Uncategorized
Leave a Comment

جب قائد اعظم ؒ سے رسیدیں مانگی گئیں


آصف محمود
قائد اعظم ثانی سے رسیدیں مانگنے کا انجام تو آپ سب کے سامنے ہے ، اہلِ دربار کانپ کانپ دہائی دیتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بابائے قوم حضرت قائد اعظم سے بھی رسیدیں مانگی گئی تھیں اور کیا آپ کو علم ہے جب ایک طالب علم نے حضرت قائد اعظم سے رسیدیں مانگیں تو ان کا رد عمل کیا تھا؟

یہ 1942 کی بات ہے ۔ بابائے قوم کو پاکستان کی جدوجہد کے لیے فنڈز درکار تھے، بابائے قوم نے اپنی قوم سے اپیل کر دی اور قوم نے اپنے قائد کی کال پر دیدہ و دل فرشِ راہ کر دیے ۔بڑے بوڑھے اور جوان تو رہے ایک طرف ، بچے اور حتی کہ یتیم خانوں کے بچے بھی نقدِ جاں ہتھیلی پر رکھے میدان میں آ گئے۔

احمد نگر کے امریکن سیشن ہائی سکول کے طلباء نے بابائے قوم کی خدمت میں اکتالیس روپے روانہ کیے ۔انہیں منی آرڈر کی رسید تو مل گئی کہ فمحترمہ فاطمہ جناح نے قائد اعظم کی جگہ یہ منی آرڈر وصول کر لیا ہے لیکن انہیں مسلم لیگ کی طرف سے کوئی رسید نہ ملی۔ چند دن انتظار کے بعد اب دو بچے وحید علی اور حمید علی قائد اعظم کو ایک خط لکھتے ہیں۔ دل تھام لیجیے اوربچوں کی معصوم گلابی اردو میں لکھا یہ خط پڑھیے :

’’ مسلم لیگ زندہ باد ، قاعدے اعظم زندہ باد ، پاکستان زندہ باد
بخدمت شریف عالی جناب محمد علی جناح کو از طرف سید وحید علی کے آداب عرض
عرض گذارش یہ ہے کہ ہم مسلم طلبائے امریکن سیشن ہائی سکول کے لڑکوں نے آپ کی خدمت میں مسلم لیگ الیکشن فنڈ کی مدد کے لیے 41 روپے روانہ کیے تھے ۔اور جس میں ہم نے التماس کیے تھے کہ پیسے ملتے ہی ہمارے پتے پتہ پر دفتر مسلم لیگ کی رسید روانہ کیجیے۔لیکن ابھی تک دفتر مسلم لیگ سے ہمیں کوئی رسید نہیں ملی۔حالانکہ ہمیں منی آرڈر کا فارم واپس مل گیا ہے اور اس پر یہ دستخط ہے ۔For MA Jinnah اور اس کے نیچے F Jinnah ۔میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کو یہ منی آرڈر ملی یا نہیں ۔کیونکہ ہم نے ایک خط ( روزنامہ) اقبال کے ایڈیٹر کو بھی لکھے تھے ۔کہ اس کو اخبار میں شائع کر دے ۔لیکن نہ وہ اب تک شائع ہوئے نہ مسلم لیگ کے دفتر سے رسید آئی۔تو یہ کیا بات ہے۔یہ ہمیں جلد از جلد معلوم کریں۔اور اگر آپ کو چندہ مل گیا ہو گا تو اس کی رسیدہمارے پتہ پر اور اقبال میں اس کا مضمون ضرور بضرور شائع کرنے کے لیے ایڈیٹر کو لکھے۔
راقم
سید وحید علی حمید علی‘‘

