Latest Posts

تعلیم کی زبوں حالی اور ہمارا قومی مستقبل

پہلی نظر میں ہی مجھے وہ شخص پڑھا لکھا اور مہذب لگا، پھر ان سے کبھی مسجد میں اور کبھی سرراہے گپ شپ ہونے لگی۔ تعارف دونوں طرف سطحی تھا۔ نہ وہ مجھے اچھی طرح جانتے تھے اور نہ ہی میں ان کے بیک گرائونڈ سے واقف تھا۔ ایک روز ان سے چائے پہ تفصیلی ملاقات ہوئی تو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ صاحب پروفیسر آف میڈیسن ریٹائر ہوئے تھے اورپھر اس کے بعد ایک دو پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں بطور پروفیسر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ انہیں یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ معدودے چند ان حضرات میں سے تھے جنہوں نے ایم بی بی ا یس کے بعد ایم آر سی پی اور پھر میڈیسن میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ ہمارے ملک میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر بہت کم پی ایچ ڈی کرتے ہیں کیونکہ تحقیق کے لئے قلب و جگر کا خون کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں تعلیم کے مستقبل کے حوالے سے گفتگو چل نکلی تو انہوں نے ایک ہڈ بیتی سنائی جو میرے تجربے اور مشاہدے کے عین مطابق تھی۔ دراصل ہم دونوں تعلیم کی زبوں حالی، اعلیٰ تعلیم کی گرتی ہوئی کوالٹی، تحقیق کے قحط اور کتاب سے محبت کے حوالے سے تشویش میں بھی مبتلا تھے اور کچھ غمگین بھی کیونکہ موجودہ صدی میں قوموں اور ملکوں کا مستقبل براہ راست سائنس، ٹیکنالوجی اور ا علیٰ تعلیم سے وابستہ ہے۔ وطن عزیز میں جس تیز رفتاری سے ان شعبوں میں زوال آیا ہے اور جس طرح ا سکول ایجوکیشن سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک معیار اور کوالٹی کا بیڑا غرق ہوا ہے اس کے پیش نظر قوم کے تابناک مستقبل کی توقع رکھنا بے وقوفوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ میں گزشتہ دنوں ایک امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ پڑھ رہا تھا۔ اس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ تعلیم کے شعبے پر سرمایہ کاری کا منافع باقی تمام شعبوں پر سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ ہے۔ تعلیم کا فروغ اور اس کی کوالٹی کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے ہمارے ملک پر ایسے حضرات حکمران رہے ہیں جو بظاہر تعلیم یافتہ تھے لیکن وہ نہ تعلیم کی اہمیت سے واقف تھے اور نہ تعلیم میں دلچسپی رکھتے تھے۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ مشرف کے چند سالہ دور حکومت کے علاوہ کسی بھی دور حکومت میں تعلیم کے لئے جی این پی کا دو فیصد سے زیادہ مختص نہیں کیا گیا۔ نتیجے کے طور پر ایک طرف جہالت میں اضافہ ہوتا رہا، کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر رہے اور دوسری طرف ا سکول کی سطح سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم کی کوالٹی کا خون ہوتا رہا۔ ماشاء اللہ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے کیونکہ ہماری صوبائی اور وفاقی حکومتیں تعلیم کی اہمیت کا شعور نہیں رکھتیں۔ کسی قوم اور ملک کا بیڑا غرق کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے جو ہمارے ہاں ہورہا ہے۔ میں ڈھائی سال یونیسکو کے ایگزیکٹو بورڈ کا منتخب رکن رہا اور یونیسکو کے ایجوکیشن کمیشن کا منتخب نائب صدر رہا اور یونیسکو کی سفارش کے مطابق مسلسل حکومت پہ تعلیم کے لئے زیادہ فنڈز مختص کرنے کے لئے زور دیتا رہا لیکن میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ وفاق میں سیکرٹری تعلیم تھا تو تعلیمی پالیسی بنائی اور پھر اس کی تکمیل یعنی عملدرآمد کے لئے کوششیں کرتا رہا لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس صورتحال کی دلچسپ مثال یہ ہے کہ تعلیمی پالیسی پر عملدرآمد کے لئے ایک قومی بورڈ بنایا گیا تھا جس کے چیئرمین وزیر اعظم اور اراکین میں و زیر تعلیم کے علاوہ چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ شامل تھے۔ بلحاظ عہدہ میں اس بورڈ کا سیکرٹری تھا۔ میں نے کوئی درجن بار اس بورڈ کی میٹنگ کے لئے سمری بھجوائی جو کبھی واپس نہ آئی۔ نتیجے کے طور پر ڈھائی برسوں میں ایک بھی میٹنگ نہ ہوسکی۔ ایٹمی دھماکے نے نہ صرف بہت سی پابندیاں عائد کردیں بلکہ فارن ایکسچینج کی صورت بھی دگرگوں کردی۔ بیرون ملک اسکالر شپ پر بھیجے گئے سینکڑوں طلباء و طالبات کو وظائف کی ادائیگی ایک عذاب بن گیا۔ کہانی طویل ہے لیکن اس تجربے کا مرکزی نکتہ فقط اتنا سا ہے کہ ہمارے حکمران تعلیم کی اہمیت کا شعور نہیں رکھتے جس کے سبب پاکستان میں تعلیم اور تعلیم کا معیار دردناک حد تک زوال پذیر ہے۔
