Latest Posts

ختم نبوت کا تحفظ

 

ستر سال مسلسل ختم نبوت کا تحفظ کر کر کے آج پاکستانی قوم دنیا کی بہترین اور ترقی یافتہ قوم بن چکی ھے ۔ ۔ ایمانداری ۔ نیکی ۔ تقویٰ اور پاکیزگی کا یہ عالم ھے کہ کوئی ایک بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ھوتا ۔ اتنا زیادہ تحفظ ختم نبوت کا کِسی مسلمان ملک نے نہیں کِیا ۔ ۔ آج قوم کے افراد قوم کو کتے اور گدھے کا گوشت کھلاتے ھیں ۔ قبروں سے مردہ خواتین کی لاشیں نکال کر ان کے ساتھ زنا کِیا جاتا ھے ۔ مولوی پانچ پانچ چھ چھ سال کے لڑکوں کے ساتھ مساجد کے اندر بدفعلیاں کر کے گلے گھونٹ کر قتل کر رھے ھیں ۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں ریب کر کے قتل کی جا رھی ھیں ۔ خواتین سڑکوں پر بچے جنتی ھیں ۔ ھسپتالوں میں بچے پیدا ھوتے ھی اغواء ھو جاتے ھیں یا چُوھے ان کو کھاتے ھیں ۔ حج میں کروڑوں کی کرپشن کی جاتی ھے ۔ ڈاکٹرز جعلی ۔ دوائیاں بھی جعلی ۔ پِیر بھی جعلی ۔ فقیر بھی جعلی ۔ بارہ بارہ سال کی بچیاں اسلحے کے زور پر گھروں سے اُٹھوا کر ریب کِیے جاتے ھیں ۔ سیاسی رھنما سارا ملک لُوٹ کر کھا گئے ھیں ۔ علماء شراب پیتے ھیں ۔ کار کی ڈگی بھری پکڑی جاتی ھے ۔ انتہا پسندی ۔ تنگ نظری ۔ دھشت گردی ۔ قتل و غارت ۔ شراب ۔ جُوا ۔ زنا ۔ عریانی ۔ بے حیائی ۔ شادی پر طوائفوں کے ڈانس اور ان پر نوٹوں کی بارش ۔ کچھ بھی غیر اسلامی نہیں ۔ کچھ بھی غیر اسلامی نہیں ۔ سب حلال ھے ۔ صرف تحفظ ختم نبوت کا عقیدہ رکھو تو سب حلال ھے ۔ دینی مدرسوں میں طلباء کے ساتھ جتنی چاھو بدفعلیاں کرو ۔ گلے گھونٹ کر قتل بھی کرو ۔ ختم نبوت کا عقیدہ رکھو تو سب جائز ھے ۔ ۔ پندرہ من اعلیٰ کوالٹی کی ھیروئن پکڑی گئی ۔ آٹھ سو بوتل شراب برآمد ۔ ۔ ایک ھی خاندان کے آٹھ افراد کو قتل کر دیا گیا ۔ ۔ کوئی بات نہیں ۔ عقیدہ ختم نبوت ھے تو بس ٹھیک ھے ۔ دوسروں کے حق مارو ۔ چوریاں کرو ۔ ڈاکے مارو ۔ تشدد کرو ۔ عورتوں کے جِن نکالو اور زنا کرو جو چاھے کرو بس عقیدہ ختم نبوت کا رکھو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترسو ۔ بجلی اور گیس کو ترسو ۔ عدل و انصاف کے لئے ترستے رھو ۔ ۔ بس عقیدہ ختم نبوت کا رکھو دنیا کی سب سے بہترین اور ترقی یافتہ قوم بن جاؤ گے ۔ لہٰذا آج ستر سالوں کی محنت اور تحفظ کر کر کے ختم نبوت کا قوم دنیا کی بہترین ترقی یافتہ قوم بن چکی ھے ۔ کوئی ملک مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ سچا اسلام ۔ سچائی ۔ ایمان ۔ امن ۔ سلامتی ۔ عدل و انصاف ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ۔ تقویٰ ۔ اعلیٰ کردار ۔ اعلیٰ اخلاق ۔ کوئی اور قوم ایسی شاندار نہیں دنیا میں ۔ واہ جی واہ ۔ یوں جیسے نعوذ باللہ محبوبِ خدا، وجہِ تخلیقِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس تقدس اور مقام اِن بد زبان، غلیظ دہن اور مفسد ملاؤں کا مرہونِ منت ہے۔ گویا خدا تعالی کا کام ان مشرکوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

ایدھی اور قندیل بلوچ، فرق کہاں ہے؟

بظاہر دو متضاد شخصیات۔۔۔ایک نے فقیرانہ زندگی گزاری ، دکھ درد بانٹے اور شاہوں کی طرح دفنایا گیا۔ دوسری جیتے جی بدکار ٹھہری اور مر کر بھی ملعون قرار پائی۔ایک کو پاکستان کے ہر فرد نے بے انتہا چاہا، سراہا ، اپنی استعطاعت کے مطابق نوازااور ملکی تاریخ کی واحد غیر متنازع شخصیت کے طور پر یاد رکھا ۔ دوسری کا مذاق بنایا، دھتکارا، لعن طعن کی اور متنازع کردار کے طور پر جگ ہنسائی کا سبب سمجھا ۔ایک کی موت پر ہر آنکھ اشکبار، ہر دل سوگوار، دوسری کی موت پرخس کم جہاں پاک۔ تاہم دونوں میں کم از کم دو چیزیں مشترک ہیں۔

