Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

دو کیس

مشرف نے حکومت سنبھالنے کے بعد نوازشریف کی کرپشن کے خلاف تحقیقات شروع کروائیں اور اس وقت کے نیب نے جانفشانی کے بعد 2 کیس تیار کئے۔

پہلا کیس حدیبیہ پیپر مل کا تھا جس کے متعلق پانامہ کیس کے دوران میں اس پیج پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔ مختصراً دوبارہ یاد دلاتا چلوں کہ:

1۔ حدیبیہ پیپرمل شریف خاندان کی غالباً وہ واحد کمپنی ہے جس کے مالکان میں نوازشریف، شہباز شریف، ان کا مرحوم بھائی عباس شریف، ان کی بیگمات اور بچوں سمیت پوری فیملی کا نام شامل ہے

2۔ 1998 کے کمپنی ریکارڈ کے مطابق حدیبیہ پیپرمل 80 کروڑ 98 لاکھ روپے کے خسارے میں چل رہی تھی، یہ وہ مبارک خسارہ تھا جس کی وجہ سے شریف فیملی اپنی انکم پر ٹیکس کی ادائیگی سے بچ جایا کرتی تھی، پوری فیملی کو اس کمپنی کی ملکیت دینے کی شاید ایک وجہ یہ بھی تھی تاکہ ٹیکس فوائد سب کو یکساں حاصل ہوسکیں۔

3۔ 1999 میں حدیبیہ پیپرمل نے التوفیق کمپنی برائے انویسٹمنٹ فنڈز (لندن) کو اپنے ایک پرانے قرضے کی ادائیگی کے سلسلے میں 8 اعشاریہ 7 ملین ڈالرز کی رقم ادا کی۔ قانونی اعتبار سے اس چیز کی کوئی وضاحت نہ کی گئی کہ خسارے میں چلنے والی کمپنی نے اکٹھی اتنی بڑی رقم کیسے ادا کردی؟ خاص کر جب کہ اس کمپنی کا 1998 تک پیڈ اپ کیپٹل (یعنی مالکان کی انویسٹمنٹ) صرف 9 کروڑ روپے تھی اور اس میں کسی قسم کا اضافہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ اگر مالکان نے قرض کی رقم ادا کی ہوتی تو قانونی اور اکاؤنٹنگ قواعد کی رو سے پیڈ اپ کیپٹل اسی حساب سے بڑھ چکا ہوتا۔

4۔ 1999 میں ہی حدیبیہ پیپر مل کے اکاؤنٹ میں 64 کروڑ 27 لاکھ روپے کی رقم مختلف غیر ملکی اکاؤنٹس سے ٹرانسفر ہوئی۔ یہ رقم کہاں سے آئی؟ کیوں آئی؟ اس کی بھی کوئی وضاحت موجود نہیں تھی۔ خاص کر ایک ایسی کمپنی جو کہ تقریباً 81 کروڑ کے خسارے میں چل رہی ہو، اس میں 64 کروڑ کی انویسٹمنٹ شاید حاتم طائی جیسا سخی بھی نہ کرتا۔

5۔ 2000 میں اسحاق ڈار (جو کہ بطور وزیرخزانہ اپنے آپ کو ٹائیگر کہا کرتا تھا) مجسٹریٹ کی عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے اور 40 سے زائد صفحات کا ایک بیان حلفی اپنے ہاتھ سے لکھ کر جمع کروا دیتا ہے۔ اس بیان حلفی میں وہ لندن کی قاضی فیملی کے تمام ممبران کے نام بتاتا ہے جن کے ناموں سے جعلی فارن کرنسی اکاؤنٹس کھلوائے گئے، پھر پاکستان سے رقم لانڈرنگ کے زریعے بیرون ممالک منتقل کرکے ان اکاؤنٹس میں جمع کروائی گئی اور پھر واپس قانونی طریقے سے حدیبیہ کے اکاؤنٹس میں ڈال دی گئی۔

6۔ غیرملکی اکاؤنٹس سے 64 کروڑ کی رقم جس شخص کے اکاؤنٹ میں کنسولیڈیٹ ہوئی، اس کا نام سعید احمد ہے، جس کے اکاؤنٹ سے پھر آگے حدیبیہ کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی گئی۔ یہ سعید احمد وہی شخص ہے جسے نوازشریف نے تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد سٹیٹ بنک کا ڈپٹی گورنر لگایا اور پھر چند ماہ قبل نیشنل بنک آف پاکستان کا صدر بنا دیا۔

7۔ 64 کروڑ کی رقم حدیبیہ کے اکاؤنٹس میں آنے کے بعد اس رقم کو بطور زرضمانت استعمال کرتے ہوئے مقامی اور غیرملکی بنکوں سے مزید قرضے لئے گئے، مقامی بنکوں سے لئے گئے قرضے ان کی پرائیویٹائزیشن کے دوران معاف کروا لئے گئے اور پھر شریف فیملی اس قرض کی رقم اور زرضمانت، واپس اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کرلیتی۔

8۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شریف فیملی نے اپنی ہی رقم پہلے جعلی اکاؤنٹس بنا کر بیرون ملک ٹرانسفر کی اور پھر دوبارہ حدیبیہ اکاؤنٹ میں کیوں ڈالی؟ جناب، اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ جو رقم لانڈرنگ کے زریعے غیرملکی اکاؤنٹس میں بھجوائی جاتی، وہ حرام کے زرائع سے کمائی ہوئی رقم تھی جو موٹروے، پیلی ٹیکسی، قرض اتارو ملک سنوارو، پرائیویٹائزیشن اور دوسرے میگا پراجیکٹس میں کمیشن کے زریعے کمائی جاتی۔ اگر شریف برادران یہ رقم براہ راست اپنے اکاؤنٹس میں جمع کروا دیتے تو اگلے ہی دن پکڑے جاتے کیونکہ اس رقم کا سورس بتانا پڑتا، اور جس طرح حرام کی اولاد کا کوئی باپ نہیں ہوتا، اسی طرح حرام کی کمائی کا بھی کوئی سورس نہیں ہوتا۔

9۔ حدیبیہ کیس اس وقت کے نیب کے سربراہ خالد مقبول نے تیار کیا تھا اور یہ تحقیقات کے حوالے سے ایک بھرپور جامع مشق تھی جو بڑی جانفشانی سے کی گئی۔

بعد میں مشرف سے ڈیل کرکے نوازشریف جدہ بھاگ گیا اور مشرف کی بے غیرتی کی وجہ سے حدیبیہ کا مقدمہ داخل دفتر کردیا گیا۔

زرداری دور میں جب شریف برادران اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر زردری کو گھسیٹنے کی دھمکیاں دینے لگے تو رحمان ملک کے زریعے حدیبیہ پیپرمل کا مقدمہ دوبارہ کھولا گیا۔