معذرت بات شروع ہوئی تھی ان ڈاکٹر صاحب سے لیکن میرے تجربے کا رونا طویل ہوگیا حالانکہ میں نے دیگ سے فقط چند دانے نکالے ہیں۔ میں نے ان ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ اتنی ڈگریوں، تحقیقی مقالات اور وسیع تجربے کے باوجود آپ گھر پہ کیوں تشریف فرما ہیں، کسی میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ کیوں نہیں ہوتے تاکہ طلبہ آپ کے علم و فضل سے مستفید ہوں۔ انہوں نے جوبات بتائی وہی میرا تجربہ ہے۔ کہنے لگے میں لاہور کی ایک مشہور پرائیویٹ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں پروفیسر تھا۔ امتحان ہوا اور میں نے نتیجہ مرتب کرکے فہرست اوپر بھجوادی۔ دوسرے دن یونیورسٹی کے مالک جو صدر بھی تھے، کا پیغام ملا کہ جن طلبہ کو آپ نے فیل کیا ہے ان میں سے چند نہایت نالائقوں کو چھوڑ کر دوسروں کو مزید نمبر دے کر پاس کردیں۔ ہم نے یونیورسٹی بھی چلانی ہے۔ میں نے جواباً عرض کیا کہ نالائق ڈاکٹروں کو ڈگری دینے کا مطلب ہے کہ قوم مرنے کے لئے تیار ہوجائے، یہ کام میں نہیں کرسکتا، میرا استعفیٰ قبول فرمائیں۔
دراصل یہ کتاب کا موضوع ہے اسے کالم کے مختصر دامن میں سمونا ممکن نہیں۔ میں دو پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا وائس چانسلر رہا اور تعلیم یوں بھی میرے دل کا ٹکڑا ہے۔ ریسرچ کے ساتھ سرکاری یونیورسٹیوں سے بھی تعلق قائم ہے۔ میں اپنے تجربے کی بنا پر یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چند ایک پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے علاوہ باقی تمام پیسے بنانے کی ٹیکسالیں اور راتوں رات ارب پتی بننے کی فیکٹریاں ہیں۔ تعلیمی معیار اور تحقیق تجارتی تقاضوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اور مالکان چند برسوں میں اتنے رئیس ہوگئے ہیں کہ ٹی وی چینل اور اخبارات جیسے گھاٹے کے کام کررہے ہیں تاکہ اثر و رسوخ کمائیں، جس طرح تعلیم کی کوالٹی کا تحقیق یعنی ریسرچ سے گہرا تعلق ہے اسی طرح آسان دولت کا اثر و رسوخ کمانےNuisanceویلیو Valueبنانے سے قدرتی تعلق ہے۔ میڈیکل کے نام پر طلبہ سے لاکھوں میں فیسیں لی جاتی ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹیوں کے باقی شعبوں مثلاً سوشل سائنسز وغیرہ میں آسان ڈگریاں بانٹی جاتی ہیں۔ ریسرچ جرنلز پر مافیاز قابض ہیں جہاں ریسرچ آرٹیکل چھپوانے کے لئے ادارتی بورڈ کے اراکین کو مصنف کے ساتھ شامل کرنا پڑتا ہے ورنہ آرٹیکل نہیں چھپتا۔ ایم فل کے تحقیقی مقالے نقل بازی کے شاہکار ہوتے ہیں اور عام طور پر ممتحن حضرات (Examiners)سے مل ملا کر طلبہ کو پاس کردیا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ اِلا ماشاء اللہ تعلیم کے معیار کا ستیاناس ہوچکا ہے اور ہماری ڈگریاں نہایت ناقابل اعتماد ہوچکی ہیں۔ اس سیلاب کے سامنے بند باندھنا یا اس کا رخ موڑنا ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بس کا روگ نہیں جو اپنے تئیں کوشش کرتا ہے لیکن کامیابی کے امکانات محدود ہیں۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن مختصر بات فقط اتنی سی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کے معیار، سائنس ٹیکنالوجی اور میڈیکل کے شعبوں میں افسوسناک حد تک زوال آچکا ہے اور زوال کا یہ سلسلہ جاری ہے جو قوم تعلیمی زوال اور پسماندگی کا شکار ہو وہ سی پیک بنالے یا سڑکوں کا جال بچھا لے اس کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے نہ عالمی سطح پر وقار حاصل کرسکتی ہے۔

اہلِ کشمیر ہم تمھارے ساتھ ہیں

اہلِ کشمیر! ہمت نہ ہارنا، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ 5؍فروری اب ایک تاریخی دن بن چکا ہے۔ یہ دن آتا ہے تو مجاہد ملت قاضی حسین احمد مرحوم کی یادیں بھی تازہ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے 5؍فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر منانے کے لیے جب پوری قوم سے اپیل کی تو الحمدللہ عوام الناس سے لے کر حکمرانوں تک‘ سب نے اس پر لبیک کہا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ یہ شہ رگ بنیے کے قبضے میں ہے۔ ہمارے وزرائے اعظم اقوام متحدہ کے بعض اجلاسوں میں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کر کے جو مثبت تاثر قائم کرتے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعد کے ایام میں اس کا اثر وہ خود اپنے طرزِ عمل سے زائل کر دیتے ہیں۔ سبکدوش ہونے والے وزیراعظم نے بھارت سے اپنی تجارت اور کاروبار کو ترجیح دے کر اپنے قومی منصب کو ہمیشہ مجروح کیا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں پر ظلم وستم جاری رکھنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج کی کئی مزید بٹالینز بھیج دی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں سے پیلٹ بُلٹس کے استعمال سے ہزاروں معصوم بچوں کو بینائی سے محروم اور لاتعداد کشمیری عوام کو گولیوں سے بھون کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ برہان مظفر وانی شہید کے بعد تو وادیٔ کشمیر قتل گڑھ بن چکی ہے۔ ظالم بھارتیوں نے اہلِ کشمیر پر زمین تنگ کر دی ہے مگر کشمیری عوام ان شاء اللہ آزادی کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرکے دم لیں گے۔ خطۂ کشمیر، ارضِ فلسطین، شام اور میانمار کا علاقہ دھرتی کے مظلوم ترین گوشے ہیں۔
