Uncategorized
Leave a Comment

بے روزگار احباب متوجہ ہوں !!


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب منجھے ہوئے کالم نگار ہیں !!روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے کی زینت ہیں ! اتفاقاً کل اُن کا کالم نظر سے گزرا !! کسی بہت ہی پہنچے ہوئے بابا جی کا ذکر تھا !!
پُورے کالم میں بابا جی کی تین کرامتوں کا ذکر تھا ! ایک تو بابا جی نے ڈاکٹر صاحب کے انتہائی قابل دوست کو امریکہ میں نوکری کی خوشخبری دی !! دوم اُس دوست کو تیسری اولاد کا مژدہ جانفزا سُنایا !! اور پھر کافی عرصے بعد جب ڈاکٹر صاحب کے وہ دوست دوبارہ بابا جی سے ملنے آئےتو بابا جی اُن سے شدید ناراض تھے !! کیونکہ اُن کے ہاتھوں سے اُنہیں کسی قتل کی بُو آ رہی تھی !! ڈاکٹر صاحب کے وہ دوست اس بار بھی بہت حیران ہوئے کہ اتنے خفیہ طریقے سے انجام دیے گئے تیسرے بچے کے اسقاطِ حمل کی خبر بابا جی تک کیسے پہنچ گئی !!!
لگتا ہے یہ بابوں کا موضوع اب میری جان چھوڑنے والا نہیں !! مُجھ سے جبراً کُچھ نہیں لکھا جاتا !! بس دماغی رو کسی سمت بہک جائے تو پھر بریک نہیں لگتی !!
ہمارے لیے مقامِ فخر ہے کہ ہمارا معاشرہ بابوں کے معاملے میں اس حد تک خود کفیل ہو چُکا ہے کہ ہم بابے ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں !!
دُنیا بھر میں انتہائی امیر کبیر اور پڑھے لکھے لوگوں کو بھی چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے لیے مہنگے مہنگے ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں !!
بابے جب گھر بیٹھے امریکی کمپنیوں کے معاملات جان سکتے ہیں اور نا محرم عورتوں کے رحم کے حالات تک کی خبر رکھتے ہیں تو چھوٹے موٹے لیبارٹری ٹیسٹ اور ہلکی پھلکی موسم کی پیشنگوئیاں کون سا بڑا مسئلہ ہے !!
گھر کی دال مرغی برابر والا معاملہ ہے کہ ہمیں اپنے بابوں کی کوئی قدر نہیں !! ورنہ اُن کے کمالات کی خبر ترقی یافتہ قوموں تک پہنچ جائے تو وہ ہمارے تمام بابے ریمنڈ ڈیوس کی قیمت سے دوگنی قیمت میں خرید کر لے جائیں !!
بابوں کی متعدد اقسام سے ہمارا معاشرہ مالا مال ہے !! جنکی اِکا دُکا خبریں کبھی کبھار میڈیا میں بھی آ جاتی ہیں !
ایک خبر چینی سے ذیابیطس کا علاج کرنے والے بابے کی بھی آئی تھی !!
جس نے سینکڑوں مریضوں کو شوگر سمیت کیفر کردار تک پہنچایا تھا !!
اُس وقت میرا گمان تھا کہ یہ اس سلسلے کا پہلا اور آخری بابا ہو گا !! لیکن ایک تازہ ترین واقعے سے پتا چلا کہ چینی والے بابے وسیع پیمانے پر سرگرمِ عمل ہیں !!
مبلغ پانچ سو روپے کے عوض وہ مُٹھی بھر چینی مریض کو دیتے ہیں اور ذیابیطس ختم !! بس مریض پر ایک شرط لگاتے ہیں کہ ٹیسٹ نہیں کروانا !! اگر ٹیسٹ کروایا تو ٹیسٹ کی نحوست اور بابا پر شک کی سزا کے طور پر ذیابیطس واپس پازیٹو آ جائے گی !! !!
اِن بابوں کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ یہ صرف لاعلاج امراض کا علاج کرتے ہیں تاکہ بعد میں کسی بھی قسم کی گواہی یا منفی پروپیگنڈے کے لیے مریض باقی نہ رہے !!
