Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

ٹیکس کلچر کا فقدان کیوں؟

عام انتخابات 2018ء کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرانے والے 60فیصد سے زائد امیدواروں کے ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے یا ان کی جانب سے گوشوارے جمع کرانے میں اجتناب کی جو بھی وجوہ ہوں، ان پر سماجی و نفسیاتی علوم کے ماہرین کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور ایسا حل تجویز کرنا چاہئے کہ جو لوگ قوم کی قسمت کے فیصلے کرنے کیلئے خود کو بطور امیدوار پیش کریں ان میں کاغذات نامزدگی کیساتھ پیش کی جانے والی تفصیلات کی فراہمی جیسے امور پر زیادہ توجہ دینے کا رجحان نظر آئے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق 25؍جولائی 2018ء کے انتخابات کیلئے جن 21428 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ان میں سے 30فیصد کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) نہیں ہے۔ انہوں نے ٹیکس گوشوارے بھی نہیں جمع کرائے جبکہ قانونی طور پر گوشوارے جمع نہ کرانے والا نادہند سمجھا جاتا ہے۔ اس باب میں ایک نظریہ یہ ہے کہ کئی امیدواروں کے پاس اثاثے ہیں ہی نہیں۔ ماضی میں ایک آدھ ایسا واقعہ بھی دیکھنے میں آیا کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والا فرد واقعی کسی قسم کی جائیداد کا مالک نہیں تھا مگر اپنے ذاتی کرداراور خدمات کی بنیادپرووٹروں سے پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ عبدالستار ایدھی جیسا سماجی کارکن، حبیب جالب جیسا مقبول عوامی امنگوں کا Read More

’’ڈیلی میل‘‘ اور میاں پراپرٹی ڈیلر

ڈھائی دن تو اسلام آباد کھاگیالیکن میرے ڈھائی دنوں کی کیااوقات کہ یہ شہر تو قوم کے کئی سال کھا گیا۔ یہ شہر سر و کے پودے جیسا ہے یعنی دیکھنے میں خوبصورت لیکن نہ پھل نہ پھول نہ چھائوں اور کوئی چڑیا بھی چاہے تو اس میں پناہ نہیں لے سکتی۔ پچھلے دنوں دو دن کے مہمان نگران وزیر اعظم کا تام جھام، پروٹوکول دیکھا تو ایک عجیب سا خیال آیا کہ جب اس شہر میں بڑے بڑے ہائوسز یعنی پارلیمینٹ، پریذیڈنٹ ہائوس اور وزیراعظم ہائوس وغیرہ کی تعمیر شروع ہوئی تو شاید یہود و ہنود نے ان تمام گھروں کی بنیادوں میں تعویذ رکھوا، دبوا دیئے ہوں گےکہ جو کوئی ان عمارتوں میں داخل ہوگا، وہ پاگل سا ہوجائے گا اور اس پاگل پن کا مطلب یہ کہ پیسے اورپروٹوکول کے لئے اس کی بھوک بےکراں ہو جائے گی۔ جس شرح سے اسے پیسہ اورپروٹوکول ملےگااسی تناسب سے اس بائولے کی بھوک بڑھتی چلی جائے گی۔ بھٹو کی پھانسی پر اسلام آباد اوربیوہ بیگم نصرت بھٹو کے حوالے سے مرحومہ نسرین انجم بھٹی نے نظم کی صورت میں ایک نوحہ لکھا تھا جس کا یہ مصرعہ مجھے آج بھی ہانٹ کرتا ہے۔’’اسلام آباد کے کوفے سے میں سندھ مدینہ آئی ہوں‘‘واقعی یہ عوام کے لئے کوفہ سے کم نہیںکہ یہاں سے ہمارے تمہارے لئے خیر کی خبر کم کم ہی آتی ہے۔ مثلاً اس تازہ خبر کا تو جواب ہی نہیں کہ معتبر برطانوی اخبار Read More

غیرمعمولی انتخابات

ملک میں عام انتخابات منعقد ہونے میں صرف ایک ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے، اقتدار کے حصول کی اس انتخابی جنگ کیلئے گھمسان کا رن پڑنے والا ہے، کاونٹ ڈاون شروع ہو چکا اس لئے ہر گزرتے دن کیساتھ متحارب سیاسی جماعتوں ،امیدواروں اور حمایتیوں کے درمیان اعصاب شکن مقابلے کی تیاریاں بتدریج زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ پچیس جولائی کو منعقد ہونیوالا یہ انتخابی معرکہ پاکستان کی تاریخ میں متعدد وجوہات کے باعث غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے، تین بار وزیر اعظم منتخب ہونیوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے انتخابی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں، ان کی صاحبزادی مریم نواز اپنی زندگی میں پہلی بار انتخابات میں حصہ لینے جا رہی ہیں لیکن احتساب عدالت میں جاری نیب ریفرنسز کی سماعت آخری مرحلے پرپہنچ چکی ہے جس میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کا فیصلہ عام انتخابات سے قبل سنائے جانے کا قومی امکان ہے۔ بیگم کلثوم نواز کی Read More

یوسفی صاحب!