افتخار چوہدری کی وجہ سے لاہور ہائکورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف نوازشریف کا ذاتی منشی بن چکا تھا، اس کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ اس کی جیب میں تھا۔ شریف برادران نے نیب کی جانب سے حدیبیہ کیس ری اوپن کرنے کے خلاف پٹیشن دائر کردی اور چیف جسٹس نے 2 رکنی بنچ بنا کر معاملہ اس کے حوالے کردیا۔ اس 2 رکنی بنچ نے سپلٹ ورڈکٹ یعنی اختلافی فیصلہ دیا، یعنی ایک جج نے شریف برادران کے حق میں اور دوسرے نے خلاف فیصلہ دیا۔ ایسی صورت میں معاملہ چیف جسٹس کے پاس گیا اور اس نے ایک تیسرے جج جسٹس شمیم کو یہ کیس ریفر کردیا۔
جسٹس شمیم نے حسب توقع شریف برادران کے حق میں فیصلہ دے دیا اور حدیبیہ کیس کھولنے سے منع کردیا۔ یاد رہے، یہ 2 رکنی بنچ کی چالاکی وہی ہے جو سندھ میں زرداری بھی کھیلتا ہے، ڈاکٹر عاصم کی ضمانت بھی اسی طرح ہی ہوئی تھی۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کروڑوں روپے لانڈرنگ کے زریعے باہر جاتے ہیں، پھر واپس آتے ہیں، ان پر قرضہ لیا جاتا ہے، پھر اسے معاف کروا لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ سنا تھا کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے، شریف فیملی کے ہاتھ میں وہ جادو ہے کہ یہ بغیر پیسے کے بھی پیسہ کھینچ لیتے ہیں۔

حدیبیہ کیس کرپشن کی ایک بدترین مثال ہے اور اتنا واضح ہے کہ ایک میٹرک کا طالبعلم بھی بتا سکتا ہے کہ اس میں کرپشن ہوئی اور شریف فیملی پوری طرح سے ملوث ہے۔

یہ صرف پاکستان کی برکات ہی ہیں کہ یہاں بڑا چور وزیراعظم اور وزیراعلی بن جاتا ہے، جبکہ ایک بھوکا شخص روٹی چرانے کے جرم میں کئی کئی مہینے حوالات میں پڑا رہتا ہے۔

ہر وہ شخص جو جانے انجانے میں نوازشریف کی اس چوری کا دفاع کرتا ہے، وہ اپنا انجام نوازشریف کے ساتھ دیکھنے کیلئے تیار رہے، چاھے وہ کوئی مولوی ہو یا لبرل، عام آدمی ہو یا کوئی پڑھا لکھا دانشور۔ نوازشریف نے عوام کا حق مارا ہے، اس کی حمایت کرنے والا بھی اس کے جرم میں برابر کا شریک ہے، کیونکہ اللہ سب سے بڑا منصف ہے!!! بقلم خود باباکوڈا

