Author: vision 21

ہے کوئی جواب؟

  ایک شخص پر ایک لاکھ روپے قرضہ چڑھ گیا۔ گھر کے سودے سلف کے ضمن میں دکاندار کا الگ سے مقروض۔ بیوی بیمار تھی جس کے علاج کے لیے پچاس ہزار روپوں کی ضرورت تھی۔ بجلی کٹی ہوئی تھی کیونکہ دس ہزار روپے کا بل بقایا تھا۔ قرض پر ہی تیل خرید کر لالٹین جلاتا یا اشد ضرورت کے لیے گھر میں پڑا ہوا پرانا جنریٹر چلاتا۔ آمدن دس ہزار روپے جبکہ اخراجات بیس ہزار روپے ماہوار۔ پھر اس نے گھر کا سارا اختیار اپنے بیٹے کو سونپ دیا۔ بیٹے نے فوری طور پر گاؤں کے ساہوکار کے پاس گھر گروی رکھ دیا اور بدلے میں ایک لاکھ روپے قرضہ مزید لے لیا۔ بجلی کا بل جمع نہیں کیا۔ البتہ تیل والے کے بقایاجات ادا کر کے قرض پر مزید بہت سا تیل گھر لے آیا اور گھر والوں کو کھلا جنریٹر چلانے کی اجازت دے دی۔ ماں کا علاج نہیں کیا لیکن دوا دارو کے لیے دس ہزار روپے دے دئیے کہ بس زندہ رہے۔ چالیس ہزار کی اس نے عیاشی کر لی۔ …

دودھ میں کیمیکلز کی ملاوٹ

دودھ میں ملاوٹ کبھی پانی کی صورت میں ہوتی تھی مگر آج کیمیکلز اوریوریا سے بنا لیکویڈ دودھ کے نام پر ملک کے کروڑوں شہریوں کو پلایا جارہا ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ٹی وائٹنرز کیلئے نئی پیکنگ کی منظوری دی تھی جس کے تحت ڈبے پر’’یہ دودھ نہیں‘‘ کی وارننگ واضح طور پر لکھا جانا ضروری ہے۔یکم جون سے اسے ملک بھر میں لاگو کردیاگیاہے۔یہ کارروائی اس لئے کی گئی کہ دودھ کے نام پر ٹی وائٹنر کااستعمال صارفین کی صحت کیلئے نقصان کاباعث بن رہا تھا۔ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ روزانہ ملک بھر میں دودھ کے نام پر لاکھوں لیٹر ’’ٹی وائٹنر‘‘مخصوص ٹینکرز کے ذریعے دیہات سے شہروں کو سپلائی کیاجارہاہے ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ایک ٹیم نے مضافات سے راولپنڈی سپلائی کیاجانے والا کیمیکل اورپاؤڈر سے تیار 5ہزار لیٹر مضرصحت یہ ٹی وائٹنر پکڑ لیااورتمام تر ٹیسٹوں کے بعد اس میں کیمیکل اوریوریا کی ملاوٹ ثابٹ ہوگئی جس کے استعمال سے سیکڑوں لوگ متاثر ہوسکتے تھے۔اگرچہ اس وقت صرف پنجاب کی سطح پر فوڈ اتھارٹی متحرک …

پاکستانی روہنگیا

’’روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم پر نہ تڑپیں تو مسلمان کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ۔ وہ دل نہیں پتھر ہے کہ جو روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی فوٹیجز دیکھ کر درد محسوس نہ کرے ۔ ایمان اور انسانیت کا تقاضا ہے کہ جس کا جتنا بس چلے ، ان مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانے کی کوشش کرے ۔ مجھے تو یوں بھی اس المیے کی شدت زیادہ محسوس ہورہی ہے کیونکہ کئی حوالوں سے روہنگیا کے مسلمانوں اور اپنے قبائلی علاقہ جات کے پختونوں کو درپیش المیوں میں بڑی مماثلت نظر آتی ہے ۔ مثلاً روہنگیا مسلمان برما کا حصہ ہوکر بھی بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے محروم ہیں اور قبائلی پختون بھی 1947میں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوجانے کے باوجود بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے محروم ہیں ۔ روہنگیا کے مسلمان بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں باقی برمیوں کی طرح برمی تسلیم کیا جائے اور قبائلی پختونوں کا مطالبہ بھی یہ ہے کہ انہیں باقی پاکستانیوں کی طرح پاکستانی بنا دیا …

