Latest Posts

تنویر جہاں کی شجر کاری اور سائیں مرنا کی سوز خوانی

وجاہت مسعود
JULY 13, 2017 | 12:00 AM

تنویر جہاں کو مزے مزے کی باتیں سوجھتی ہیں۔ کل ملا کے 15 x 20 فٹ کا ایک باغیچہ سا بنا لیا ہے۔ لان کہنا تو اسے زیب نہیں دیتا۔ درویش عمر بھر مٹی کے گملوں میں زیر زمین خوابوں کو پانی دیتا آیا ہے۔ اب جو موقع ملا تو اس تنک سے قطعہ ارضی پر انجیر، انار، شریفہ، آواکاڈو، لیموں، لیچی اور چکوترے کے کچھ پودے گاڑ دیئے، انگور کی بیل چاروں طرف چڑھا دی۔ اور ہاں بھائی انتظار حسین کی اماں کا حکم یاد تھا، ایک پودا سکھ چین کا بھی دھانس دیا۔ تنویر جہاں آج کل فلسفہ اور تاریخ نہیں پڑھتیں، بس وہ ٹی وی چینل دیکھا کرتی ہیں جس کے ہر مکالمے سے روایت کی کافوری بساند آتی ہے۔ ایک روز جب ڈرامے کے وقفے میں ایک طلاق مطبوعہ اور ایک نکاح مخدوش کی نیو رکھ دی گئی تو لاؤنج سے باہر تشریف لائیں۔ درویش کو برگ و بار کی الجھنوں میں ہلکان پایا تو فرمایا کہ اتنے چھوٹے سے لان میں اتنے پیڑ لگا لو گے تو گھاس کا ستیاناس ہو جائے گا۔ شریک حیات بھلے تنویر جہان ہی کیوں نہ ہوں، عرض و معروض کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے ورنہ دست بستہ کہتا کہ گھاس کا واحد جواز یہ تھا کہ والٹ وٹمن کوئی ڈیڑھ سو برس پہلے گھاس کی پتیوں پر نئی شاعری کا چھینٹا دے اور یہ کام وہ بخیر و خوبی کر چکا۔ اب آپ چھ فٹ کے گھاس کے قطعے پر کیا صوفی غلام مصطفیٰ کی چہل خرامی کا نظارہ کرنا چاہیں گی۔ یہ لاہور کا نواح ہے، نیو امریکہ کا منطقہ نہیں کہ بوسٹن کے ہرے قالین پر صاحبان علم گیان کی ورشا دیں۔
ہم غریب لوگ ہیں، زندگی لقمہ خشک اور آب سرد کے گھونٹ کی کشمکش میں گزر گئی۔اب اگر حسن اتفاق سے مٹی کا ایک ٹکڑا مل گیا ہے تو اسے رچنا بنا لیتے ہیں۔ سوچے سمجھے نقشے سے ترتیب پانے والے باغ تو مالیوں کے دست ہنر کا کرشمہ ہوتے ہیں۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کا نام دیو مالی کیسا کڑھا ہوا ہنر مند تھا اور موت بھی ایسی ہی نصیب ہوئی جو نیک لوگوں کے حصے میں آتی ہے، ادھر ادھر سے ٹہنی، شاخ اور کونپل کا جو گپھا سا بنتا ہے، واللہ، گورنر ہاؤس کے وسیع و عریض میدانوں کی قسمت میں ایسی روئیدگی کہاں۔ اگرچہ تنویر جہاں کی نویافت اشرافیہ حیثیت کو یہ اردو میڈیم شاعری ایک آنکھ نہیں بھاتی، لیکن قصہ زمین، بر سر زمین۔ اس برس انگور کی شاخوں میں کھٹے انگور کے خوشے لٹکے۔ انجیر نے کاسنی جامہ پہنا۔ بھائی طارق علی نے کوئی بیس برس پہلے ایک ناول لکھا تھا، انار کے پیڑوں تلے…..تاریخ کی آویزش اور ذات کی باز آفرینی کا مرقع تھا۔ مگر صاحب، طارق علی نے کیا لکھا ہو گا جو اس برس ہم نے نے انار کی خوش رنگ سبز پتیوں میں فاختئی پرندوں کا رقص دیکھا۔ اگر جیتے رہے تو اگلے برس لال امرود پر ہرے طرطے کی چونچ کا کرشمہ دیکھیں گے۔ ہر برس فروری کا دوسرا ہفتہ شروع ہوتا ہے تو درویش رخصت کا سفید جامہ احتیاط سے لپیٹ کر چھاتی کے پنجرے میں رکھ لیتا ہے۔ کسے معلوم کہ خوشی کی یہ فراوانی اگلے برس نصیب ہو نہ ہو، جو جئے گا، دیکھ لے گا۔