اول، دونوں نے سماج کی غلاظتوں کو سمیٹا، ان زخموں پر مرحم رکھاجو نہ ان کے تھے اور نہ انہوں نے لگائے۔ دوم، دونوں ریاست کی ناکامی اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ ایدھی نے ان بچوں کو اپنا نام دیا جن کو ریاست اور معاشرے نے اپنانے سے انکار کر دیا۔ ان عورتوں کوچھت اور عزت دی جنہیں سب نے آسرا دینے سے انکار کر دیا۔ ان مظلوموں کو مان دیا جنہیں عقائد اورصوبائیت نے نشانہ بنایا۔ ان لاشوں کو کفن دیا جن کی کوئی پہچان نہ تھی۔ مرنے کے بعد بھی ان کو بینائی دی جو صرف خواب دیکھتے تھے۔ قندیل بلوچ کا سفر سوشل میڈیا نہیں بلکہ 17سالہ فوزیہ عظیم سے شروع ہوا ۔ وہ بیاہی گئی، ماں بنی، طلاق لی اور گمنامی، مجبوری، غربت اور شرمساری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی۔ اس کے غیرت مند بھائی، با شعار رشتہ داروں ، مذہبی معاشرے اور با اخلاق ریاست میں سے کسی نے اس کا سہارا بننے یا اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ فوزیہ نے قندیل بلوچ بن کر معاشرے کی صرف اس حس کو جگایا جو عورت کا جسم دیکھ کر قوت پکڑتی ہے۔ اس نے اپنا جسم پیش کر کے کسی کو شرم نہیں دلائی البتہ شہوت کا سامان ضرور مہیا کیا۔ اخلاق کے بالائی زینوں پر کھڑا یہ معاشرہ فوزیہ عظیم کے قندیل بلوچ بننے تک کہاں تھا؟یہ لوگوں کی یاد میں شمعیں تبھی کیوں جلاتا ہے جب قندیل بجھ جاتی ہے؟

ایدھی کی موت پر کچھ ‘علماء حق ‘ نے یہ کہہ کر نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا کہ وہ ملحد ہیں، کافروں اور حرامیوں کو اپنا نام دیتے رہے۔ انہیں میں سے ایک نے کہا کہ لوگ قندیل بلوچ کی موت سے عبرت حاصل کریں کہ ‘علماء دین ‘ کو بدنام کرنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔

بظاہر دو متضاد شخصیات، مگر ان کے وجود کا ذمہ دار ایک ہے۔ دونوں نے ان ‘غلاظتوں’ کو خود سے منسوب کیا جس کی ذمہ دار ریاست ہے۔ ریاست جو ماں سی ہوتی ہے، ریاست جو اپنے ہر فرد کی بہتر زندگی کی ذمہ دار ہے، ریاست جو فوزیہ عظیم کے لئے عبدالستار ایدھی ہے۔

ریاست ایسے معاشروں کی تشکیل کرتی ہے جہاں عبدالستار ایدھی اور قندیل بلوچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم معاشرتی بے حسی پر آہ و بکا سے پہلے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے ہاں مضبوط ریاستی بیانئے نے ایسے معاشرے کی تشکیل کی ہے جہاں ایدھی پیدا ہوتے رہیں اور قندیل بنتی رہیں گی۔

پنجاب کا چُورن بیچنے کا طریقہ

یارے بچو! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پنجاب والے ہمیشہ دوسرے صوبوں کا حق غصب کرتے ہیں، چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں، وسائل پر قابض ہیں، نوکریاں میں بھی پنجابیوں کا حصہ زیادہ ہے، کلیدی عہدوں پر بھی پنجابی ہی تعینات ہیں، قومی اسمبلی میں بھی انہی کی اجارہ داری ہے، مقتدر اداروں میں بھی انہی کا سکہ چلتا ہے اور نہ جانے ان کے پاس کون سی چمک ہے جو آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔

دوسری طرف چھوٹے صوبے ہیں جو مظلومیت کی تصویر ہیں، ملک کی کمائی کا ذریعہ ہیں مگر اِن پر خرچ کچھ نہیں ہوتا، معدنی وسائل سے مالا مال ہیں مگر غربت میں سب سے نیچے ہیں، اہم امور مملکت میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، قومی اسمبلی میں اِن کی اوقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تینوں صوبے مل کر بھی پنجاب کو نہیں پچھاڑ سکتے اور ریاست کے دیگر معاملات میں بھی اِن کے ساتھ ایسے ہی زیادتی ہوتی ہے۔ آئیں اب اِن باتوں کو چند مثالو ں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پیارے بچو! سب سے پہلے تو یہ ذہن میں رکھیں کہ پنجاب کو گالی دینا ایک فیشن ہے سو اگر آپ کے نلکے میں پانی نہیں آ رہا، آپ کے شہر میں لوڈ شیڈنگ ہے، گلیوں میں کوڑے کے ڈھیر ہیں، آپ کو نوکری نہیں ملتی، کاروبار مندا ہے، بیوی میکے چلی گئی ہے یا ویسے ہی آپ کا موڈ خراب ہے اور آپ کسی پر اپنا غصہ نکالنا چاہتے ہیں تو بلا کھٹکے پنجاب کو دو چار صلواتیں سنا دیں، خدا نے چاہا تو آپ کی شعلہ بیانی کو میڈیا کوریج دیگا، حب الوطنی پر شک بھی نہیں اٹھے گا، اپنے صوبے میں داد بھی ملے گی اور ہو سکتا ہے کہ آپ کو چھوٹا موٹا لیڈر نامزد کر دیا جائے۔

یاد رکھیں کہ گالی دیتے ہوئے یا الزام دھرتے وقت یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ حقائق کیا ہیں۔ مثلاً، کیا کسی کو یاد ہے کہ چار سال پہلے لاہور شہر میں ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کیلئے لوڈ شیڈنگ ہوا کرتی تھی حالانکہ اس شہر سے بجلی کے بل کی وصولی کی شرح 97%تھی جبکہ اسکے مقابلے میں فاٹا میں بل کی وصولی جتنی تھی وہ یہاں لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔

یہ بات سنتے سنتے کان پک گئے کہ کراچی سے ملک کا ستّر فیصد ریونیو آتا ہے مگر چونکہ کسی نے آج تک اِس ضمن میں کوئی سرکاری کاغذ بطور ثبوت کے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لئے میں آج یہ دعوی کر رہا ہوں کہ ملک کا نوّے فیصد ریونیو تحصیل پتوکی سے آتا ہے، ایسے ہے تو ایسے ہی سہی

ادھر کراچی میں بھی لوڈشیڈنگ کا یہی حال تھا، لاہور کے مقابلے میں ایک چوتھائی سے بھی کم لوڈشیڈنگ ہوا کرتی تھی اور جتنا وقت بجلی آتی تھی وہ ہمارے کراچی کے بھائیوں کیلئے مفت تھی، تھینکس ٹو کنڈا سسٹم۔ اور بھائی سے یاد آیا ایک بھائی صاحب ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے پورے ملک کے میڈیا کو ہائی جیک کیا ہوا تھا، اگر وہ پنجابی ہوتے تو بھلا بتایئے پنجاب کے حصے کی گالیوں میں کتنے گنا اضافہ ہوتا!