وہ تو بند کانوں سے بھی زنانہ آواز سن لے

اکثر سیاستدانوں کو دیکھ کر وہ خاوند یاد آ جائے کہ جس سے ڈاکٹر نے جب پوچھا ’’کیا تمہارا اور تمہاری بیوی کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے‘‘ تو خاوند بولا ’’ہونا تو چاہئے کیونکہ پچھلے 15سالوں سے میرا ہی خون چوس رہی ہے‘‘ جبکہ اپنی عوام پر نظر ماریں تو یکطرفہ محبت کرتا وہ عاشق ذہن میں آئے جس نے جب اپنی محبوبہ سے کہا ’’ایڈریس بتاؤ میں تمہارے گھر آنا چاہتا ہوں‘‘ تو محبوبہ بولی ’’جس گھر کی چھت پر کوّا بیٹھا ہو گا وہی میرا گھر‘ وہاں آجانا‘‘ عاشق نے حیران ہو کر کہا ’’کوّا تو کسی گھر پر بھی بیٹھا مل سکتا ہے‘‘ محبوبہ نے جواب دیا ’’تمہیں کیا‘ تم نے تو جُتیاں ہی کھانی ہیں‘ کسی گھر سے بھی کھا لینا‘‘ ابھی حال ہی میں ہوئے اک سروے سے پتا چلا کہ 40فیصد لوگ سیاست دانوں کو اچھا نہیں سمجھتے‘ 25فیصد سیاست دانوں کو بالکل نہیں سمجھتے جبکہ باقی بچے 35فیصد خود سیاست میں‘ یہی سروے بتائے کہ ہمارے سیاستدان اُس انجینئر جیسے جس نے کیل ٹھونکنے کا ایسا طریقہ ایجاد کیا کہ کچھ بھی ہو جائے مگر کیل ٹھونکتے ہوئے ہتھوڑی انگلی پر نہیں لگے گی‘ وہ طریقہ یہ کہ کیل ٹھونکتے وقت کیل کسی دوسرے کو پکڑا دیں اور اسی سروے نے بتایا کہ ہمارے سیاست دان تو وہ ماہر ڈاکٹر جو بنا درد کے دانت نکال لیں‘ مطلب دانت نکال لیں‘ درد رہنے دیں۔
وقت ثابت کر چکا کہ اپنے سیاست دانوں کی ظاہری شکلیں الگ الگ‘ مگر باطنی خواہشیں ایک سی‘ سب کا ’’جنرل نالج‘‘ کمزور‘ سونے کے بعد اور اُٹھنے سے پہلے ان سے اچھا کوئی نہیں اور یہ عوامی مسائل کا حل یوں نکالیں کہ لوگوں کو مسائل سے ہی محبت ہو جائے‘ دنیا بھر کے سیاست دان تو لمبی لمبی تقریروں سے بور کریں مگر ہمارے سیاست دان یہی کام چھوٹی چھوٹی تقریروں سے بھی کر لیں اور تقریریں بھی ایسی کہ ایک بار ہم اپنے ایک رہنما کی تقریر سننے گئے مگر بڑی شرمندگی ہوئی کیونکہ ہمیں تقریر سمجھ ہی نہ آئی‘ کچھ عرصہ بعد جب انہیں دوبارہ سنا تو پھر شرمندگی ہوئی کیونکہ اس بار تقریر سمجھ آگئی‘ سب کی تقریریں سلطان راہی کی بڑھکوں جیسی‘ سلطان راہی سے یاد آیا کہ جیسے دو موقعوں پر بندے کے خواب ٹوٹ جائیں‘ ایک جب اس کی اپنی محبت سے شادی نہ ہو پائے اور دوسرا جب اس کی اپنی محبت سے شادی ہو جائے‘ ایسے ہی سلطان راہی دور میں ہمارے ہاں دو طرح کی فلمیں بنا کرتیں‘ ایک وہ جو اچھی نہیں ہوتی تھیں اور دوسری وہ جو بُری ہوتی تھیں‘ اس زمانے میں تو جتنی بڑی بڑی ہماری ہیروئنیں ہوا کرتیں‘ اتنی بڑی تواب ہماری فلم انڈسٹری بھی نہیں‘ اسی دور کی ایک قد کاٹھ والی ہیروئن تو اتنی رومانٹک تھی کہ رومانس کرتے ہوئے سین میں یوں گم ہو جاتی کہ پھر اگلے سین کیلئے ہدایتکار کو اسے ڈھونڈ کر لانا پڑتا‘ یہاں سین سے مراد وہی جو آپ سمجھ رہے ہیں‘ تب کی فلمیں ایسی ہٹ بلکہ سپرہٹ کہ ایک فلم میں ہیرو نے ہیروئن کا ہاتھ پکڑ کر جب اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا ’’کیا ہم اکیلے ہیں‘‘ تو ہال میں بیٹھا اکلوتا شخص بولا ’’آج تو نہیں مگر کل آپ اکیلے ہی ہوں گے‘‘ ایک بار سلطان راہی کی فلم دیکھتے ہوئے شیخو سے پوچھا کہ اگر ہماری فلموں سے بڑھکیں نکال دی جائیں تو باقی کیا بچے گا‘‘ بولا ’’ٹائم بچے گا‘‘ بات کہاں سے کہاں نکل گئی‘ ذکر ہو رہا تھا سیاستدانوں کا‘ یہاں سیاستدانوں سے بے پناہ محبت کی جائے بلکہ اب تو اپنے گھروں میں ان کی چاہت کا یہ عالم کہ ایک سیاسی رہنما اغوا ہوئے تو ایک ہفتے بعد ڈاکوؤں نے ان کے گھر فون کر کے کہا کہ اگر اگلے دو دنوں میں 20لاکھ نہ بجھوائے تو ہم انہیں واپس گھر چھوڑ جائیں گے‘ گھر والوں نے اگلے دو گھنٹوں میں ہی رقم بجھوا دی۔
ہمارا وہ سیاستدان جو جب پیدا ہوا تو کسی نے اس کے باپ سے پوچھا ’’بیٹا ہوا یا بیٹی‘‘ تو باپ بولا ’’دھاندلی‘‘ ہوئی ہے، جس نے اسکول کے زمانے میں ہر ٹیسٹ میں انڈا دینے پر اپنی استانی کا نام مرغی رکھ دیا‘ جس نے زندگی بھر کسی بے وقوف کو اپنا نہیں بنایا ہمیشہ اپنوں کو بے وقوف بنایا، جس نے ایک دفعہ لفظ اوسطاً کا مطلب ایسے سمجھایا کہ ’’جب کسی شخص کا ایک پاؤں جلتے چولہے میں ہو اور دوسرا پاؤں فریج میں تو اوسطاً وہ شخص پرسکون زندگی گزار رہا ہو گا، جسے جب پتا چلا کہ بندہ ایک گردے سے بھی زندہ رہ سکتا ہے تو اس نے فوراً کہہ دیا کہ ’’مرنے کے بعد اس کا ایک گردہ عطیہ کر دیا جائے‘‘، جس کی ہی یہ تھیوری کہ ’’بچے کنٹرول کرنے والے اگر بڑوں کو کنٹرول کر لیں تو بچے کنٹرول کرنے کی نوبت ہی نہ آئے‘‘، جو اپنی 5سالہ تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ’’چونکہ ساغر صدیقی اس لئے نہایا نہیں کرتا تھا کہ اسے پانی گیلا لگتا تھا لہٰذا اسے چاہئے تھا کہ وہ ٹونٹی بند کر کے نہا لیتا‘‘، جو مقرر تو اتنا اچھا کہ لاکھوں کے مجمع کو کنٹرول کرلے مگر ناظر اتنا بُرا کہ ایک خاتون کو دیکھتے ہی آؤٹ آ ف کنٹرول ہو جائے، جو بند کانوں سے بھی زنانہ آواز سُن لے‘ جس نے ایک لڑکی سے پیار ہونے پر لڑکی کے گھر کے اتنے چکر لگائے کہ لڑکی کی ماں تک کو چکر چڑھ گئے‘ جس نے ایک عرصے تک مشہور کئے رکھا کہ وہ خود ایف ایس سی، بیٹا بی ایس سی اور اہلیہ ایم ایس سی، وہ تو بعد میں پتا چلا کہ ایف ایس سی سے ان کی مراد فادر آف سیون چلڈرن، بی ایس سی سے برادر آف سیون چلڈرن اور ایم ایس سی مطلب مدر آف سیون چلڈرن اور جو عملی سیاست میں آنے سے پہلے بھی اتنا تیز کہ ایک مرتبہ سیڑھی کے اوپر والے ڈنڈے پر کھڑا تھا کہ اس کے ہاتھ سے چوّنی گر گئی لیکن یہ اس تیزی سے نیچے اترا کہ جب زمین پر آکر کھڑا ہوا تو چونی اس کے سر پر گری، ہمارے اسی سیاستدان دوست کا کہنا ہے کہ مولوی اور تھانیدار موٹے اور سیاستدان خوشحال نہ ہوں تو سمجھو یہ اپنے پیشے سے مخلص نہیں‘ اسی کا ماننا ہے کہ اپنے ہاں مارشل لاء میں کوئی سچی بات کرتا نہیں اور جمہوریت میں کوئی سچی بات سنتا نہیں اور اسی کا تجربہ کہ ہماری سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی کہ دو کی لڑائی میں جیت ہمیشہ تیسرے کی ہو‘ پچھلے ہفتے اسی گوہرِ نایاب سے ملاقات ہوئی اور باتوں باتوں میں جب میں نے یہ پوچھ لیا کہ ’’آپ کے ماشاءاللہ اتنے ڈھیر سارے بچے مگر کسی کو بھی سیاست میں نہیں لائے کیوں؟ تو جواب ملا ’’ایک پوسٹ ماسٹر جنرل کی الوداعی پارٹی میں جب ایک جونیئر نے بڑی عقیدت سے اپنے ریٹائر ہونے والے باس سے کہا ’سر اپنے تجربے کی روشنی میں کوئی نصیحت یا ہدایت فرما دیں‘ تو پوسٹ ماسٹر جنرل بولا ’’میری پنشن بذریعہ ڈاک نہ بھجوانا‘‘۔
صاحبو! اپنے ہاں تو ایسے ایسے لوگ بھی رہنما بنے بیٹھے جنہیں غور سے دیکھیں تو بندے کا ہاسہ نکل جائے‘ جن کی 5منٹ بات توجہ سے سن لیں تو جسم پر ’’مہاسے‘‘ نکل آئیں‘ اورجن کی فہم و فراست دیکھ کر ٹرین حادثے میں اکیلا بچ جانے والا وہ سردار یاد آئے کہ جس سے انکوائری ٹیم نے جب پوچھا ’حادثہ کیسے ہوا‘ تو یہ بولا ’سب کچھ ٹھیک تھا بس اس اعلان پر کہ ٹرین پلیٹ فارم پر پہنچنے والی‘ سب سرداروں نے جانیں بچانے کیلئے افراتفری میں پلیٹ فارم سے پٹری پر چھلانگیں لگا دیں‘ پھر آپ کیسے بچ گئے‘ اس سوال پر سردار جی بولے ’’میں تو خود کشی کیلئے پٹری پر لیٹا ہوا تھا جب میں نے یہ اعلان سنا کہ ٹرین پلیٹ فارم پر آرہی تو میں پٹری سے اُٹھ کر پلیٹ فارم پر آکر لیٹ گیا‘‘، لیکن دوستو! سارا قصور سیاستدانوں کا بھی نہیں کیونکہ جیسی قوم ویسے رہنما‘ پھر جس معاشرے میں سب چلتا ہو، اس معاشرے میں یہی لوگ چلتے ہیں اور پھر یاد رہے لوگ دھوکہ تب دیتے ہیں جب آپ انہیں موقع دیتے ہیں۔