جیسے درویش کو شجر کاری میں ترتیب پسند نہیں اسی طرح ہماری قوم کو بھی معمولات حیات سے رغبت نہیں۔ دو چار برس سیدھی سڑک پر گزر جائیں تو خواہ مخواہ طبیعت میں پگڈنڈیوں اور ذیلی راستوں پر سیر گل کی اکساہٹ ہوتی ہے۔ یہاں وہ محاورہ تو استعمال نہیں کیا جا سکتا جس میں خوئے بد کے لیے ہزار بہانوں کا ذکر کیا گیا تھا مگر خود ہی سے پوچھنا چاہیے کہ سن اٹھاون میں درشن دینے والے نابغے چند واقعات سے گھبرا کر قوم کی نیا سنبھالنے پر مجبور ہو گئے تھے یا کئی برس سے اس حادثہ فاجعہ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یہ جو شہید ضیاءالحق نے رونمائی دیتے ہی نوے روز کی دند مچائی تھی، بعد کے واقعات میں تو ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ حضرت نے کبھی ایک لمحے کے لیے بھی نوے روز کے وعدے کو نبھانے کا ارادہ تک باندھا ہو۔ اکتوبر 99ءکی وہ تاریک شام ابھی حافظے میں مدہم نہیں ہوئی جب کئی گھنٹے تک چودہ کروڑ کی قوم بیم و رجا کے تختے پر سزا سنائے جانے کی منتظر رہی۔ بعد میں جمشید گلزار کیانی اور شاہد عزیز نے تو کھل کر لکھ دیا کہ پرانی دلی کے سید بادشاہ سری لنکا کے دورے پر جانے سے پہلے منصوبہ مکمل کر چکے تھے۔ ذمہ داریاں تقسیم ہو چکی تھیں۔ اس بار تو نوے روز کا حیلہ بھی نہیں کیا گیا۔ عدالت عظمی کے نام پر جو کچھ بچا تھا اس سے ٹھیک تین برس کی مہلت لے لی گئی۔ مراکش کے ایک استاد احمد اوباؤ اکتوبر 99ء کے فورا بعد جرمنی کے ایک قصبے کاٹن ہائیڈ میں درویش کے استاد ٹھہرے۔ فرمایا کرتے تھے کہ پرویز مشرف کو وسطی ایشیا سے گیس پائپ لانے کا ذمہ سونپا گیا ہے۔ باقی سب کہانیاں ہیں۔ حضور، کہانیاں ہمیں بہت بھاتی ہیں۔ پرانی دلی کی حویلی سے آنے والا سید زادہ نو برس اقتدار میں گزار کر دس برس قبل سبکدوش ہو گیا، اور ایک عرصے سے کمر درد کا علاج کرانے مشرق وسطی کی حرم سراؤں میں مقیم ہے۔ گیس کی پائپ لائن شاید دوشنبے کی گلیوں میں کہیں گم ہو گئی۔ ایوب خان اپنی عظیم سیاسی فکر کے مطابق جمہوریت کو مناسب خدوخال نہیں دے سکے اس لیے کہ جمہوریت بنیادی یا ثانوی درجوں کی متحمل نہیں ہوتی۔ یحییٰ خان سے ملک ٹوٹ گیا کیوں کہ سیدھے سادے سولجر کو اپنی صدارت کی ضمانت درکار تھی۔ جالندھر والے کحل جواہر فروش نے ملک کو اسلامیانے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ یہ وہ نیک کام ہے جو صدیوں سے شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ مغرب سے مانگا ہوا ہوائی کھٹولا دغا نہ دیتا تو ملک کو اسلامیانے کے ہزارہا بہانے ابھی باقی تھے۔ ہزار بادہ ناخوردہ در رگ تاک است….. ہم لوگ بھی طرفہ طبیعت رکھتے ہیں۔ چھان بین پر اتر آئیں تو ٹائپ کے فونٹ پر جمہوریت کو مصلوب کر دیتے ہیں اور طبیعت جودوسخا پر مائل ہو تو مڑ کر یہ نہیں پوچھتے کہ صاحب آپ کا وہ جو سات نکاتی پروگرام تھا وہ کہاں سے ٹپکا تھا، اور یہ کہ کیا اب قوم کو سات نکاتی پروگرام کی ضرورت نہیں ہے؟ بات یہ ہے کہ ہم پکی ہوئی انجیر پر چونچ مارنے والی چڑیا کے پیچھے بھاگتے ہیں اور باغ کو روند ڈالنے والے ہاتھی سے چشم پوشی فرماتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ تنویر جہاں کا ہتھیلی بھر باغ بھی اجڑ جاتا ہے۔ اور ہمارے حصے میں سائیں مرنا کی ہوک بھری کوک رہ جاتی ہے۔ ایک ایک ہفتے کے وقفے سے ہواخواہوں کو تسلی دی جاتی ہے تاکہ سانبھر کی اونچی گھاس میں گنے کی بربادی کا ارادہ باندھے ہاتھی پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ چڑیا انجیر پر چونچ مارے جا رہی ہے، امرود پر طوطا نشان چھوڑ رہا ہے، ہمارے لیے کہانی کا یہی حصہ کافی ہے۔ باقی سائیں مرنا کے اکتارے کی سوز نہانی کا قصہ ہے، جو جیے گا، سن لے گا۔