کشمیر جنت نظیر کی سرزمین پر بھارت کی درندہ صفت فوجیں اتنی بڑی تعداد میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی پر مامور ہیں کہ اس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس چھوٹی سی آبادی کو لاکھوں درندوں نے گھیر رکھا ہے۔ ان کی آبادیاں ویران، کھیت کھلیان اور باغات تباہ حال ہیں، عفت مآب بیٹیوں کی عصمتیں پامال ہو رہی ہیں اور پوری وادیٔ جنت نظیر آج مقتل کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمان جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں۔ ہزاروں مرد و خواتین لاپتا ہیں اور ہزاروں بھارتی عقوبت خانوں میں ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ ہزاروں دخترانِ کشمیر کی عفت پامال کی جا چکی ہے۔ پاکستان اس مسئلے کا اہم فریق ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ تحریکِ حریت کشمیر، پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا برملا اظہار کرتی ہے۔ افسوس پاکستانی حکومتیں یکے بعد دیگرے مسلسل قوم و ملت کے اس اہم ترین مسئلے کو نہ صرف پس پشت ڈالنے کی مرتکب ہوئی ہیں بلکہ حریت پسند کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی مجرم بھی ہیں۔ 
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بلاوجہ بھارت کی محبت میں دیوانے ہوئے جاتے ہیں۔ جو شخص کشمیر سے محبت رکھتا ہے وہ بھارت کو پسندیدہ ملک کیسے قرار دے سکتا ہے۔ افسوس کہ بھارت کے یار خونِ شہدا کی قدر و قیمت سے تو نابلد ہیں ہی، اُس بنیادی انسانی غیرت سے بھی محروم ہو چکے ہیں کہ دخترانِ ملت کی عزتیں لوٹنے والوں سے دوستی کیونکر ممکن ہے؟ کشمیری حریت پسند روزِ اول سے بھارتی تسلط کے خلاف سرپا احتجاج رہے ہیں۔ پہلے بھارتی فوجیں یکطرفہ خون کی ہولی کھیلتی تھیں۔ تیس، بتیس سال قبل کشمیریوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی درندوں کی لاشیں انڈیا کے مختلف شہروں میں جانے لگیں تو بھارتی بنیے کو احساس ہوا کہ کشمیر کو غلام رکھنا اب ان کے بس میں نہیں۔ برہان وانی اور دیگر شہدا اب آزادی کا سمبل بن کر ہر کشمیری کے دل میں زندہ ہیں، ہر نوجوان اب آزادی کے لیے جان ہتھیلی پہ لیے میدانِ جہاد میں سرگرمِ عمل ہے۔
کشمیری حریت پسند مختلف تنظیموں کے جھنڈے تلے مصروفِ جہاد تھے۔ پھر انہوں نے تحریک حریت کشمیر کو متحدہ پلیٹ فارم کی شکل دی اور سید علی گیلانی کی صورت میں ایک ایسی قیادت خطے کو نصیب ہوئی جو ہر لحاظ سے مثالی ہے۔ جسمانی لحاظ سے بظاہر کمزور، عمر رسیدہ، مختلف امراض سے نڈھال، علی گیلانی عقابی نگاہ اور چیتے کا جگر رکھتے ہیں۔ وہ واقعتا حیدرکرارؓ کی تلوار ، خالدؓ کی للکار اور طارقؒ کی یلغار کا نمونہ ہیں۔ تحریک حریت کی متحدہ کاوشوں اور سید علی گیلانی کی کرشمہ ساز شخصیت نے سرد خانے میں پڑے ہوئے مسئلہ کشمیر کو پھر زندہ کر دیا تھا۔ جن کشمیریوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنی بندوق کے بارے میں کہتے ہیں ”دھپ چڑھسی تے ٹھس کَرسی‘‘ وہ شاہین بن کر اپنے دشمن پر چھپٹے۔ بقول اقبال ؎
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنّم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا!
پاکستان اور آزاد کشمیر جہادِ کشمیر کا بیس کیمپ ہیں۔ پاکستان اس مسئلے میں مداخلت کار نہیں بلکہ عالمی اداروں کے فیصلوں نے اسے باقاعدہ فریق کا درجہ دیا ہے۔ پاکستانی حکمران معلوم نہیں کیوں بزدلی کی چادر اوڑھے اس مسئلے سے دور بھاگتے ہیں۔سید علی گیلانی نے کشمیری عوام کے دلوں میں ایسا جذبہ پیدا کر دیا ہے کہ اب وہ کسی صورت اپنی مادرِ وطن کو ہندو بنیے کے قبضے میں نہیں دیکھ سکتے۔ 5؍فروری کشمیریوں اور ان کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے حامیوں کے لیے ایک بہت اہم دن بن گیا ہے۔ یہ دن ”یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اللہ کے فضل سے پاکستان میں یہ دن عوامی، سرکاری اور قومی دن کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس کا آغاز 1990ء میں ہوا۔ اس وقت میاں نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب اور بے نظیر بھٹو مرحومہ وزیراعظم پاکستان تھیں۔ مجھے آج بھی وہ تاریخی لمحہ یاد ہے جب جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر جناب قاضی حسین احمد مرحوم نے ذمہ دارانِ جماعت اسلامی کی ایک نشست میں یکجہتی کشمیر کے لیے دن منانے کا تصور پیش کیا‘ جسے سراہا گیا۔ مشاورت میں طے پایا کہ ملک کے تمام عناصر و مسالک، حکومتی اور غیر حکومتی ادارے غرض پوری قوم یک زبان ہوکر مسئلہ کشمیر پر آواز اٹھائیں۔
