All posts filed under: Uncategorized

قصور شہرکی بے قصور بیٹی

جلسے اور جلوسوں کے لئے مخصوص فیصل آباد شہر کے ’’دھوبی گھاٹ گرائونڈ‘‘ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو تحریک پاکستان کے زمانے میں لاہور کے موچی گیٹ کی تھی۔جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ایک دِن اعلان ہوا کہ دھوبی گھاٹ گراونڈ میں ایک مجرم کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے گا ،مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل گرائونڈ میں پھانسی گھاٹ بنایا گیا، لوہے کی ٹکٹکی لگائی گئی، پھانسی کے لئے سہ پہر کا وقت مقرر تھا ،لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر جمع ہو گیا، عین وقت مقررہ پر ڈسٹرکٹ جیل کی نیلے رنگ والی وین آئی، مجرم کو وین سے اتارکرپھانسی کے چبوترے پر لایا گیا ،یہ منظر دیکھ کر لوگوں پر سناٹا طاری تھا ،مجرم کو تختہ دار پر کھڑا کیا گیا، حکم ہوا اور جلاد نے لبلبہ دبا دیا ،تختے نیچے سے کھل گئے اور لاش پھانسی کے پھندے پر جھول گئی ،چند منٹ بعد ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور موت کی تصدیق کر دی، پھانسی لگنے والے مجرم کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایک …

قاتل۔ حاکم وقت

قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے قوم کو بری طرح سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ننھی زینب پر گزرنے والی قیامت نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے ۔پچھلے کئی روز سے میڈیا لگاتار اس اندوہناک واقعہ کی کوریج کر رہا ہے،” جسٹس فار زینب ” کے نام سے سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جا رہی ہے ۔معاشرے کے ہر حصہ سے صرف یہی صدا بلند کی جارہی ہے کہ اس گھنائونے فعل کو سرانجام دینے والے شیطان کو اس کے کئے کی سزا دی جائے۔ غم و غصے کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ مجرم کی سر عام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ یقیناََ اس کیس کو ملنے والی کوریج سے معصوم زینب کے لواحقین کو کم از کم یہ حوصلہ تو ضرور ہوا ہے کہ ا ن کی معصوم بیٹی کا قاتل شاید اپنے انجام کو پہنچ ہی جائے لیکن دوسری طرف جو بات ایک بار پھر سے کھل کر سامنے آئی ہے وہ پاکستان کے ریاستی نظام کا بوسیدہ پن ہے۔ زینب کا اغوا …

انکل شہباز کے نام ننھی زینب کا خط

انکل شہباز !میں بابا بلھے شاہ اور وارث شاہ کے استاد خواجہ غلام محی الدین کے قبرستان قصور سے خط لکھ رہی ہوں، 5دن کی شدید تھکاوٹ اور ظلم کی چکی میں پس کر پرسکون جگہ پہنچی ہوں جہاں خواجہ صاحب کے علاوہ سینکڑوں حفاظ کرام مدفون ہیں۔ انکل میں زینب بنت محمد امین ناظم تبلیغ تحریک منہاج القرآن قصورا سکول ٹیچر کی بیٹی ہوں۔ مجھے 7سال کی زندگی میں ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، بلھے شاہ کہہ رہے تھے آج 21کروڑ عوام کی غیرت کا جنازہ دیکھ کر بیٹا میرا دل کہہ رہا ہے کہ آخر میں بھی مر جائوں۔ انکل ظالموں کے ظلم کی وجہ سے تھک گئی ہوں، انکل اس شمر کو نہ چھوڑنا جس نے میرا پھول سا چہرہ مسلا ہے، انکل اب کی بار انصاف پھر اندھا، قانون بہرہ اور قوم کی طرح حسب سابق آپ بھی رسمی آہوں دعائوں، روایتی بیان بازیوں میں نہ رہنا۔ انکل صرف معطلیاں، تبدیلیاں، کمیٹیاں، تحقیقاتی رپورٹیں کہیں میری چیخوں، سسکیوں، ہچکیوں اور آہوں کے آگے دیوار نہ بن جائیں، میں تو رحمت بن …