پیارے بچو، یہ حقائق لکھنے کے ہیں نہ بتانے کے، یہ باتیں صرف اپنے تک رکھنی ہیں۔ یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ایک سازش کے تحت حالیہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کم کردیا گیا ہے تاکہ شہر کو اُس کے حق سے محروم کیا جاسکے۔

غضب خدا کا جس شہر کی آبادی بچہ بچہ جانتا ہے کہ تین کروڑ سے زیادہ ہوگی، اُس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ بھی نہ نکلی اور لاہور کی آبادی سوا کروڑ تک پہنچ گئی۔خبردار بچو، تمہیں ایسے گمراہ کُن پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں جس میں اعداد و شمار کی مدد سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ 1981میں کراچی کی آبادی 53لاکھ تھی، ساڑھے تین فیصد کی شرح سے بڑھنے کے بعد یہ آبادی 1998میں 93لاکھ ہو گئی، حالیہ مردم شماری میں آبادی بڑھنے کی شرح اڑھائی فیصد بتائی گئی ہے۔

اگر یہ شرح درست نہیں اور آبادی اسی ساڑھے تین فیصد کی شرح سے ہی بڑھتی تو اُس صورت میں بھی کراچی کی آبادی پونے دو کروڑ سے اوپر نہ جاتی جبکہ ہمارا دعویٰ کم ازکم تین کروڑ کا ہے اور تین کروڑ آبادی حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ کراچی کی آبادی سوا چھ فیصد کی شرح سے بڑھتی جو نا ممکن ہے اور اگر ایسا ہوا ہے تو اِس کا مطلب کہ ہر چھ میں سے دو یا تین افراد کو گنا ہی نہیں گیا جو مضحکہ خیز بات ہے۔

ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی کے بعض دیہی علاقوں کی آبادی کراچی میں شامل ہی نہیں کی گئی لیکن اگر اِس آبادی کو بھی ملا لیا جائے تو کل گیارہ لاکھ کا اضافہ بنتا ہے اور رونے کا مقام یہ ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں کی حد بندی کرنا خود صوبائی حکومت کا کام تھا ’’پنجابی وفاق‘‘ کا اِس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

چار سال پہلے لاہور شہر میں ہر ایک گھنٹے کے بعد ایک گھنٹے کیلئے لوڈ شیڈنگ ہوا کرتی تھی حالانکہ اس شہر سے بجلی کے بل کی وصولی کی شرح 97%تھی جبکہ اسکے مقابلے میں فاٹا میں بل کی وصولی جتنی تھی وہ یہاں لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے

مگر پیارے بچو، جیسا کہ میں نے کہا کہ ان نام نہاد حقائق پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں، زور صرف اِس بات پر دو کہ کراچی کی آبادی کو ایک سازش کے تحت کم کیا گیا ہے اور ہاں یہ بات بھی نظر انداز کر دو کہ حالیہ مردم شماری کے نتیجے میں پنجاب کی قومی اسمبلی کی نو نشستیں کم ہوئی ہیں اور باقی چھوٹے صوبوں کی بڑھی ہیں، یہ بات بھی پی جاؤ کہ اس مردم شماری میں سندھ کا حصہ کم نہیں ہوا اور کے پی اور بلوچستان کا بڑھا ہے جبکہ پنجاب واحد صوبہ ہے جس کا حصہ 56سے کم ہو کر 53فیصد رہ گیا ہے،تشہیر صرف اس بات کی کرو کہ پنجاب آبادی کی بنیاد پر ہمیشہ حکومت بنا لیتا ہے۔

اس بات کو چھوڑو کہ دنیا بھر میں وفاق کی اکائیوں کی نمائندگی کا یہی طریقہ ہے کہ ایک ایوان آبادی کی بنیاد پر اور دوسرا ایوان رقبے کی بنیاد پر عوام کی نمائندگی کرتا ہے، تم صرف یہ سبق یاد کرو کہ مقتدر حلقے ہمیشہ پنجاب سے ہوتے ہیں اس لئے بالادستی پنجاب کی ہے، یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں کہ ماضی کے چار آمروں میں سے تین غیر پنجابی تھے اور اُن میں سے ایک نے تو کراچی کیساتھ اپنی محبت کا ثبوت 12مئی کو دیا تھا جو آج بھی سب کو یاد ہے۔

پیارے بچو ! یہ سبق یاد رکھو کہ پنجاب نے چھوٹے صوبوں کا استحصال کیا ہے، یہ بھول جاؤ کہ پنجاب کے حکمرانوں کی بھی چھٹی کروائی گئی ہے اور چھٹی کروانے والے غیر پنجابی تھے، یہ بات رٹ لو کہ کلیدی اسامیوں پر پنجاب قابض ہے اور یہ بھول جاؤ کہ سی ایس ایس اور تمام وفاقی ملازمتوں میں کوٹے کی وجہ سے پنجابی طلبہ پر چھوٹے صوبوں کے طلبہ کو فوقیت دی جاتی ہے، یہ بات بھی کہتے رہنے میں کوئی حرج نہیں کہ پنجاب نے ہمیشہ استعمار کا ساتھ دیا ہے تاہم یہ بات نظرانداز کر جاؤ کہ ہر مزاحمتی جماعت اور تحریک لاہور سے ہی اٹھی ہے۔ بلوچوں پر ظلم بھی پنجاب کے کھاتے میں ڈالو قطع نظر اس حقیقت کے کہ اس ظلم کیخلاف سب سے موثر آواز اٹھانے والا ایک پنجابی اور لاہوری صحافی ہے۔

سبق:پیارے بچو! اس باب میں ہم نے یہ سبق سیکھا کہ اگر ہم ایسے ہی حقائق سے نظریں چراتے ہوئے آنکھوں پر تعصب کی عینک چڑھا کر اپنا اپنا چُورن بیچیں گے تو پھر بات یہاں تک آن پہنچے گی کہ پشاور میں دھماکہ پشتون ہلاک، لاہور میں دھماکہ پنجابی ہلاک، حالانکہ خون کسی پشتون، سندھی، بلوچی یا پنجابی کا نہیں بلکہ پاکستانی کا بہتا ہے اور غریب چاہے راجن پور کا ہو یا پنجگور کا، سب کا دکھ سانجھا ہے۔

