Month: August 2017

امریکہ۔ ہوئے تم دوست جس کے ..

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیانات پر پاکستان کے عوامی حلقوں میں حیرت اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد 50 کی دہائی سے آج تک پاکستان کو امریکہ کی جانب سے کئی بار وعدہ فراموشی، لاتعلقی اور مخالفانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکہ کی نسبت اس کے حلیف کئی یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات زیادہ خوشگوار اور پُراعتماد رہے ہیں۔ دنیا میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی میں امریکہ اور چند یورپی ممالک یقیناً آگے ہیں۔ ایشیا میں پہلے جاپان اور پھر چین کے علاوہ کوریا، ویت نام، ملائشیا نے بھی معاشی ترقی میں شان دار مثالیں قائم کی ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان کے پالیسی ساز امریکہ اور مغربی یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتے رہے ہیں۔ ہم نے ایشیائی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات کو ایک طویل عرصے تک اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔ ہم سرمایہ دارانہ نظام کے وکیل اور جنگوں کو اپنی معاشی ترقی کا محور بنانے والے امریکہ کی خوش نودی …

قلم فالج زدہ ہےلفظ سارے برف جیسے ہیں

کیا کبھی اس ملک میں کوئی ایسا دن بھی آئے گا جب اس قسم کی غیرمہذب بلکہ غیرانسانی اور منحوس خبریں ڈھونڈنے سے بھی کہیں دکھائی اور سنائی نہیں دیں گی کہ….وزیراعلیٰ پنجاب جیسے ’’خادم‘‘ کے صرف 8سرکاری دفاتر ہیں جن میں صرف 188افسروں سمیت صرف 701ملازمین تعینات ہیں۔ کلب روڈ 1، 5، 7، 8، 90شاہراہ قائداعظمؒ، پنجاب اسمبلی، ارفع کریم ٹاور وغیرہ کے دفاتر مشیر و دیگر استعمال کر رہے ہیں۔ 180ایچ ماڈل ٹائون کو سکیورٹی وجوہات پر کیمپ آفس کا درجہ دیا گیا ہے جبکہ دستاویزات میں صرف 2دفتر دکھائے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے ہیلی کاپٹر پر42، گرائونڈ طیارے پر 4پائلٹس سمیت 44اہلکار تعینات ہیں اور صرف 25کروڑ کا بجٹ مختص ہے۔ گاڑیوں کا پورا فلیٹ موجود ہے، کاغذات میں صرف دو کا بتایا گیا ہے۔ روس سے ہیلی کاپٹر لانا 4ارب میں پڑا۔دروغ برگردن راوی، میں نے یہ سب کسی اخبار سے مستعار لیا ہے تاکہ عوام کو اس مقروض ملک کے حکمرانوں کے لائف اسٹائل کا اندازہ ہو اور وہ جان سکیں کہ ان کی زندگیاں اس قدر قابل رحم کیوں …

ٹرمپ سےٹرمپ تک

ٹرمپ سےٹرمپ تکآج پھر موضوعات کا متنجن کیونکہ سب ہی تھوڑے تھوڑے ضروری ہیں لیکن سب سےپہلےچیئرمین سینیٹ رضا ربانی جو متوازن اور نیک نام سیاست دان ہونے کےساتھ ساتھ ممتازدانشور اور بہترین انسان بھی ہیں۔ آپ نے حالیہ ’’ٹرمپیوں‘‘ کے جواب میں اپنے مخصوص دھیمے دھیرے انداز سے ہٹ کر کہا ہے کہ ’’ہمیں ویت نام کمبوڈیا نہ سمجھا جائے۔امریکہ نے غلطی کی توپاکستان امریکی فوجیوں کا قبرستان بن جائےگا‘‘ہمیں عمل اور ردعمل …..قول اور فعل میں اعتدال و میانہ روی کا حکم ہے ۔ خارجہ امور اور پاک امریکہ تعلقات کی اتار چڑھائو سے بھرپور تاریخ کو ایک طرف رکھتے ہوئے پہلی حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ نہیں، امریکی تاریخ کا محض ایک ’’مختصر‘‘ سا مرحلہ ہے ۔ دوسری گزارش یہ کہ افراد اور اقوام کے درمیان تعلقات کا ایک آفاقی، ازلی اور ابدی اصول ہے کہ دوستوں کے ساتھ دوستی قائم رکھو، جو نیوٹرل ہوں انہیں دوستی کے دائرے میں لانے کی کوشش کرو اور جو دشمن ہو اسے نیوٹرل کرنے کی کوشش کرو۔ احتیاطاً یہ کہنا بھی ضروری ہے …