ذرا غور فرمائیے ، ایک بچہ جسے معلوم ہے کہ اس کا منی آرڈر محترمہ فاطمہ جناح کو مل چکا ہے ، وہ صرف ا س بات پر خفا ہے کہ مسلم لیگ دفتر نے اسے رسید کیوں نہیں بھیجی۔وہ کہتا ہے:’’ ہمیں رسید نہیں ملی، یہ کیا بات ہے، یہ ہمیں جلد از جلد معلوم کریں‘‘۔لیکن کوئی اس بچے سے یہ نہیں کہتا حد ادب ، تمہیں احساس ہے تم کس سے مخاطب ہو ۔کوئی اسے ڈانٹتا نہیں کہ بے شرم تم حضرت قائد اعظم سے اکتالیس روپے کی رسیدیں مانگ رہے ہو۔بلکہ بابائے قوم حکم دیتے ہیں کہ منی آرڈر کا ریکارڈ دیکھا جائے اور فی الفور رسید روانہ کی جائے۔قائد اعظم سے اکتالیس روپے کا حساب مانگا جاتا ہے ،اور مانگنے والے کو حساب دیا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی کہانی ہے۔اور اب قائد اعظم کے پاکستان کا یاروں نے وہ حشر کر دیا ہے کہ اربوں کی کرپشن کے الزامات ہیں اور حساب مانگا جائے تو اہلِ دربارپر رقت طاری ہو جاتی ہے کہ دیکھو سوال نہ پوچھو، اس سے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

جس نسل نے قائد اعظم کے ساتھ مل کر پاکستان بنایا تھا ، اس نے قربانیوں کی تاریخ رقم کی تھی۔ان قربانیوں اور اس جذبے کی ایک جھلک بچوں کے ان خطوط میں ملتی ہے جو اس دور میں قائد اعظم کو لکھے گئے۔یہ خط بتاتے ہیں کہ ریاست پاکستان، جسے آج کک بیکس ، کرپشن ، منی لانڈرنگ اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے نوچا اور لوٹا جا رہا ہے ،یونہی وجود میں نہیں آ گئی، کتنی ہی معصوم خواہشات اینٹ گارے کی صورت کام آئیں تب یہ ملک بنا۔

جماعت دوم کے طالب علم جاوید احمد خان نے 14 اپریل کو بابائے قوم کو خط لکھا ، دل تھام کے پڑھیے کہ ان دو سطروں میں مقدس جذبوں کے ساون چھپے ہیں:’’قاید و اعظم کی خدمت میں عرض ہے کہ میں نے اپنے جمع کئے ہوئے سب پیسے جو مجھے میرے ابی جی دیا کرتے ہیں ٓاپ کو بھیج دئے ہیں۔میں نے سنا ہے کہ آپ ہم کو آزادی لے کر دیں گے‘‘۔

بہالولنگر سے پانچویں جماعت کے طالب علم احمد یار خان نے 7اپریل کو لکھا :’’ بخدمت جناب محمد علی جناح ، زندہ باد قائد اعظم تا ابد زندہ باد، پانچ روپیہ جو مجھ کو میرے والدین نے امتحان میں کامیاب ہونے پر دیےِ خدمت اقدس میں پیش کر رہا ہوں‘‘۔

بانکی پور کے مسلم ایچ ای سکول کے جماعت نہم کے طالب علم نے لکھا:’’ محترم قائد، آپ کی تابعداری میرا فرض ہے۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر مہینے سات دن تک بغیر ناشتے کے جایا کروں گا اور اس سے جو پیسے بچیں گے آپ کو بھیجوں گا‘‘۔

نئی دہلی سے چھ سالہ تسنیم اعجاز نے لکھا:’’ میرے پاس عیدی کے اور امتھان کے انعام میں جو ملا تھا سو 100روپیہ جمع تھے ان کو جناب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں،آپ اس کو مسلم لیگ کے چندے میں جمع فرما لیں‘‘۔

ریواڑی کے چوتھی جماعت کے فضل الرحمن نے پورا ایک ماہ اپنا جیب خرچ جمع کیا اور وہ صرف تین پیسے بن سکا۔ 16اگست کو غریب باپ کے اس معصوم بیٹے نے وہ تین پیسے قائد اعظم کی خدمت میں پیش کر دیے اور خط میں لکھ دیا کہ ہیں تو تین پیسے مگر پورے ایک مہینے کا جیب خرچ ہے۔