لیکن ان تمام باتوں کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ پنجاب نے چھوٹے صوبوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی، استحصال ہوا ہے،جس کے خلاف مزاحمت بھی کی جانی چاہئے مگر غلط حقائق سے اپنا مقدمہ کمزور کرنے کی بجائے پنجاب کی استحصالی اشرافیہ کی ایسی نا انصافیوں کا پردہ چاک کرنا چاہئے جس کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

کالم کی دُم: یہ بات سنتے سنتے کان پک گئے کہ کراچی سے ملک کا ستّر فیصد ریونیو آتا ہے مگر چونکہ کسی نے آج تک اِس ضمن میں کوئی سرکاری کاغذ بطور ثبوت کے پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اس لئے میں آج یہ دعوی کر رہا ہوں کہ ملک کا نوّے فیصد ریونیو تحصیل پتوکی سے آتا ہے، ایسے ہے تو ایسے ہی سہی۔

نوٹ: مردم شماری سے متعلق اعداد و شمار جواں سال لکھاری حسان خاور کے حالیہ شائع شدہ مضمون سے لئے گئے ہیں۔

آکاش وانی پھر یاد آگئی

” جھوٹ بولنی ایں جھوٹئے آکاش وانئے۔۔۔ کدی سچ وی تے بول اڈ پڈ جانئے‘‘ آج کی نسل یا وہ خواتین و حضرات جو جنگ ستمبر65ء کے وقت بچے تھے یا بعد میں پید اہوئے ہیں‘ ان کوآکاش وانی کا نام بہت ہی عجیب سا لگا ہو گا لیکن جن لوگوں نے اس کے زہریلے سُروں کو اپنے کانوں اور دماغ کے گوشوں پر سہا ہوا ہے وہ اس کی خصلت اور پاکستان دشمنی کو سب سے بہتر جانتے اور محسوس کر سکتے ہیں۔آج کل نہ جانے کیوں گئے وقتوں کا یہ مشہور ومعروف فقرہ یا شعر جو تلقین شاہ کی شکل میں مرحوم اشفاق احمد اور نظام دین کی شکل میں مرحوم سلطان کھوسٹ بھارتی جھوٹ اور پروپیگنڈے کا توڑ کرتے ہوئے اس طرح بولا کرتے تھے کہ یہ فقرہ زبان زد عام ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک یہ ہماری عمر کے لوگوں کے ذہنوں سے چپکا ہوا ہے۔ بھارت کے نشریاتی اداروں کے جھوٹوں کا جواب دینے کیلئے ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہونے والے اپنے پروگراموں میں آل انڈیا ریڈیو کی آکاش وانی کی درگت بناتے ہوئے اس کو مخاطب کرتے ہوئے یہ شعر بہت سے پروگراموں کے میزبان بھی بولا کرتے تھے۔۔۔۔اور آج ایک بار پھر اپنوں اور بیگانوں کے ہاتھوں پاکستانی فوج کو تختہ مشق بنتے دیکھ کر آکاش وانی کا لفظ پھر سے یاد آنے لگاہے۔ 
آج جب ہم ٹی وی سکرینوں اور اخبارات کی شہ سرخیوں میں ستمبر65ء کی طرح اداروں کے خلاف آکا ش وانی سے ملتے جلتے بیانات اور اشارے دیکھتے ہیں تو چشم تصور مجھے فوراََ52 سال پیچھے لے جاتی ہے کہ اس وقت تو جنگ کے دوران آل ریڈیو جسے بھارتی انائونسر ”آ کاش وانی‘‘ کا نام دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے خلاف جھوٹی کہانیاں پھیلایا کرتا تھا تو آج وہ لوگ کون ہو سکتے ہیں ؟ان کا آل انڈیا ریڈیو یا آکاش وانی سے کیا تعلق ہو سکتا ہے کہ اس کی طرح ہر وقت حیلے بہانوں سے اشاروں کنایوں میں وہی قلمی اور زبانی حملے کئے جارہے ہیں۔ آج کی آکاش وانی نریندر مودی اور بپن راوت کی ہم زبان ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف پاکستان کی فوج کے خلاف کن مقاصد کیلئے نفرت پھیلا رہی ہے؟ وہ نریندر مودی کی ہم زبان ہو کر فاصلے کیوں پیدا کر رہی ہے؟۔
سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے آکاش وانی کے ہم زبان اور ہم خیال لوگوں کا سلسلہ نسب کیا ہے جن کے ہاتھوں اور زبان سے سپہ سالار کی تحقیر کی جا رہی ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ آکاش وانی ہر وقت پاکستان کی فوج کے خلاف زہر اگلے جاتی ہے؟۔ہماری نئی نسل اور اس وقت پچاس کے پیٹے کے لوگ جاننا چاہیں گے کہ انہیں پاکستان کی بد ترین دشمن آکاش وانی کے پس منظر سے آگاہ کیا جائے؟۔ ”جھوٹ بولنی ایں جھوٹئے آکاش وانئے‘‘ جنگ ستمبر کے دوران ریڈیو پاکستان سے دن میں کئی بار نشر ہونے والے اس مصرعے کے پس منظر کے بارے صرف وہی لوگ جان سکتے ہیں جو جنگ ستمبر1965 ء کے وقت کچھ شعور رکھتے تھے یا ان کا تعلق ریڈیو پاکستان اور صحافت کی دنیا سے رہا ہو۔جیسے ہی جنگ ستمبر شروع ہوئی تو بھارت کے ریڈیو اسٹیشن تو ایک طرف اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور انتہائی معتمد سمجھی جانے والی اردو سروس نے لاہور پر بھارتی فوج کے قبضے کی فلمیں دکھاتے ہوئے دنیا بھر میں خبریں دینا شروع کر دیں کہ لاہور پر بھارتی فوج کا قبضہ ہو چکا ہے۔۔۔اس وقت دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کی یہ خبر سنتے ہی جو حالت ہوئی اس کے بارے میں وہی جان سکتے ہیں‘ آج بھی اس اذیت سے گزرنے والا کوئی اوور سیز پاکستانی جب اس دن اور کیفیت کا ذکر کرتا ہے تو ایک لمحے کیلئے کانپ کر رہ جاتا ہے ۔
