Vision 21

Featured

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

If there is a God

Útmutató a Léleknek

In a mother’s womb were two babies. One asked the other: “Do you believe in life after delivery?” The other replied, “Why, of course. There has to be something after delivery. Maybe we are here to prepare ourselves for what we will be later.”

“Nonsense” said the first. “There is no life after delivery. What kind of life would that be?”
image

Continue reading

جیسی عوام ایسے حکمران

سائرہ ظفر

آخر کار بادشاہ نے فیصلہ کیا جو بھی اس پل سے گزرے گا وہ روزانہ 10 روپے دے کر گزرے گا اگلے دن بادشاہ کے حکم کے مطابق عوام پر لاگو کر دیا گیا جو بھی اس پل سے گزرتا 10 روپے دیتا اور آگے چلا جاتا شام  کو بادشاہ کے درباری نے بادشاہ کو بتایا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس نے انکار کیا ہو سب نےجلدی جلدی 10 روپے ادا کیے یئں اور اپنے سفر پر روانہ ہو گے اور پل کراس کر لیا بادشاہ نے تھوڑا سوچنے کے بعد اپنے وزیر کو کہا جاؤ جا کرکل کے لیے  اعلان کر دو کل سے جو اس پل سے گزرکر جاۓ گا وہ دس دس جوتے  کھا کر گزرے گا پھر پہلے حکم کی طرح اس پر بھی فوراعمل  شروع کر دیا ہر کوئی دس دس جوتے کھاتا اور آگے نکلنے کی کوشش کرتا ٹھیک وقت ختم ہونے کے بعد وزیر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا  اور کہنے لگا بادشاہ حضور آج تو عوام کا کل سے زیادہ رش تھا ہر کوئی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا اور ان کا کہنا تھا پہلے ہمیں دس جوتے مارے جائیں تا کہ ہم پل کراس کر لیں کیونکہ ہم لیٹ ہو رہے ہیں .

Continue reading

I am born human in the wrong place…

Shaaista

He created me with differences among angles and Iblees. I was His new creation. I was neither purely good nor completely bad. I was given a choice to choose my side. I could reason, I could think, I could commit mistakes, I could ask for forgiveness. I was promised to be guided. I was born with the universal secrets hidden within me to be discovered. To attempt that I was given a LIFE.

I was HUMAN and I had to live out my LIFE…
Continue reading

سوال سے سوال تک!!!

 انعم شبیر

کسی ملک کے بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ ملک کی ترقی کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات کیے جانے چاہییں اور یہ کہ کر کہ؛ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے تمہیں جو بھی اقدام اٹھانے پڑیں اسکے لیے تمہیں میری مکمل پشت پناہی حاصل ہوگی سارا معاملہ وزیر کے ہاتھوں سونپ کر دوسرے مملکتی امور میں مصروف ہو گیا۔کچھ سال گزر جانے کے بعد جب بادشاہ نے ملک کو ترقی کرتے دیکھا تو وزیر سے اس کی وجہ پوچھی تو وزیر نے جواب دیا کہ اس ترقی کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اس ملک کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سب سے زیادہ کوشش کی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے تعلیمی میدان میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔بادشاہ وزیر کی اس کاوش پر بہت خوش ہوا۔تو حاصل یہ کہ ۔۔۔۔۔

کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے تعلیم ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی ہے۔

پاکستان کے تعلیمی مسائل اور ان کے حل کے بارے میں سوچنے بیٹھو تو   ایک ہزار سوال دماغ میں جنم لیتے ہیں۔اور انھیں کاغذ پہ اتارنے بیٹھو تو کتنے ہی کاغذکم پڑ سکتے ہیں۔اور اگر ان مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں پر نظر ثانی کی جائے تو احساس ہوتا ہے کاا   ٓزادی کے اتنے سال بعد بھی ایسی کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی کہ جس سے پاکستان کی تعلیمی ترقی کی راہیں نکلتی نظر ٓتی ہوں۔اور پاکستان کی عوام کا حل دیکھیں ،ہر وقت یہی کہتی نظر ٓاتی ہے   کہ حکومت پاکستان کی ترقی کے لیے کچھ کرتی ہی نہیں۔۔۔تو بھئی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود اپنی ترقی اور بہتری کے لیے کس حد تک کوشش کر رہےہیں؟

پاکستان میں تین طرھ کے طبقات موجود ہیں ۔ایک ہے غریب لوگوں کا طبقہ اوران لوگوں کی یہ حالت ہے کہ غربت سے تنگ ا ٓکر بچوں کو سکول چھڑوا انھیں محنت مزدوری میں لگا دیتے ہیں اور اگر ایسے وقت میں کوئی انسان انکی فلاح کے لیے انھیں چوبیس میں تین گھنٹے مفت تعلیم دلوانے کی کوشش کرتا ہے تو   یہ لوگ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے فائدہ ان کا نہیں کسی اور کا ہو رہا ہو اور وہ تو بلکل جیسے خسارے میں ہوں۔

دوسرا طبقہ جسےا ٓج کل ایلیٹ کلاس کا نام دیا جاتا ہے۔یعنی جاگیرداروں اور زمینداروں کا طبقہ ان کے بچے یا تو بلکل تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں اور پیسے کے بل بوتے پر جعلی ڈگریاں بنوا کر اپنے علاقوں سے امیدوار کھڑے ہوجاتے ہیں اور انھیں میں سے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں   جو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے بیرون ممالک ڈگریاں حاصل کرنے بھیج دیتے ہیں کیونکہ ان کے لیے اونچی سوسائٹی میں موو کرنے کے لیے یہ بات بہت ضروری   ہوتی ہے کہ ان کے بچوں کی ڈگریوں پر غیر ملکی یونیورسٹیوں کی چھاپ لگی ہونی چاہئے ۔