سیاسی اجارہ داری کا خطرہ

آج سے صرف چند ماہ پہلے تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خوش قسمتی کااستعارہ، جلا وطنی کاٹ کر پھر سے اہل وطن کےکندھوں پر سوار ہو جانے والا تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے عبرت کا نشان بن جائے گا اور لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے پھریں گے….. واپس آئے گا یا نہیں آئے گا؟ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے لیکن جو ہوچکا وہ بھی بہت کافی ہے بشرطیکہ کھال اور دماغ موٹے نہ ہوں۔ ان کی بددماغی، بدنیتی، بددیانتی اور بدنظمی کی نحوست پورے ملک پر چھائی ہوئی ہے۔ ’’ترقی ترقی‘‘ کا شور مچانے والے کے سمدھی شریف ڈار نے ملکی معیشت کو اس طرح ڈسا ہے کہ اس کے اثرات مدتوں زائل نہ ہوسکیں گے۔ اندرونی، بیرونی قرضے، زرمبادلہ، ایکسپورٹ کی تباہی وغیرہ تو چھوڑیں، تازہ ترین جھٹکا ملاحظہ فرمائیںکہ نیپرا نے ایک یونٹ بجلی کی قیمت3روپے 90 پیسے تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے جس کے منفی اثرات دال دلئے تک بھی محسوس کئے جاسکیںگے اور تب شاید بہت سے مہربانوں کو گزشتہ انتخابی مہم کے دوران میری کہی گئی یہ بات یاد آئے کہ ان کو آتو لینے د و، عوام کی چیخیں چانگڑیں مریخ تک سنائی دیں گی۔ ادھر پٹرول بھی غائب، سپلائی 60 فیصدکم اور کئی پٹرول پمپس بند۔ یہ تو کچھ بھی نہیں، اس سے بدترکا انتظارکریں کہ زہریلے ڈاروں یعنی کانٹوں کی یہ فصل ہم سب نے مل جل کر کاشت کی ہے۔ جس ملک کا وزیرخزانہ ہی چور ہو اس کے خزانے سے بھوک، ننگ، بیروزگاری، غربت، افلاس نہیں تو کیا ’’ویلفیئر اسٹیٹ‘‘ نکلے گی؟ اس سمدھی شریف وزیر خزانہ کے گھر کا نام ہے۔ ’’ہجویری‘‘ اور کام ہے رقموں ہندسوں کی ہیراپھیری اور نواز شریف فیملی کو اس ’’باعزت مقام‘‘ پر پہنچانےوالا فنکار بھی یہی ہے ورنہ میاں صاحب مقامی ہیرپھیر سے آگے کے گاہک نہیں تھے۔ ڈار فنکار نے ہی انہیں پیسے کی ڈرائی کلیننگ اور ٹریولنگ کے طریقے، نسخے، فارمولے بتاکر یہاں تک پہنچایا۔ کاش کبھی کوئی جلاوطنی پارٹ ٹو کو اس کی عزیز ترین ہستی کی قسم دے کر پوچھے کہ کیا ڈار ہی ان کی سیاست و عزت کے تابوت کا پہلا اور آخری کیل نہیں؟ ڈھیٹ اتنا کہ وارنٹ گرفتاری، چھاپوں، اکائونٹس، اثاثے منجمد ہونے پربھی وزارت سے چپکا ہواہے تو یہی ہونا بھی چاہئے تھاکہ ’’بودی پان شاپ‘‘ پر اس سے بہتر تربیت ہوہی نہیں سکتی۔ یہ خبر پڑھ کر میرے دل پر ہاتھ پڑا کہ اسحاق ڈارکے بنک اکائونٹ محنت سے کمائے حلال ترین 87کروڑ پڑے کے پڑے منجمد ہوگئے۔ یہ معمولی سی ریزگاری ٹائپ رقم لاہور کے 2نجی بنکوں کی برانچوں میں موجود ہے۔ اسحاق ڈار کی پاکستان میں بھی اربوں روپے کی جائیدادہے اور یہ بھی اپنے مالکان کی طرح منی ٹریل دینے سےقاصر۔قتل وغیرہ کے مقدمات میں ’’کاز آف ڈیتھ‘‘ یعنی وجۂ مرگ کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ کل کلاں جب نوازشریف کے زوال اور سیاسی موت کی چھان بین ہوگی تو مجھے یقین ہے ’’کاز آف ڈیتھ‘‘ کے خانہ میں اسحاق ڈار کا نام دیکھنے کو ملے گا۔ایک اخباری اطلاع کے مطابق ’’ن لیگ میں دراڑوں پرنوازشریف سخت پریشان ہیں۔ شاہدخاقان عباسی، چوہدری نثار علی خان، خواجہ آصف اور احسن اقبال وغیرہ جیسے لوگ ایک دوسرے کو مسلسل ٹارگٹ کئے ہوئے ہیںجس کے نتیجہ میں ن لیگ تنکوں کی طرح بکھرتی نظر آ رہی ہے۔ ن لیگی رہنمائوں میں تنائو بتدریج بڑھتا چلاجارہا ہے۔‘‘قارئین!گزشتہ پیرے میں ایک لفظ بھی میںنے اپنی طرف سے شامل نہیں کیا اور میرے نزدیک یہ کوئی اچھی، مثبت، صحت مند صورتحال نہیں ہے کیونکہ پاکستان پیپلزپارٹی پہلے ہی سندھ تک سمٹ چکی ہےاور قومی سطح پر اس کا کردارتقریباً صفر رہ گیاہے۔ ایسے میں ’’ن‘‘ لیگ کا تنکوں کی طرح بکھرنا‘‘قطعاً کوئی نیک شگون نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں قومی سطح اور سین پر صرف پی ٹی آئی ہی باقی رہ جائے گی یعنی پھر وہی مناپلی، اجارہ داری کا سا ماحول جو ملک اور معاشرے کے لئے کسی بھی حوالہ سے بہتر نہیں کیونکہ ’’مناپلی‘‘ کا روباری ہو یا سیاسی ہمیشہ عوام دشمن ہوتی ہے۔پاکستان جیسے معاشرہ میں ، میں تو روز ِ اول سے ’’تیسری قوت‘‘ کو بھی بہت اہمیت دیتا آیا ہوں تاکہ دو بنیادی قوتیں اپنی اوقات اور کینڈے میں رہیں لیکن یہاں تو صورتحال ’’اجارہ داری‘‘کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے جبکہ ن لیگ (چاہے ’’ش لیگ‘‘ کی شکل میں) کو قائم اور مستحکم رہنا چاہئے۔ اس کارخیر کے لئے شہباز شریف کو کوئی کڑوا، تلخ، ترش زہریلا گھونٹ بھی پینا پڑے تو گریز پرہیز سے بچنا ہوگا۔’’اجارہ داری‘‘ بھلے PTI کی ہی کیوں نہ ہو، خود PTI کے لئے بھی فائدہ مند نہیں اور ملکی سیاست کے لئے بوسہ ٔ مرگ سے کم نہ ہوگی۔