اور ذرا یہ خط پڑھیے جو صوبہ مدارس کے شہر کڑپہ کے ’ یتیم خانہ اسلامیہ ‘ کے طلباء کے قائد کو لکھا:
’’ ہمارے اچھے قائد اعظم!آپ نے ہندوستان کے مسلمانوں سے چندے کی درخواست کی ہے ، یہ ہم کو اخباروں کے ذریعے معلوم ہوا ۔ اور آپ کو یہ معلوم ہے کہ ہم یتیم ہیں، اور ہمارے کھانے پینے اور کپڑے وغیرہ کا انتظام یتیم خانے سے ہوتا ہے۔ہمارے ماں باپ نہیں ہیں جو ہم کو روز پیسے دیں۔پھر بھی ہم نے طے کر لیا کہ آپ کی خدمت میں ضرور کچھ بھیجیں گے۔اس لیے ہم نے ہم کو دھیلہ پیسہ جو کچھ بھی جہاں کہیں سے ملا اس کو جوڑنا شروع کردیا یہاں تک کہ تین روپیہ دو آنے کی رقم جمع ہوئی ۔اب اس کو آپ کی خدمت میں روانہ کر رہے ہیں۔آپ اس کو قبول کیجیے۔ ضرور قبول کیجیے۔ہم آپ سے اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہم کو زندہ رکھا اور ہم خوب پڑھ کر جوان ہوئے تو مسلم لیگ کی بڑے زور سے خدمت کریں گے۔اور جب ہم کمانے لگیں گے تو بہت سے روپئے چندے میں دیں گے،والسلام ، ہم ہیں آپ کے دعا گو، یتیم خانہ کڑپہ کے یتیم‘‘۔

تو صاحب یوں ارمانوں کا گلا گھونٹ کر ، قربانیاں دے کر یہ پاکستان بنا تھا ۔ افسوس آج اسے اہلِ ہوس نے اپنی چراگاہ بنا لیا۔سوچتا ہوں جو بچہ قائد اعظم سے اکتالیس روپوں کی رسید مانگ سکتا ہے ، کہیں جنت میں ہمارے بابا ئے قوم کے پاس جا کر پھر سراپا سوال نہ بن جائے کہ جناب پیارے قائد اعظم ، ہم نے تو یہ ملک بنانے کے لیے ناشتے چھوڑ دیے تھے اور ناشتے کے پیسے آپ کے قدموں میں رکھ دیے تھے، ہم تو کھلونوں سے نہ کھیل سکے اور کھلونوں کے پیسے بھی آپ کو دے دیے کہ آپ ہمارا پاکستان بنائیں گے ، ہم تو یتیم تھے مگرآپ کی پکار پر لبیک کہتے کھنچے چلے آئے تھے، آپ کو یاد ہو گا پیارے قائد اعظم صاحب! پورے یتیم خانے نے تین روپے دو آنے آپ کی خدمت میں پیش کر دیے تھے۔ اچھے قائد اعظم آپ کو یاد ہے میں نے آپ سے اکتالیس روپے کا حساب مانگا تھا اور آپ نے مجھے حساب دیا تھا۔،لیکن پیارے قائد، آپ نے اپنے بعد ملک کن لوگوں کو سونپ دیا۔یہ کیسی مسلم لیگ ہے اور کیسے حکمران ہیں ، کوئی ان سے رسید مانگے تو یہ آگے سے کہتے ہیں کہ ہمارے خلاف یہودی سازش ہو رہی ہے۔

This entry was posted in: Uncategorized

by

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- party Socio-Political organisation. We work through research and advocacy for developing and improving Human Capital, by focusing on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation. We act to promote and actively seek Human well-being and happiness by working side by side with the deprived and have-nots.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s