگ عظیم دوم کی تباہ کاریوں سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔آج ہر ائیر پورٹ پر ڈیوٹی فری لفافے میں ایمپورڈ شراب پکڑا شخص آزادی سے بورڈ ہوجاتا ہے ،جبکہ پانچ وقت کا نمازی، باریش جوان ،جگہ جگہ تضحیک آمیز تلاشیاں دے رہا ہوتا ہے۔ یہ خاکہ کس کا تشکیل کردہ ہے؟ اور اگر یہ بند کمروں کی پیدا وار ہے تو پھر اسے پوری دنیا پر مسلط کیوں اور کیسے کیا گیا؟مدتوں حقیقت نگاری اور انسانی زندگی کے اصل روپ کو کہانیوں، افسانوں، کہاوتوں اور ناولوں میں بیان کرنے کی رسم جاری رہی۔ہر معاشرے نے اپنے مصلح اور نامور ادیب پیدا کیے جو ایک طویل مدت تک ایسے کردار تخلیق کرتے رہے جو انسانی زندگی کے قریب تھے،یہ کردار ہمارے اشتہار بھی تھے اور اصل ہیرو بھی۔قونیہ کے مولانا روم سے، شیراز کے سعدی تک،پٹنہ کے کالی داس سے بنارس کے پریم چند تک،پیرس کے موپساں سے لاہور کے منٹو تک، جو لکھا گیا،وہ معاشرے کے خون میں اتر گیا،اور معاشرہ اسی میں ڈھل سا گیا،اور یہی تحریریں میڈیا کی طاقت کا کام کرتی نظر آئیں۔ مگران تحریروں سے امڈآنے والے سلسلے، پھر اخبارات،ریڈیو ، ٹی وی،الیکٹرانک میڈیا اور اب سوشل میڈیا تک چل نکلے، یہ سب تو گیم چینجر جیسا ہے۔1983ءمیں دنیا کے سٹریم لائن انٹرنیشنل میڈیا کل 50 کارپوریشن کے ہاتھ میں تھا اور 2002ءتک اسی انٹرنیشنل میڈیا کو خریدا گیا اوریہ 9 کارپوریشن کی ملکیت میں چلا گیااور 2007 ءنوے فیصد انٹرنیشنل میڈیا پانچ کارپوریشن نے خرید لیا۔ ان کارپوریشن میں سب سے بڑی والٹ ڈزنی ہے،جس کا مالک مائیکل ایزنر ایک یہودی ہے،اس کی فلموں کا انچارج جوروتھ بھی یہودی ہے۔ دوسری کارپوریشن ٹائم وارنر ہے،اس کا مالک جیر الڈ الیون بھی یہودی ہے۔اسی طرح CBS اور CNN کا مالک بھی یہودی ہے۔فوکس ٹی وی کا مالک پیٹر چیرنن بھی یہودی ہے اور جاپان کی سونی کارپوریشن کے مغربی حصے کا مالک مائیکل شل ہوف بھی ہودی ہے۔یہ سب اکٹھے ہیں۔ اخباری دنیا میں ایسوسی ایٹڈ پریس کا مالک مائیکل سلور میں، نیویارک ٹائمز کا اڈولف اوچز ،واشنگٹن پوسٹ کی ماسٹر گراہم،وال سٹریٹ جنرل کا رابرٹ میکسویل سب یہودی ہیں۔اب یہ سب یہودی ،1948 ءمیں ہٹلر کی موت کے بعد مسلمانوں پر مسلط کی گئی ہولو کاسٹ سے نمودار ریاست اسرائیل کی حمایت کرتی انٹرنیشنل سیاست کے سپورٹر ہیں۔دنیا کی پانچ فیصد آبادی ، مگر ستر فیصد اکانومی کے مالک یہی یہودی، سرد جنگ کے بانی بھی کہلاتے ہیں اور بظاہر اپنی حمایت والی امریکی طاقت کا پلڑا بھاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوں آنے والے وقتوں میں اپنی اکانومی کے ساتھ ، میڈیا کو بھی اپنے کنٹرول میں کرچکے ہیں۔ یوں اپنے ہی سب سے بڑے قاتل ہٹلر کے میڈیا فارمولے کا سب سے زیادہ استعمال یہی کررہے ہیں۔ سرد جنگ کے لیے تخلیق کردہ طالبان، داعش کو یہ جب چاہیں،جس روپ میں چاہیں دکھا سکتے ہیں اور شہری آبادی پر بم برساتے طیارے ،جب چاہیں،امن پھیلاتے دکھا سکتے ہیں۔یہ اسی میڈیا کا استعمال کرکے ،ہمارے معاشرے میں صدیوں سے چلی اسلامی روایات کا بھی جنازہ نکال سکتے اور جب چاہیں ہمیں اپنے صابن،ٹوتھ پیسٹ بیچ کر ،وہی پیسہ ہم پر بم کی صورت میں بھی برسا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خفیہ طاقت سے ہم پر حملہ آور ہیں،جو بظاہر گلیمر کا لبادہ لیے،بے لباسی میں بھی، حسین نظر آرہی ہے۔ مگر حقیقت میں وہ جلی ،دھواں ہوئی وہ لاشیں ہیں کہ جن کی چیخوں کی گونج بھی سنائی نہیں دیتی۔ان کی کہانی منٹو کے کوٹھے پر بیٹھی طوائف، کی طرح بولڈ نہیں ہے۔ یہ بہت پیار سے سب لوٹ رہے ہیں۔ یہ اصل حقیقت بھی ہیں اور Fake بھی ہیں،اور ہم صرف اندھے ہیں۔ یہ کس طرح ہماری سوچ کو اغوا کیے ہیں،اس کا اندازہ ہمیں خود بھی نہیں،ہم صرف سوچوں کے اغوا کے کھیل کا حصہ ہیں۔ ہماری نیشنل سیاست، ہماری معاشرتی زندگی،ہماری روز مرہ کی ضروریات، ہماری اولاد کا ذہنی میلان، ہماری تعلیم، ہمارا بین الاقوامی امیج سب ان کی اکانومی اور ان کے میڈیا کے تابع ہے۔یہ کب ،پوری دنیا کوکس طرف ہانک دیں،اس کا فیصلہ یہ چند بند کمروں میں بیٹھ کر کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور ان کی یہی طاقت آج ہمیں اس دوراہے پر لے آئی ہے کہ ہماری پڑھی لکھی نسلیں ان کے ملکوں میں جانے کو سر دھڑ کی بازی لگائے ہیں۔ ہماری نسلوں کے ہیرو ان کے دیے ہیرو ہیں،ان کی فلمیں،ان کے سیزن،ان کے ڈرامے اور ان کی سوچ۔ جو ہے بس انہی کا ہے ۔بطور مسلم امہ دنیا کی نصف آبادی ہوتے ہوئے بھی، کچھ ہمارے بس میں نہیں رہا اور افسوس صرف اتنا ہے کہ ہم اس خفیہ طاقت کے ہر وار کوجاننے سے آج بھی قاصر ہیں۔وہ وقت دور نہیں جب فلپائن سے کر عراق اور افغانستان تک، ویت نام سے جنوبی امریکہ تک کڑوڑون لوگوں کو مارنے کے بعد انسانی حقوق اور انسانی دوستی کا ہیرو ایک مغربی،سفید رنگ ،رومانی مزاج والا شخص ہوگا۔یہ وہ طاقت ہے کہ جس کے بل بوتے پر آپ معصوم بچیوں کے سکول پر بم گرانے کے باوجود امن کے پجاری کہلائیں گے۔ایک دن ایسا آئے گا کہ سچ لکھنے والے،سچ بولنے والے،سچ کا ساتھ دینے والے،اپنی تحریرں،اپنی آوازیں اور اپنے خیالات لیے موت کی آغوش میں چلے جائیں گے اور دنیا وہی دیکھتی رہ جائے ،جو یہ یہودی انہیں دکھا رہے ہیں

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s