Author: vision 21

Financing burden of CPEC

ISHRAT HUSAIN — UPDATED about 5 hours ago  WHATSAPP 25 COMMENTS EMAIL PRINT  The writer is former governor of the State Bank of Pakistan. The ongoing debate on the impact of CPEC projects on future external payments’ obligations is welcome, but should be informed by analysis based on facts rather than opinion. The total committed amount under CPEC of $50 billion is divided into two broad categories: $35bn is allocated for energy projects while $15bn is for infrastructure, Gwadar development, industrial zones and mass transit schemes. The entire portfolio is to be completed by 2030. Therefore, the implementation schedule would determine the payments stream. Energy projects are planned for completion by 2020, but given the usual bureaucratic delays, it won’t be before 2023 that all projects are fully operational. Under the early harvest programme, 10,000 MW would be added to the national grid by 2018. Therefore, the disbursement schedule of energy projects is eight years (2015-2023). Infrastructure projects such as roads, highways, and port and airport development, amounting to $10bn, can reasonably be …

How oppressed are Muslims in India?

Nida Kirmani Muslims offer Eid prayers at the Jama Masjid, Delhi | Reuters Muslims in India form the largest religious minority in the country. According to the 2011 Census, they comprise 14.4 per cent of India’s total population — roughly 174 million people. To use the word ‘minority’ for them, therefore, is misleading: they are the third-largest Muslim population anywhere in the world, after Indonesia and Pakistan. Minority status, however, refers to a group’s relative power vis-à-vis other groups rather than to its numbers alone (note the case of women everywhere or blacks in South Africa during the apartheid). In that sense, then, Indian Muslims certainly are a minority, particularly when one considers the growing influence of Hindu right-wing forces since the 1980s. But just how oppressed are Muslims in India? For Pakistanis – and particularly for those whose families migrated from India – this question is a source of endless curiosity, not the least because the answer either justifies or undermines the very notion of the Pakistani nation-state. If Indian Muslims, in fact, are …

جنگل منگل

  تحریر:ساحرہ ظفر “میرا  اور تمھارا معاہدہ صرف اس جنگل تک آنے کا ہوا تھا  یہ دیکھو لمبے لمبے دانت ناکام  جانورو میں تم سب کو کھا جاؤں گا ایک ایک کر کے مگر میں نرم دل ہوں  میں تم سب کو جہموری حق دوں گا کہ تم لوگ اپنا فیصلہ آپ کر سکو تاکہ مجھے اپنا فیصلہ  کرنے میں آسانی ہو۔”

قاتل بھی میں مقتول بھی میں

تحریر:ساحرہ ظفر میرے مولا کرم ہو کرم ۔ میرے مولا کرم ہو کرم تم سے فریاد کرتے ہیں ہم میرے مولا کرم ہو کرم یہ زمیں اور یہ آسماں تیرے قبضے میں ہے دو جہاں تو ہی سنتاہے سب کی صدا تو ہی رکھتا ہے سب کا بھرم اللہ تو پاک ہے رحمان ہے رحیم ہے ساری کائنات کا خالق ہے محبتوں کے علمبردار  کی روح  خون  و خون ہو گئی۔ماں کا لعل  بیوی کا سہاگ  بیٹے کا باپ  بیوی کا شوہر  اور بوڑھے باپ کا واحد سہارا  اُس کا جوان بیٹا  سفاک دشمن نے ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹادیا ۔ اگر تھوڑی سی نظر دوڑائی جائے کے دھماکہ کرنے والی جگہ کا مقام اور مرتبہ کیا تھا تو  ہر ذی شعور انسان  اس طرح  کے مکرو کام کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے اصل میں قلندر ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ایسا شخص جو دُنیا   کو چھوڑ کر صرف اللہ کا ہو جائے اس  مقام پر ایک روضہ ہے  اس روضے  میں  حضرت ابراہیم مجاب کی قبر مبارک …

معروف ادیبہ بانو قدسیہ

معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہوگیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہوچکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کردیا۔ ہوا یوں تھا کہ وہ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو ان کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا، جس میں ہر کلاس کو اپنا اپنا ڈراما پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو تیس منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لیے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا، جن کی …

(اسفند یار خان(ایس ایل پی طالبعلم

  تحریر:ساحرہ ظفر: میرے ابو ایک مزدور ہیں۔میری پیدائش سے پہلے والد صاحب ایک کوٹھی میں کام کرتے تھے۔مالک نے کام کے ساتھ رہنے کے لیے سرونٹ کواٹر دیا   اس وجہ سے امی بھی ابو کے ساتھ اسلام آباد آگئی ۔ کچھ عرصے میں میری پیدائش  ہوئی  میرا نام بھی اُن آنٹی نے رکھا تھا جن کے گھر میں  ہم رہتے تھے۔کچھ عرصے بعد  ابو  کی نوکری چُھوٹ گئی  ہم سب گاؤں چلے گئے۔ گاؤں میں پڑھنے لکھنے کا کوئی اتنا خاص رواج نہیں تھا  اور  سکول نہ ہونے کے برابر تھے  ابو شہر میں نوکری ڈھونڈتے رہے آخر کار ابو  ایک دفعہ پھر نوکری ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جس سے ہمارے گھر کا خرچ  آرام سے چل سکتا تھا ہم  دوبارہ گاؤں چھوڑ کر شہر آگئے  اور کرائے کے گھر میں  رہنا شروع کر دیا   والد صاحب کو پڑھانے کا بہت شوق تھا انہوں نے ہم دونوں بھائیوں کو سکول میں پہلی کلاس میں  داخل کروایا  چھوٹے بھائی نے کچھ دن سکول جانے کے بعد صاف انکار کر دیا کہ وہ اب سکول …

بانو قدسیہ کاسندر سپنا بیت گیا

مستنصر حسین تارڑ لاہور ائر پورٹ کے لاؤنج میں ایک وہیل چیئر میں سفید بالوں والی ایک ابھی تک خوشنما بوڑھی عورت ایک ڈھے چکے تناور شجر کی مانند سرجھکائے بیٹھی تھی اور اس کا دراز قامت بیٹا اپنے عظیم باپ کی شباہت کا پرتو اسکے سفید بالوں پر دوپٹہ درست کر رہا تھا…میں نے قریب ہو کر سلام کیا اور انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے مجھے ایک مہربان تھپکی دی اور کہنے لگی’’ مستنصر تم آگئے ہو‘‘ میں نے کہا’’ بانو آپا مجھے اطلاع ہوگئی تھی کہ اسلام آباد جانے والی پرواز میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوگئی ہے اس لئے میں قدرے تاخیر سے پہنچا‘‘ بانو قدسیہ کو یوں دیکھ کر میرا دل رنج سے بھرگیا…انکے چہرے پر جو اداسی اور بڑھاپے کی تھکن تھی اسے دیکھ کر مجھے گیتا دت کا گانا’’ میرا سندر سپنا بیت گیا‘‘ یاد آئے چلا جا رہا تھا کہ بانو آپا کے سندر سپنے اشفاق احمد کو بیتے ہوئے بھی کتنے ہی برس ہوگئے تھے…میں نے جھک کر ان سے کہا’’ بانو آپا… آپ کو نہیں آنا …