Disastrous decade of democracy sorry state of the state-Al Pakistan

 

By Simon Templar

Thug life is a term used by gangsters to glorify their law breaking,heady crime sprees.

Nothing describes the misrule of two successive, so called democratically elected governments in the unstable, underdeveloped 200 million strong south Asian state of Pakistan.

How thieves, plunderers and freebooters came to rule this nuclear armed state is a sad tale in itself.

Ruled by miltary General Parvez Musharaf who took over in a military coup in 1999, the country became a close US ally after 9/11 and witnessed an era of growth and stability under military rule.

However when Musharaf reached his limits of flexibility, it was decided by the US and British to force him bring back the two tainted, condemned political leaders in exile and to wash away all their sins under a dubious order in the name of national reconciliation.

As in the Bond movie, Quantum of Solace, there was also a hungry, eager, more flexible General waiting in the Wings to replace him, and Deputy Chief Kayani used Military intelligence and a judges restoration movement to cripple the erstwhile strongman, now out of favor with the US.

A final thumbs down from the US Ambassador compelled Musharaf to resign and after the mysterious, unsolved murder of Benazir Bhutto, her thuggish husband, the upstart, criminal uneducated, corrupt and much reviled Asif Zardari came to power.

The deal with the West was that we bring you back, wash away your past sins and you squeeze the Army.

The game began and new Chief Kiyani turned a blind eye, as he had brought the devil to sup at the table and was also busy improving his impoverished families financial condition.

So well did this team work that General Kiyani got an unprecedented 3 year second term, Zardari became a billionaire, Kayani from rags to millionaire and the country went to the dogs.

The US with its two boys in place, in charge of the Presidency and military, violated Pakistani sovereignty and physical boundaries at will, using drones, choppers, covert assassin’s and whatever they chose.

As per the unholy charter of kleptocracy, Sharif kept silent during Zardaris plunder and he returned the favor after Sharif took over in 2013

Simple math, overinvoice $ 50 billion of Chinese funded projects-whether needed or not- by ten percent, sign sovereign guarantees, leave future generations to pay off horrifying debts and pocket 5% off the top!

Walk away with a cool $ 2.5 billion dollars.Astonishingly simple as it is audacious.

Where Zardari was a street thug, looting millions, for ing neighbors to sell their properties on the cheap, the plunderers from Punjab, whose father made pots and cooking utensils with his bare hands are now certified dollar billionaires thanks to massive bank defaults,and international cuts commissions and kickbacks.

