Month: December 2017

کلبھوشن کو پھانسی نہیں ہو گی

پاکستان کے خفیہ اداروں نے 3 مارچ 2016ء کو بلوچستان کے ضلع خاران کی تحصیل ماشکیل سے بھارت کا ایک جاسوس گرفتارکیا‘ جاسوس کے سامان سے اس کا بھارتی پاسپورٹ بھی برآمد ہوا‘ یہ پاسپورٹ حسین مبارک پٹیل کے نام سے بنا تھا‘ ایڈریس پونا کا تھا اور یہ شخص اس پاسپورٹ کے ذریعے 17 مرتبہ بھارت گیا اور بھارت سے ایران آیا تھا‘ یہ دبئی اور تھائی لینڈ بھی آتا اور جاتا رہا تھا‘ حسین مبارک پٹیل نے گرفتاری کے فوری بعد تین حقائق کا اعتراف کر لیا‘ اس کا کہنا تھا میں سرونگ نیول آفیسر ہوں‘ میرا رینک کمانڈر ہے‘ میں 2022ء میں ریٹائر ہوں گا اور میرا اصل نام کلبھوشن یادیو ہے۔ دو‘میں ایران کے شہر بندر عباس اور چاہ بہار میں را کا سربراہ ہوں‘ میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو رقم فراہم کرتا ہوں‘ بم بنانے کا سامان دیتا ہوں اور میں انھیں ٹریننگ دیتا ہوں اور تین’’سی پیک‘‘ رکوانا میرا بنیادی مقصد ہے‘ کلبھوشن یادیو سے پوچھا گیا ’’آپ نے سینئر آفیسر ہونے کے باوجود پاکستان آنے کی غلطی کیوں کی؟‘‘ یادیو کا …

روہنگیا مہاجرین اور اقوام متحدہ

عہد حاضر میں روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ میانمار حکومت انہیں بنگلہ دیشی قرار دیتی ہے اور بنگلہ دیش حکومت یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ماضی میں بھی روہنگیا پر مظالم کا سلسلہ جاری رہا، انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا، ان کے گھر اور مساجد نذر آتش کردی گئیں۔ تاہم روہنگیا کے لئے آلام کا بدترین سلسلہ 1962ء سے 2010ء تک کے مارشل لا کے دوران شروع ہوا۔ اسی دوران ان کیخلاف درجنوں کریک ڈائون کئے گئے۔ مارشل لا میں ہی ایک قانون کے تحت انہیں میانمار کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا، جس کے تحت نہ وہ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں نہ سرکاری ملازمت۔ 2012ء میں دنیا ان مظالم سے باخبر ہوئی جب بدھ بھکشوئوں اور میانمار آرمی نے سینکڑوں مردوں، عورتوں اور بچوں تک کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا یا زندہ جلا دیا۔ مسلم دنیا میں تو ہلچل ہوئی لیکن مغرب خاموش رہا۔ 2017ء میںاپنے فوجیوں پر حملے کا الزام لگا کر میانمار حکومت نے روہنگیا …