اس سلسلے میں ایک کمیٹی قائم کی گئی جس نے اس پروگرام کا پورا لائحۂ عمل مرتب کیا۔ مشاورت میں طے پایا کہ قاضی صاحب حکمرانوں سے ملاقات کرکے انہیں بھی اس مسئلے کی اہمیت سے آگاہ کریں اور اپنا فرض ادا کرنے پر آمادہ کریں۔ قاضی صاحب نے اس سلسلے میں میاں محمد نواز شریف صاحب سے ملاقات کی اور 9 جنوری 1990 کو پریس کانفرنس کے ذریعے جماعتی فیصلوں کے مطابق 5 فروری 1990ء کا دن ”یوم یکجہتی کشمیر‘‘ کے طورپر منانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاکستانی ذرائع ابلاغ نے بھی بھر پور کردار ادا کیا اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اس مطالبے کو خوب پذیرائی ملی۔ پنجاب حکومت نے سرکاری سطح پر یومِ یکجہتی کشمیر کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس تحرّک کے نتیجے میں ملک میں ایسی فضا بن گئی کہ وزیراعظم پاکستان، بینظیر بھٹو مرحومہ نے بھی اس مطالبے کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے 5 فروری کو سرکاری تعطیل قرار دے دیا۔
وزیراعظم بے نظیر نے اس اعلان کے ساتھ عملاً بھی اس جانب پیش قدمی کی، جس کی تحسین ضروری ہے۔ مرحومہ نے مظفرآباد میں آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کیا، جس میں بھارتی مظالم کی مکمل تصویر پیش کرتے ہوئے پرجوش انداز میں تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ بینظیر بھٹو مرحومہ کی تقاریر میں سے ان کا وہ خطاب بہت جامع اور مؤثر ہے۔ اس وقت سے لے کر آج کے دن تک پاکستان میں برسرِ اقتدار آنے والی ہر حکومت اگرچہ عملاً مسئلہ کشمیر پر اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر اور گریزاں رہی ہے؛ تاہم یہ دن ایک قومی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور اس سے انحراف کسی کے بس میں نہیں۔ اس روز پوری دنیا یہ منظر دیکھتی ہے کہ پاکستانی قوم بڑے شہروں سے لے کر چھوٹی چھوٹی بستیوں تک‘ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہوتی ہے۔ یہ یوم یکجہتی قاضی حسین احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ ان کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ اس یوم کے تعین کے لیے جن لوگوں نے سوچ بچار کی اور جنہوں نے اس کے لیے دستِ تعاون بڑھایا ان سب کا یہ عمل باعثِ اجر ہے۔ جو جتنے اخلاص کے ساتھ مظلوم کشمیری بھائیوں کے لیے کام کرے گا، اتنا ہی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہو گا۔ ان شاء اللہ 
آج پوری دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمِ اسلام میں ہر جانب بیداری کی لہریں موجزن ہیں‘ عالمی استعمار امت مسلمہ کی بیداری سے خائف ہے اور جہاں کہیں دینی و ملّی سوچ رکھنے والے لوگ جمہوری راستے سے ملک کے اندر ایوانِ اقتدار تک پہنچتے ہیں، نام نہاد مغربی جمہوریت کے علمبردار کہتے ہیں کہ جمہوریت ہار گئی ہے۔ الجزائر، مصر اور غزہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ ہمیں جذبۂ جہاد اور شوقِ شہادت سے سرشار مجاہدینِ کشمیر و فلسطین اور روہنگیا حریت پسندوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ غلامی کی زنجیریں ان شاء اللہ ٹوٹ گریں گی اور جبر کا دور ختم ہو جائے گا۔ یہ دن تجدیدِ عہد اور عزمِ نو کی نوید ہے۔ آئیے! اپنے اللہ سے عہد باندھیں کہ ہم کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ اللہ تعالیٰ جہاد کرنے والوں کا ساتھی ہے اور ہم قائد المجاہدینؐ کے امتی ہیں۔ شہدائے کشمیر زندہ باد، تحریک آزادی کشمیر زندہ باد، یوم یکجہتی کشمیر پائندہ باد، بھارتی درندگی مردہ باد۔ لعنت بر تثلیثِ خبیثہ، امریکہ، بھارت، اسرائیل! اہلِ کشمیر! حوصلے بلند رکھنا ہم تمھارے ساتھ ہیں، اللہ کی نصرت تمھارے ساتھ ہے۔

یومِ یکجہتی کشمیر

                                                                                                                                                             1990