مشتاق احمد یوسفی سے گہری نیاز مندی کا شرف مجھے بھی حاصل ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ میں کراچی جائوں اور اپنے دیرینہ دوست اشرف شاہین یا کسی اور کے ساتھ یوسفی صاحب کی طرف نہ جائوں۔ چلتے چلتے یہ بھی بتاتا چلوں کہ اشرف شاہین جب لاہور ہوتا تھا شاہین اس کے نام کا حصہ تھا مگر جب سے کراچی گیا ہے، وہ اپنے نام کے ساتھ شاہین نہیں لکھتا، میاں لکھا کرو، شناختی کارڈ میں جنس کے خانے میں کبھی دیکھا ہے کہ کسی نام نہاد مرد نے بھی خود کو مرد نہ لکھا ہو، تم تو لاہور میں بھی شاہین تھے، کراچی میں بھی شاہین ہی ہو۔ چلو تمہاری خبر کبھی بعد میں لوں گا، میں یوسفی صاحب کے بارے میں اظہارِ خیال کر لوں، مگر میرے دوست مجھ سے یہ توقع بالکل نہ رکھیں کہ میں ان کی وفات کے حوالے سے رونے رلانے کے موڈ میں ہوں۔ یہ موڈ مجھ پر تب طاری ہوتا اگر وہ اپنی کتابیں بھی ساتھ لے گئے ہوتے، ان کی کتابیں یعنی وہ تو آج بھی میرے ساتھ ہیں، جب چاہوں ان سے مل لوں۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اب ہم عہد یوسفی میں نہیں رہے، لا حول ولا، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ان کا عہد ان کے خاکی وجود تک ہی تھا، وہ گئے تو اپنا عہد بھی ساتھ لے گئے۔ ہمارے پنجاب کے بعض دیہات میں ایک عجیب و غریب رسم ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی بزرگ طویل العمری کے ساتھ بھرپور زندگی گزارتا ہے تو اس کی وفات پر بینڈ Read More

عہد یوسفی کا خاتمہ؟

اردو ادب میں مزاح نگاری کو ایک نئی جہت عطا کرنے والے مشتاق احمد یوسفی اب ہم میں نہیں رہے۔ کہا جارہا ہے کہ ’’اردو ادب کا عہد یوسفی ختم، مشتاق یوسفی انتقال کرگئے‘‘ بجا کہ خالق دو جہاں کے وعدے کے مطابق ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ بہر طور چکھنا ہے۔ تاہم جسمانی موت خیالات و افکار کوبھی لقمہ اجل بنا دیتی ہے یہ بات غور طلب ہے! اگر ایسا ہوتا تو سقراط سے لیکر غالب تک کب کے فراموش کئے جا چکے ہوتے، یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ’’مشتاق یوسفی انتقال کر گئے‘‘ عہد یوسفی موجود ہے اور تب تک رہے گا جب تک پھکڑ پن اور لغومزاح کے بجائے شائستہ اور شگفتہ مزاح پڑھا جاتا رہے گا‘‘ 1921ء میں تولد ہونے والے مشتاق یوسفی کا وطن ٹونک جے پور، راجستھان تھا۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے اور ایل ایل بی کیا۔ پی سی ایس کا امتحان پاس کر کے 1950ء تک بھارت میں ڈپٹی کمشنر رہے۔ 1950ء میں ہجرت کر کے کراچی آ گئے اور بینکنگ کے شعبہ سے منسک ہوگئے۔ ادبی سفر 1955میں مضمون ’’صنف لاغر‘‘ سے شروع ہوا، سلسلہ چل نکلا، مضامین اور انشایئے جو شائع ہوئے ان کی تالیف سے ان کا پہلا مجموعہ ’’چراغ تلے‘‘ 1961ء میں منظر عام پر آیا، ان کے کل پانچ مجموعے چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم اور شامِ شعرِ یاراں اردو مزاح نگاری کے ماتھے کا جھومر بن کر دمکتے رہیں گے۔ ڈاکٹر Read More

الیکشن۔ اہمیت شخصیات کی یا مسائل کی

میں پانی کا ایک گھونٹ پیتے وقت،وضو کرتے،غسل لیتے کانپ رہا ہوں کہ میں اپنے پوتے پوتیوں نواسوں نواسیوں کے حصّے کا پانی استعمال کررہا ہوں۔ آٹھ دس سال بعد وہ میری اس لا پروائی کا خمیازہ پانی کی راشن بندی کی شکل میں بھگت رہے ہوں گے Read More