Wow! Wonderful, just one mistake…Sharif, egged on by vicious anti military Advisers like Junior Minister for Foreign Affairs Sayed Tarik Fatami, kept on targeting the by now restive and powerful Pakistan military.

The leakage of information pertaining to thousands of offshore companies incorporated in Panama signalled the end for the strangely absent Sharif regime.

Perhaps the most corrupt and worse administered government in the history of Pakistan..certainly the most hypocritical.

Destroying the civil service structure, promoting nepotism, turning state servants especially in the Punjab into glorified pimps and facilitators.

One poor martied lady was famously peddled by her husband out to Sharif, then his younger brother and in turn was rewarded with top administrative positions for his immoral shamelessness.

Functioning without statutory, mandated positions such as State Ombudsman, National Tax Collector, Head of the Audit Service and even without the Governor of the State Bank.

Burgeoning debt,increasingly hostile borders, declining exports, a dysfunctional government, falling stock market and collapsing currency could not shake Sharif out of his stupor.

On the ropes, with his family corruption the main story in every paper, every channel and on social media, he chose to plod on shamelessly, trying one corrupt lawyer after another in a futile attempt to cover his tracks.

Described as a scicillian mafiosi by the worthy judges of the top constitutional court, Sharif scraped the bottom of the barrel, hiring the immoral Raja Salman Akram, known to have defended Zardaris drug dealing Prime Minister, all to no avail.

Functioning without a Foreign minister for four years, and appointing idiots as top envoys, the joke is on Sharif as he is now left with no friends to bail him out as before.

His Saudi patrons distanced themselves from their pet poodle after Sharif was unable to prevail upon his military who very sensibly refused to go and fight alongside Saudi troops in Yemen.

Indians and Americans have realised he cannot dominate his military and the Turks and Chinese know him and his tribe as crooked, slimy money grabbers.

Despite holding office for years, Sharif has paid no attention to healthcare, education, rule of law or job creation, focusing purely on shady, unnecessary projects providing easy kickbacks.

Now decades of money laundering, defaulted bank loans and millions in off shore accounts and overseas properties stand to be exposed for what they are, the loot and plunder from 190 million poor uneducated helpless souls who are forced to sell or kill their children due to lack of justice, poverty and a gloomy future.

The question is how will things unfold? Will the shameless, immoral, hypocritical kleptocrats escape yet again to lick their wounds and enjoy their boots abroad or shall they deservedly meet the fate of another erstwhile billionaire, the late unlamented Colonel Qaddafi who died bloodied and screaming in the street as his engeful subjects beat him to death?

The author is a geostrategist based in Brussels.