سے آج تک ہر سال 5فروری کا دن نہ صرف پاکستان بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر اور دنیا کے بیشتر مسلم ممالک میں مظلوم کشمیری مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کیلئے منایا جاتا ہے۔آج کے دن مظلوم کشمیریوں کو اُن کا حق خود ارادیت دلانے کیلئے ملک بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی، سیمینارز منعقد کئے جائیں گے اور مختلف فورموں پر قراردادیں پیش کی جائیں گی۔بھارت اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی کئی قراردادیں تسلیم کرنے کے باوجود مظلوم اور نہتے کشمیریوں کو اُنکا حق خود اختیاری دینے کو تیار نہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی تحریک ہر گزرتے دن کیساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور کشمیری عوام بھارت سے نفرت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے۔آزادی کی اِس تحریک کو دبانے کیلئے قابض بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا سلسلہ کسی حد پر رکنے میں نہیں آ رہا۔کہیں پیلٹ گنوں سے نہتے کشمیریوں کی آنکھیں چھینی جا رہی ہیں تو کہیں مائوں ، بہنوں کی عصمت تار تار کی جارہی ہے۔مائوں سے اُنکے جوان لخت جگر چھین لئے جاتے ہیں ۔ ننھے معصوم بچوں کویتیم کیا جا رہا ہے، لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچلنے کی ہر کوشش، کشت و خون کے سارے طریقے اور ظلم و تشدد کے تمام حربے آزادی کی خواہش کو کمزور کرنے کے بجائے تیز تر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام جس عزم کیساتھ مودی حکومت کی بربریت کا مقابلہ کر رہے ہیں اُس کے پیش نظر بھارت میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ کشمیر کو طاقت کے بل پر بھارت کاحصہ بنائے رکھنا محال ہے۔لہٰذا یہ مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بلا تاخیر منظم ، جارحانہ اور فیصلہ کن سفارتی مہم شروع کرے۔کشمیر میں بھارتی دیو استبداد کے رقص و وحشت کو روکنے کی ہر ممکن کوشش پاکستان کا فرض ہے۔بھارت کو بھی نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مطابق حل کرنا چاہئے۔

قوم کی پستی کا ذمہ دار میں ہوں

اندرونِ سندھ چہرے اسی طرح کھردرے ہیں۔ آنکھیں سپاٹ ہیں۔
کراچی میں جوان بیٹے سوکھے پتّوں کی طرح شاہراہوں پر بکھر رہے ہیں۔
پنجاب میں عفتیں پامال ہورہی ہیں۔
کے پی میں حیا برہنہ کی جارہی ہے۔
بلوچستان میں اشرف المخلوقات لاپتہ ہورہے ہیں۔
آزاد کشمیر میں سرحد کے اس پار کی گولہ باری سے انسان گھر بیٹھے لہو لہان ہورہے ہیں۔
گلگت میں خلقِ خداآئینی حیثیت سے بے خبر ہے۔
یہ سب کچھ مجھے چین سے سونے نہیں دیتا۔ میں اپنے آپ کو ذمّہ دار سمجھتا ہوں۔
جب میں اپنی تعلیم مکمل کررہا تھا۔ سوچتا تھا کہ بس ڈگری ملتے ہی میں ملک میں انقلاب لے آئوں گا۔ میں اسی لئے علم حاصل کررہا ہوں۔ میرے والدین اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر مجھے اسی لئے اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں کہ میں اس معاشرے میں تبدیلیاں لائوں۔ میری مملکت بھی مجھ پر اسی لئے سرمایہ لگا رہی ہے کہ میں اپنی دانش سے ایسی خدمات انجام دے سکوں کہ ہم ترقی یافتہ مہذب ملکوں کی صف کے قریب پہنچ جائیں۔
کیا ارادے تھے۔ کیا خواب تھے۔ میرے ساتھ جوان ہونے والوں۔ پڑھنے والوں کے بھی ایسے ہی عزائم تھے۔ ہم کافی ہائوسوں میں بیٹھتے تھے۔ کتابوں کی دُکانوں پر ملتے تھے۔ انہی خیالات کا تبادلہ کرتے تھے۔ لاہور کافی ہائوس کے باہر گھاس کے قطعے پر حبیب جالب کی آواز گونجتی تھی ’’ایسے دستور کو۔ صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا‘‘۔ پاک ٹی ہائوس میں ناصر کاظمی۔ عبداللہ ملک۔ اعجاز حسین بٹالوی۔ انتظار حسین۔ صفدر میر۔ افتخار جالب۔ انیس ناگی کے درمیان یہی باتیں ہوتی تھیں۔ حالات کیسے بدلیں گے۔ کراچی فریڈرک کیفے ٹیریا۔ فتحیاب علی خان۔ معراج محمد خان۔ علی مختار رضوی۔ ایسٹرن کافی ہائوس۔ زیلن۔ ابن انشا۔ جمیل الدین عالی۔ مظفر علی سید۔ سید سعید حسن۔ یہی رت جگے۔ یہی فکر مسلسل۔ کوئٹہ کلب یاد آتا ہے۔ دنینز پشاور۔ بہت سے چہرے۔ محسن احسان۔ خاطر غزنوی۔ طاہر محمد خان۔فصیح اقبال۔ محمد حسین پناہ۔ میر گل خان نصیر۔
کتنی بہاریں گزر گئیں۔ کتنی خزائیں بہت سے پھول ساتھ لے گئیں۔ کتنے زلزلے بلند عمارتیں گرا گئے۔ ڈھاکہ۔ سلہٹ۔ چٹاگانگ ہم سے روٹھ گئے۔ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل ڈھاکا میں ایک کمرے کے پردے ہٹا کر میں تیز بارش اور تند ہوا کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ 1971 ہے۔ میں پاکستان بچانے والوں کی کوششیں رپورٹ کرنے آیا ہوں۔ پاکستان کا ستارہ و ہلال کا پرچم تیز بارش اور ہوا کا مقابلہ کررہا ہے۔ پھر وہ بھیگ کر پھٹنے لگتا ہے۔ ہوا بار بار اس پر حملہ آور ہورہی ہے۔ یہ منظر مجھ سے نہیں دیکھا جاتا۔ میں پردے گرالیتاہوں۔
