Month: May 2018

چھتر کھائو ہاتھ ملائو جمہوریت

لاہور میں یوم تکبیر کی تقریب کے دوران اک بوسیدہ، خستہ حال عسرت زدہ ورکر نے اپنےمحبوب قائد نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی تو سیکورٹی گارڈز نے مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیا اور خاصی دیر مکوں، تھپڑوں، ٹھڈوں سے ووٹ کی عزت میں سرعام اضافہ کرتے رہے۔ اچھی طرح’’ووٹ‘‘ کے کھنے سینکنے کے بعد چیخ و پکار پر خبر ہوئی کہ یہ بھوکا ننگا’’جمہور‘‘ کوئی دہشت گرد نہیں، اک بے وقوف سا ووٹر ہے۔ گونگلوئوں سے مٹی جھاڑنے کے لئے اس’’جمہور‘‘ کو بلا کر میاں صاحب نے اس کو دست پنجہ کا اعزاز بخشا۔ سنا ہے جی بھر کر چھتر کھانے کے بعد اس غیور باشعور نے نواز شریف کا ہاتھ بھی چوما تو اپنی ہی ایک پرانی بات پر میرا یقین پختہ ہوگیا کہ اس ملک کے عوام کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے، ٹھیک ہی ہورہا ہے۔ شخصیت پرستی کا مارا ہوا ہر شخص یہی کچھ ڈیزرو کرتا ہے۔ میاں صاحب کے بارے میں ان کی صاحب زادی نے پہلے کہیں دعویٰ کیا تھا کہ’’نوازشریف اک …

امریکی گن کلچر کا شکار سبیکا شیخ

امریکہ میں تیزی سے پھیلتی ہوئی انتہا پسندی اور مقبول ہوتے گن کلچر کی شکار 17سالہ پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کو گزشتہ دنوں آنسوئوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ اس موقع پر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ روشن مستقبل کے سپنے اپنی آنکھوں میں سجائے کراچی سے تعلق رکھنے والی سبیکا شیخ امریکی حکومت کے ’’کینیڈی لوگر اینڈ اسٹیڈی پروگرام‘‘ کے تحت اگست 2017ء میں امریکہ پڑھنے گئی تھی اور ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے سانتا ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ سبیکا کو جون میں وطن واپس آنا تھا مگر وہ امریکی دہشت گرد کی دہشتگردی کا شکار ہوگئی۔ واقعہ میں ملوث 17سالہ طالبعلم دیمتریوس پاگورٹزس کو فائرنگ کے بعد حراست میں لے لیا گیا جس کے کمپیوٹر اور موبائل فون سے ملنے والی معلومات کے مطابق دہشت گرد دیمتریوس نے حملے کی پہلے سے تیاری کر رکھی تھی جس کیلئے اُس نے اپنے باپ کی گن استعمال کی اور زندہ بچ جانے والوں کو اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ باقی لوگوں کو اس واقعے کی کہانیاں …

عالم اسلام کی بیشتر’’اشرافیہ‘‘

آئیے سب مل کر سوچیں کہ یہ سیاہی ہمارے چہرے کا مقدر ہی کیوں ہے اور کب تک ہمارے اجتماعی چہرے سے چپکی رہے گی؟ عالم اسلام کی بیشتر اشرافیہ بیماری کی حد تک لالچی، خائن اور ہوس کی ماری ہوئی کیوں ہے؟ یہ سب کسی غیر مسلم مغربی ملک میں ہوا ہوتا تو میں ایک کان سے سن کردوسرے سے نکال دیتا یا خبر کی سرخی پڑھ کر ہی چھوڑ دیتا کہ جائیں جہنم میں لیکن کسی مسلمان ملک سے آنے والی ایسی خبر مجھے بری طرح گھائل کردیتی ہے۔ کانپ اٹھتا ہوں یہ سوچ کر کہ نسبت کن سے ہے، وارث کن کے بنتے ہیں اور کرتوت دیکھو۔ابھی چند ماہ پہلے ایک برادر اسلامی ملک نے عظیم’’اسلام دوست‘‘ ٹرمپ کو سرعام اربوں ڈالرز کے ذاتی تحائف دئیے تھے بلکہ پیش کئے تھے اور اب ملائیشیا سے پے در پے ان کے ایک’’صادق‘‘ اور’’امین‘‘ کی بے دریغ لوٹ مار کے ہوشربا حقائق قسط وار سامنے آرہے ہیں۔حاجی نجیب رزاق جو 2009سے 2018تک ملائیشیا کا’’محبوب قائد‘‘ اور وزیر اعظم رہا کوئی للو پنجو نہیں، انڈسٹریل …