اصلی اورنقلی ڈاکو

کیسا معاشرہ معرض وجود میں آچکا۔ڈاکو کسی طرف سے ڈاکو نہیں لگتے۔ غریب غربا، بھوکے ننگے، فاقہ زدہ بوسیدہ لباس، ہڈیوں کے ڈھانچے، اجڑے پجڑے، تاثرات سے عاری چہرے، کانپتے لرزتے گھگیاتے، منمناتے، سرعام جوتے کھاتے۔اور جو ڈاکوئوں کے ڈاکو ہیں۔ اے موٹی موٹی گردنیں بلکہ گائے، تین تین مرلوں پر پھیلے منہ، چمکدار چہرے، ساکٹس سے ابلتی ہوئی آنکھیں، کئی کئی کلومیٹرز دراز زبانیں، بیش قیمت لباس، کئی کئی کروڑ کی گھڑیاں اور ڈائمنڈ کف لنکس، اپنے ہم زاد مگرمچھوں اور سانپوں کی کھال سے بنے جوتے، اربوں روپے کی گاڑیوں کے جلو میں جلوے بکھیرتے، کبھی آنکھیں اور کبھی دندیاں نکالتے ہوئے یہ سیون سٹار ڈاکو وہ ہیں جن پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی گلابوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں اور جو جعلی ڈاکو ہیں ان پر گھونسے، لاتیں، ٹھڈے، گالیاں نچھاور کرنے کے بعد حوالہ پولیس کردیا جاتا ہے تاکہ وہ تھانوں میں ان کی خالی جگہیں اپنے مخصوص چھتروں سے پر کریں۔یہ جادونگری ہے جہاں جعلی ڈاکوئوں کو تو فوری انصاف مل جاتا ہے جبکہ اصلی ڈاکو اگلے …

Remembering the Quaid on Quaid Day

Brig. Noor Ahmed Husain passed away on 9th August 2011 after a protracted illness. He was the last military ADC (Aide-de-Camp) of the Quaid. As such he was a treasure trove of the history of the Pakistan movement and in particular of the last six months of the father of the nation. As a grand nephew of Brigadier sahib, I had the privilege of hearing him both in private and in public while he would recount many incidents and anecdotes about the Quaid-e-Azam. Most of these events may already be known to many and a few might be new. I consider it a national duty to share these events with all those who are interested in an eyewitness account of our history. I am penning down some of the memories I have of Brigadier sahib’s own memories of the great Quaid. During his association with the Quaid as his ADC, Brigadier sahib was obviously able to observe the father of the nation very closely and became privy to many of his habits. He once told …

پھر کچھ کالے قول

بغیر کسی تمہید کے پھر کچھ کالے قول’’تاریخ انسانی میں ایک ’’اشرافیہ‘‘ بھی ایسی نہیں گزری جس نے اپنوں کوذلیل نہ کیا ہو اور پھر غیروں کے ہاتھوں ذلیل نہ ہوئی ہو‘‘o…..o…..o’’لوگ گاڑیوں میں بیٹھ کر تلاوت سننے میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ ایمبولینس کو رستہ نہیں دیتے‘‘o…..o…..o’’آئین میں ترمیم آسان مگراپنی ذات میں ترمیم بہت مشکل ہے‘‘o…..o…..o’’70سال سے سرکٹ میںایک ہی فلم کی نمائش جاری ہے۔ ’’سر کٹا شیطان‘‘o…..o…..o’’بکتر بند گاڑیاں ہی نہیں بکتر بند بے غیرت بھی ہوتے ہیں‘‘o…..o…..o’’کچی آبادیوں میںرہنے والوں کے ستارےگردش میں رہتے ہیں‘‘o…..o…..o’’لوگوں کے پاس اب ہمسائے تو دور، ماں جائے کا دکھ بانٹنے کی بھی فرصت نہیں‘‘o…..o…..o’’فیصلہ کرنا ہوگا کہ عالمی گائوں کا باوقار حصہ بننا ہے یا کوڑھیوں کی الگ تھلگ بستی بن کر رہنا ہے‘‘o…..o…..o’’جانور‘‘ قلم سے نہیں چھری سے ذبح کیا جاتا ہے‘‘o…..o…..o’’سپیروں کا رزق، سانپوں کے پھن پر ہوتا ہے‘‘o…..o…..o’’متمول ہر سال گاڑی، غریب ہر روز کئی ویگنیں تبدیل کرتا ہے‘‘o…..o…..o’’جہاں افراد کا احترام نہ ہو، وہاں اداروں کا احترام بھی ممکن نہیں رہتا‘‘o…..o…..o’’تاریخ نہ مرتی ہے نہ ماری جاسکتی ہے‘‘o…..o…..o’’ہم خودکشیوں میں …