Uncategorized
Leave a Comment

آل سعود کی خوبیاں بھی تو دیکھیں


رپورٹ : مجاہد فاروق
ناقدین کو کیا پتہ  اور  حاسدین کیا جانیں کہ ریاض کانفرنس کسے کہتے ہیں !؟اس کانفرنس میں آل سعود نے مہمان نوازی کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے،ہوا یوں کہ اس کانفرنس کے موقع پر عزت ماب شاہ سلمان نےامریکی صدر کا بے مثل استقبال کیا،معزز مہمان کے گالوں کے بوسے لئے اور ان کی  دلجوئی کے لئے ان کی بیوی کے ساتھ بھی گرمجوشی سے مصافحہ کیا،پھر بادشاہ سلامت نے مہمانوں کے ساتھ مل کر رقص  بھی کیا ،  انہیں بہترین اور لذیذ کھانے بھی کھلائے اور عربی قہوہ بھی پلایا، اس کے علاوہ پچپن ممالک کے نمائندوں اور عالمی اسلامی فوج  کے سربراہوں کے سامنے اپنے مشترکہ دشمن ایران کے خلاف زبردست تقریر کی،  مسٹر ٹرمپ کی بیٹی کو  اتنے انعام و اکرام سے نوازا کہ اسے دس کروڑ ڈالر رقم دینے کا وعدہ کیا۔ا ٓخر میں اپنے مہمان خصوصی کو  بہترین اور قیمتی تحائف   دے کر رخصت کیا۔ دنیا میں کہاں ہے ایسی میزبانی اور فراخدلی کی  مثال۔!؟
پس اگر آل سعود اسی فراخدلی کا مظاہرہ مسلمان مسالک کے ساتھ بھی کرتے توآج  صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔اگر  ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے اسے بوسے دئیے جاسکتے ہیں تو  مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے انہیں بھی ان  کے نبیﷺ کے مزار کے بوسے لینے کی اجازت  ہونی چاہیے، عجیب بات ہے کہ ٹرمپ جیسے مشرک کو چومنا تو شرک نہیں اور اپنے نبی ﷺ کے تبرکات کو چومنا شرک ہے۔ یعنی ٹرمپ کے ساتھ اظہار عقیدت توحید ہے اور اللہ کے آخری نبی ﷺ کے ساتھ اظہار عقیدت شرک ہے،  اگر   ٹرمپ کا دل رکھنے کے لئے اس کی بیوی سے گرمجوشی سے مصافحہ کرنے والے  سعودی حکام ، اسی طرح ایرانی حکام کی بھی  دعوت کرتے اور اسی گرمجوشی  سے  استقبال کرتے  تو صورتحال کتنی مختلف  ہو جاتی، اگر  ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے رقص کرنے والے دیگر مسالک کے عرس و میلاد کے پروگراموں میں  ہونے والے رقص کو بھی برداشت کر لیتے تو مسلمان کتنے بھائی چارے سے رہتے، اگر ٹرمپ کی دعوت کے لئے انواع و اقسام کے کھانے تیار کرنے والے اولیائے کرام کے مزارات پر تقسیم کئے جانے والے کھانے پر قدغن نہ لگاتے تو مسلمانوں میں کتنا بھائی چارہ ہوتا، اگر ٹرمپ جی کو عربی قہوہ پلانے والے عید میلاد النبیﷺ اور دیگر موقعوں پر لوگوں کو سبیلیں لگانے سے نہ روکتے تو مسلمانوں میں کس قدر بھائی چارہ پیدا ہو جاتا۔ اگر اسی طرح پچپن مسلمان ممالک کے نمائندوں کو بلاکر اور اسلامی فوج تشکیل دے کر ایک تقریر ایران کے بجائے اسرائیل اور بھارت کے  خلاف کردی جاتی تو دہشت گردوں کی ماں ہی مرجاتی۔
 اگر  ٹرمپ کی بیٹی کو دس کروڑ ڈالر دینے کے بجائے یہی رقم مکے اور مدینے میں اسلام کے  منہدم کئے ہوئے مقدس مقامات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے لگانے کا اعلان کیاجاتا تو دنیا  بھر کے مسلمان کس قدر خوش ہوجاتے۔
 اگر  یہ قیمتی تحائف اور اعزازات
1۔ انتہائی قیمتی اور نایاب کا قسم کا ہیرا
2۔ خالص سونے سے تیار کردہ گن جس پر شاہ سلمان کی تصویر نقش ہے۔
3۔ 25 کلوگرام وزنی خالص سونے سے تیار گردہ تلوار جس پر ہیرے اور دیگر نادر قسم کے پتھر اور جواہر نصب ہیں اور اس تلوار کی قیمت 200 ملین ڈالر ہے۔
4۔ سونا اور ہیروں سے تیار 25 گھڑیاں، ٹرمپ اور اسکے گھر والوں کیلئے جن کی کل قیمت 200 ملین ڈالر ہے۔
5۔ ہیرے اور جواہرات سے سجے 150 سے زائد عبابہ۔
6۔ سعودی دارالحکومت ریاض میں واقع سب بڑی شاہراہ کا نام ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب کر دیا گیا ہے اور اس شاہراہ کے شروع میں ٹرمپ کی شکل کا ایک مجسمہ رکھ دیا جائے گا۔
7۔ امریکہ میں واقع مشہور ’’مجسمہ آزادی‘‘ کا ایک چھوٹا سا ہم شکل، مگر یہ ہم شکل سونے، ہیرے اور جواہرات سے تیار شدہ ہے۔ جسے ایک خاص سعودی طیارے کے ذریع وائٹ ہائوس منتقل کیا جائے گا۔
8۔ 800 ملین ڈالر کی قیمتی یاٹ (کشتی) جسکی لمبائی 125 میٹر ہے اور یہ یاٹ دنیا کی سب سے لمبی ذاتی یاٹ ہے جس میں 80 کمرے اور 20 شاہی کمرے موجود ہیں اور ان کمروں کے بیشتر اجزاء سونے سے تیار کردہ ہیں اس یاٹ کو امریکی بحریہ کے ذریعے امریکہ روانہ کیا جائے گا۔
جی ہاں اگر یہ مذکورہ بالا قیمتی تحائف اور اعزازات  کشمیر اور فلسطین کے شہدا کی بیواوں اور یتیموں کی نذر کر دئیے جاتے تو عالمِ اسلام کی کتنی بھلائی ہو جاتی۔
ہاں دوستو! کبھی سوچنا کہ آل سعود کی جتنی بھی خوبیاں ہیں وہ اسلام کے دشمنوں کے لئے ہیں اور جتنی بھی سختیاں ، جبر اور برا برتاو ہے وہ مسلمانوں کے ساتھ ہے، یہ لوگ جس طرح کفار اور یہود کے ساتھ دوستانہ برتاو کرتے ہیں اگر مسلمانوں کے ساتھ بھی اسی طرح برتاوکریں تو  سارے مسلمان آپس میں شیروشکر ہوجائیں اور مسلمانوں کے سارے مسائل ہی حل ہو جائیں۔
کیا کہنے آل سعود کے کہ ان کی منعقدہ کانفرنس نے تو امت مسلمہ کا درد رکھنے والے ہر باشعور مسلمان کی نیندیں اڑا دی ہیں لیکن عالم کفر  کے سردار امریکہ، اسرائیل اور بھارت بغلیں بجا رہے ہیں۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s