Month: October 2017

کٹ پیسز

ابھی کل تک نیشنلائزیشن کا فیشن تھا اور ایک دنیا اس اقتصادی وباء میں مبتلا تھی اور اب ’’نج کاری ‘‘ جیسی معاشی بدکاری اور حرام کاری کے مبلغ معیشت دان اس میں انسان کی فلاح ڈھونڈ رہے ہیں حالانکہ مسئلہ کا حقیقی حل ان دو انتہائوں کے درمیان ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔اتنا پیسہ کہاں سے آیا ؟تمہیں نہیں معلوم اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے ؟ظاہر ہے اتنا پیسہ کھیت میں ہل چلا کر اور سرپر اینٹیں اٹھا کر نہیں آتا، ریڑھا اور رکشہ چلا کر بھی جمع نہیں ہوتا، منٹو جیسے افسانے اور اقبال جیسی شاعری کرکے بھی نہیں آتا، ملک معراج خالد اور نواب زادہ نصراللہ جیسی سیاست کرکے بھی نہیں ملتا، یہ جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے کھیل سے بھی نہیں آتا، یہ مہدی حسن اور روشن آرا بیگم جیسی آوازوں کو بھی نصیب نہیں ہوتا، یہ عزیز بھٹی کے ’’نشان حیدر‘‘ سے بھی جنریٹ نہیں ہوتا، یہ شیما کرمانی کے رقص اور صادقین کی مصوری کو بھی نہیں ملتا ……اور تو اور یہ شرافت کی تجارت اور صنعت …

ترجمہ اور مترجم

اردو اخبارات میں ایک جملہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ ’’دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘ اس پر یاروں نے لطیفے بنا لئے کہ دہشت گردی کی اجازت آپ سے مانگتا کون ہے؟ کیا درخواست لے کر کوئی آتا ہے کہ مجھے دہشت گردی کرنے دی جائے؟ آپ اجازت نہیں دیتے۔ اس کی وجہ یہ ہے، اور اگر میں غلط ہوں مجھے درست کردیجئے گا، کہ یہ ترجمہ ہی غلط ہوا ہے۔ Terrorism will not be allowed کا مطلب جو میں سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ دہشت گردی نہیں کرنے دی جائے گی۔ اس میں اجازت دینے نہ دینے کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ ترجمہ غلط ہوا اور لطیفے بن گئے۔ وہی بات کہ الفاظ کا نہیں، مفہوم کا ترجمہ کیا جانا چاہئے ۔ اخبارات میں اب صورتحال مختلف ہو گئی ہے۔ اس لئے نہیں کہ ترجمے اچھے ہونے لگے ہیں، بلکہ اس لئے کہ اب خبر آتی ہی اردو میں ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستانی اور غیر ملکی سب خبریں انگریزی میں آتی تھیں، اور ان کا ترجمہ …

اجنبی آشنا، آشنا اجنبی

بچھڑنے والے تجھے دیکھ دیکھ سوچتا ہوںتو پھر ملے گا تو کتنا بدل چکا ہوگالیکن میں اور لاہور شہر تو کبھی بچھڑے ہی نہیں لیکن اس کے باوجود مجھ سے لاہور پہچاناجاتا ہے نہ لاہور مجھے ٹھیک سے پہچان پا رہاہے۔ میں اور میرا یہ محبوب شہر اک عرصہ سے اک دوجے کے لئے اجنبی آشنا بن چکے یا آشنا اجنبی۔ کیفیت ہم دونوں کی یہ ہوگئی ہے کہ ’’اجنبی! تم جانے پہچانے سے لگتے ہو‘‘ 50 سال بعد ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے جانے پہچانے سے ہی رہ گئے ہیں۔ جیسے میرا حال، حلیہ، شکل ،صورت بدل گئی، بالکل ایسے ہی لاہور کا حال ، حلیہ ، شکل، صورت بھی وہ نہیں رہی۔تقریباً 50 برس پہلے ٹین ایج کے آغاز میں یہاں پڑھنے آئے تھے۔ آنرز پارٹ ون، سہمے سہمے انڈر گریجویٹ، ہاسٹل نمبر ون میں یوں تاڑ دیئے گئے جیسے کابک میں کبوتر۔ پھر آہستہ آہستہ پائوں اور پر پھیلانا شروع کئے۔ پہلے پہل کشتی پر سوارہو کر ٹھوکر نیاز بیگ تک پتوار ہلائے بغیر جاتے تو دائیں بائیں ویرانہ ایسا کہ …