نذرگوندل کی تحریک انصاف میں شمولیت؟

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے پنشن کی مد میں جو کٹوتی ہوتی ہے، وہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس (ای او بی آئی) نامی ایک وفاقی ادارے کو ملتی ہے، پھر یہ ادارہ اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے ان فنڈز کو لانگ اور شارٹ ٹرم بنیادوں پر انویسٹ کرکے منافع کماتا ہے۔ اس منافع کی مدد سے یہ ادارہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو پنشن کی ادائیگی کرتا ہے۔ ایسے ادارے دنیا کے ہر ملک میں ہائے جاتے ہیں اور ان کی یہ پریکٹس بھی بہت حد تک کامن ہے۔

زرداری دور میں اس ادارے کا سربراہ ظفرگوندل نامی شخص ہوا کرتا تھا۔

ظفرگوندل نے زرداری دور میں منصوبہ بنایا کہ ای او بی آئی کے فنڈز کو رئیل سٹیٹ میں انویسٹ کیا جائے تاکہ پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے ادارے کو فائدہ پہنچ سکے۔ یہاں تک تو یہ منصوبہ ٹھیک تھا، لیکن پھر ظفر گوندل نے جو چھکے لگائے، ان میں سے چند ایک کی تفصیل کچھ یوں ہے:

1۔ ن لیگ کے موجودہ ایم این اے منصب ڈوگر کو فائدہ پہنچانے کیلئے اس کے ایک جاننے والے سے اسلام آباد کا کراؤن پلازہ ایک ارب 20 لاکھ میں خرید لیا جبکہ اس پلازے کی مارکیٹ ویلیو اس سے آدھی سے بھی کم تھی۔ چونکہ ادائیگی ای او بی آئی کی طرف سے ہوئی، اس لئے 60 کروڑ کا منافع ظفرگوندل، منصب ڈوگر اور ان کے ایک پارٹنر نے آپس میں تقسیم کرلیا۔

2۔ پیپلزپارٹی کے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کو خوش کرنے کیلئے اس کے داماد کے بڑے بھائی مقصودالحق سے کلرکہار اور تلہ گنگ کی زمین 9 کروڑ میں خرید لی جبکہ اس کی مارکیٹ ویلیو ڈھائی کروڑ سے بھی کم تھی۔

3۔ ظفرگوندل کی کرپشن کی خبریں اس وقت کے چیف جسٹس افتخارچوہدری تک جانا شروع ہوگئیں، قبل اس کے کہ وہ سوموٹو نوٹس لیتا، ظفرگوندل نے افتخارچوہدری کے ہونے والے سمدھی ڈاکٹر امجد سے اس کی لاہور اور فیصل آباد کی ہاؤسنگ سکیموں سے ایک ارب 90 کروڑ کے دو پلاٹس خرید لئے، حالانکہ ان پلاٹس کی مارکیٹ ولیو 8 کروڑ سے بھی کم تھی۔

4۔ مستقبل میں تحریک انصاف میں جگہ بنانے کیلئے پی ٹی آئی کے صوبائی صدر عبدلعلیم خان کی ملتان روڈ لاہور کی ہاؤسنگ سکیم سے 2 ارب 60 کروڑ کے دو پلاٹس خرید لئے جن کی مارکیٹ ویلیو شاید 10 کروڑ سے بھی کم تھی۔

5۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ، پی ٹی آئی اور چیف جسٹس کو رام کرنے کے بعد پیچھے صرف فوج بچی تھی، چنانچہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی سے 15 مارچ 2013 کو میٹنگ کی اور اگلے ہی روز ظفرگوندل نے ای او بی آئی کی رقم سے جنرل کیانی کے بھائی کامران کیانی سے 6 ارب 83 لاکھ روپے میں اسلام آباد کے پلاٹس خرید لئے۔ ان کی بھی مارکیٹ ویلیو 10 کروڑ سے کم تھی۔

ظفرگوندل کے خلاف ایف آئی اے نے تحقیقات کیں، مقدمہ درج کیا، نوازشریف کی حکومت میں اس مقدمے کی نیم دلی سے پیروی کی گئی، پھر 2014 میں ظفر گوندل کو ضمانت پر رہائی مل گئی اور آج تک وہ آزاد ہے۔

افتخارچوہدری کا سمدھی ڈاکٹر امجد اربوں روپے بنا بیٹھا، جنرل کیانی کا بھائی بھی 6 ارب لے اڑا اور دبئی جابیٹھا، ن لیگ کا منصب ڈوگر 30 کروڑ بنانے کے بعد 2013 کے الیکشن میں فی ووٹ 1000 روپیہ خرچ کرکے ایم این اے منتخب ہوگیا اورپچھلے 4 سال میں 30 کروڑ کا 30 ارب بنا چکا۔ پی ٹی آئی کا عبدلعلیم خان بھی چند کروڑ کے پلاٹس کو بیچ کر 2 ارب 60 کروڑ بنا بیٹھا۔

یہ ہے پاکستان کا کرپشن مافیا، جو عوام کی کمائی کو دھڑلے سے لوٹتا ہے، پھر اپنی اس لوٹ مار میں ہر ایک کو مناسب حصہ دے کر بچ جاتا ہے۔

ظفرگوندل کا بڑا بھائی نذر گوندل ہے جو اس کی کرپشن میں پوری طرح حصے دار تھا۔ نذرگوندل چند ماہ پہلے تحریک انصاف میں شامل ہوگیا اور آج کل ملک میں تبدلی لانے کیلئے کوشاں ہے۔

مجھے نوازشریف، زرداری، افتخارچوہدری، پرویزکیانی اور عبدالعلیم خان سے کوئی گلہ نہیں، یہ سب لوگ سٹیٹس کو کے نمائیندے ہیں۔ مجھے اعتراض نذرگوندل کی تحریک انصاف میں شمولیت پر ہے۔

عمران خان صاحب، نذرگوندل ایک قومی مجرم ہے جو قومی خزانے کو 400 ارب کا ٹیکہ لگا چکا، آپ کو ہر صورت اسے اپنی پارٹی سے دور رکھنا ہوگا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کرپشن کے خلاف جدوجہد کریں اور نذرگوندل جیسے مافیا آپ کے ساتھ بیٹھے ہوں۔

نذرگوندل کو اپنی پارٹی سے باہرنکالیں اور اپنی پارٹی کوایسے گندے انڈوں سے محفوظ رکھیں۔