بات ہو رہی تھی بھارت کے نشریاتی اداروں کی جو چھ ستمبر کو پاک بھارت جنگ شروع ہوتے ہی ہر آدھے گھنٹے بعد خبریں نشر کیا کرتے تھے اور جب بھی یہ خبریں نشر کی جاتیں تو بھارت کا براڈ کاسٹر کہا کرتا تھا ” اب آپ آکاش وانی سے خبریں سنئے۔۔۔اور پھر وہ جھوٹ اور پراپیگنڈا کیا جاتا لگتا تھا کہ بھارت کی فوجیں شام تک آدھا پاکستان فتح کرنے کے بعد آگے کی جانب بڑھنا شروع ہو جائیں گی۔بھارت کی آکاش وانی نے یہ خبریں پھیلانا شروع کر دیں کہ کراچی شہر تو خالی ہو گیا ہے اور جو لوگ رہ گئے ہیں وہ بھارتی بحریہ کے جہازوں کے کراچی پہنچنے کے انتظار میں ہیں تاکہ ان کا استقبال کیا جا سکے؟۔ کبھی اسلحہ اور گولہ بارود ختم ہونے کی کہانی چلائی جاتی تو کبھی پوری کمپنی یا رجمنٹ کو بھارتی ہو ابازوں کے ہاتھوں اڑا دیئے جانے کی خبریں سنا نا شروع کر دیا۔ یہ بھارت کا ایسا زہریلا ہتھیار تھا جس نے چند دنوں تک پاکستانیوں سمیت فرنٹ پر لڑائی میں مصروف فوجیوں کے اعصاب کو بھی شل کر کے رکھ دیا۔
خود سوچئے کہ کوئی رجمنٹ یا کمپنی اگر لاہور کے محاذ پر مصروف جنگ ہے تو اسے جب سیالکوٹ یا قصور کے بارے میں یہ خبر سنائی دے کہ بھارتی فوج نے ادھر کا فلاں فلاں شہر اور قصبہ فتح کر لیا ہے اور پاکستان کے فوج کے فلاں فلاں بریگیڈ نے جس کی کمان فلاں بریگیڈیئر ، کرنل ا ور میجر کر رہے تھے انہوں نے بھارتی فوج کے فلاں افسر کے سامنے سفید جھنڈا لہراتے ہوئے ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو فرنٹ پر مورچوں میں بیٹھے ہوئے جوانوں پر کیا گزرتی ہو گی؟۔ذہن میں رکھئے جنگ سے پہلے ا ور جنگ کے دوران دشمن کے جاسوسوں کا سب سے اہم کام یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ ہر فرنٹ پر مصروف جنگ دشمن کی کمپنی، رجمنٹ یا بریگیڈ کے افسران کے نا موں سے مکمل با خبر ہوں، اس سے ایک تو ان کا افسران کے نا موں کے ساتھ ہتھیار ڈالنے والا یہ پراپیگنڈ مقصود ہوتا ہے تو دوسرا وہ ان افسران کے بارے میں معلومات لیتے ہیں کہ اس کا ٹمپرا منٹ کیا ہے؟جنگ میں یہ جلد باز ہے یا سوچ سمجھ کر حملہ کرتا ہے؟۔ اس کی اپنی یونٹ پر کمان کس قسم کی ہے؟ دلیر ہے یا بیوقوفی کی حد تک بہادر ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
آکاش وانی اور پاکستان کے دفاعی اداروں کا آج سے نہیں بلکہ شروع سے بیر رہا ہے۔ آکاش وانی کی ہر وقت کوشش رہی ہے کہ دنیا جہاں کا ہر الزام پاکستان کی فوج کے سر تھونپ دیا جائے، کبھی کبھی تو آکاش وانی اس حد سے بھی آگے بڑھتے ہوئے فوج کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو جاتی ہے ۔۔۔شائد آکاش وانی کو یہ یقین واثق ہو چلا ہے کہ جب تک پاکستان کی فوج کو یا ا س کے ڈھانچے کو کمزور نہ کر دیا جائے جب تک ان میں تفرقہ پیدا نہ کیا جا سکے۔۔۔ جب تک اس کے افسران کے بارے میں قسم قسم کی کہانیاں پھیلا تے ہوئے ان کے جوانوں کے ذہنوں میں نفرت کا بیج نہ بو دیا جائے اس کے جوانوں پر نفسیاتی وار کرتے ہوئے ان کے جذبے اور اعتماد کو متزلزل نہ کر دیا جائے…یہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس کے سامنے یک جا ہو کر کھڑے رہیں گے اور اس یکجہتی پر اس کی گھنائونی تمنائیں جرنیل اور سپاہی کے پیار اور اعتبار سے ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش ہوتی رہیں گی۔
آکاش وانی اچھی طرح جانتی ہے کہ اس کے وہ خواب جو وہ نہ جانے کب سے اپنے براڈ کاسٹر ز کے ساتھ بیٹھے دیکھے جا رہی ہے‘ آئندہ بھی یونہی چکنا چور ہو تے رہیں گے!! 