پاکستان تحریک انصاف اور اصلی سازش

حسن نثار
JULY 11, 2017 | 12:00 AM

خبر میں خبریت نام کی کوئی شے نہیں بلکہ میں حیران ہوں کہ اس ’’کارخیر‘‘ میں اتنی دیر کیسے ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ان کے ’’مشترکہ دوست‘‘ اور عوام کے دیرینہ دشمن سر گرم ہو گئے ہیں۔ہدف ان کا یہ ہے کہ سٹیٹس کو کے دونوں سمبلز کندھے سے کندھا ملا کر سخت ترین حریف جماعت پی ٹی آئی کے گرد گھیرا تنگ کریں۔ خیال یہ ہے کہ اک خاموش مفاہمت کے تحت پی پی پی کو سندھ کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا میں بھی خاطر خواہ ریلیف دیا جائے گا ۔اس کہانی کا مرکزی خیال بہت سادہ اور عام فہم ہے جسے پنجابی زبان میں بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا کہ ’’ونڈ کھائو تے کھنڈ کھائو‘‘ کہ ان میں اصل جھگڑا ہے ہی کیک میں شیئر کا کہ کس کو کتنا ملے گا یا ملنا چاہئے ورنہ نہ یہ نظریاتی نہ وہ نظریاتی۔دونوں کا مشن اور موٹو مدتوں سے ایک ہی ہے، فرق ہے تو طریقہ واردات کا۔اندر سے دونوں ہی ’’میثاق جمہوریت‘‘ ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ’’مثیاق جمہوریت‘‘ کے دوسرے ایپی سوڈ پر کام شروع ہو چکا جس پر غیور اور باشعور عوام کو چوکنا اور چوکس ہو جانا ہو گا اور پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو بھی اپنی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنا ہو گا ۔یہ دونوں لڑائی اور صلح، ہر دو صورتوں میں ملک اور قوم کا بہت ہی قیمتی وقت بہت بری طرح برباد کر چکے ۔مومن ان دو سوراخوں سے کئی کئی بار ڈسے جا چکے ۔ نہ ڈسنے والے تھکے نہ ڈسوانے والوں پر تھکان طاری ہوئی اور پاکستان کی حالت سامنے ہے ۔آج سے 40سال پہلے فی کس کتنا قرضہ تھا ؟ آج کتنا ہے ؟ عوام تب زیادہ محفوظ اور پرسکون تھے یا آج زیادہ خوش اور سکھی ہیں ؟ ریٹ ریس تب تھی یا آج عروج پر ہے ؟ ہم تب زیادہ متحد تھے یا آج زیادہ منتشر ہیں ؟ خوف خدا تب عام تھا یا آج؟ ایسے ہی چند دیگر بنیادی بے ضرر سوالوں پر غور کر لیںتو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ ان دونوں سیاسی پارٹیوں نے معاشرہ میں کیا کچھ کنٹری بیوٹ کیا ؟برسوں پہلے جب میں نے یہ لکھنا شروع کیا کہ بی بی اور بابو کی سیاسی پارٹیوں میں مذکر مونث کے علاوہ کوئی بامعنی فرق نہیں، دونوں میں سب سے بڑی قدر مشترک عوام بیزاری ہے، دونوں ہی جینوئین طریقہ سے ڈلیور کرنے کی بجائے ڈراموں پر فوکس کرتے ہیں تو مجھے سمجھایا گیا کہ معاشرہ پروبھٹو اور اینٹی بھٹو میں بری طرح منقسم ہے اور اگر تم دونوں کو ہی ولن ٹھہرائو گے تو تمہیں پڑھے گا کون ؟ میرا جواب بہت سادہ تھا کہ میں دل کی گہرائیوں سے جسے درست سمجھتا ہوں لکھتا رہوں گا اور اگر پذیرائی نہ ملی تو لکھنا چھوڑ کر کوئی اور کام کر لوں گا….پھر یوں ہوا کہ پذیرائی کے در کھلتے چلے گئے۔ تب میں نے ’’تیسری قوت‘‘ کے خواب دیکھنا اور دکھانا شروع کئے ۔ مجید نظامی صاحب مرحوم و مغفور نے مجھے مثالیت پسندی کا شکار قرار دیا تو وہ صحیح تھے کسی تھرڈ فورس کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا لیکن میری کیفیت تو میرے اس شعر جیسی تھیکچھ اور نہیں وعدہ تعبیر کے بدلےہم خواب فروشوں سے کوئی خواب خریدےپھر کچھ عرصہ بعد PTIنمودار ہوئی لیکن ملکی سیاسی سین پر کوئی ڈینٹ تو کیا ہلکی سی خراش بھی نہ ڈال سکی تو پہلی بار دل ٹوٹ سا گیا لیکن میں سدا کا ڈھیٹ اور ضد ی اپنے سیاسی ایمان اور وجدان پر قائم رہا کہ پی ٹی آئی کے ٹیک آف والا معجزہ ہو گیا جو میری سمجھ سے آج تک باہرہے۔آج پاکستان تحریک انصاف فیصلہ کن تھرڈ فورس کے مرحلہ سے گزر کر ملک کی پہلی فیصلہ کن سیاسی فورس بن چکی ہے۔ حریفوں کے قدم لڑکھڑا رہے ہیں، سانسیں اکھڑی ہوئی ہیں، چہرے پیلے پڑ رہے ہیں تو بھان متی کا کنبہ جوڑنے کی سازش بلکہ جمہوری سازش اپنے عروج پر ہے ۔ عوام بالخصوص PTIکے ورکرز دھیان سے سن لیں کہ ان کی حریف قوتوں کیلئے پاکستان سونے کی کان ہے جس سے سرے محل اور پانامے، پارک لین جنم لیتے ہیں اور اس کان پر حصہ بقدر جثہ اپنا قبضہ قائم رکھنے کیلئے یہ سب آخری حد تک جائیں گے ۔یہ سب مختلف سائیزز کی وہ انگلیاں ہیں جو بوٹیاں نوچتے وقت یکجا ہو جاتی ہیں ۔سو ہوشیار …..خبردار ! جاگتے رہناPTIکے خلاف سازش شروع ہو چکی۔

