Month: June 2017

بھوک

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔ ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔ کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔ کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔ ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی …

ہیرو کیپٹن عزیز

پرواز کے بیس منٹ بعد درازقد جوان کاک پٹ کی جانب بڑھا، ایئر ہوسٹس نے بڑے ادب سے کہا: ’’سر آپ تشریف رکھیں، کاک پٹ میں جانیکی اجازت نہیں۔‘‘ مگر خوبرو فضائی مہمان کو جواب دینے کے بجائے یہ نوجوان دھکا دیتے ہوئے کاک پٹ میں گھس گیا۔ ایئر ہوسٹس جو گرتے گرتے سنبھلی تھی، اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اسے یہ سانسیں بھی آخری لگ رہی تھیں۔ ایک لمحے میں اس کا چہرہ خوف سے پسینے سے شرابور ہوا اور سرخ و سفید سے زرد پڑ گیا۔ نوجوان نے کاک پٹ میں داخل ہوتے ہی پسٹل نکال کر پائلٹ کی کن پٹی پر رکھ دیا۔ اسی دوران اس دہشتگرد کے دو ساتھی بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور پسٹل مسافروں پر تان لئے۔ یہ فلمی کہانی نہیں، یہ pk- 554 پرواز تھی۔ یہ پاکستان میں 25 مئی 1998ء کو اغوا ہونیوالے مسافر جہاز کا ناقابل فراموش واقعہ ہے جس میں ہر لمحے ڈرامائی موڑ آتے رہے۔ پی آئی اے فوکر -27 تُربت ایئرپورٹ سے اڑا، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ …

Great British Commentator Rob Smyth writes these memorable words about Team Pakistan.

Great British Commentator Rob Smyth writes these memorable words about Team Pakistan. “I used to think that Pakistan were the most interesting team in the history of sport. I now realise that they’re the most interesting team in the history of mankind. Their ability to teleport between farce and genius is unparalleled, and at best they are like watching sport directed by David Lynch. Nothing makes a blind bit of sense, key characters appear out from nowhere, supernatural forces are at work and inanimate objects can talk. All you can do is run with the mood and the madness. “This Captain is different:- He is not glamorous. Is not shy to express himself in rustic & broken English in front of cameras, even to the extent of consciously creating humor about his lack of fluency in English language. With least regard to his star image with Lollywood or Bollywood crowd or bill board attraction, he very proudly holds his infant son in his arms & affectionately shares jubilation & smiles with his hijab wearing wife …

سوالات۔جواب مانگتے ہیں

ایک عزیز دوست جے آئی ٹی کے حوالے سے چند اہم نکات سامنے لائے ہیں جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتاہوں ، ملاحظہ فرمائیں:۔ پاناما لیکس کے بارے میں قائم پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کو سامنے آئے ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 20اپریل کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے عدالت ِعظمیٰ نے 2مئی کو ایک تین رکن بنچ قائم کردیا۔ یہ بنچ بڑے پانچ رکنی بنچ میں شامل ان تین جج صاحبان پر مشتمل تھا جنہوں نے اکثریتی فیصلہ لکھا۔ اس فیصلے کی روح معاملے کی مکمل چھان بین کرنے کے لئے ایک ایسی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا قیام تھی جسے 60دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں لکھا کہ: مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ان ارکان پر مشتمل ہوگی۔ (۱) ایف آئی اے کا ایک سینئر آفیسر جو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے کم نہ ہو اس ٹیم کی سربراہی کرے گا۔ (۲) نیب کا ایک نمائندہ (۳) سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان …

قران کی موسیقی

قران سے متعلق ایک ایسی عجیب و غریب حقیقت جو انتہائ حیران کن بھی ہے اور متاثر کن بھی۔ کچھ منٹ نکال کر پورا پڑھ لیجئے۔ حیران آپ بھی رہ جائیں گے۔۔ اور شاید دل بھی بھر آئے۔ شکریہ ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب ”محاضرات قرآنی “کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔ غازی صاحب لکھتے ہیں: ” آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نام سنا ہوگا، انہوں نے خود براہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ غالباً 1958-1957ء میں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ ان کی زندگی کا یہ ایک عام معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔ اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے …

بے روزگار احباب متوجہ ہوں !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب منجھے ہوئے کالم نگار ہیں !!روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے کی زینت ہیں ! اتفاقاً کل اُن کا کالم نظر سے گزرا !! کسی بہت ہی پہنچے ہوئے بابا جی کا ذکر تھا !! پُورے کالم میں بابا جی کی تین کرامتوں کا ذکر تھا ! ایک تو بابا جی نے ڈاکٹر صاحب کے انتہائی قابل دوست کو امریکہ میں نوکری کی خوشخبری دی !! دوم اُس دوست کو تیسری اولاد کا مژدہ جانفزا سُنایا !! اور پھر کافی عرصے بعد جب ڈاکٹر صاحب کے وہ دوست دوبارہ بابا جی سے ملنے آئےتو بابا جی اُن سے شدید ناراض تھے !! کیونکہ اُن کے ہاتھوں سے اُنہیں کسی قتل کی بُو آ رہی تھی !! ڈاکٹر صاحب کے وہ دوست اس بار بھی بہت حیران ہوئے کہ اتنے خفیہ طریقے سے انجام دیے گئے تیسرے بچے کے اسقاطِ حمل کی خبر بابا جی تک کیسے پہنچ گئی !!! لگتا ہے یہ بابوں کا موضوع اب میری جان چھوڑنے والا نہیں !! مُجھ سے جبراً کُچھ نہیں لکھا جاتا !! بس …

An ignoramus par excellence

In Pakistan, two-thirds of the professional elite – lawyers, doctors, engineers, architects, chartered accountants, literary writers, artists, players, athletes, professors, corporate managers and media persons, as well as the business elite, political elite, military elite, bureaucratic elite and judicial elite – is relatively uninformed and unconcerned about, uninterested in and unimpressed by the macro-level issues threatening social, national, regional and global life. How far can you go with the one-third elite that are articulate enough to run state and society? Why are financial, social and educational resources not building the nation? Why are our Afghan, Iran, India and US policies in a mess? Why is the social space increasingly violent? The answer to that is the way the elite of various persuasions are de-institutionalising public life: parliamentarians conducting their business outside parliament; lawyers operating beyond the purview of the law; police regularly committing human rights abuses; and media blatantly taking sides with some forces against others. Half of the elite are India-sick. The other half, America-sick. The two categories are massively overlapping. While the middle …