اگر نذرگوندل کو آپ نے اگلے الیکشن میں ٹکٹ دیا تو میرا وعدہ ہے کہ ن لیگ کے ساتھ ساتھ آپ کی پارٹی کی بینڈ بھی بجاؤں گا ۔ ۔ ۔ ۔

یہ عوام کا پیسہ ہے، اسے لوٹنے والا ہر شخص حرامزادہ اور بے غیرت ہے، چاھے وہ ن لیگ میں ہو، پیپلزپارٹی میں ہو، جے یو آئی میں ہو یا تحریک انصاف میں۔

خان صاحب، نذرگوندل کو اپنی جماعت سے نکالیں ۔ ۔ ۔ ورنہ!!!! بقلم خود باباکوڈا
پس تحریر: اوپر بیان کی گئی تفصیلات ایف آئی اے کی رپورٹ سے حاصل کی گئی ہیں جو انہوں نے گوندل برادران کے خلاف 2013 میں عدالت میں جمع کروائی۔

ہے کوئی جواب؟

 

ایک شخص پر ایک لاکھ روپے قرضہ چڑھ گیا۔
گھر کے سودے سلف کے ضمن میں دکاندار کا الگ سے مقروض۔
بیوی بیمار تھی جس کے علاج کے لیے پچاس ہزار روپوں کی ضرورت تھی۔
بجلی کٹی ہوئی تھی کیونکہ دس ہزار روپے کا بل بقایا تھا۔ قرض پر ہی تیل خرید کر لالٹین جلاتا یا اشد ضرورت کے لیے گھر میں پڑا ہوا پرانا جنریٹر چلاتا۔
آمدن دس ہزار روپے جبکہ اخراجات بیس ہزار روپے ماہوار۔

پھر اس نے گھر کا سارا اختیار اپنے بیٹے کو سونپ دیا۔

بیٹے نے فوری طور پر گاؤں کے ساہوکار کے پاس گھر گروی رکھ دیا اور بدلے میں ایک لاکھ روپے قرضہ مزید لے لیا۔

بجلی کا بل جمع نہیں کیا۔ البتہ تیل والے کے بقایاجات ادا کر کے قرض پر مزید بہت سا تیل گھر لے آیا اور گھر والوں کو کھلا جنریٹر چلانے کی اجازت دے دی۔

ماں کا علاج نہیں کیا لیکن دوا دارو کے لیے دس ہزار روپے دے دئیے کہ بس زندہ رہے۔

چالیس ہزار کی اس نے عیاشی کر لی۔

اور باقی چالیس ہزار روپوں کا وہ آئی فون لے آیا۔ آئی فون میں مہینے کا تین ہزار روپے بیلنس پڑ رہا تھا۔

آئی فون میں مزے مزے کی گیمیں تھیں۔ کال پیکجز کروائے۔ اس کے سارے بہن بھائی آئی فون پاکر بہت خوش تھے۔

کچھ دنوں بعد اسکی چالیس ہزار روپے کی عیاشی کی خبریں بھی گھر آگئیں جس کے بعد اس کے باپ نے اسکو گھر سے نکال دیا۔

وہ چیختا رہا کہ میرا قصور کیا ہے؟؟

میری بدولت اس گھر میں لوگوں نے آئی فون کی شکل دیکھی ہے جو پڑوسیوں کے پاس بھی نہیں۔ میری بدولت اب جنریٹر زیادہ دیر چلتا ہے اور گھر میں زیادہ دیر روشنی رہتی ہے۔

میں نے اگر کھائے ہیں تو لگائے بھی تو ہیں۔ پھر بھی مجھے نکال دیا ۔۔۔ کیوں ؟؟

کیا آپ اس لڑکے کا قصور بتا سکتے ہیں ؟؟؟ ۔۔۔۔۔ 🙂

چلیں ایک اور مثال دیتا ہوں۔

پاکستان پر تقریباً پچاس ارب ڈالر قرضہ۔
آبادی کی اکثریت بیمار اور صحت کا بجٹ کم از کم سو ارب روپے سالانہ کرنے کی اشد ضرورت۔
ڈیموں کی شدید ضرورت۔ تیل کی مدد سے دنیا کی مہنگی ترین اور ناکافی بجلی پر ملک چلایا جا رہا۔
پاکستان کا اخراجات، آمدن سے دگنے۔

ان حالات میں اقتدار نواز شریف کو ملا ۔۔۔ ۔

اس نے فوی طور پر عالمی ساہوکاروں سے تیس ارب ڈالر کا مزید قرضہ لیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی اثاثے گروی رکھوائے۔

پانچ سے چھ ارب ڈالر میں کالاباغ جیسا کوئی بھی ڈیم بن سکتا تھا لیکن نواز شریف نے تقریباً پانچ ارب ڈالر تیل سے بجلی بنانے والی کمپنیوں کو ادا کر کے پاکستان کے لیے مزید تھرمل بجلی کا عارضی بندوبست کر لیا۔

صحت کا بجٹ سو ارب کے بجائے پندرہ سے بیس ارب روپے کے درمیان رکھا اور اس بجٹ میں سے بھی ہر سال چند ارب روپے کی کٹوتی کرتا رہا۔

البتہ میٹرو اور اورینچ ٹرین کے نام سے کم از کم ڈھائی سو ارب روپے کے منصوبے شروع کیے جس میں یہ بیمار عوام اے سی کے مزے لے سکتی ہے۔ ہاں یہ ہے کہ ان دونوں منصوبوں کو چلائے رکھنے کے لیے بھی سالانہ بارہ سے پندرہ ارب روپے قومی خزانے سے ادا کرنے ہونگے۔

عوام میٹرو اور اورینج ٹرین پاکر کافی خوش ہے۔

اتنے میں مختلف ممالک میں نواز شریف کے اربوں ڈالر کے اثاثوں کا انکشاف ہوا جس پر اسکی نسلیں عیاشی کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اسکو نکال دیا۔

اب نواز شریف چیخ رہا ہے کہ میں نے اس ملک کو میٹرو اور اورینج ٹرین دی جو اڑوس پڑوس کے ممالک میں بھی نہیں۔ میری وجہ سے گھروں میں بجلی آئی۔ لیکن پھر بھی مجھے نکال دیا گیا ۔ آخر کیوں ؟؟

پٹواری کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے کھائے ہیں تو لگائے بھی تو ہیں۔ پھر کیوں نکالا ؟