ایک ذاتی گھڑا ہوا واقعہ سُناتا ہوں کہ اپنے ایک قریبی دوست کے ساتھ ایک ہیپاٹائٹس بی اور سی کا علاج کرنے والے بابا کے پاس جانا ہوا !! بابے کی فیس اڑھائی ہزارروپے تھی اور شرط وہی کہ علاج کے بعد ٹیسٹ نہیں کروانا !! بابا شکل سے کُچھ اَن پڑھ اَن پڑھ سا لگا تو میری متجسس طبیعت نے ایک سوال داغ دیا کہ بابا جی آپ ہیپاٹائٹس بی اور سی کا علاج تو کرتے ہیں کیا سی سے اگلے حرف کے بارے میں کُچھ بتائیں گے کہ وہ کونسا ہے !!
بابا جلال میں آ گیا !!
دھاڑ کے بولا کہ تُو ہمیں جاہل سمجھتا ہے !!
ہم ہیپاٹئٹس اے بی سی ڈی ای ایف جی ایچ آئی جے سے ہیپاٹائٹس زیڈ تک کا علاج کرتے ہیں !!
اور جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو تُو نے میٹرک کا امتحآن ایک بار دیا ہوگا ہم نے چار بار دیا تھا !! پانچویں بار بھی دیتے لیکن ہم سلوک کے راستے کے مسافر بن گئے ! اور آج دیکھ لے کہ پڑھ پڑھ کے سر سفید کرنے والے بھی ہمارے سامنے دو زانو بیٹھے ہوتے ہیں !!
کینسر والے بابوں کی تو بات ہی کیا ہے !! یہ وہ بابے ہوتے ہیں جو صرف لاعلاج کینسر کا ہی علاج کرتے ہیں !! اور تقریباً ہر کیس میں لواحقین کے لیے آخری جملہ یہی ہوتا ہے کہ رب کی لکھی سے کون لڑ سکتا ہے !!
ہمارے ایک دوست پانچ سالہ پُرانے آدھے سر کے درد کے علاج کے لیے سندھ بھر میں مشہور ترین ایک بابے کے ڈیفنس والے آستانے پر تشریف لے گئے !! یہ بابا جی تو اتنے مشہورو مقبول ہیں کہ اگر نام لے لُوں تو کم از کم سو دو احباب مجھ پر لعنت بھیجتے ہوئے میرے حلقہ احباب سے رخصت ہو جائیں گے !!
خیر وہ دوست جب اُن بابا جی کے دو ہزار گز پر بنے آستاے پر پہنچے تو وہ اپنے گارڈز کے ہمراہ آستانے سے باہر کہیں تشریف لے جارہے تھے !!
اس دوست کو بابا جی کے جو مُرید ساتھ لے گئے تھے انہوں نے آستانے کی انتظامیہ سے پُوچھا کہ بابا جی کہاں کے لیے رُخصت ہوئے ہیں !! تو جواب مِلا کہ اپنے کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کے مسائل کے حؤالے سے بابا جی کی کسی کارڈیالوجسٹ کے ساتھ اپائنٹمنٹ تھی! میرے دوست کے بقول بابا جی کی اس سے بڑی کرامت کیا ہوگی کہ میرا سر درد تو حیرت سے ہی ٹھیک ہو گیا !!
آپ مانیں یا نہ مانیں بابوں کی صنعت سے ہمارے مُلک میں بیروزگاری کی شرح میں خاطر خواہ کمی آئی ہے !!
ایک تو بابوں کا اپنا روزگار اوپر سے جو قریبی مُریدین ہوتے ہیں وہ دراصل بابوں کے دھندے میں پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں !! یہ قریبی مریدین نئے سائلین کے راز اکھٹے کرتے ہیں جو بوقت ضرورت بابے سائلین کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں !!
بحیثیت کیرئیر کاؤنسلر پُورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ آپ بھی اگر اپنے معاشی حالات سے پریشان ہیں تو اس شعبے میں قسمت آزمائی کر سکتے ہیں !!