بہت سے منظر تو مجھ سے اب بھی نہیں دیکھے جاتے۔ مگر مجھ سے اب پردے بھی نہیں گرائے جاتے۔
مشرقی پاکستان۔ ہماری مملکت کا اکثریتی حصہ ہم سے الگ ہوگیا۔ ووٹ کے ذریعے علیحدہ ہوتا۔ پُرامن انداز میں جدا ہوتا تو شاید دل یوں نہ ڈوبتا۔ لیکن ہمارے ہزاروں بھائیوں کی جانیں گئیں۔ ہمارے دشمن کو موقع مل گیا۔ اس کے چھاتہ بردار اُترے۔ ڈھاکا ڈوب گیا۔ 90 ہزار فوجی۔ سویلین جنگی قیدی بن گئے۔
ہم مشرقی پاکستان کو بھول گئے ہیں۔ 1971 کے بعد پیدا ہونے والوں کو تو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ پاکستان کا ایک اور بازو بھی تھا۔ میں پہلے یہی سوچتا تھا۔ میرا یقین راسخ تھا کہ وطن ٹوٹ نہیں سکتا۔ ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ جب تک ایک پاکستانی بھی زندہ ہے دشمن کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی۔ لیکن ایسا ہوگیا۔ اب یہ جملے سنتا ہوں کہ کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ تو میرے دل میں شدید چبھن ہوتی ہے۔ مجھے یہ جملے خشک درختوں کے کھوکھلے تنے لگتے ہیں۔
اتنے بڑے سانحے کے بعد دل گداز۔ آنکھیں نم اور پیشانیاں عجز کا مظہر ہونی چاہیے تھیں۔ لیکن ہم تو پہلے سے زیادہ خود غرض۔ بے حس۔ زیادہ نعرے باز ہوگئے ہیں۔ چند سو گھرانے بہت زیادہ خوشحال۔ پرجوش ہیں۔ دو دو ملکوں کی شہریت ان کے پاس ہے کہ اب کے کوئی سقوط ہوگا تو وہ اپنے نئے اختیاری ملک میں چلے جائیں۔ جن کی چھت اب بھی ٹپکتی ہے۔ جو اب بھی کرائے کی کھولیوں میں رہتے ہیں۔ وہ اب بھی اسی طرح پُرعزم ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ وہ اسی مملکت سے وفادار ہیں۔ اسی کو کینیڈا۔ امریکہ۔ دُبئی بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن فیصلہ کرنے والی طاقتیں ان کا ساتھ نہیں دیتیں۔
میں اتنا حساس ہوں۔ اتنا محسوس کرتا ہوں۔ خود کو اجتماعی زوال کا ذمّہ دار سمجھتا ہوں۔ ہمارے حکمران ہمارے رہنما ایسا کیوں نہیں سمجھتے۔ کتنے الیکشن ہوچکے۔ کتنی انتخابی مہمیں چل چکیں۔ ہمارا روپیہ نیچے ہی جارہا ہے۔ ووٹ لینے والوں کے گھر بڑے ہورہے ہیں۔ ووٹ دینے والوں کے چھوٹے ہورہے ہیں۔ یہ آس پاس کے بنگلوں کو بھی اپنی ملکیت میں لے رہے ہیں۔ اب یہ کوٹھیوں میں نہیں اسٹیٹ میں رہتے ہیں۔ الیکشن ان کے لئے فصل پکنے۔ گندم کی کٹائی کے مترادف ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ نئے گھر۔ نئی گاڑیاں۔ نئی بیویاں ہوتی ہیں۔ ایک الیکشن اور آرہا ہے۔ ایک اور فصل کٹے گی اور نئی گاڑیاں اور نئے بنگلے۔
میں نہ جانے یہ ٹھیک سوچتا ہوں یا غلط کہ اب جہاں پاکستان ہے۔ یہاں پاکستان کی تحریک چلی ہی نہیں تھی۔ ان علاقوں میں زیادہ زور سے چلی۔ جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ موجودہ پاکستان کے علاقوں کو یہ نعمت قربانیوں کے بغیر مل گئی یا ان پر مسلط کی گئی۔ بہرحال یہ پاکستانیت کے عشق میں مبتلا نہیں تھے۔ یہاں اس طرح جلوس نہیں نکلتے تھے۔ یہاں یہ نعرے اس شدّت سے نہیں لگتے تھے۔
بٹ کے رہے گا ہندوستان
بن کے رہے گا پاکستان
اس کے بعد یہ ہونا چاہئے تھا کہ پاکستان بنانے والے پنجاب۔ سندھ۔ سرحد۔ بلوچستان۔ فاٹا میں اپنے ان میزبانوں کی قدر کرتے۔ ان کی مشکلات سمجھتے۔ انہیں پاکستان کے اپنانے میں کردار ادا کرتے۔ لیکن ہم نے ان کے بزرگوں کو سرحدی گاندھی۔ سندھی گاندھی اور بلوچی گاندھی کے ناموں سے نوازا۔ ان کو قریب لانے کی بجائے دُور کرتے رہے۔ان کی حب الوطنی پر شک کرتے رہے۔
اب بھی پاکستان کے نام سے ساری سرگرمیاں اسلام آباد اور آس پاس ہوتی ہیں۔ کرکٹ میچ موبائل فون اور ٹی وی چینلوں کے علاوہ پاکستان کے سارے حصّوں میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ کوئی ایسا قومی لیڈر نہیں ہے جس کے دل کے ساتھ پنجاب۔ سندھ۔ بلوچستان۔ کے پی کے۔ آزاد کشمیر۔ گلگت۔ فاٹا کے دل بھی دھڑکتے ہوں۔ کوئی سیاسی پارٹی ایسی نہیں ہے جو سب علاقوں میں یکساں مقبول ہو۔ اب کیا کرنا چاہیے۔ تحریکِ پاکستان پھر سے چلنی چاہئے۔
ہمیں دل اور دماغ جیتنے چاہئیں۔ ایک دوسرے کے علاقوں میں طلبہ و طالبات کے قافلے جائیں۔ ادیب۔ شاعر آپس میں ملیں۔ ایک دوسرے کا درد بانٹیں۔ اب تو بہترین موٹروے بن گئے ہیں۔ فاصلے سمٹ گئے ہیں۔ عام پاکستانی ہی قربتیں بانٹ سکتے ہیں۔ یہ چند حکمراں گھرانے تو دوریاں ہی پیدا کرسکتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔

یہ دودھ نہیں ہے