دودھ میں کیمیکلز کی ملاوٹ

دودھ میں ملاوٹ کبھی پانی کی صورت میں ہوتی تھی مگر آج کیمیکلز اوریوریا سے بنا لیکویڈ دودھ کے نام پر ملک کے کروڑوں شہریوں کو پلایا جارہا ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ٹی وائٹنرز کیلئے نئی پیکنگ کی منظوری دی تھی جس کے تحت ڈبے پر’’یہ دودھ نہیں‘‘ کی وارننگ واضح طور پر لکھا جانا ضروری ہے۔یکم جون سے اسے ملک بھر میں لاگو کردیاگیاہے۔یہ کارروائی اس لئے کی گئی کہ دودھ کے نام پر ٹی وائٹنر کااستعمال صارفین کی صحت کیلئے نقصان کاباعث بن رہا تھا۔ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ روزانہ ملک بھر میں دودھ کے نام پر لاکھوں لیٹر ’’ٹی وائٹنر‘‘مخصوص ٹینکرز کے ذریعے دیہات سے شہروں کو سپلائی کیاجارہاہے ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ایک ٹیم نے مضافات سے راولپنڈی سپلائی کیاجانے والا کیمیکل اورپاؤڈر سے تیار 5ہزار لیٹر مضرصحت یہ ٹی وائٹنر پکڑ لیااورتمام تر ٹیسٹوں کے بعد اس میں کیمیکل اوریوریا کی ملاوٹ ثابٹ ہوگئی جس کے استعمال سے سیکڑوں لوگ متاثر ہوسکتے تھے۔اگرچہ اس وقت صرف پنجاب کی سطح پر فوڈ اتھارٹی متحرک ہے لیکن وہ بھی ملاوٹ مافیا کے لمبے ہاتھوں کی وجہ سے انتہائی محدود سطح تک کام کرنے پرمجبور ہے۔جبکہ دوسرے صوبوں میں حالات اس سے بھی زیادہ مخدوش ہیں اورملک کی20کروڑ کی آبادی دودھ کے نام پر انجانے میں زہریلے کیمیکلز پی رہی ہے۔گزشتہ دوتین دہائیوںکے دوران اس گھناؤنے کاروبار نے ملک بھر میں اپنی جڑیں مضبوط کیں جس سے ہیپاٹائٹس جیسے امراض تیز ی سے پھیلے۔یہ کاروبار صرف’’دودھ‘‘ بیچنے والوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے بنانے والے،اس کافارمولا تیار کرنے والے ماہرین اورترغیب دینے اور سرپرستی کرنے والے سرکاری اہل کار سب اس جرم میں شریک ہیں۔اس کا قلع قمع کرنے کیلئے نہ صرف سائنسی وتکنیکی بنیادوں پرقانون سازی ہونی چاہئے بلکہ متعلقہ محکموں میں ایسے فرض شناس اہلکاروں کے سپرد یہ کام کیا جانا چاہئے جو قانون کی پابندی کرانا جانتے ہوں۔