ہمارے لیے فرشتوں کا لشکر کیوں اُترے؟

پچھلے کچھ دنوں سے برما میں ہو نے والے مظالم کی خبریں تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔ ہم اس بات سے انکار بھی نہیں کرتے کہ دنیا کا امن اس وقت متاثر ہوتا ہے جب کسی معاشرے کے افراد اپنی جانوں کو دوسروں کے ہاتھوں خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ برما میں مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا جارہا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو موت دینے کا کوئی طریقہ ان ظالموں نے نہیں چھوڑا اور اس سب میں برما کی حکومت اور شدت پسند بدھ کو ملوث قرار دیا جارہا ہے۔ Read More

سعودی عرب میں خوش آئند اصلاحات

سعودی عرب میں اصلاحات کا جو عمل شروع ہوا ہے ، اس پر پوری دنیا خصوصاً عالم اسلام میں مباحثہ شروع ہو گیا ہے کیونکہ سعودی عرب کو دنیائے اسلام میں مرکزی حیثیت ہے ۔ یہ سرزمین نہ صرف مذہب اسلام کا منبع و ماخذ ہے بلکہ کعبہ شریف سمیت مسلمانوں کے اہم مقامات مقدسہ یہاں ہیں ۔ سعودی معاشرہ کیسا ہو ؟ اس حوالے سے مسلمانوں نے اپنے اپنے طور پر کچھ مثالی تصورات قائم کئے ہوئے ہیں ۔ اسلئے سعودی عرب میں جو بھی اصلاحات خصوصاً سماجی اور قانونی اصلاحات کے حوالے سے مسلم دنیا بہت حساس ہے ۔
سعودی عرب سے یہ بھی خبر ہے کہ شاہ سلمان نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کیخلاف بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ کرپشن کے الزام میں موجودہ اور سابق وزرا سمیت 10شہزادوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاریاں اینٹی کرپشن کمیٹی نے کی ہیں جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔ سعودی عرب نے نجی پروازوں پر بھی پابندیاں عائد کر دی ہیں تاکہ لوگ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔ کئی وزرا کو ان کے عہدوں سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ نئے سعودی عرب کی تعمیر کیلئے یہ اقدام بہت ضروری تھا۔ سعودی عرب کے علما کا بیان بھی آیا ہے کہ کرپشن سے لڑنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ کرپشن اتنا ہی بڑا قومی جرم ہے جتنا کہ دہشت گردی۔
حال ہی میں سعودی عرب کی حکومت نے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی ہے ۔ اسکے ساتھ ساتھ خواتین کو کھیل کے میدانوں میں بھی آنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ سعودی عرب کی نئی قیادت اس امر سے آگاہ ہے کہ مسلم دنیا سعودی عرب میں سماجی اصلاحات کے حوالے سے کس قدر حساس ہے لیکن سعودی قیادت کویہ چیلنج بھی درپیش ہے کہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں سعودی عرب کو مستقبل میں قائدانہ کردار کس طرح دلایا جائے ۔ سعودی عرب کے نئے ولی عہد محمد بن سلمان اگرچہ نوجوان ہیں لیکن انہوں نے بہت تھوڑے عرصے میں اپنے آپ کو ایک بڑے ’’ وژن ‘‘ والے لیڈر کے طور پر نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری دنیا میں منوالیا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو شہزادہ محمد بن سلمان کے خیالات کو ’’ لبرل ‘‘ کہنے پر اعتراض ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ نوجوان سعودی ولی عہد لبرل سوچ کے حامل ہیں اور انکے سعودی عرب کے مستقبل کے بارے میں وژن کو سعودی باشندوں خصوصاً نوجوانوں میں بھی مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور وہاں کے اہل دانش نے بھی انہیں سراہا ہے ۔ 33 سالہ شہزادہ محمد بن سلمان نے کچھ عرصہ قبل برطانوی اخبار ’’ گارجین ‘‘ کو جو انٹرویو دیا تھا ، وہ انتہائی فکر انگیز ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ گزشتہ تین دہائیوں میں سعودی عرب میں جن نظریات کی بالادستی رہی ، وہ 1979 ء کے ایران انقلاب کا ردعمل تھے ۔ گزشتہ 30سال میں جو کچھ سعودی عرب میں ہوا اور جو کچھ اس خطے میں ہوا ، وہ حقیقی مشرق وسطی نہیں ہے ۔ 1979 ء کے ایران انقلاب کے بعد کچھ ممالک اس انقلاب کی نقل کرنا چاہتے تھے ۔ سعودی عرب بھی ان میں سے ایک تھا ۔ لیکن اب یہ عہد ختم ہو چکا ہے اور ہمیں اس صورتحال سے نکلنا ہے ، جو تین عشروں تک رہی ۔ ‘‘ ان چند جملوں میں انہوں نے سعودی عرب اور خطے کے حوالے سے اپنا وژن دے دیا ہے ۔ سعودی عرب نے اسلامی ممالک کی جو مشترکہ فورس بنائی ہے ، اسے ایران کیخلاف سعودی عرب اور اتحادی ممالک کی فورس قرار دیا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی ولی عہد مشرق وسطی کو ایران کے ردعمل میں ہونیوالی سیاست اور نظریات سے نجات دلانا چاہتے ہیں ۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے نوجوان قائد محمد بن سلمان سعودی عرب کو ’’ ملٹری ڈاکٹرائن ‘‘ سے ’’ اکنامک ڈاکٹرائن ‘‘ ( Economic Doctrine ) کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے اپنا وژن 2030 دیا ہے ، جس کے تحت سعودی حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے شمال مغرب کے صحراؤں میں مستقبل کا ایک نیا شہر آباد کیا جائے گا ، جسے ’’ نیوم ‘‘ ( Neom ) کہا جا رہا ہے ۔ یہ شہر 10231 مربع میل میں پھیلا ہو گا اور موجودہ نیو یارک سٹی سے 33 گناہ بڑا ہو گا ۔ اس شہر کی سرحدیں مصر اور اردن کی سرحدوں سے ملی ہوئی ہوں گی ۔ یہ شہر سعودی عرب کا نیا اکنامک پاور ہاؤس ہو گا ۔ جس کے اپنے قوانین اور اپنے معیارات ہوں گے ۔ یہ ایک لبرل شہر ہو گا ، جس میں خواتین اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ اس شہر کی جو منصوبہ بندی کی گئی ہے ، وہ پہلے صرف ’’ سائنس فکشن ‘‘ کا حصہ تھی لیکن اب لوگ اس حیرت انگیز دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے یہ شہر ایک آزاد تجارتی اور صنعتی زون ہو گا ، جس میں جدید ہوٹل اور تفریح گاہیں ہوں گی ۔ شہر میں، انٹرٹینمنٹ ، انرجی ، بایو ٹیکنالوجی اور جدید مینو فیکچرنگ انڈسٹریز کی تنصیب کی منصوبہ بندی بھی کی گئی ہے ۔ سعودی عرب کے تپتے ہوئے صحرا شمسی توانائی کا بہت بڑا وسیلہ بن سکتے ہیں ۔ ایک حالیہ ریسرچ پیپر میں بتایا گیا ہے کہ سولر ٹیکنالوجی سے سعودی عرب کی صرف تین فیصد زمین پوری دنیا کو 50 فیصد بجلی مہیا کر سکتی ہے ۔ 500ارب ڈالر کا ’’ نیوم سٹی ‘‘ کا منصوبہ 2025ءمیں مکمل ہونے کی توقع ہے ۔ کینیڈا نے بھی اسی طرح کے ایک جدید شہر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے لیکن سعودی عرب کے منصوبے سے بہت چھوٹا ہے ۔ سعودی عرب کا جدید شہر تجارت ، ایجادات اور تخلیق کامرکز ہو گا ۔ اس شہر میں نہ صرف لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ سعودی نوجوانوں کی کھیپ ہو گی بلکہ یہاں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہوں گے ۔ نئی سعودی قیادت ایسا کیوں سوچ رہی ہے ۔ اس کا ایک بنیادی سبب ہے ۔ دنیا میں تیل کی معیشت اور تیل کی سیاست کا عہد ختم ہو رہا ہے ۔ تیل کی نہ صرف قیمتیں بلکہ طلب بھی کم ہو رہی ہے ۔ الیکٹرونکس اور متبادل توانائی کے ذرائع کی وجہ سے نئی دنیا تخلیق ہو رہی ہے ۔ اب تک تیل کی دولت کی وجہ سے سعودی معیشت سنبھلی ہوئی تھی اور معاشی استحکام کی وجہ سے وہاں انتشار یا بے چینی نے جنم نہیں لیا ۔ مستقبل میں سعودی عرب سمیت تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت کا تیل پر انحصار کم ہو جائے گا اور ان معیشتوں کو دیگر جدید ذرائع پر اپنا انحصار بڑھانا ہو گا ۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن سعودی عرب کی مستقبل میں کوئی جگہ بنانا ہے۔ وہ عالمی سیاست میں نئے visionکے ساتھ بڑی طاقت بن کر ابھرے گا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ سعودی عرب میں جو سماجی ، قانونی اور معاشی اصلاحات لا رہے ہیں ، وہ نہ صرف خوش آئند ہیں بلکہ اس سے سعودی عرب ، مشرق وسطی اور عالم اسلام کو طویل المیعاد فائدے حاصل ہوں گے ۔ نئی سعودی معیشت کے لئے نیا سعودی سماج ضروری ہے تاکہ نوجوان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر اپنا کردار ادا کر سکیں ۔
دنیا کے تمام مسلمانوں کی سعودی عرب سے محبت اور وابستگی فطری ہے ۔ سعودی سماج کے بارے میں انہوں نے جو تصورات قائم کر رکھے تھے، وہ بھی اس عہد میں درست تھے ، جب سعودی عرب ’’ آئل پاور ‘‘ تھا ۔ اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں ۔ سعودی عرب کیلئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ جدید معیشت استوار کرنے کیلئے ایک ایسا معاشرہ تخلیق کرے ، جو اس معیشت کو سنبھال سکے ۔ نئی سعودی قیادت کے اس وژن پر عہد نو کے تقاضوں کے مطابق اجتہاد کرنے اور اس وژن کے ادراک کی ضرورت ہے ۔ یہ وژن سعودی عرب میں داخلی تبدیلیوں اور خارجی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے ۔

