Month: April 2018

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے

کستان کی کشتی طوفان سے نکل آئی ہے جو ڈیڑھ عشرے سے درپیش تھا۔ مسائل اب بھی گمبھیر ہیں مگر تباہی کا خطرہ ٹل چکا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ تیزی سے ملک تبدیل ہو رہا ہے؛ اگرچہ منصوبہ بندی کا دخل اس میں کم اور فطری عوامل کا زیادہ ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شریف خاندان کی قسمت پہ مہر لگ چکی۔ نہ صرف یہ کہ اقتدار ان سے چھن جائے گا بلکہ طویل مدت کے لیے شاید انہیں طوفان میں بسر کرنی پڑے۔ شہری سندھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الطاف حسین کے ہاتھ سے نکل گیا اور واپس نہیں جا سکتا۔ اب وہ ایک درماندہ اور بیمار آدمی ہے۔ مکمل طور پر وہ بے نقاب ہو چکا اور احمقوں کے سوا‘ جن کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے‘ کوئی اس کی سننے والا نہیں۔ زندگی کے جو ماہ و سال باقی ہیں‘ اسے وہ رسوائی میں بسر کرنے ہیں۔ الیکشن 2018ء میں کراچی اور حیدر آباد اس طرح منقسم ہوتے نظر آتے ہیں‘ جس طرح ماضی اور آج کا بلوچستان۔

ہمیں ہم سے کون بچائے گا؟

رنج و ملال، غم و غصہ، دکھ، افسوس، ڈپریشن وغیرہ میں سے کون سا لفظ استعمال کروں کہ اپنا حال بیان کرسکوں۔ شاید سب لفظ مل کر بھی میری کیفیت بیان نہیں کرسکتے۔ میں برکت مارکیٹ کے سامنے سے گزرتے ہوئے نہر کی طرف رواں دواں تھا کہ نہر کے ساتھ ساتھ گھر کیلئے ہو لوں گا لیکن موڑ سے پہلے ہی نجانے کیوں غیر ارادی طور پر بے اختیار میں کیمپس کے ہاسٹلز کی طرف مڑ گیا تو بیئریئرز اور گارڈز دیکھے۔ پہلا جھٹکا لگا جس سے میں جلد ہی سنبھل گیا کہ یہ سب تو دہشت گردی کے دنوں کی نشانیاں ہیں جو جاتے جاتے جائیں گی جیسے زخم بھر بھی جائے تو اس کا نشان مدتوں قائم رہتا ہے۔کچھ دیر کنفیوژن کے بعد میں ہاسٹل نمبرون (قائداعظم ہال) کے سامنے تھا۔ گم سم گاڑی میں بیٹھا درختوں کو دیکھتا رہا جو میری طرح بوڑھے ہوگئے ہیں۔ کچھ مر بھی چکے تھے۔ نہ شاخیں نہ پتے، خستہ تنوں کی طرح پتھرائے ہوئے درخت جن پر پرندے بھی بیٹھنا گوارا نہیںکرتے۔ 60کی دہائی کے …

لکھنا اب لازمی ضرورت ٹھہرا

ہم جو کچھ بھی سوچتے اور کرتے ہیں اُس کا ٹریک ریکارڈ مختلف ٹکڑوں کی شکل میں ہمارے ذہن میں محفوظ رہتا ہے۔ ذہن میں چونکہ بہت کچھ ہوتا ہے اس لیے سب کچھ اچھی طرح یاد رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے میں بہت سی اہم باتیں یا تو ذہن سے مٹ سی جاتی ہیں یا پھر آپس میں خلط ملط ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں لازم ہے کہ ہم اپنی معاشی، معاشرتی اور دیگر تمام سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی بات کو اُس کی اصل حالت میں جاننا آسان ہو۔ ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہم ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں اور رفتہ رفتہ اِس عادت کو پُختہ کرتے جائیں۔ ڈائری یا جرنل لکھنے کی صورت میں ہم اپنے تمام خیالات، جذبات، احساسات اور افعال کو عمدگی سے ریکارڈ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور ایسا کرنے سے زندگی میں معنویت بڑھتی جاتی ہے۔ باقاعدگی سے ڈائری لکھنے والے اِس بات سے طمانیت پاتے ہیں کہ اُن کی زندگی کے اہم واقعات اور معاملات محفوظ ہیں اور وہ …