سیاستدان برادری کے لئے ایک کالم

سیاستدان بہت سیانا ہوتا ہے لیکن اس کا سیانا پن بہت ہی سطحی قسم کا ہوتا ہے۔بطور کمیونٹی بھی انہیں اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ ان کی عزت کتنی ہے اور عموماً کتنی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں خصوصاً ان حلقوں میں جن کے اندر ان کی’’اہمیت‘‘ ہونی چاہئے کیونکہ عوام میں ان کی اہمیت تو نہ ہونے کے برابر ہے، خصوصاً ووٹ وصولنے کے بعد تو عوام اس گائے کے برابر رہ جاتے ہیں جس کا دودھ سوکھ گیا ہو اور ماس بوٹی بھی برائے نام رہ گئی ہو۔ہمارا سیاستدان کرتا کیا ہے؟اقتدار سے باہر ہو تو بہادری نہیں ڈھٹائی سے مار کھاتا ہے یا مل جل کر ڈنگ ٹپاتا ہے اور کچھ سیانے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی اقتدار کے ساتھ بنائے نبھائے رکھتے ہیں اور ان کا دال دلیہ چلتا رہتا ہے کہ جانوروں کی قسمیں ہوتی ہیں مثلاً کتے آپس میں لڑتے رہنے کے لئے مشہور ہیں جبکہ بھینسوں کے بارے مشہور ہے کہ وہ بہنوں کی طرح ہوتی ہیں اور مل جل کر کھاتی ہیں۔ سیاستدان اقتدار میں ہو تو اس کا مرکزی خیال مال کے گرد گھومتا ہے یا حسب توفیق پروٹوکول۔کسی کو ریلیف کسی کو تکلیف، میرٹ سے ماوراء ان کی عوام دوستی بھی دراصل دشمنی ہوتی ہے۔ ذرا اندازہ لگائیں وہ عوامی نمائندے کتنے عوام دوست ہوں گے جنہوں نے مختلف سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر اداروں مثلاً ریلوے، پی آئی ا ے، اسٹیل مل وغیرہ میں’’فیس‘‘ یا اس کے بغیر لوگوں کو اندھا دھند بھرتی کراکے اس ملک دشمن کلچر کی بنیاد رکھی کہ’’کام کرو نہ کرو ماہ بماہ تنخواہ مل جایا کرے گی‘‘ اسکولوں سے لے کر سرکاری ڈسپینسریوں تک’’گھوسٹ ملازمین‘‘ متعارف کرانے والے یہ نمائندے، درندے تھے جنہوں نے معاشرہ کی جڑوں میں زہر انجیکٹ کردیا اور آج بھی اس پر نادم نہیں، فخر کرتے ہیں۔ گلیاں، پلیاں، نالیاں بنا کر ان میں بھی کمیشن کھانے والی کمیونٹی کی عزت کون کرے ؟ ان کا ٹوٹل ’’قصہ قصہ بقدر جثہ‘‘ ہے، جن کے جبڑے ہیں وہ جبڑوں سے بوٹیاں نہیں پڑچھےاتاررہے ہیں، جن کی چونچیں’’یوسی‘‘ سائز کی ہیں وہ اپنی اوقات کے مطابق ماس نوچ رہے ہیں تو اس کمیونٹی کو عزت کیسے ملے؟اس تمہید کے بعد چلتے ہیں اس سوال کی طرف کہ آئندہ الیکشن کا نتیجہ کیا ہوگا؟ تو بھائی ! آئندہ کیا میں تو اس سے اگلے تین چار الیکشن کے نتائج سے بھی بخوبی آگاہ ہوں یعنی وہی ڈھاک کے تین پات ۔۔۔۔سیاستدانوں کی یہ برادری اگر اپنے اندر بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتی تو قصر صدارت میں’’صدر‘‘ بھی ہوگا، وزیر اعظم ہائوس میں کوئی نہ کوئی چمپو بطور وزیر اعظم بھی جلوہ افروز ہوگا، وزیر اعلیٰ ہائوسز بھی آباد ہوں گے لیکن عملاً وہی حال کہ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہوگا اوریہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانوراپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گےسیاسی کلچر میں تبدیلی کے لئے کوئی خاص اسکول تو کھولے نہیں جاسکتے سو ٹاپ لیڈر شپ کو سر جوڑ کر، دلوں پہ پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے لوٹ مار میں 80فیصد کمی کرنی ہے اور اپنی کارکردگی کو 80فیصد بڑھانا ہے اور کسی قیمت پر میرٹ سے انحراف نہیں کرنا، ہر شعبہ کو ڈی پولیٹسایز کرنا ہے۔ نمائشی آرائشی پراجیکٹس کے بجائے یا ان کے ساتھ ساتھ پبلک ہیلتھ اور کوالٹی ایجوکیشن پر فوکس کرنا ہے ورنہ یہ’’برادری Read More