ذہنی ایمرجنسی

ملک میں بفضلِ خدا کوئی بڑا آئینی بحران سر اُٹھا رہا ہے نہ نظمِ مملکت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہے۔ وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی بڑی فرض شناسی اور سادگی سے کاروبارِ حکومت چلا رہے ہیں، مگر یوں لگتا ہے کہ قانون سازوں کے ذہن کند ہو چکے ہیں اور سامنے کی چیزیں بھی اُنہیں دکھائی نہیں دے رہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے چلتی ہوئی گاڑی کو اچانک بریک سی لگ گئی تھی اور مایوسیوں اور نااُمیدیوں کے علم بردار بہت بڑی تباہی کی پیشین گوئیاں کر رہے تھے، لیکن مسلم لیگ کی قیادت نے بڑی بردباری کا مظاہرہ کیا اور لندن میں پانچ بڑوں کی میٹنگ میں طے پایا کہ نوازشریف اپنی جماعت کی قیادت کریں گے، جناب شہباز شریف مستقبل کے وزیراعظم ہوں گے اور محترمہ مریم نواز اور جناب حمزہ شہباز ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں گے۔ نئی نسل کے ان دونوں نمائندوں نے اپنی اپنی جگہ حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیئے اور مشکل وقت میں بڑے ثابت قدم رہے ہیں۔ سیاسی اور صحافتی حلقوں میں محترمہ مریم نواز کے لیے تحسین کے جذبات پائے جاتے ہیں کہ وہ ایک جرأت مند اور ذہین خاتون ہیں اور خطرات سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اُن کی سوچ میں ایک جدت اور اُن کے عمل میں استحکام ہے۔ اسی طرح عزیزی حمزہ شہباز کی استقامت اور ایثار کی ایک دنیا قدر دان ہے کہ جب پورا شریف خاندان جلا وطن ہو کر سعودی عرب چلا گیا تھا، تو اُنہوں نے پاکستان میں رہتے ہوئے ہر بلائے ناگہانی کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا اَور اب قومی اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے پنجاب میں نوجوانوں کو منظم کر رہے، جماعت کے کارکنوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے اور اُن کی عزت کرتے ہیں۔ لندن کے ان بنیادی اور دور اندیش فیصلوں سے مفروضوں کے محل زمیں بوس ہو گئے ہیں اور صحت مند رجحانات کو تقویت ملی ہے۔
ہماری سیاسی جماعتیں بالخصوص ہماری حکمران شخصیتیں ناک کے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی جا رہی ہیں کہ ان کا زیادہ تر وقت فروعی باتوں، ایک دوسرے پر الزام تراشیوں اور عدالتوں میں ضائع ہو جاتا ہے اور اُن کے پاس اہم فیصلے اطمینان سے کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ وہ جب قومی اور ملکی مسائل پر غور و خوض کرتے ہیں، تو اُن کے تھکے ہارے ذہن تخلیقی عمل کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ اب ذرا انتخابات 2018ء کے معاملات کا جائزہ لیجئے۔ جناب عمران خاں جو قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت کے قائد اور تمام سیاسی جماعتوں کے ’بت شکن‘ مشہور ہیں، اُنہوں نے ایک روز عالمِ بے خیالی میں فوری انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ اُنہیں اس امر کا ہوش ہی نہیں تھا کہ انتخابات کو بروقت کرانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری جناب بابر یعقوب کی طرف سے جب وارننگ جاری ہوئی، تو سیاسی جماعتوں کو ہوش آیا کہ وقت پر انتخابات کرانے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ہو گی، چنانچہ اسپیکر قومی اسمبلی جناب ایاز صادق نے تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا اور حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے دو تین بنیادی فیصلے اتفاقِ رائے سے کیے گئے۔ یہ سارے کام ایمرجنسی میں ہو رہے ہیں۔
اس مرحلے سے خیروخوبی کے ساتھ گزر جانے کے بعد شفاف اور منصفانہ انتخابات کے سلسلے میں ذہن کو بیدار اور مستعد رکھنا ہو گا۔ 5جون 2018ء کو قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہو جائے گی اور قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے نگران حکومتیں مرکز اور صوبوں میں قائم ہوں گی۔ ان کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہو گا۔ 2013ء کے انتخابات ایک ایسے وزیراعظم کی نگرانی میں منعقد ہوئے جو بڑھاپے کی وجہ سے اپنے فرائض مستعدی سے سرانجام نہیں دے سکے۔ جناب آصف زرداری کہتے رہے کہ یہ آراوز (ریٹرننگ آفیسرز) کے انتخابات تھے، مگر عمومی تاثر یہ تھا کہ جنرل کیانی کی ہدایات کے مطابق فوج نے غیر جانبداری کا پورا پورا خیال رکھا۔ اس بار معاملہ اس اعتبار سے بہت حساس اور نازک ہے کہ لاہور کے حلقہ 120کے ضمنی انتخاب میں یہ شکایات میڈیا میں آتی رہیں کہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر سیکورٹی پر مامور فورس جانبداری سے کام لیتی رہی۔ اس حوالے سے تمام اداروں کو وقت سے پہلے سر جوڑ کر بیٹھنا اور شفاف اور منصفانہ انتخابات کا ایک میثاق تیار کرنا اَور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔
وہ مسائل جن کا قومی وجود کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے، ان میں قومی معیشت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ پچھلے دنوں اس موضوع پر ایک تنازع اُٹھ کھڑا ہوا۔ آئی ایس پی آر نے ایوانِ صنعت و تجارت کے تعاون سے ’معیشت اور سلامتی‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا جس سے ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے صنعت کاروں اور کاروباری حلقوں کے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ ٹیکس ادا کر کے معیشت کو مضبوط بنائیں اور برآمدات کو فروغ دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں کیونکہ مضبوط معیشت ملکی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سیمینار کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کی اور یہ تاثر دیا کہ ہماری معیشت بری بھی نہیں تو اچھی بھی نہیں۔ اسی روز وفاقی وزیر جناب احسن اقبال واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے تھے اور اُن کی پریس کانفرنس سے اُنہیں خفت اُٹھانا پڑی جس پر اُنہوں نے سخت بیان جاری کیا، تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر نے بڑے تحمل اور دانش مندی سے جواب دیا اور معاملہ مزید بگڑنے سے بچ گیا، تاہم ملکی معیشت کے بارے میں سنجیدہ حلقے شدید تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ بیرونی قرضوں کا حجم بڑھتا اور زرِمبادلہ کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں۔ سابق سیکرٹری خزانہ جناب ڈاکٹر وقار مسعود نے گزشتہ کالم کے ذریعے خوشخبری دی ہے کہ معیشت کے مبادیات (Fundamentals) بڑی حد تک مستحکم ہیں۔ مینو فیکچرنگ انڈسٹری میں پہلی سہ ماہی میں 11.3فی صد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ سال یہ اضافہ صرف 2.1فی صد تھا۔ اسی طرح کپاس کی گانٹھوں میں پہلی سہ ماہی میں 37فی صد، چاول اور گنے کی پیداوار میں بالترتیب 7اور 11فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ستمبر 2017ء میں افراطِ زر 3.9فی صد رہا جبکہ گزشتہ ستمبر میں اس کی یہی شرح تھی۔ اس سے قیمتوں میں استحکام آیا ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار سے واضح کیا کہ معاشی سرگرمیوں کے بڑھ جانے سے بیروزگاری میں کمی آ رہی ہے اور سرمایہ کاری کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’سیپ‘ نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستانی معیشت کو صحت مند قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر وقار مسعود نے اس خوش کن تجزیے کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی نشان دہی کی ہے کہ بجٹ اور غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کی صورتِ حال نازک ہوتی جا رہی ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مضمون کے مطالعے سے احساس ہوتا ہے کہ پالیسی کی سطح پر خلا پیدا ہوا ہے اور موجودہ وزیرِ خزانہ جناب اسحٰق ڈار مقدمات میں اُلجھائے جانے کی وجہ سے مالیات پر پوری توجہ نہیں دے پا رہے، اس لیے ان کی جگہ ایک قابل اور تجربے کار وزیرِ خزانہ مقرر کیے جائیں جو اقتصادیات کے عملی پہلو اچھی طرح سمجھتے ہوں۔ اگر جہاز کپتان کے بغیر چلتا رہا، تو کوئی بڑا حادثہ بھی پیش آ سکتا ہے۔
حکومت صحافیوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جرأت منداور نہایت فرض شناس صحافی احمد نورانی پر چھ موٹر سائیکل سواروں کا حملہ ایک خطرناک صورتِ حال کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس بھیانک جرم کے مرتکب ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے اور اس اثنا میں باضمیر صحافی کی کردار کشی بھی شروع ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا عجب عجب ستم ڈھا رہا ہے جس کے سامنے حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ اس بے بسی سے نکلنے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تخلیقی ذہن سے کام لینا ہوگا ورنہ پوری قوم خوف ناک ایمرجنسی کی زد میں آ جائے گی۔