بلاعنوان

JULY 10, 2017 | 12:00 AM
حسن نثار

کرنٹ افیئرز کے حوالہ سے میں ’’ہڑتال‘‘ پر ہوں حالانکہ میری فیورٹ چنڈال چوکڑی نے جو بھونچال کا ساسماں پیدا کر رکھا ہے اس کے انسپائرنگ ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن میں ان سے زیادہ ڈھیٹ ہوں، اس لئے ڈٹا رہوں گا ۔ ڈھٹائی کی انتہا یہ ہے کہ بندہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی پوچھتا پھرے میرا قصور کیا ہے ؟ بچپن میں ہم ’’انتہائیں ‘‘ ڈھونڈا کرتے تھے مثلاً ایک پوچھتارفتار کی انتہا کیا ہے ؟دوسرا دور کی کوڑی لاتے ہوئے جواب دیتا ’’سوئمنگ پول کے گرد اس رفتار سے بھاگتا ہوا شخص جو خود اپنی کمرتک ‘‘پہنچ کر اسے کھجلانا چاہتا ہو‘‘کوئی دوسرا پوچھتا ….یروزگاری کی انتہا کیا ہے ؟جواب ملتا ’’بیروزگاری کی انتہا یہ ہے کہ کسی رقاصہ کے پیروں پر جالے تن جائیں اور اس کے گھنگھرئوں کو زنگ کھا جائے ‘‘آج کوئی پوچھے ڈھٹائی کی انتہا کیا ہے تو جواب بہت سادہ ہے کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی باری باری دنیا سے پوچھتے رہیں ’’ہم نے کیا کیا ہے ؟ ہمارا قصور کیا ہے؟‘‘ لیکن نہیں آج شاعری کے علاوہ کچھ نہیں اور اگر شاعری پر بھی آ پ کو کرنٹ افیئرز کا منحوس سایہ دکھائی دے تو میرا کوئی قصور نہیںشعر ملاحظہ ہوبادی النظر میں تو چور لگےساتھ ہی ساتھ شاہ زور لگےاور اس کا بھی جواب نہیں ہے کہ ……انصاف تو اندھا ہوتا ہےپر جج کی آنکھیں ہوتی ہیںیہ شعر بھی اک خاص قسم کی صورت حال کا کیا خوب عکاس ہےتھوڑے سے ہیں فن کار بھیباقی سہولت کار ہیںاور اب ایک غزل جو چند گھنٹے پہلے پہنچی ہےجو کچھ تیرے دھیان میں ہےکیا وہ سب ایمان میں ہے؟قصے کا انجام بتارکھا کیا عنوان میں ہےدیکھنا ہے اس منڈی میںکتنا وزن اوزان میں ہےجنگ ہے عدل اور عادل میںمنصف خود میزان میں ہےدیکھ رہا ہے دیا اسےکتنا دم طوفان میں ہےقصر ہے عالیشان بہتاندر کیا ایوان میں ہےجس کا اونچا تھا استھانکب سے قبرستان میں ہےسازش تیرے خون میں تھیسختی میری جان میں ہےرزق ہمارے حصے کاکس کے دسترخوان میں ہےخاک ہے قبرستانوں میںراکھ بہت شمشان میں ہےسہرے میں جو سجا رہااب وہ کوڑے دان میں ہےہونی، ہو کر رہتی ہےرکھا کیا ہیجان میں ہےمیں نے اس کو جان لیاچھپا ہوا ہذیان میں ہےلوہا بھٹی تک پہنچالکڑی آتش دان میں ہےوہ میری ملکیت ہےجو تیرے سامان میں ہےایسی تیسی وعدوں کوکیا عہدوپیمان میں ہےاور اب آخر پر پہلی بار کالے نہیں کچھ سفید قولعقلمند سوچ کربولتا ہے اور بیوقوف بول کر سوچتا ہے جبکہ سیاسی کٹلری بغیر سوچے سمجھے بولنے کے بعد بھی نہیں سوچتی،بدگمانی ناپاک باطن کی نشانی ہے تو جو اپنے ہی وطن کے اداروں کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کرے، وہ کون ہو گا، کیسا ہو گا ؟پاک دامن پلید کے ساتھ بندھ جائے تو خود بھی پلید ہو جاتا ہےاصل عجزاور انکسار یہ ہے کہ تم طیش میں نہ آئومالدار کو کنجوسی، جوان کو سستی، عابد کو خودپسندی اور حکمران کو ہوس ذلیل و رسوا کر دیتی ہےبے عمل عالم، بے زر سخی، بے ثمر درخت، تیغ بے جوہر، سوتا ہوا سوار، جاہل پرہیز گار، پیادہ سست رفتار، اندھا کنواں،مالدار بخیل، ابر بے باراں، منعم بے کرم اور لالچی حکمران کس کام کے ؟