تعلیم کا بیڑا

زندگی میں اک شے “Work Ethics”بھی ہوتی ہے جس کا اردو یا پنجابی متبادل میرے علم میں نہیں جس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ یہ ہمارے ہاں ہوتی ہی نہیں۔ میں نے اپنے طور پراس کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے…..’’اخلاقیات ِ کار‘‘اگر کوئی تصحیح یا ترمیم کرنا چاہے توموسٹ ویلکم۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ یہ شے ہماری زندگیوں میں ناپید ہے۔ صاحب سے لے کرچپراسی تک ہم میں سے کتنے فیصد ہوں گے جواپنے کام، فرائض کے ساتھ سو فیصد انصاف کرتے ہوںگے۔ صاحب لوگ تو صاحب لوگ، ہمارا تو مزدور بھی لاجواب ہے۔ وقت پر پہنچیںگے اور عین وقت پر اوزاررکھ دیںگے لیکن جس دوران حرام خوری جاری رہے گی خصوصاً موبائل فون کی آمد کے بعد تو یہ بہت ہی عام ہے۔ ذاتی کام کے علاوہ اجرت یا تنخواہ پر کام کرنے والوں کی بھاری اکثریت کام چوری کو کام چوری سمجھتی ہی نہیں۔ ان کے نزدیک یہ بالکل نارمل اور معمول کی بات ہے جو نہ جرم ہے نہ گناہ جبکہ میرے نزدیک یہ جر م بھی …

سر بلند رہو

کسی گھر سے نوجوان لڑکی زیور اورپیسے لے کر‘ اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ نکلے‘ تو نہ لڑکی والوں کے خاندان کی عز ت رہتی ہے اور نہ عاشق زار کی۔اس کام کو دونوں کی برادریوں میں شدید نفرت سے دیکھا جاتا ہے۔ بھارت میں باقاعدہ ووٹوں کی سودے بازی پہلی مر تبہ 2017ء میں ہوئی۔ اس سے قبل سیاسی لین دین بکثرت ہوتا رہا ہے۔ وزارتوں پر” سودے‘‘ ہوتے اور حکومت سازی میں دس بارہ سیٹوں کی کمی پوری کرنے کے لئے‘ کسی چھوٹی پارٹی کے ساتھ وزارتوں کا لین دین کر لیا جاتا۔ ایسی خبر شاذو نادر ہی آیا کرتی‘ جس میں لوک سبھا کا کوئی رکن‘رقم لے کر اپنا ووٹ بیچ دیتا۔بھارت میں بارہا ایسی صورت حال پیدا ہوئی۔ اگر کہیں پانچ سات منتخب برہمن ‘حکومت سازی میں کمی‘ اپنے ووٹوں سے پورے کر دیتے تو پیسے کا لین دین کر کے حکومت بنا لی جاتی اور حکومت کے قدم جمنے کے بعد‘ وہی ممبر وزارت یادیگر عہدوں کے عوض ‘حکمران پارٹی کے ساتھ کولیشن میں آجاتے تو معاملہ پکا ہو جاتا۔ …

سیاستدان کون اور کیا چاہتا ہے؟

گزشتہ کالم کا عنوان تھا’’عام آدمی کون اور کیا چاہتا ہے؟‘‘ اس پر انتہائی دلچسپ ردعمل ان فرمائشوں کی شکل میں سامنے آیا کہ میں ان دو موضوعات پر بھی روشنی ڈالوں کہ …………..:1صحافی کون اور کیا چاہتا ہے؟:2سیاستدان کون اور کیا چاہتا ہے؟اپنے شعبہ میں میرے تعلقات پہلے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ اسکول، کالج، یونیورسٹی کے دوستوں سے ہی کبھی فرصت نہیں ملی، جو چند شناسائیاں ہیں، اس موضوع پر قلم ا ٹھانے سے وہ بھی جاتی رہیں گی اس لئے فی الحال اس موضوع پر اکتفا کرتا ہوں کہ’’سیاستدان کون اور کیاچاہتا ہے؟‘‘ پہلی بات یہ کہ سیاستدان تو پیک دان، راکھ دان ٹائپ لگتا ہے۔

حیرت کدہ!

بظاہر نواز شریف قصہ ٔ پارینہ بن چکے ۔ اُنہیں انتخابی سیاست سے نکال باہر کیا گیا۔ نااہلی کی مدت کا تعین کرنے والے فیصلے نے اُنہیں زندگی بھر کے لئے کوئی سیاسی عہدہ رکھنے سے روک دیا، تاوقتیکہ اس فیصلے پر نظر ثانی ہو، یا مستقبل میں ہونے والا کوئی اور فیصلہ اس پر لکیر پھیر دے ۔ وزارت ِ عظمیٰ کے منصب اوراپنی پارٹی کی قیادت کرنے سے محروم نواز شریف کوانتخابی سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکال دیا گیا ۔ لیکن کیا کوہ کن کا حوصلہ تمام ہوا؟نہیں۔