Cover Story: The Punjab’s Robber Barons

Punjab Chief Minister Shahbaz Sharif has awarded mega development projects worth dozens of billions of rupees in the province to Chinese companies without open international bidding. He has also provided interest-free loans from the provincial exchequer to certain private companies in flagrant violation of official rules and regulations. And still Shahbaz Sharif portrays himself as a paragon of virtue and honesty. A majority of the Punjab’s high-profile development works, including energy plants and transport infrastructure, are shrouded in secrecy on the pretext that they are part of the China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) and as such, any details pertaining to them cannot be made public without permission from the Chinese government. In principle, all government contracts fall under the aegis of the Public Procurement Regulatory Authority (PPRA) and are subject to its rules, but the Shahbaz Sharif administration has found ways to bypass these rules. One of the means it employs to do so is to award contracts without international bidding to Chinese firms, which in turn hire local sub-contractors – who are mostly the Sharif …

آزادی کی قیمت

ﺑﺮﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﻨﻮﺋﯿﮟ ———————————————————— —————————— ﯾﮧ ۱۹۷۷ﺀ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﺳﺮﮨﻨﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺮﺱ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎﺕ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﻗﺮﯾﺒﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺯﺍﺋﺮﯾﻦ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﻭﻓﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺒﺎ ۲۰ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺩﻭﺭ ﻭﺍﻗﻊ ﺍﯾﮏ ﻗﺼﺒﮧ ﺑﺮﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﻌﺾ ﺍﻧﺒﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﻣﺪﻓﻮﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﺍﺋﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭ ﺑﺴﯿﮟ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺸﺴﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻭﻓﺪ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﻣﺴﭩﺮ ﺟﺴﭩﺲ)ﺭ( ﺻﺪﯾﻖ ﭼﻮﺩﮬﺮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮭﺮﺩﺭﯼ ﻟﮑﮍﯼ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺷﺪﮦ ﻋﺼﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺟﺴﭩﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻏﺎﺯ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺣﻘﯿﻘﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺮﻓﺎﻥ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺴﭩﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﻗﯿﺎﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻐﻮﯾﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮯ۔ ﺍﻧﮭﻮ ﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻢ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﺟﻮ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﮐﮭﯿﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ۱۹۴۷ﺀ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﺮﺩﻭﮞ، ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ …

Agenda for tax reforms – II

  HUZAIMA BUKHARI AND DR IKRAMUL HAQ AUG 12TH, 2017 Though many authors, including ourselves, have presented suggestions for reforming the existing tax system and raising taxes to the level of Rs 8 trillion at federal level and Rs 4 trillion at the provincial level – New tax model – Business Recorder August 28, 2015, our more-loyal-than-the-king stalwarts sitting in Ministry of Finance and FBR want “advice” and “assistance” from the IMF and the World Bank that miserably failed in the past. Their predicament can well be explained in the following couplet of great Urdu poet Mir Taqi Mir: Mir kya sada hein beemar howe jis key sabab usi attar key londey sey dawa letey hein (What a simple soul is Mir; he seeks medication from the healer’s boy who is the cause of his ailment). The present tax system and policies are detrimental for economy, social justice, business and industry. Those who possess more economic power (income and wealth) should contribute more to the public exchequer and vice versa. The ability-to-pay principle is regarded as the most …

نوازشریف اپنی برطرفی کے بعد قوم کو شاہد خاقان عباسی کی شکل میں جو اگلا وزیراعظم دے کر جارہا ہے، زرا اس کے بارے میں آپ کو آگاہی دیتا چلوں:

میں نوازحکومت بننے کے کچھ عرصے بعد حکومت نے ایل این جی امپورٹ کا پراجیکٹ لانچ کیا جس میں تکنیکی اعتبار سے سوئی سدرن، سوئی ناردن، پی ایس او اور انٹرسٹیٹ گیس سسٹمز نامی کمپنیوں کی شرکت ضروری تھی۔ ایل این جی امپورٹ کرنے سے پہلے فیصلہ کیا گیا کہ کراچی پورٹ پر ایل این جی سٹور کرنے کا ٹرمنل کرائے پر لیا جائے اور اس کیلئے نوازشریف کے ذاتی دوست سیٹھ داؤد کی کمپنی اینگرو کے ساتھ معاہدہ کر لیا گیا جس کے مطابق اسے ہر روز 2 لاکھ 72 ہزار ڈالرز (تقریباً 3 کروڑ روپے روزانہ) کرائے کی مد میں ادا ہونے تھے، چاھے اس کا ٹرمنل استعمال ہو یا نہ ہو۔ یہ معاہدہ کرنے کیلئے سوئی سدرن کو پریشرائز کیا گیا جس کے ایم ڈی نے پہلے تو انکار کیا پھر وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے اسے تسلی دی کہ وہ معاہدہ سائن کرلے، کرائے کی ادائیگی پی ایس او کردیا کرے گا۔ معاہدہ سائن ہوگیا اور اسی دن سے سیٹھ داؤد کو 3 کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے ملنا …