پاک پانی سے ناپاک پروٹوکول تک

سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں اور پھر کہاں کہاں سے ہوتا ہوا شکریہ ادا کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک پہنچوں جو اصل مسائل کی طرف پوری یکسوئی سے متوجہ ہیں۔ عدلیہ! شکریہہلکے سُروں آغاز کروں تو سریلی ترین خبر یہ ہے کہ چکوال آمد پر نااہل شریف کا استقبال جعلی نوٹوں سے کیا گیا جس کی علامتی حیثیت کا جواب نہیں کہ جیسی جمہوریت ویسے نوٹ، جیسا لیڈر ویسے ووٹر۔ دلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ جب ’’قدم بڑھائو نواز شریف‘‘ کرائوڈ انتہائی جوش و خروش سے عظیم قائد بلکہ قائد اعظم ثانی پر تھوک کے حساب سے جعلی نوٹ نچھاور کر رہا تھا، بیچارے میاں صاحب اصل سنجیدگی کے ساتھ انہیں اس ’’اظہار عقیدت‘‘ سے روک رہے تھے۔ حیرت ہے کہ میاں صاحب بھی اصلی اور نقلی نوٹوں میں تمیز نہ کر سکے لیکن شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرصۂ دراز سے روپوں نہیں ڈالروں، پائونڈوں، ریالوں اور درہموں وغیرہ میں ڈیل کر رہے ہیں ورنہ پاکستانی روپیہ اس طرح رسوا اور ٹکے ٹوکری …

وقت سے پہلے مرتے پاکستانی

ال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قدرت جس بھی آفت کی نمائش کرنا چاہتی ہے اس کے لیے پاکستان جیسے اسلامی ملک کا انتخاب ہی کیوں کرتی ہے؟؟؟ چاہے زلزلوں کے نقصانات ہوں، یا سیلاب کی تباہ کاریاں یا کچھ اور… پاکستان ہی کیوں…؟؟؟آپ اخبار یا ٹی وی پر تقریباً ہر روز کسی ایسے بچے کی تصویر دیکھتے ہوں گے جس کے دو دھڑ ہیں، چار بازو ہیں ، دو، سَر ہیں یا جڑواں بچوں کے وجود آپس میں جُڑے ہوئے ہیں… ایک ایسا ملک جہاں صبح سے شام تک اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے موبائل SMS پر درود پاک کی chainچلائی جاتی ہے اور کروڑوں اربوں کی تعداد میں 17 کروڑ سے زائد مسلمان پانچ وقت باری تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں ایک محلے میں کئی کئی مسجدیں ہیں اور الحمداللہ سب کی سب شاد آباد… جن سے دن رات میں کسی بھی وقت والیم فل کر کے خلق خدا کو باری تعالیٰ کی یاد دلائی جاتی رہتی ہے سیدھی سی بات ہے ایک مسلمان ملک میں کس کی جرأت ہے کہ …

پنڈی کا حجام کونسلر اور فیس بک کے دانشور

2002  کے بلدیاتی انتخابات ہوئے ، راولپنڈی کا ایک حجام بھی اس میں کسان کونسلر کی سیٹ پر آزاد حیثیت میں الیکشن جیت گیا ۔ جیتنے کے بعد اس نے اپنی الیکشن کے پوسٹر والی تصویر کی پانچ ہزار فوٹو کاپیاں بنوا لی ۔

محبت اور اطاعت!!

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ محبت کا لازمی نتیجہ اطاعت ہونا چاہیے، اگر محبت اطاعت میں نہیں ڈھل رہی تو محبت کے دعوے کو جھوٹا تصور کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس بعض لوگوں کا تصور یہ ہے کہ محبت بجائے خود ایک عمل ہے، اگر محبت