جسٹس میاں ثاقب نثار ایک متحرک چیف جسٹس ثابت ہوئے ہیں جو عدالتی نظام کو بہتر بنانے کیساتھ ساتھ عوامی مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرانے کیلئے سر گرم ہیں۔ہفتے کے روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ڈبے میں مضر صحت دودھ فروخت کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران کراچی اور حیدر آباد میں فروخت ہونے والے ڈبے کے دودھ کے لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی ۔ جس کا دو ہفتے قبل از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے حکم دیا تھا۔پیش کی گئی رپورٹ میں چار کمپنیوں کے دودھ میں کیمیکل استعمال کئے جانے کا انکشاف ہوا۔اس رپورٹ کی روشنی میں اِن چار کمپنیوں کے ڈبے کے دودھ پر فروخت پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ ایک کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔بنچ نے ٹی وائٹنر بنانے والی کمپنیوں کو ڈبے پر ’’یہ دودھ نہیں ہے‘‘ واضح طور پر تحریر کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔سماعت کے دوران ڈبے کا دودھ بنانے والی کمپنیوں کے وکلاء نے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ عوام کو غیر معیاری دودھ فروخت کر کے عوام کے پیسے اور صحت کی بربادی کے مر تکب ہو رہے ہیں۔چیف جسٹس کا جعلی دودھ بنانے والے مافیا کے خلاف اقدام لائق تحسین ہے ، مگر ملاوٹ کا یہ سلسلہ محض چند شہروں تک ہی محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے۔جنوری 2016ء میں بھی دس کمپنیوں کے ڈبا دودھ کی فروخت پر ناقص اور غیر معیاری ہونے کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی تھی ، مگر وہ کمپنیاں آج بھی عوام کو زہریلا دودھ فروخت کر رہی ہیں۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ وقتی پابندیوں کے بجائے تمام صوبوں میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فوڈ اتھارٹیاں قائم کی جائیں، جو ایسے ملاوٹی مافیا کا ملک بھر سے قلع قمع کر سکیں۔

سوال در سوال

یہ ہمارا قومی رویہ اور مزاج ہے یا گورننس کا پرابلم کہ جب تک میڈیا کسی سنگدلانہ اور ظالمانہ واقعے کو نہ اٹھائے ہماری حکومتیں تساہل سے کام لیتی اور’’مٹی پائو‘‘ حکمت عملی اپنائے رکھتی ہیں۔ جب تک آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ پیش نہ آیا ہمارے حکمران یہ فیصلہ ہی نہ کرسکے کہ دہشت گردوں کے خلاف جہادی کارروائی کرنی بھی ہے یا نہیں۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں معصوم بچوں کا خون بہا تو ساری قوم آنسوئوں میںڈوب گئی۔ میڈیا نے اس سانحہ کو قوم تک پہنچایا تو ہمارے حکمران ایک دم بیدار ہوئے حالانکہ اس سے قبل دہشت گردی کے واقعات ملک بھر میں تواتر سے ہوں رہے تھے۔ یہی رویہ قصور میں بھی دیکھا گیا۔ بلاشبہ میاں شہباز شریف متحرک وزیر اعلیٰ ہیں اور خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں پھر انہیں اس خدمت کو پبلسٹی کے پہاڑ پر بٹھانا بھی آتا ہے اور اس سے سیاسی فائدہ کشید کرنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں بہرحال اپوزیشن لیڈر کا یہ بیان قابل توجہ ہے کہ قصور کے ڈھائی سو بچے اور 12بچیاں پنجاب حکومت کے دامن پر داغ ہیں اور یہ کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس تالیاں بجانے کا موقع ہرگز نہیں تھی۔ اسی طرح دوسری بچی عائشہ جو زینب کی مانند درندگی اور ز یادتی کا نشانہ بنی، اس کے والد کا بیان بھی ہما ری انتظامیہ کے عمومی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمیں ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ ایک برس بعد چند روز قبل موصول ہوئی۔ ہمیں مطمئن کیا جائے کہ عمران ہی ہماری بچی کا قاتل ہے۔ یہ سوال اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ قصور میں بچیوں سے زیادتی اور قتل کے پا نچ مجرمان کو پولیس مقابلے میں مارا جاچکا ہے۔ اب کہا جارہا ہے کہ عمران سیریل قاتل ہے اور آٹھ بچیوں کے قتل کا اعتراف کرچکا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں میں حسب معمول کچھ بے گناہ اور معصوم بھی تھے کیونکہ ایک اخبار کی تحقیقی خبر کے مطابق زینب کیس میں گرفتار کئے گئے تیرہ ملزمان عمران کی گرفتاری سے قبل ہی اعتراف جرم کرچکے تھے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہماری پولیس ا عتراف کروانے کی ماہر ہے اور پولیس مقابلوں میں معصوم لوگوں کو بھی مارنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی، اگرچہ ڈی این اے ٹیسٹ سائنسی طریقہ ہے اور اس میں شبے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے لیکن کئی وجوہ کی بنا پر اس ٹیسٹ کے حوالے سے بھی اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ ان باتوں کے علاوہ معصوم زینب کے والد حاجی امین انصاری صاحب کا بیان بھی قابل توجہ ہے کہ پریس کانفرنس میں انہیں بات مکمل نہ کرنے دی گئی اور مائیک بند کردیا گیا۔ کیا خادم اعلیٰ اس ’’خدمت ‘‘ کی وضاحت کریں گے؟