یہ کام واجبی سی انویسٹمنٹ سے شروع کیا جا سکتا ہے !! بس ٹیم مضبو ط ہونی چاہیے !! پہلے مرحلے میں آپ کسی ایسے علاقے کا انتخاب کیجیے جہاں آپ کو ذاتی طور پر جاننے والا کوئی نہ ہو !!
شروع کے ایک دو ماہ کا راشن اور آستانے کا کرایہ آپ کے پاس ہونا لازمی ہے !!
آپ کے آستانے کے باہر آپ کا جو نام لکھا ہو اُس میں کم از کم سات الفاظ لازم ہیں !!
آپ اپنے آپ کو کسی نئے منفرد سلسلے سے بھی منسلک کر سکتے ہیں اور روایتی مشہور سلاسل کو بھی بطور چارہ استعمال کیا جاسکتا ہے !!
بے شک انتظار گاہ میں ایک سائل ہی کیوں نہ ہو !! اُسے تھکا کر اِذنِ باریابی دیجیے !! ہماری قوم بسہولت مُلاقات کے لیے دستیاب ہستیوں کو کبھی عظیم نہیں مانتی !!
بہت جلدی رزلٹ درکار ہو تو رینٹ پر کوئی لش پش گاڑی بھی لے کر آستانے کے باہر کھڑی کی جا سکتی ہے !! دو چار مہینے میں ویسی ہی گاڑی آپ کو بطور نذرانہ بھی مل سکتی ہے !!
سائل کے ساتھ فری ہونا تو اس پیشے میں حرام ہے !! جتنا آپ سائل کو ذلیل کریں گے اُتنا آپ کا درجہ سائل کے دماغ میں بلند ہوتا چلا جائے گا !!
ہفتے کے ست دنوں میں صرف تین دن اپنا دیدار کروائیے !! کامیاب ترین حکمت عملی یہ ہے کہ سائلین کی خدمت بلامعاوضہ کیجیے !! اس حکمت عملی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سائلین حیلوں بہانوں سے آپ کا نذرانہ آپ کو دے کر ہی جائیں گے !! اور آپ کی شہرت بھی کُچھ یُوں ہو گی کہ بابا جی تو بطورِ اجرانہ کُچھ لیتے ہی نہیں !!
ہر سائل کو مثبت دعا دیجیے !! اللہ کے ہاں کام تو یہودیوں کے بھی نہیں رُکتے !! جس جس کا کام ہوتا چلا جائے گا وہ آپ کا پکا مُرید ہوتا چلا جائے گا !! !!
اور ہاں آخری اور کام کا مشورہ کہ اپنے قریبی مُریدین یعنی پارٹنرز کو اُن کا حصہ بروقت اور فراخ دِلی سے ادا کرنا ضروری ہے !! ورنہ وہ آپ کے آستانے کو آپ کے مزار میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں !! پھر آپ کو قبر میں بھی سُکون کی نیند نصیب نہیں ہو گی !! ایک تو فرشتوں کی چھترول اُوپر سے وقت بے وقت کی محافلِ سماع !!
بحیثیت کیرئیر کاؤنسلر آخری گِھسا پِٹا مشورہ بھی سُن لیں !! کہ کسی بھی کام میں شاندار کامیابی کے لیے مستقل مزاجی ، مشقت اور مثبت طرزِ فکر لازمی عناصر ہیں !! اِن کا دامن تھام کر رکھیے اللہ برکت عطا فرمائے گا !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
٭ ہمارے سلسلہ رزقیہ روٹیہ و کاہلیہ کا ہفتہ وار اجتماع بروز ہفتہ بوقت ظہر تا عصر منعقد ہوتا ہے !! سائلین و شائقین آستانہ عالیہ کے ایڈریس کے لیے ان باکس میں رابطہ فرما سکتے ہیں !! دعا اور مشورہ فی سبیل اللہ دیے جاتے ہیں !! علاج آپ کو اپنے خرچے پر کروانا ہو گا !!!

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s