Month: February 2018

بچوں سے درندگی رکی نہیں

قصور کی معصوم بچی زینب کے قاتل کی گرفتاری اور اس کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کے باوجود بچوں سے زیادتی اور قتل جیسے اندوہناک واقعات بدستور جاری ہیں اور درندہ صفت مجرموں نے عبرت نہیں پکڑی۔ لودھراں میں 19 فروری کی شام لاپتہ ہونے والی ایک اور 6 سالہ عاصمہ نامی بچی کی لاش پانچ روز بعد گندے پانی کے جوہڑ سے ملی۔ اس کے اگلے روز ملزم گرفتار کر لیا گیا جو مقتولہ کا اٹھارہ انیس سالہ قریبی رشتہ دار ہے جس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے اور اس کی روشنی میں تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی جارہی ہے۔ مقدمہ میں قتل و دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس واقعہ کا منطقی نتیجہ بھی قصور کے واقعہ سے مختلف ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ایسے واقعات کے تدارک کیلئے سرعام پھانسی کے مطالبات بھی کئے جارہے ہیں۔ شیطان صفت لوگ بچوں سے زیادتی کی جو وارداتیں کررہے ہیں یہ ہماری اعلیٰ معاشرتی اقدار کے زوال پذیر ہونے کی نشانی ہے۔ اس کا …

اے مرے لخت جگر،پیدا نہ ہو

بدھ کی شام کے سپریم کورٹ کے نواز شریف کے بارے میں دیئے جانے والے فیصلے کے بعد اب کسے اتنی مہلت ہے کہ وہ ایک نومولود کی اکھڑتی سانسوں کی طرف متوجّہ ہو۔ ایک سیاسی، آفت خیز غلغلے میں نہ جانے کتنی آوازیں ڈوب جاتی ہیں۔ لیکن میں پھر بھی آج ایک ماہ سے کم عمر کے ان پھول بچّوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جن کی غیرمعمولی تعداد میں ہونے والی اموات نے پاکستان کو ایک شرمناک فہرست میں پہلے نمبر پر ٹانگ دیا ہے۔ یہاں شاید سولی پر چڑھا دینے کا استعارہ بھی مناسب ہو۔ ہوا یہ کہ منگل کے دن یہ خبر آئی کہ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں یہ بتایا کہ نومولودوں کیلئے پاکستان دنیا کا سب سے خطرناک ملک بن گیا ہے۔ بچّوں کی صحت کے حوالے سے یہ مانا جاتا ہے کہ ان کی زندگی کا پہلا مہینہ بلکہ پہلے 28؍دن بہت اہم ہوتے ہیں۔ پسماندہ معاشروں میں تمام بچّے یہ سرحد عبور نہیں کر پاتے اور باقاعدہ اعداد وشمار کے پیمانے پر …

بھاگو بھاگو‘ شیر دوڑا

ہمارا پاکستان‘ ان دنوں ساری دنیا میں گمشدہ دولت کے لئے بھٹک رہا ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ جس کی دولت ہے‘ وہی اسے ڈھونڈتا پھرے۔ اسے اچھی طرح علم ہے کہ اس کی دولت چالیس ملکوں میں ہے؟ ساٹھ میں؟ ستر میں یا گنتی کے بغیر؟ دولت بہر حال موجود ہے۔ پاکستان کے تمام سیاسی اور نظریاتی لوگ‘ اس کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ کچھ سیاسی گروہوں نے‘ عالمی شہرت کے جاسوسوں کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔ ادھر سینیٹ کی خالی نشستوں پر الیکشن ہونے والا ہے۔ سینیٹ کی نصف نشستوں پر نئے یا پرانے امیدوار‘ قبضے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ جو پارٹی بھاگ دوڑ نہیں کر رہی‘ وہ نمکین مسلم لیگ ہے‘جس کا نون لاپتا ہو گیا ہے۔ جسے پتا ہے ‘ وہ بتاتا نہیں اور جسے پتا نہیں‘ وہ اس کی تلاش میں ٹامک ٹوئیاں مارتا پھر رہا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ‘ عمران خان اس گمشدہ دولت کو ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔ دولت ہے کہ اس کا …

آئندہ الیکشن تک؟

اگر یہی چلن رہا تو عدالتوں میں گئے ہوئے سیاسی معاملات شاید ہی کبھی حل ہوں۔ شادیوں میں پہلے ڈھولکی بجا کرتی تھی‘ اب ڈھول بجنے لگا ہے۔ اس تبدیلی پر ہمارے بزرگ کیا فرمان جاری کرتے ہیں؟ مستقبل کی وزیراعظم‘ مریم نواز مسلسل توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ نواز شریف احتیاط کرتے آ رہے تھے لیکن دختر نیک اختر کے متعدد بیانات کے بعد انہوں نے بھی ہمت کر لی۔ عدالت عالیہ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر‘ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز‘ سمیت پارٹی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر‘ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے ذمہ دار افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنمائوں کے خلاف‘ توہین عدالت کی دائر درخواست پر سماعت کے آغاز میں درخواست گزار نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز مسلسل توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور پاناما پیپرز کیس میں‘ سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ …

بھس بھرا بیانیہ، تاریخ کا میوزیم

کوئی بیانیہ شیانیہ نہیں، ایک بلفیہ ہے جو بلف کو بڑھک کا تڑکا لگا کر ایک سفری سیلز مین کی طرح اس کی مارکیٹنگ کررہا ہے اور اب تک اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ کہ وہ اپنے ووٹر سپورٹر کو ’’قائم‘‘ رکھنے میں کامیاب ہے لیکن تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو ترس آتا ہے۔ ماضی میں جنہوں نے جتھوں کی صورت سپریم کورٹ پر یلغار کی تھی، آج فقط زبان درازیوں تک محدود ہیں کیونکہ دوسری طرف سے رسی دراز ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کس کی ’’درازی‘‘ کب اور کہاں ختم ہوتی ہے۔فرمایا ’’سازشیں کچھ نہیں بگاڑ سکتیں‘‘ لیکن ناقابل تردید سچ بلکہ سچائیوں کے بارے کیا خیال ہے؟ العزیزیہ اسٹیل ملز فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنسز میں براہ راست ملزم قرار، بچوں کے نام اربوں کی جائیدادیں نوازشریف کی ہیں، بے گناہی ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے تو بڑے ملزم نے بڑا ملزم ہی نامزد ہونا تھا جس کا یہ اعترافی بیان دراصل اس کی سیاسی زندگی کا خلاصہ ہے کہ ’’اگر میرے اثاثے میرے آمدنی سے …

اگلی حکومت ،رب ان کے حال پر رحم فرمائے

بغل بچے کس بات پربغلیں بجا رہے ہیں۔ٹنل وژن بھی وژن ہوتا ہے لیکن یہ تو اس سے بھی عاری ہیں۔یہ ضمنی انتخابوں میں پھنسے دھنسے لاہور این اے 120تا لودھراں لدھڑوںکی طرح بھاگے پھررہے ہیںاور نہیں جانتے، نہیں پڑھتے کہ……’’لکھا ہے دیوارِ چمن پرپھول نہ توڑولیکن تیز ہوا اندھی ہے‘‘آصف زرداری نے خوب کہا ہے کہ ’’اگلی حکومت مخلوط ہوگی‘‘ میں اس کلام ِ معرفت میںمعمولی سے اضافہ کی اجازت چاہتے ہوئے صرف اتنا عرض کروں گا کہ یہ جنم جلی، بختوں ماری حکومت مخلوط ہی نہیں مخنث ہونے کے ساتھ ساتھ لولی، لنگڑی اورپولیوزدہ بھی ہوگی جس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہوگا۔ منوبھائی کی ایک نظم ہے پنجابی کی جس میں وہ کہتے ہیں کہ میٹھے میں مٹھاس نہیں رہی اور کھٹے میں کھٹاس باقی نہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نور الامین مینگل سے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں سمجھائیں گے کہ ہمارے ہاں تو اب دودھ میں دودھ نہیں، مکھن میں مکھن نہیں، شہد میں شہد نہیںاور آئس کریم میںآئس کریم نہیں تو بھائی! ایسے معاشرے اورماحول …

تحریکِ عدل

نواز شریف اور ان کی دختر نیک اختر مسلسل تحریکِ عدل یعنی عدل کی بحالی کا راگ الاپ رہے ہیں‘ مگر اس راگ کے ریاض میں مسلم لیگ نواز کی اکثریت ان کا ساتھ نہیں دے رہی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی اس تحریک کا نام بھی ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کی جماعت ”تحریکِ انصاف‘‘ سے ملتا جلتا ہے۔ مگر آج کل کی پاکستانی سیاست میں اس طرح کے نازک فرق کو اتنا خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ اس تحریکِ عدل میں شریف فیملی کا وفادار ایک قلیل سا آتش فشاں ٹولہ شامل ہے (جن میں سے کئی ایک کچھ عرصہ قبل تک کسی اور شاہ کی قصیدہ خوانی میں مصروف تھے) اس درخشاں فہرست میں طلال چوہدری، دانیال عزیز اور آصف کرمانی جیسے نابغہ روزگار شامل ہیں‘ جن کے نام ہی اس تحریک کے پس پردہ کارفرما بدنیتی کو عیاں کرنے کے لیے کافی ہیں۔ خاص بات یہ کہ شہباز شریف، راجہ ظفرالحق، چوہدری نثار علی خان، خرم دستگیر حتیٰ کہ خواجہ آصف جیسے پرانی وضع کے زیرک مسلم …