All posts tagged: Education

غربت کس طرح تعلیم کا دروازہ بندکرتی ہے

آنکھیں صاف بتا رہی تھی کچھ کر کے دیکھاناہے چہرے پر مسکراہٹ کو زبردستی سجاٰٰ ۓ رکھنا مشکلات کے سمندر کو پار کرنے کا عزم دل کو اس طرح مجبور کرنا کہ آنسو آفات بھوک افلاس سب یہ بدبخت خون کا لوتھڑا اپنے اندر سمالے معمول کے مطابق آج بھی کلاس کا آغاز 8 بجے ہوا روزانہ کی طرح کلاس میں وہی آوازیں گونج رہی تھی کوئی بچہ اپنے نہ آنے کی وجہ بتا رہا تھا تو کوئی پنسل کاپی ر بڑ نہ ہونے کی داستان سنا رہا تھا اس گہما گہمی کے باوجود آج کلاس کے کونے میں پڑی کرسی اپنی اداسی کو صاف ظاہر کر رہی تھی کرسی بے جان ہونے کے باوجود باربار توجہ اپنی طرف دلا رہی تھی خیر یوں لگا کہ شاہد میرا وہم ہو یا میں سوچ ایسا رہی ہوں انھی خیالات میں گم اچانک مجھے خیال آیا آج وہ آواز وہ مودبانہ لہجہ اور وہ امید بھری آنکھیں کیوں نہں کہہ رہی ٹیچر میرا گھر کام چیک کریں میرا گھر کا ہوم ورک مجھ سے سن لیں خیر …

آج پھر میں نے یاد رکھا اس ماں کو

:امن کیانی آج پھر میں  نے یاد رکھا اس ماں کو جب میں نے بیٹے کے ماتھے سے بال سنوارے بوسہ دے کر اس کو گلے ے لگایا جب میں نے ننھی انگلیوں کے بال کاٹے ذرا سی چبھن پر اس کی انگلی  کو چوما آج پھر میں نے یاد رکھا اس ماں کو دودھ کا گلاس پیتے ہوئے میں اس کے ساتھ کھڑی رہی بستہ اٹھا کر اس کے کندھوں پر ڈالا پھر سے بال سنوارے ،پھر سے ماتھا چوما پیچھے مڑکر اس نے جب “خدا حافط ماما” کہا آج پھر میں  نے یاد رکھا اس ماں کو شام کو جب جوتے اتارے اس کے ننھی انگلیوں سے جرابوں کے ریشے نکالے ما ما میں نے پھر سے میتھ  میں ایکسیلینٹ لیا ہے ماما میں نے کہا تھا نہ میں سب سے آگے ہوں کلاس میں                                                                                      آج پھر میں نے یاد رکھا اس ماں کو رات کو پھر اس نے کھانے میں وہ ہی ضد کی ماما مجھے یہ سبزی اچھی نہیں لگتی پھر سے کھانا اس کا من پسند بنایا میں نے …

سنا ہے

جنّت میں سہمے ہوے 132 پرندوں کا غول کہیں سے اڑ کر آیا اور درختوں کی شاخوں پر خاموشی سے بیٹھ ک بچھڑے ہووں کو یاد کرنے لگا سنا ہے کل ہٹلر، فرعون اور چنگیز خان دوزخ میں گلے لگ لگ کر روۓ سنا ہے کل شیطان نے اپنے بچوں کوأَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الانسان پڑھنےکا سبق دیا سنا ہے کل شہروں کے قریب رہنے والے درندے رات بھر اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے پہرا دیتے رہے سنا ہے کل باغوں کی سبھی کلیوں نے کھلنے سےیکسر انکار کر دیا سنا ہے کل طاقوں میں سجے تمام چراغ جلتے بھی رہے جلاتے بھی رہے مگر اندھیرا نہ چھٹا سنا ہے کل سے پہلے زندگی موت سے ڈرتی تھی مگر اب موت زندگی سے ڈرتی ہے سنا ہے کل منبر پر بیٹھ کر شریعت کا پرچار کرنے والے ملا نے الله اکبر کا نعرہ لگایا سنا ہے کل اسرافیل نے صور پھونک دیا مگر دنیا میں رہنے والے اسے سن نہ سکے سنا ہے کل آدم کو سجدہ کرنے والے فرشتے کچھ شرمندہ، کچھ پشیمان سے …

Speed Literacy Program wins the Reform Project of the Day award at Antigua Forum

Entrepreneurs of Reform Gather at the Antigua Forum Templeton Report A small group meets at the 2013 Antigua ForumAzhar Aslam, a London-based plastic surgeon originally from Pakistan, developed a remarkable literacy program. He had proved it worked in small pilots of a few dozen children. In just six months, they gained the basics of reading and writing with a couple of hours of teaching each day. By starting small, he came to realize a bigger question: how might the program be scaled up so that it could benefit his country of origin, a place in which illiteracy is correlated with poverty, intolerance, and violence?

Reading and Writing

Humayun Raja One does not need to have Masters Degree to read the sign boards to find ways and get direction. For writing a simple letter or statement to communicate, one does not need to have a bachelor’s degree. And one can run a small shop of his own even if he does not possess a business degree. But all what is needed to do that is ability to read and write and perform basic calculations. And that’s what we, through the SLP, have aimed to start with… heading towards the goal of ‘education for every child’ in Pakistan.

اس شہر میں خواب مت دیکھو۔۔۔

طارق بھٹی جًون آف آرک پندرھویں صدی کی دوسری دہائی میں مشرقی فرانس کے ایک کسان کے گھر پیدا ہوئی۔ وہ بچیپن سے ہی بہادری، شجاعت اور قربانی کے جذبات سے معمور تھی۔ وہ بشارتوں پر یقین رکھتی تھی۔ وہ ھاتف غیب سے آنے والے امید افزا پیغامات نہ صرف سنتی تھی بلکہ ان پر یقین بھی کرتی تھی۔ وہ اپنے وطن کو غلامی سے نجات دلانا چاہتی تھی۔ وہ شکستہ دل اور شکستہ پا فوجی دستوں میں فتح مندی کی نئی روح پھونکنا چاہتی تھی۔ فرانس کی خوشھالی اور آذادی کے خواب اسے ستاتے تھے۔ جًون آف آرک ابھی لڑکپن کی دہلیز سے جوانی کی شاہراہ کی طرف گامزن ہی ہوئی تھی کہ اس نے شاہ فرانس سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ ۱۹ سالہ خوبرو دہقان ذادی کہ جس کی پرورش مشرقی فرانس کے ایک دیہاتی پس منظر میں ہوئی اور اس کے والدین سادہ اور خداترس زندگی بسر کر تے تھے۔ ایک دن شاہ فرانس کے دربار میں جا پہنچی اور کہنے لگی : مجھے لڑاکا فوجی دستوں کے ساتھ جنگ کے محاذ …

A taste of Hunny

The Economist A small start on the big problem of illiteracy THE HUNNY SCHOOL, a private institution occupying two cramped buildings in Rawalpindi’s back streets, seems a happy place. The boys and girls packed into its little classrooms look pleased to be there. Some look much older than their classmates. They have a lot of catching up to do. Many were street children whose parents could not afford to send them to school. A future of illiteracy and perhaps crime and drugs beckoned.