پانچ سال میں ایک کروڑ ملازمتیں کیسے ممکن ہیں

تحریک انصاف کا سوروزہ ایجنڈہ پیش کرنے کے بعد ہمیں جو سب سے پہلی کامیابی حاصل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار روزگارکے مواقع پیدا کرنے، ان کی اہمیت اور حصول کے بارے میں بحث کی شروعات ہوئی ہے۔ لہٰذا ہم ملک میں ملازمتیں پیدا کرنے کے معاملے کو اقتصادی گفتگو کا مرکزی موضوع بنانے کی کوشش میں کامیاب رہےہیں۔ میں اس مضمون میں وضاحت کرنے کی کوشش کروں گا کہ ایک کروڑ ملازمتوں کا ہدف ذہن میں کہاں سے آیاہے، اس کی اہمیت کیا ہے اور ہم نے اس ہدف کو پورا کرنے کی کیا منصوبہ بندی کی ہے۔

1سے 2018 تک 971

مجھے تو اب کچھ یوں لگتا ہے کہ یہ سونا بھی ایک فن لطیف ہے اور یوں اسے باقاعدہ ’’فنون لطیفہ‘‘ میں شامل ہونا چاہئے ۔مثلا میرے ایک دوست احباب کے ساتھ گپ شپ کرتے، لطیفے سناتے اور قہقہےلگاتے ہوئے اچانک جیب میں سے تاریک شیشوں کی عینک نکالتے ہیں اور پھر کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر چند منٹوں کی خاموشی اختیار کرتے ہیں۔یہ چند منٹوں کی خاموشی دراصل ان کا ’’قیلولہ‘‘ ہوتی ہے مگر احباب کو اس کا علم اس وقت ہوتا ہے جب وہ عینک دوبارہ جیب میں ڈال کر میز پر کہنیاں ٹیکتے ہوئے ازسر نو ایک قہقہہ لگاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ حضرات میں اپنی نیند پوری کر چکا ہوں اور اس کے بعد یہ حضرت واقعی تازہ دم نظر آنے لگتے ہیں ۔کچھ ماہر فن میںنے ایسے بھی دیکھے ہیں جو کسی ادبی محفل میں مضمون، افسانہ یا غزل پڑھے جانے کے دوران باقاعدہ خواب استراحت کے مزے لے رہے ہوتے ہیںلیکن جب اس فن پارے پر بحث کا آغاز ہوتا ہے تو ان کی فیصلہ کن …

سبیکا کا پیغام، ٹرمپ کے نام

پیاری اور معصوم سبیکا کو کراچی میں سپردخاک کردیا گیا لیکن میرے لئے اس کی موت کا غم اتنی جلدی سپردخاک کرنا مشکل ہے۔ میں تو اس کو کبھی ملا بھی نہ تھا لیکن چند روز پہلے سحری کےوقت ہزاروں میل دور پردیس میں اس کی موت کی خبر نے اداس کردیا۔ ٹی وی اسکرین پر اس کی تصویر کے ساتھ یہ بریکنگ نیوز نشرہوئی کہ ٹیکساس کے ایک اسکول میں فائرنگ سے مارے جانے والوں میں پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ بھی شامل ہے، تو میں کافی دیر تک اس کے والدین کے بارے میں سوچتا رہاجو بیٹی کی لاش کے ساتھ لپٹ کر رو بھی نہ سکتے تھے اور پھر وہ چار دن تک لاش کا انتظار کرتے رہے۔ ایک زمانے میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان براہ رست پروازیں ہوتی تھیں۔ اگر یہ پروازیں برقرارہوتیں تو سبیکا کا جسد خاکی زیادہ سے زیادہ 24گھنٹے میں پاکستان پہنچ جاتا لیکن یہ پروازیں نہ ہونے کے باعث سبیکا کا تابوت چار دن میں پاکستان پہنچا اور یہ چاردن صرف سبیکا کےسگے والدین نہیں بلکہ پاکستان …