ایسا کیوں

پاکستان سمیت بھارت میں بچوں کے سالانہ بورڈ کے امتحانات میں طالب علموں کے پاس ہونے کے لیے کم از کم 33فیصد نمبر درکار ہوتے ہیں ۔ تاہم کبھی کسی نے سوچا کہ یہ 33فیصد نمبر ہی کیوں ہوتے ہیں ؟34یا 32کیوں نہیں ہوتے ہیں آخراس کی وجہ کیاہے ۔ایک بھارتی چینل کے مطابق امتحانی پرچون میں ان پاسنگ مارکس نمبروں کا آغا ز کافی پرانا ہے ۔ 1857کی جنگ آزادی کے بعد

ہندوستان میں1858 میں پہلا میٹرک کے امتحان ہوا تو انگریزوں کو اس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی کہ طالب علموں کو کتنے نمبر لینے پر پاس کیا جائے ۔ان نمبروں سے کم والوں کو فیل کر دیا ۔ اس مقصد کے لیے انگریز سرکار نے باقاعدہ طور پر خط برطانوی حکومت کو خط لکھا ۔خط کے جواب میں کہا گیا کہ چونکہ برطانیہ میں تو پاسنگ مارکس 65فیصد ہیں ۔چونکہ برصغیر اس کی برابری نہیں کر سکتااور آدھی عقل کے مالک ہوتے ہیں اس لئے اس کے طالب علموں کو پاس ہونے کے لیے ساڑھے بتیس نمبر دیئے جائیں ۔ 1858سے لیکر 1861تک ساڑھے بیتیس فیصد اس کے بعد کیلکولیشن کو آسان بنانے کے لیے 33فیصد کر دی گئی ۔ جو بد قسمتی آج تک چل رہی ہے ۔پریشانی کی بات یہ ہے کہ ایک پرچے میں کل مارکس 100ہوتے ہیں اورسال میں طالب علم نے اس مضمون کوپڑھناہوتاہے اوراس ایک سال کے بعد جب امتحانی پرچہ دیاجاتاہے تواس میں 9سے 7سوالات دیئے جاتے ہیں ،9سوالات کی صورت میں طالب علم کو5سوالات حل کرناہوتے ہیں جبکہ 7سوالات کی صورت میں 4سوال حل کرناہوتے ہیں ،تویہ ایک پریشانی کی بات ہے کہ پھربھی طالب علم کوامتحان میں اس مضمون میں پاس ہونے کےلئے 33مارکس پاس ہونے کےلئے ضرورت ہوتے ہیں جس سے ہمارے تعلیمی نظام کی بڑی خامی سامنے آجاتی ہے ۔

ﺷﺮﺍﺏ ﮐﻮ ﺑﮑﺘﺎ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﻬﻮ , ﺑﻨﺘﺎدیکھو

 

