Month: August 2017

آزادی کی قیمت

ﺑﺮﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﻨﻮﺋﯿﮟ ———————————————————— —————————— ﯾﮧ ۱۹۷۷ﺀ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ۔ ﺳﺮﮨﻨﺪ ﺷﺮﯾﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺮﺱ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎﺕ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﻗﺮﯾﺒﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺯﺍﺋﺮﯾﻦ ﭘﺮ ﻣﺸﺘﻤﻞ ﻭﻓﺪ ﺳﺮﮨﻨﺪ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺒﺎ ۲۰ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺩﻭﺭ ﻭﺍﻗﻊ ﺍﯾﮏ ﻗﺼﺒﮧ ﺑﺮﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺍ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﻌﺾ ﺍﻧﺒﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﻣﺪﻓﻮﻥ ﮨﯿﮟ۔ ﺯﺍﺋﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭ ﺑﺴﯿﮟ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺸﺴﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻭﻓﺪ ﮐﮯ ﻗﺎﺋﺪ ﻣﺴﭩﺮ ﺟﺴﭩﺲ)ﺭ( ﺻﺪﯾﻖ ﭼﻮﺩﮬﺮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﮭﺮﺩﺭﯼ ﻟﮑﮍﯼ ﺳﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺷﺪﮦ ﻋﺼﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ، ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺟﺴﭩﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻏﺎﺯ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺣﻘﯿﻘﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﺮﻓﺎﻥ ﺗﮭﯽ۔ ﺟﺴﭩﺲ ﺻﺎﺣﺐ ﻗﯿﺎﻡ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻐﻮﯾﮧ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﯿﺸﻦ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮯ۔ ﺍﻧﮭﻮ ﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻢ ﺳﮍﮎ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﺎﻧﺐ ﺟﻮ ﮨﺮﮮ ﺑﮭﺮﮮ ﮐﮭﯿﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ۱۹۴۷ﺀ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﺮﺩﻭﮞ، ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ …

Agenda for tax reforms – II

  HUZAIMA BUKHARI AND DR IKRAMUL HAQ AUG 12TH, 2017 Though many authors, including ourselves, have presented suggestions for reforming the existing tax system and raising taxes to the level of Rs 8 trillion at federal level and Rs 4 trillion at the provincial level – New tax model – Business Recorder August 28, 2015, our more-loyal-than-the-king stalwarts sitting in Ministry of Finance and FBR want “advice” and “assistance” from the IMF and the World Bank that miserably failed in the past. Their predicament can well be explained in the following couplet of great Urdu poet Mir Taqi Mir: Mir kya sada hein beemar howe jis key sabab usi attar key londey sey dawa letey hein (What a simple soul is Mir; he seeks medication from the healer’s boy who is the cause of his ailment). The present tax system and policies are detrimental for economy, social justice, business and industry. Those who possess more economic power (income and wealth) should contribute more to the public exchequer and vice versa. The ability-to-pay principle is regarded as the most …

نوازشریف اپنی برطرفی کے بعد قوم کو شاہد خاقان عباسی کی شکل میں جو اگلا وزیراعظم دے کر جارہا ہے، زرا اس کے بارے میں آپ کو آگاہی دیتا چلوں:

میں نوازحکومت بننے کے کچھ عرصے بعد حکومت نے ایل این جی امپورٹ کا پراجیکٹ لانچ کیا جس میں تکنیکی اعتبار سے سوئی سدرن، سوئی ناردن، پی ایس او اور انٹرسٹیٹ گیس سسٹمز نامی کمپنیوں کی شرکت ضروری تھی۔ ایل این جی امپورٹ کرنے سے پہلے فیصلہ کیا گیا کہ کراچی پورٹ پر ایل این جی سٹور کرنے کا ٹرمنل کرائے پر لیا جائے اور اس کیلئے نوازشریف کے ذاتی دوست سیٹھ داؤد کی کمپنی اینگرو کے ساتھ معاہدہ کر لیا گیا جس کے مطابق اسے ہر روز 2 لاکھ 72 ہزار ڈالرز (تقریباً 3 کروڑ روپے روزانہ) کرائے کی مد میں ادا ہونے تھے، چاھے اس کا ٹرمنل استعمال ہو یا نہ ہو۔ یہ معاہدہ کرنے کیلئے سوئی سدرن کو پریشرائز کیا گیا جس کے ایم ڈی نے پہلے تو انکار کیا پھر وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے اسے تسلی دی کہ وہ معاہدہ سائن کرلے، کرائے کی ادائیگی پی ایس او کردیا کرے گا۔ معاہدہ سائن ہوگیا اور اسی دن سے سیٹھ داؤد کو 3 کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے ملنا …

جب قائد اعظم ؒ سے رسیدیں مانگی گئیں

آصف محمود قائد اعظم ثانی سے رسیدیں مانگنے کا انجام تو آپ سب کے سامنے ہے ، اہلِ دربار کانپ کانپ دہائی دیتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم سے بھی رسیدیں مانگی گئی تھیں اور کیا آپ کو علم ہے جب ایک طالب علم نے حضرت قائد اعظم سے رسیدیں مانگیں تو ان کا رد عمل کیا تھا؟ یہ 1942 کی بات ہے ۔ بابائے قوم کو پاکستان کی جدوجہد کے لیے فنڈز درکار تھے، بابائے قوم نے اپنی قوم سے اپیل کر دی اور قوم نے اپنے قائد کی کال پر دیدہ و دل فرشِ راہ کر دیے ۔بڑے بوڑھے اور جوان تو رہے ایک طرف ، بچے اور حتی کہ یتیم خانوں کے بچے بھی نقدِ جاں ہتھیلی پر رکھے میدان میں آ گئے۔ احمد نگر کے امریکن سیشن ہائی سکول کے طلباء نے بابائے قوم کی خدمت میں اکتالیس روپے روانہ کیے ۔انہیں منی آرڈر کی رسید تو مل گئی کہ فمحترمہ فاطمہ جناح نے قائد اعظم …

اقامہ پانامہ سے زیادہ سنگین معاملہ ؟؟*

انتخاب *سید مدبر شاہ ذرا سوچئے پاکستان کے یہ تاجر سیاست دان آخر جعلی تنخواہوں پر سعودی عرب اور یو اے ای کے اقامے کیوں رکھتے ہیں جبکہ پول کھل جانے پر قومی اسمبلی کی رکنیت تک معطل ہونے کا خطرہ ہے ؟؟؟ *دو وجوہات ہیں ۔* پہلی ۔۔۔۔۔ سویٹزرلینڈ سمیت کئی ممالک کے فارن بینکس، اکاؤنٹ کھولنے پر آپ کی نیشنلٹی نہیں بلکہ ” رہائش ” رپورٹ کرتے ہیں یعنی وہ جگہ جہاں آپ رہتے ہیں اور ٹیکس ادا کر تے ہیں۔ ان اقاموں کی بدولت ہمارے کرپٹ سیاستدان ان بینکوں میں خود کو یو اے ای یا سعودی عرب کا ٹیکس دہندہ ظاہر کرتے ہیں۔ تنخواہ وہ بے شک جعلی لیں لیکن ٹیکس وہاں وہ اصلی ادا کرتے ہیں۔ اب ان ممالک میں یہ سہولت ہے کہ اقامے کے لیے وہاں آپ کو مستقل رہائش رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ چھ ماہ میں آپ کا ایک وزٹ کافی ہوتا ہے۔ مطلب سیاست کرو پاکستان میں رہائش ظاہر کرو وہاں کی۔ *اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے* کہ اگر کبھی حکومت پاکستان آفیشلی ان …