پانی کی کمی :اقدامات ناگزیر

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اِس کی بیشتر آبادی زراعت کے پیشہ سے وابستہ ہے۔زرعی لحاظ سے صوبہ پنجاب اور سندھ کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ دونوں صوبے ہی ملکی آبادی کی زرعی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ربیع کی فصل میں پنجاب اور سندھ کو پانی کی فراہمی میں کمی کا خدشہ ہے۔ پانی کی کمی کے باعث منگلا پاور ہائوس بند ہونے کی وجہ سے پنجاب کو پانی کی فراہمی میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دریائے سندھ سے پنجاب کو 7 ہزار کیوسک پانی کی فراہمی جاری رہے گی۔جو پنجاب میں کاشت کی جانی والی فصلوں کے پیش نظر ناکافی ہے۔اسی طرح دریائے سندھ سے پنجاب کو پانی فراہم کرنے کی وجہ سے صوبہ سندھ کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے۔دونوں صوبوں میں دھان کی فصل کاشت کی جاتی ہے جس کی افزائش اور مناسب پیداوار کے حصول کیلئے پانی کی وافر مقدار ناگزیر ہے۔پانی کی کمی کے باعث چاول کی پیداوار کم ہونے کا خدشہ بھی موجود …

ہفتہ صحت 2017رپورٹ

آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میںعام آدمی کی صحت کے حوالے سے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کی گئی ہیلتھ ویک 2017کی رپورٹ مجموعی طور پر ملک بھر میں صحت عامہ کی خراب ا ور تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جس میں لاہور سمیت 36اضلاع میں ایڈز کے 756 مریضوں کی موجودگی کا انکشاف کیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی کے سب سےزیادہ مریض قصور میں 93، فیصل آباد میں 53، لاہور میں 4، پاک پتن میں 74پائے گئے۔ 15اگست سے 19اگست تک جاری رہنے والے ہیلتھ ویک کے تحت محکمہ صحت کے طبی کیمپوں میں 3لاکھ 62ہزار سے زائد مریضوں کی اسکریننگ و معائنہ کیا گیا جن میں 40ہزار ہیپاٹائٹس سی ، 7ہزار 450ہیپاٹائٹس بی، 34ہزار سے زائد ذیابیطس، 1939ملیریا اور 6ہزار سے زائد ٹی بی کے مریض سامنے آئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایک لاکھ 32ہزار افراد خون کی کمی، 50ہزار 111افراد موٹاپے اور 17ہزار 272افراد وزن کی کمی کا شکار ہیں۔ اسی طرح بلڈ پریشر کے لئے 12لاکھ سے زائد مریضوں …

تھرپارکر میں موت کے بڑھتے سائے

تھرپارکر میں غذائی قلت اور صحت و صفائی کے ناقص انتظامات کےباعث آئے دن ہونے والی ہلاکتوں میں گزشتہ رو ز مزید 9،رواں ماہ میں 30 اور موجودہ سال کے دوران 150 اموات کا تشویشناک اضافہ حکومتی اور مخیر اداروں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور پسماندہ ترین ضلع تھرپارکر کے یہ لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک مستقل مسئلہ ہے جو برسوں سے حل کا منتظر ہے۔ پاکستان کے 156 اضلاع میں تھرپارکر غربت و افلاس، بدانتظامی اور حکومتی بے توجہی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برس سے تھرپارکر میں کام کرنے والی 204 میں سے 183 ڈسپنسریوں کو ادویات کے لئے بجٹ فراہم نہیں کیا گیا۔ اس وقت ضلع بھر میں چھ رورل ہیلتھ سنٹر اور دو میٹرنٹی ہوم گذشتہ پانچ برس سے بجٹ کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ دیہات میں چکن گونیا، ملیریا اور بعض دیگر بیماریوں میں بہت اضافہ دیکھا گیا ہے۔ غربت کا یہ حال ہے کہ لوگ …

عدل، عادل، عدالت اور عدالتی افسر

پرانے سیانے اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ’’اللہ دشمن کو بھی تھانے، کچہری اور اسپتال سے محفوظ رکھے‘‘ حالانکہ مہذب دنیا میں یہ تینوں جگہیں عافیت، آسودگی، انصاف اور پناہ وغیرہ کی علامتیں لیکن ہمارے ملک میں کمزور، غریب، لاوارث لوگوں کے لئے یہ تینوں مقام ہی دہشت اور انتقام کے مراکز سمجھے جاتے ہیں لیکن شریف بلکہ نواز شریف فیملی کے پاس تو کسی شے کی کمی نہیں بلکہ بہتات اور فراوانی ہے۔ دولت کے حوالے سے دیکھیں تو اس گھر کا ہر فرد قارون ثانی ہے۔ طاقت اتنی کہ عدالتوں میں بھی آئیں تو فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انصاف لینے آ رہے ہیں یا قبضہ لینے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ سب سے بڑے صوبہ پر برادر خورد اور مرکز میں بھیس بدل کر خود حکمران لیکن پھر بھی حشر دیکھ لو۔لندن فلیٹس کے معاہدات اور دستاویزات جعلی ہونے پربیٹی، داماد اور خود پر فرد ِ جرم عائد ہوچکی۔ دونوں بیٹے مفرور، اشتہاری اور سب سے بڑھ کر شریک ِ حیات اور بچوں کی والدہ موذی مرض میں مبتلا …