Uncategorized
Leave a Comment

رمضان اسپیشل


رمضان شروع ہوتے ہی  سارا نظام بدل جاتا ہے ،دوکانوں پر چپس ‘ بسکٹ ‘ ڈبل روٹی‘ انڈے اور بوتلیں سامنے رکھی ہوتی ہیں لیکن سگریٹ چھپا دیے جاتے ہیں گویا روزہ صرف سگریٹ سے ہی ٹوٹتا ہے۔سارا دن ٹی وی پر مشروبات کے فرحت بخش اشتہارات چلتے ہیں  اورروزہ داروں کا صبر آزماتے ہیں۔بڑے بڑے برینڈ اچانک اپنے اشتہارات میں عقیدت کا رنگ بھر لیتے ہیں اور ہر چیز رمضان کا نام لے کر بیچی جاتی ہے۔افطاری کے قریب ٹی وی پر باتھ روم کلینر کے اشتہارات بمعہ تصویر دکھائے جاتے ہیں اور بار بار دکھائے جاتے ہیں۔رمضان کے احترام میں جگہ جگہ ’ڈیزل‘ میں پکے پکوڑوں سموسوں کی دوکانیں کھل جاتی ہیں ‘ مسجدیں یکدم آباد ہوجاتی ہیں اورگداگروں کی ٹولیاں ہر طرف گشت کرتی ہیں۔شیطان بند اور انسان آزاد ہوجاتے ہیں۔دفاتر میں کام ٹھپ ہوجاتے ہیں کیونکہ کچھ لوگوں کو یقین ہے کہ روزہ دار کا حق ہے اگر وہ روزہ رکھے توبے شک کوئی کام نہ کرے لیکن تنخواہ پوری لے۔
روڈ پرٹریفک بے ہنگم سی ہوجاتی ہے‘ افطار کے اوقات میں لوگ ہوا کے دوش پر اڑتے نظر آتے ہیں‘ چوراہوں پر ٹریفک جام ہوجاتی ہے‘ سب کو صر ف ایک ہی جلدی ہوتی کہ کسی طرح گھر پہنچ کر افطاری میں شریک ہوجائیں۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی کہتا تھا کہ ’میں روزے سے ہوں‘ تو بے اختیار اس کے لیے احترام کے جذبات امڈ پڑتے تھے۔ آج کل جب کوئی یہ جملہ کہتا ہے تو پتا نہیں کیوں یکدم خوف طاری ہوجاتاہے کہ موصو ف کہیں یکدم بھڑک ہی نہ جائیں۔ہمارے محلے میں ایک حاجی صاحب رہتے ہیں جو روزہ رکھ لیں تو پورے محلے کو اندازہ ہوجاتا ہے  کہ حاجی  صاحب روزے سے ہیں ۔ حاجی صاحب کا تقاضہ ہوتا ہے کہ انہیں دوکان پر سب سے پہلے سامان دیا جائے کیونکہ ان کا روزہ ہے‘ سائیکل پر جارہے ہوں تو بیچ سڑک میں چلتے ہیں ‘ گاڑی والا ہارن دے تو گھور کر ایک ہی جواب دیتے ہیں’اوئے۔۔۔میرا روزہ ہے‘۔ لوڈشیڈنگ کی صورت میں بنیان پہن کر گھر کے صحن میں لیٹ جاتے ہیں اور سب بچوں کو حکم دیتے ہیں کہ مجھے زور زور سے پنکھا جھلو‘ میر اروزہ ہے۔مالک مکان کرایہ بھی مانگنے آئے تو یہی جواب دے کر بھگا دیتے ہیں۔