شواہد کی روشنی میں عمران کا پکڑا جانا بہرحال ایک کارنامہ ہے جس کے لئے وہ تمام ادارے اور اہلکار شاباش کے مستحق ہیں جو اس سانحے کی تفتیش میں شریک تھے۔ میاں شہباز شریف کا بیان کہ زینب کے قتل کی خبر سن کر وہ تین راتیں سو نہ سکے ان کی انسانی ہمدردی اور قوم کے دکھ کی ترجمانی کرتا ہے لیکن ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے مجھے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ قصور گزشتہ دو سالوں سے اسی طرح کی خبروں کا گڑھ بنا ہوا تھا، کوئی دو سو بچوں سے زیادتی اور ان کی ویڈیوز بننے کی خبریں اخبارات میں چھپی رہیں، بچیوں سے زیادتی اور قتل و غارت کی خبریں لوگوں کو خون کے آنسو رلاتی رہیں، ایک بچی کائنات کو زیادتی اور درندگی کے بعد یوں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا کہ وہ اب تک زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے اور اگر رضائے الٰہی سے زندہ بچ بھی گئی تو ذہنی حادثہ عمر بھر کا رونا ہوگا اس طرح کے بے شمار رلانے والے اور قلب و جگر کو لہو کرنے والے واقعات ہوئے لیکن نہ خادم اعلیٰ کی نیند ڈسٹرب ہوئی اور نہ ہی انتظامیہ میں کوئی غیر معمولی حرکت دیکھی گئی، حتیٰ کہ میڈیا نے بھی ظلم کی ان داستانوں پر فوکس نہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سینکڑوں بچے بچیاں ظلم کا نشانہ بنے مگر کوئی مؤثر کارروائی نہ ہوئی۔ عائشہ کے والد کے بقول ایک تو ان کی معصوم بچی درندگی کا نشانہ بن کر دنیا سے رخصت ہوگئی اور دوسری طرف پولیس ہمیں خاموش کرانے کے لئے دبائو ڈالتی رہی۔ اسی تناظر میں اس شبےکا اظہار کیا جاتا ہے کہ کچھ معصوم لوگوں کے پولیس مقابلے میں مارے جانے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا، اگر یہ بات درست ہے تو روز قیامت اس قتل کا حساب اور جواب کون دے گا؟
معصوم اور مسکراتی بچی زنیب کی تصویر ہر لمحے رلاتی ہے۔ عمرے سے واپسی پر زینب کے والدین کی فریاد کہ آرمی چیف اور چیف جسٹس ہمیں انصاف دلائیں بذات خود ہمارے حکمرانوں کی گورننس کا راز فاش کرنے کے لئے کافی ہے، اگر میڈیا اس المیے کو نہ ابھارتا تو پولیس نے اپنے وہی روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنے تھے۔ میڈیا نے حکمرانوں کو مجبور کیا کہ وہ مجرم کی تلاش کے لئے آرمی انٹیلی جنس، وفاقی انٹیلی جنس بیورو، آئی ایس آئی وغیرہ جیسے خفیہ اداروں کے علاوہ ڈی این اے ٹیسٹ کا وسیع جال پھیلائیں اور پولیس کو متحرک کرنے کے لئے آئی جی پولیس اور دوسرے اہم انتظامی عہدیدار قصور میں ڈیرے ڈالیں۔ اس تفتیشی جال نے بالآخر دو ہفتے کے اندر مجرم پکڑلیا۔ ان کے علاوہ اس واردات کا نوٹس عدلیہ نے بھی لے رکھا تھا، چنانچہ عملی طور پر یہ دو ہفتے ساری حکومت پنجاب اس واردات کے تانے بانے ادھیڑنے اور مجرم تک پہنچنے کے لئے کام کرتی رہی۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے میں سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے خادم اعلیٰ کی نیند دو سال قبل ڈسٹرب ہوئی ہوتی جب ایک دو بچیوں سے زیادتی اور قتل کی خبریں شائع ہوئی تھیں جب قصور میں بچوں سے مسلسل زیادتی اور ان کی ویڈیوز کی خبریں منظر عام پر آئیں تھیں تو شاید اس کے بعد قتل ہونے والی کوئی دو درجن بچیاں اس درندگی سے بچ جاتیں۔ معصوم بچیوں سے زیادتی اور قتل کے سنگدلانہ جرائم میں یہی چند ایک مجرمان ملوث تھے جنہیں اگر پہلی دوسری واردات کے بعد پکڑ لیا جاتا تو یہ سلسلہ ختم ہوجاتا اور مجرمان کی حوصلہ افزائی نہ ہوتی۔ ذاتی طور پر میرا مشاہدہ اور تجربہ بتاتا ہے کہ جرم سے دو ہی باتیں روکتی ہیں 1خوف خدا،2قانون کی گرفت کا خوف ۔ جن ممالک میں ایسے جرائم کی شرح کم ہے وہاں یہ کریڈٹ پولیس کی کارکردگی اور بہتر نظام کو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں خوف خدا بھی زوال پذیر ہے اور انتظامیہ کی صلاحیت بھی مذاق بن چکی ہے۔خوف خدا کا یہ حال ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک جھوٹ، فراڈ، لوٹ کھسوٹ، ملاوٹ، منافع خوری، لاقانونیت وغیرہ کی حکمرانی ہے۔ اخبارات بچوں سے زیادتی، اغوا اور بچیوں سے درندگی کی خبروں سے لہولہان نظر آتے ہیں اور عدم تحفظ پھیلاتے ہیں۔ یہ صورتحال حکمرانوں کی گورننس اور تساہل کے رویے کا راز فاش کرتی ہے۔ میں ہر روز بےشمار جرائم ، درندگی اور قتل و غارت کی خبریں پڑھ کر سوچتا ہوں کہ کیا ایسے معاشرے پر اللہ پاک کی رحمتیں نازل ہوسکتیں ہیں؟ مجھے تو قوم چھوٹے سے عذاب میں مبتلا لگتی ہے جو ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ کیا یہ اجتماعی معافی مانگنے کا وقت تو نہیں، کیا اصلاح احوال کے بغیر اجتماعی معافی قبول ہوسکتی ہے؟