پاکستانی روہنگیا

’’روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم پر نہ تڑپیں تو مسلمان کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں ۔ وہ دل نہیں پتھر ہے کہ جو روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی فوٹیجز دیکھ کر درد محسوس نہ کرے ۔ ایمان اور انسانیت کا تقاضا ہے کہ جس کا جتنا بس چلے ، ان مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانے کی کوشش کرے ۔ مجھے تو یوں بھی اس المیے کی شدت زیادہ محسوس ہورہی ہے کیونکہ کئی حوالوں سے روہنگیا کے مسلمانوں اور اپنے قبائلی علاقہ جات کے پختونوں کو درپیش المیوں میں بڑی مماثلت نظر آتی ہے ۔ مثلاً روہنگیا مسلمان برما کا حصہ ہوکر بھی بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے محروم ہیں اور قبائلی پختون بھی 1947میں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوجانے کے باوجود بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے محروم ہیں ۔ روہنگیا کے مسلمان بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں باقی برمیوں کی طرح برمی تسلیم کیا جائے اور قبائلی پختونوں کا مطالبہ بھی یہ ہے کہ انہیں باقی پاکستانیوں کی طرح پاکستانی بنا دیا جائے ۔روہنگیا کے مسلمانوں کے گھر بھی جلائے جارہے ہیں اور فاٹا کے لوگوں کے گھر بھی مسمار کئے جارہے ہیں۔ روہنگیا کے مسلمان بھی تین چار مرتبہ ہجرت پر مجبور کئے گئے اور فاٹا کے مسلمان بھی بار بار ہجرت پر مجبور ہوئے ۔ وہاں تین آپریشنز ہوئے جبکہ فاٹا میں درجنوں ملٹری آپریشنز ہوئے ۔ روہنگیا میں غیرملکی میڈیا نہیں جاسکتا اور فاٹا میں غیرملکی تو کیا ملکی میڈیا بھی بغیراجازت کے نہیں جاسکتا ۔تاہم بعض حوالوں سے فاٹا کے مسلمانوں کا المیہ روہنگیا کے مسئلے سےبھی زیادہ سنگین ہے ۔ مثلاً روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ یہ ظلم غیرمسلم بدھسٹ کے ہاتھوں روا رکھا گیا ہے لیکن فاٹا کے لوگوں پر مظالم ڈھانے والے غیرنہیں اپنے ہیں ۔ روہنگیا کے مسلمانوں کے درمیان غربت، دکھ اور آزمائش یکساں بٹی ہوئی ہے لیکن قبائلی علاقوں میں جہاں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے وہاں بعض قبائلی پاکستان کے امیر ترین لوگوں کی صف میں شامل ہیں ۔ روہنگیا کے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تو بہ ہر حال ان کے لئے طیب اردوان نے بھی آواز اٹھائی ، اقوام متحدہ بھی حرکت میں آئی، عیسائیوں کے پوپ نے بھی ان کی حمایت میں بیان جاری کردیا اور او آئی سی کے اجلاس میں بھی ان کا تذکرہ ہوا لیکن قبائلی عوام اتنے بدقسمت ہیں کہ ستر سال سے بدترین ظلم کے شکار ہوکر بھی ان کے لئے کسی طرف سے آواز بلند نہیں ہوئی۔ روہنگیا کی حالت زار کے تذکر ے سے آج واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز بھی بھرے ہیں جبکہ بی بی سی یا الجزیرہ جیسے ادارے بھی پل پل کی خبر دے رہے ہیں لیکن قبائلیوں کے المیے کو بین الاقوامی میڈیا کوریج دے رہا ہے اور نہ پاکستانی میڈیا کو فرصت ہے ۔ اب میں حیران ہوں کہ مذکورہ تناظر میں پاکستان کا کوئی سیاسی لیڈر یا صحافی قبائلی علاقہ جات کے مسئلے کو حل کئے بغیرکسی اور قومی یا بین الاقوامی ایشو کوکیوں کر موضوع بحث بنا سکتا ہے ۔ مکرر عرض ہے کہ روہنگیا کے مسلمانوں کا دکھ محسوس کرنا تقاضائے ایمان ہے اور جس کو فرصت ہو یا اس کی استطاعت ہو تو اس کا فرض ہے کہ وہ ان کی مدد کرے لیکن کیا پاکستان کے اندر روہنگیا کی موجودگی سے صرف نظر کرکے دنیا بھر کے مسائل کو پاکستان لانا اور اپنے روہنگیا سے توجہ ہٹانا مناسب ہے ۔ اللہ کے نبیﷺ نے تمام مسلمانوں کو جسد واحد قرار دیا ہے لیکن یہ بھی تو اسی نبیﷺ کا فرمان ہے کہ تم سے پہلے اپنے گھر اور پھر اپنے پڑوسی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ یوں میں حیران ہوں کہ پاکستان میں فاٹا کے مسئلے پر دھرنے کیوں نہیں دئیے جاتے ، ان کے لئے امدادی کیمپ کیوں نہیں لگائے جارہے ہیں اور ان کو ان کا بنیادی انسانی حق دلوانے کے لئے اداروں کے در کیوں نہیں کھٹکھٹائے جارہے ہیں ۔
میں حیران ہوں کہ بعض وہ لوگ جو آئین اور جمہوریت کے دعویدار ہیں ،بھی خیبرپختونخوا میں فاٹا کے انضمام کی مزاحمت کررہے ہیں ۔ میرے لئےا سٹیج پر بیٹھے سب لیڈر (اسٹیج پر مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی بھی بیٹھے تھے اور اسفندیار ولی خان خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوںنے فاٹا سے متعلق اے پی سی میں اصلاحات کے ان دو مزاحمت کاروں کو بھی شرکت پر آمادہ کیا)محترم ہیں ۔ وہ ہر لحاظ سے مجھ سے برتر ہیں اور اس لئے بھی برتر ہیں کہ میں ایک مزدور صحافی ہوں جبکہ وہ قوم کے نمائندے ہیں ۔ یوں میری بات کو کبھی وہ وقعت اور اہمیت نہیں مل سکتی جو ان کی بات کو ملتی ہے ۔ تاہم اس کلئے کی رو سے حاجی شاہ جی گل آفریدی اور ان کے ساتھی فاٹا کے عوام کے منتخب نمائندے ہیں ۔ پھر جب وہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے حق میں رائے دے چکے ہیں (بالکل ابتدا میں فاٹا کے انیس پارلیمنٹرین نے جو قرارداد جمع کی تھی اس میں پہلا آپشن انضمام کا تجویز کیا گیا تھا) تو کسی اور کو رکاوٹ ڈالنے کا کیا حق پہنچتا ہے ۔ جس بنیاد پر یہ سیاسی لیڈر مجھ سے اپنا احترام چاہتے ہیں ، اس بنیاد پر فاٹا کے ممبران کی رائے کا احترام کیوں نہیں کرتے ۔ یوںتو کسی معاملے پر سو فی صد لوگ متفق نہیں ہوسکتے۔ اکثریت کی بنیاد پر خاقان عباسی پاکستان اور پرویز خٹک پختونخوا کے حاکم ہیں ۔ جب فاٹا کے عوام کی اکثریت انضمام چاہتی ہے ۔ جب اس حکومت جس کے مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی بھی حصہ ہیں ،کی بنائی ہوئی کمیٹی نے مشاورت کے بعد انضمام کے حق میں رائے دے دی ، جب ان سفارشات کی وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دی ، جب تمام بڑی جماعتیں یعنی مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، اے این پی ، اور سول سوسائٹی سب انضمام کے حق میں ہیں تو پھر دو بندوں کی وجہ سے لاکھوں قبائلیوں کو غلامی کی زنجیروں میں کیوں جکڑا جارہا ہے ۔ اب مولانا فضل الرحمان صاحب اور اچکزئی صاحب افغانستان کی حساسیت کی آڑ لے رہے ہیں لیکن کیا وہ فخر افغان باچا خان کے پوتے اسفندیار ولی خان کے مقابلے میںافغانستان کی حساسیت کو زیادہ سمجھتے ہیں ۔ میرا اور حاجی شاہ جی گل کے قبیلے پاکستان اور افغانستان میں تقسیم ہیں ۔ افغانستان کی حساسیت سے ہم کیوں صرف نظر کرسکتے ہیں ۔ مولانا صاحب کا نہیں بلکہ سراج الحق صاحب کا گھر افغانستان کی سرحد سے متصل واقع ہے ۔ افغانستان کی حساسیت کامسئلہ ہوتا تو پھر وہ فاٹا کے پختونخوا کے ساتھ انضمام کے حق میں کیوں رائے دیتے ۔ بہ ہر حال یہ حقیقت جان چکے ہیں کہ اصل مسئلہ رقم کا ہے ۔ مسلم لیگ(ن) کی قیادت ڈویزیبل پول سے تین فی صد جوسالانہ سو ارب کے قریب بنتے ہیں، سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارش کی رو سے فاٹا کے انضمام کے لئے مختص کرنے کو تیار نہیں ۔ اس لئے اس مقصد کے لئے این ایف سی کا اجلاس نہیں بلایاجارہا ہے ۔ چنانچہ وہ تاخیری حربے استعمال کررہی ہے اور اس معاملے میں میرے یہ دو محترم لیڈران کرام (اچکزئی صاحب اور مولانا صاحب) ایک مہرے کے طور پر استعمال ہورہے ہیں ۔ حکومت نے پہلے جھوٹ بولا کہ فوج مزاحمت کررہی ہے لیکن پھر جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے پوزیشن واضح کردی تو حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا۔ حکومت کے پھیلائے ہوئے غلط تاثر کودور کرنے کے لئے خود آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے وزیراعظم ہائوس میں اس سلسلے میں منعقدہ میٹنگ میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے کی سفارش کردی تو اب حکومت ایک اور دھوکے پر اتر آئی ۔
گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے جن سفارشات کی منظوری دے دی ، وہ نہ انضمام ہے اور نہ مین اسٹریمنگ۔ دھوکہ ہے اور بس دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ حکومت کی مجوزہ قانون سازی سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے برعکس ہے ۔ اپیل کے حق کے لئے پشاور ہائی کورٹ کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذکر سے واضح ہے کہ حکومت بدستور قبائلی علاقوں کو مرکز کا غلام رکھنا چاہتی ہے لیکن قوم اور فوج کو یہ دھوکہ دیا جارہا ہے کہ جیسے فاٹا اصلاحات پر عمل ہورہا ہے ۔ میں اسٹیج پر بیٹھے تمام سیاسی رہنمائوں سے دست بستہ التجا کرتا ہوں کہ اللہ کے واسطے اپنے سیاسی اور ذاتی مقاصد کی خاطر قبائلی عوام کی زندگیوں اور عزتوں سے مزید نہ کھیلیں ۔ سیاست کے لئے اور ایشوز بہت ہیں ۔ وقت ہمارے ہاتھ سے نکل رہا ہے ۔ صرف چند ماہ رہ گئے ۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت آئے گی تو قصہ دوبارہ سرے سے شروع ہوگا۔ اس لئے اللہ کے واسطے اورپاکستان کی خاطر آپ سب مل کر جلد از جلد فاٹا کے پختونخوا میں ادغام کے لئے قدم اٹھائیں۔ شکریہ‘‘
(فاٹا سے متعلق عوامی نیشنل پارٹی کے اسلا م آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے راقم کے خطاب کا خلاصہ۔ تقریر چونکہ لکھی ہوئی نہیں بلکہ زبانی تھی، اس لئے بعض الفاظ کی کمی بیشی کا امکان ہے)