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺟﺐ ﻣﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﮐﯽ ..
~:1 ﺟُﻮَّﺍ ﮐﺒﻬﯽ ﻧﮧ ﮐﻬﯿﻠﻨﺎ .. ﺍﮔﺮ ﮐﻬﯿﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﻮﺑﺖ ﺁ ﺑﻬﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﺳﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﻬﯿﻠﻨﺎ ..
~:2 ﺷﺮﺍﺏ ﮐﺒﻬﯽ ﻧﮧ ﭘﯿﻨﺎ .. ﺍﮔﺮ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻧﻮﺑﺖ ﺁ ﺑﻬﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎ ﮐﮯ ﭘﯿﻨﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺷﺮﺍﺏ ﮐﺸﯿﺪ ﮨﻮﺗﯽ ) ﺑﻨﺘﯽ ( ﮨﮯ ..
ﺑﺎﭖ ﯾﮧ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﮔﯿﺎ ..
ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺗﻬﯿﮟ .. ﺣﮑﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻬﻮﺝ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﺟُﻮَّﺍ ﮐﻬﯿﻠﺘﮯ ﺗﻬﮯ .. ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺲ ﮔﺮﻭﻩ ﺳﮯ ﻣﻼ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻻﮐﻬﻮﮞ ﮐﺎ ﺟُﻮَّﺍ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻬﺎ ..
ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﺳﻤﺠﻬﺎ .. ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﺑﮍﺍ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﺁﮔﮯ ﮨﮯ .. ﯾﮧ ﺁﮔﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﺮﻭﮦ ﻣﻼ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺟُﻮَّﺍ ﺷﺮﻁ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﻬﺎ ﺗﻬﺎ .. ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﺳﻤﺠﻬﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﺑﮍﺍ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﺁﮔﮯ ﮨﮯ ..
ﯾﮧ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﻫﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﭨﻬﯿﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯﺟُﻮَّﺍ ﮐﻬﯿﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ .. ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻋﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮩﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺟﻮﺍﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﺮﻭﻩ ﮨﮯ ..
ﻭﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭨﻬﯿﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻬﯿﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ … ؟؟؟
ﺑﮍﮮ ﺟﻮﺍﺭﯼ ﻧﮯ ﺳﺮﺩ ﺁﻩ ﺑﻬﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ .. ” ﻣﯿﺎﮞ ! ﮨﻢ ﺑﻬﯽ ﻻﮐﻬﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻬﯿﻠﺘﮯ ﺗﻬﮯ ﭘﺮ ﺟُﻮّﺍ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺐ کچھ ﻟﻮﭦ ﻟﯿﺎ .. ﺍﺏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ کچھ ﻧﮧ ﺭﮨﺎ .. ﭨﻬﯿﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﺾ ﻋِﻠَّﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ “..
ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﺗﺐ سمجھ ﺁﺋﯽ ..
ﺑﯿﭩﺎ ﺍﺏ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﺎ ﮐﻬﻮﺝ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺷﺮﺍﺏ ﺑﮑﺘﯽ ﺗﻬﯽ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ … ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮈﯾﺰﺍﺋﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻭﺭﺍﺋﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺏ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﺎﺯﮦ ﺷﺮﺍﺏ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺮﻟﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺷﺮﺍﺏ ﮐﺸﯿﺪ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻬﯽ ..
ﻣﺸﮑﻼﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﮍﺍﮦ ) ﺑﺮﺗﻦ ( ﺗﮏ ﺟﺐ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩیکھ کر ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺑﻬﯽ ﭘﮍﯾﮟ ﺗﻬﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ .. ﮔﺮﺩ ﻏﺒﺎﺭ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺍﺷﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺮﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻬﯿﮟ ..
ﺗﻌﻔﻦ ﻧﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻭﮨﺎﮞ ٹھہرنے ﻧﮧ ﺩﯾﺎ .. ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﯽ ﺣﮑﻤﺖ سمجھ ﺁﮔﺌﯽ ﺗﻬﯽ ﮐﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﺷﺮﺍﺏ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻬﯽ ﻣﮩﻠﮏ ﮨﮯ ..
ﺷﺮﺍﺏ ﮐﻮ ﺑﮑﺘﺎ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﻬﻮ , ﺑﻨﺘﺎ ﺩﯾﮑﻬﻮ .