لاہور کو ’منہ متھا ‘ دینے والا، جسے کوئی یاد نہیں کرتا

لاہور کا موجودہ چہرہ گنگا رام کا مرہونِ منت ہے۔ مال پر مئیو سکول آف آرٹ (موجودہ نیشنل کالج آف آرٹس)،لاہور میوزیم ، گورنمنٹ کالج لاہور کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ ، جی پی او، لاہور کیتھڈرل، ہائی کورٹ ، ایچی سن کالج کی ڈیزائننگ، پلاننگ اور تعمیر سر گنگا رام کے ہاتھوں انجام پائی ۔ البرٹ وکٹر ہسپتال، سر گنگا رام سکول ( اب لاہور کالج برائے خواتین )، ہیلی کالج آف کامرس ، لیڈی میکلیگن سکول ، لیڈی مینارڈ انڈسٹریل سکول بھی انہوں نے بنائے۔ لائل پور ڈسٹرکٹ کورٹس بھی گنگا رام نے بنائیں۔ اس کے علاوہ سر گنگا رام نے پٹھانکوٹ اور امرتسر کے درمیان ریلوے ٹریک بچھایا۔ لیکن سر گنگا رام کا لاہور پر سب سے بڑا احسان ماڈل ٹاؤن کا قیام تھا۔ 27 فروری 1921ء کو چند معزز شہریوں نے سرگنگا رام کی صدارت میں لاہور شہر سے باہر ایک ہزار ایکڑ پر مثالی ہاؤسنگ سکیم کا منصوبہ بنایا جو آج بھی لاہور کی سب سے اچھی آبادی سمجھی جاتی ہے۔ ان کی مہارت کی وجہ سے انہیں دہلی میں امپیرئیل اسمبلی …

روہنگیا کون ہیں؟

ترکی کی خاتون اول ایمان اردوان کے آنسوئوں نے کروڑوں لوگوں کو رلادیا۔ وہ پچھلے دنوں روہنگیا مسلمانوں کی خبر گیری کیلئے بنگلہ دیش پہنچی تھیں جہاں ساڑھے چھ لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین ہیں۔ ایمان اردوان نے روہنگیا مہاجرین کے ایک کیمپ میں مظلوم عورتوں کی سسکیاں سنیں تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں اور زاروقطار رونے لگیں۔ انہوں نے مجبور روہنگیا عورتوں کو گلے سے لگایا، انہیں دلاسا دیا اور یقین دلایا کہ ترکی انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ ایمان اردوان کے دورہ بنگلہ دیش کے بعد ترکی نے بنگلہ دیش کی حکومت سے اپیل کی کہ روہنگیا مسلمانوں کیلئے اپنا بارڈر کھول دے ان کے قیام و طعام کا تمام خرچ ترکی برداشت کرے گا۔ پاکستان میںبھی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت کے واقعات پر خاص تشویش پائی جاتی ہے اور کئی شہروں میں روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بعض سیاستدانوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان …

فضائل ِ جہالت

 وسعت اللہ خان  یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی ان پڑھ شخص جاہل بھی ہو۔ جاہل ہونے کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ عمرو ابن ِہشام قریش میں ابو الحکم ( دانش کا باپ ) کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ مگر اسی ابوالحکم نے اپنی کور چشمی کے سبب دربارِ رسول سے ابو جہل کا لقب پایا۔ ایسا ہٹیلا کہ مرتے مرتے بھی کہہ مرا کہ میرا سر گردن سمیت کاٹنا تاکہ دیگر سروں کے درمیان ممتاز رہے۔ ان پڑھ لاعلم ہوتا ہے مگر حصولِ علم سے لاعلمی کا مداوا کرلیتا ہے۔ جاہل باعلم ہوتا ہے مگر اس کا باعلم ہونا اس سمیت کسی کے کام نہیں آتا۔ ان پڑھ جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ جاہل سمجھتا ہے کہ وہ سب جانتا ہے۔ علم حلم پیدا کرتا ہے۔ جہل غرورِ علم پیدا کرتا ہے۔ جاہل بصارت کو بصیرت سمجھتا ہے اور عالم بصیرت کو بصارت بنا دیتا ہے۔ ان پڑھ اکبرِ اعظم ہوسکتا ہے مگر جاہل ترقی کرکے جاہلِ اعظم ہوجاتا ہے۔ ان پڑھ اگر پڑھ لکھ جائے تو امکان ہے …

Why Pakistan’s feudal class is not worried about the water crisis?

 February 8, 2017 Najma Minhas | Unfortunately, while many of us are fast becoming immune to weekly media headlines of India and Pakistan’s latest never-ending drama with India on the Indus water treaty, donor agencies are continuously publishing reports warning that we are very quickly going to be water starve While the think tanks of the world discuss ‘water wars’, Pakistani parliamentarians and government agencies are not interested in understanding the implications of what does water scarcity mean nor do they understand the political and economic consequences this will have. A new donor report helps us to understand the origins of this insensitivity. Last week, the United Nations Development Program issued its quarterly report titled “Develop­ment Advocate Pakistan” in which it addresses key issues facing Pakistan. The latest report addressed water security and called it Pakistan’s most critical development challenge. Read more: Pakistan Warns India Over Talk Of Scrapping The Indus Water Treaty Pakistan’s water availability has gone down dramatically from once being a water-abundant country to now experiencing water stress. UNDP statistics show that between …