گرمی بہت ہے‘  ایسے میں حاجی صاحب جیسے کئی لوگوں نے پہلے سے ہی کچھ ضروری انتظامات کرلیے ہیں ۔
مثلاً میرے ایک بٹ دوست نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ وہ سحری میں چار بڑے گلاس دہی کی لسی کے پئیں گے تاکہ سارا دن پیاس نہ لگے۔ پچھلی دفعہ بھی انہوں نے ایسا ہی کیا تھا اورایسی خماری چڑھی تھی کہ افطاری کے وقت جب انہیں نیند سے اٹھایا جاتا تو آنکھیں ملتے ہوئے اٹھتے کہ ’ایڈی جلدی دن گذر گیا؟‘‘۔بٹ صاحب افطاری میں دال چاول کا پتیلا لے کر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں اور اکثر تب اٹھتے ہیں جب پتیلے میں سے خود آواز آتی ہے کہ ’بٹ صاحب ہن تے مینوں چھڈ دیو‘۔ایک اور صاحب ہیں جنہیں ہر وقت یہی شبہ رہتا ہے کہ ان کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔روزے کی حالت میں فون کر کرکے دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ بیگم پیاز کاٹ رہی تھی‘ آنکھ میں آنسو آگئے‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟ ۔۔۔ٹی وی لگایا تو اچانک ایک گانے والے چینل پر نظر پڑ گئی‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟۔۔۔گھرمیں بریانی پک رہی ہے‘ دیکھ کر منہ میں پانی آگیا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟۔۔۔مجھے حسرت ہی رہی کہ کاش کبھی ان کے منہ سے یہ بھی سننے کو ملے کہ آج میں نے بچے سے کہہ دیا کہ باہر جاکر محلے دار سے کہہ دو میں گھر پر نہیں ہوں‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟۔۔۔میں نے تین سو روپے میٹر والا کپڑا بارہ سو روپے میٹر میں فروخت کیا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟۔۔۔میں نے کل کے باسی سموسے پکوڑے اپنی ماسی کو دے دیے‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا۔۔۔میں نے ساری رات کنڈا لگا کر اے سی چلایا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟۔۔۔میں نے صبح کی نماز میں ایک بچے کو دھکا دے کر پچھلی صف کی طرف دھکیل دیا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟۔۔۔میں نے اپنے غیر مسلم ملازم کو سارا دن بھوکا پیاسارکھا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا۔۔۔ہوسکتا ہے ان چیزوں سے روزہ نہ ٹوٹتا ہو‘ بہرحال کسی کا دل ضرور ٹوٹ جاتاہے۔
بچپن میں مولوی صاحب ہمیں پڑھایا کرتے تھے کہ روزے کی حالت میں بھوکا پیاسا رہ کر انسا ن کو غریب کی حالت کا احساس ہوتاہے۔ لیکن ہمیں تو اپنی بھوک پیاس مار دیتی ہے کسی کی طرف خاک دھیان جانا ہے۔اصولی طور پر ماہ رمضان میں ہر گھر میں راشن کی مقدار کم ہوجانی چاہیے لیکن اس کے الٹ ہوتاہے۔آپ کبھی حساب لگا کر دیکھئے گا‘ بھوک پیاس کے اِس مہینے میں سب سے زیادہ کھایا جاتاہے۔لوگ بھوک پیاس کو برداشت کرنے کی بجائے اس کے حل ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں۔پچھلے دنوں فیس بک پر ایک اشتہار دیکھا جس میں دعویٰ کیا گیاتھا کہ ایک گولی کھانے سے آپ کو سارا دن بھوک پیاس نہیں لگے گی لہذا رمضان میں یہ گولی مسلمانوں کے لیے تحفے سے کم نہیں۔ بندہ پوچھے اگر بھوک پیاس ہی نہ لگی تو روزہ کیسا؟ ؟؟ بھائی جی ! روزہ رکھنا ہے‘ روزے کو شکست نہیں دینی۔۔۔!!!
وہ لوگ جن کا حقیقی روزہ ہوگا ان کی پہچان بڑی آسان ہے۔۔۔یہ کبھی کسی سے نہیں پوچھیں گے کہ تمہارا روزہ ہے؟۔۔۔یہ تھکے ہوئے بھی نظر نہیں آئیں گے۔۔۔کسی بے روزہ دار کو کھاتے پیتے دیکھ کر اِن پر لرزہ طاری نہیں ہوگا۔۔۔نماز کی صورت میں یہ کسی کو بتائے بغیر خاموشی سے دفتر کے دوسرے کمرے میں جائیں گے اور نماز ادا کرکے واپس اپنی نشست پر آجائیں گے۔یہ گاڑی بھی بڑے سکون سے چلائیں گے ۔دورانِ ڈرائیونگ افطاری کی صورت میں گاڑی ایک طرف روکیں گے ‘ ڈیش بورڈ پر پڑی کھجور کھا کرپانی پئیں گے اور اطمینان سے دوبارہ گھر کی طرف چل پڑیں گے۔۔۔یہ سحری بھی اُتنی ہی کرتے ہیں جتنا عام دنوں میں ناشتہ کرتے ہیں۔۔۔افطاری کے وقت بھی پکوڑوں سموسوں کا انبار کھانے کی بجائے پیاس بجھائیں گے اور کچھ دیر بعد معمول کے مطابق رات کا کھانا کھائیں گے۔۔۔ان کے چہرے پر آپ کو بیزاریت کی بجائے بشاشت نظر آئے گی۔۔۔یہی وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں‘ بھگتاتے نہیں۔۔۔یہ سحری کھاتے نہیں کرتے ہیں۔۔۔دفتر کا کام مزید بہتر طریقے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔یہ تعداد کم ہے لیکن اتنی بھی کم نہیں۔ ان کے برعکس وہ لوگ توآپ نے دیکھے ہی ہوں گے جو سحری کے وقت پوری طرح چوکنے رہتے ہیں کہ اذان کے قریب فٹا فٹ دو تین گلاس پانی کے پی لیں اور افطاری کے وقت آستینیں چڑھا لیں۔۔۔!!!

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s