تیسرا طبقہ جسے متوسط یا سفید پوش طبقے کا نام دیا جاتا ہے۔یہ لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے تمام تر سرمایہ کاری تعلیم پر کرتے ہیں مگر انھیں لوگوں کے بچوں کو   تعلیم حاصل کرنے میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے تیسے بنیادی و ثانوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب اعلی تعلیم حاصل کرنے کی باری ا ٓتی ہے تو یونیورسٹیوں کی بھاری بھرکم فیسوں اور خرچوں کا سوچ کر ہی لوگ بس بہت ہو گئی پڑھائی کا کہہ کر اپنے بچوں کو گھر بٹھا دیتے ہیں۔اور لڑکے   تو خود بھی پارٹ ٹائم نوکریاں کر کے اپنے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں ۔مگر لڑکیوں کو صحیح معنوں میں تعلیمی رکاوٹ کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔اور اگر انھیں بچوں میں سے کوئی میرٹ پر کامیابی حاصل کر لے تو معاشی ترقی کی راہوں میں سفارش اور نا انصافی رکاوٹ بن کے کھڑی ہوتی ہے۔ اور پھر انھی بچوں میں سے جانے کتنے بچے غربت افلاس اور نا انصافی سے تنگ ٓاکر دہشت گردی اور دیگر منفی سر گرمیوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور معصوم جانیں لینے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔یہاں یہ بات بتانا بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار دہشت گردوں کی سیکورٹی کے انتظامات پر سالانہ ۳۳ کروڑ سالانہ لاگت ا ٓتی ہے حکومت پاکستان   اگر یہی ۳۳ کروڑ تعلیمی میدان میں اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے تو شاید پاکستانی بچے دہشتگرد بننے سے بچ جائیں۔

مگر سمجھ نہیں ا ٓتی ان تمام مسائل کو حل کون کرے گا پاکستانی حکومت عوام یا بھر کوئی اور؟ اس سوال کا جواب نہ تو ٓاپکے پاس ہے نہ ہی میرے پاس ۔۔۔اور یہ کہانی ایک سوال سے شروع ہو کر سوال پہ ٓاکے ہی اختتام پذیر ہوتی ہے۔

نماز اور ہم

زویا شبیر

پانچ وقت اپنے جسم کو وضو کے پانی سے پاک کرنا اور خدا کے سامنےسر بسجود ہونا ۔ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں بڑوں سے سنتے ہیں ۔نماز  ہر مسلمان مرد عورت پر فرض کی گئ ہے تاکہ ہم اپنی ذندگی کو دنیا اور آخرت میں آسان بنا سکیں ۔ اسلام کے مطابق نماز  دوزخ کی آگ سے بچاتی ہے اور برے اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔لیکن کچھ لوگوں کو نماز  کی حقیقت یا تو پتہ ہی نہیں اور اگر پتہ ہے تو پتہ ہونے کے باوجود وہ اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں اور عبادت کی آڑ میں کچھ ایسے شرمناک اور ناگوار کام کر جاتے ہیں جس کے بعد کم از کم ان کو خدا کے عبادت  گزار بندے کہنا تو بالکل مناسب نہیں ہے۔آیئے میں آپ کو ایک ایسے آدمی کی عبادت سے متعارف کرواتی ہوں Continue reading

کیا ہمیں پھر کسی نئےبنگلہ دیش کا انتظار ہے؟

سائرہ ظفر

کیا ہمیں پھر کسی نئےبنگلہ دیش کا انتظار ہے؟

اماں تم ہمیشہ ایسا کرتی ہو کونسا کوئی پہلی دفعہ ہوا ہے۔جب دیکھو تجھے نائلہ کی فکر رہتی ہے ۔اماں آج پھر تم نے نائلہ کے لیے نئے کپڑے لائے اور مجھے یہ کہہ کر ٹال رہی ہو تم تو میرے پاس ہی ہوتی ہو پھر کسی دن تمھیں لا دوں گی۔لیکن اماں تم ہمیشہ سے یہی کہتی آئی ہو نائلہ خود گلے شکوے کیے جا رہی تھی لیکن اماں کو بس ساجدہ کی فکر کھائے جا رہی تھی اماں ساجدہ کو ڈھیر ساری دعاوں اور تحائف کے ساتھ رخصت کر رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی اپنے گھر پہنچ کر مجھے اپنی خیرت کی اطلاع دے دینا ساتھ ساتھ نائلہ کو اشاروں اشاروں میں کہہ رہی تھی اپنی بہن کو خدا حافظ کرتی جاو لیکن نائلہ کو تو صرف اماں کی ناانصافی نظر آرہی تھی نائلہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی آخر اماں ساجدہ کو مجھ پر فو قیت کیوں دیتی ہے؟ یہی سوچ نائلہ کو احساس کمتری کا شکار کر رہی تھی اور اس کو باربار یہ بات اندر اندر سے نا انصافی کا نام دینے پر مجبور کر رہی تھی نائلہ کی طرح آج میں اور میرے بہت سارے ساتھی یہ سوچ رہے Continue reading

غربت کس طرح تعلیم کا دروازہ بندکرتی ہے

آنکھیں صاف بتا رہی تھی کچھ کر کے دیکھاناہے چہرے پر مسکراہٹ کو زبردستی سجاٰٰ ۓ رکھنا مشکلات کے سمندر کو پار کرنے کا عزم دل کو اس طرح مجبور کرنا کہ آنسو آفات بھوک افلاس سب یہ بدبخت خون کا لوتھڑا اپنے اندر سمالے معمول کے مطابق آج بھی کلاس کا آغاز 8 بجے ہوا روزانہ کی طرح کلاس میں وہی آوازیں گونج رہی تھی کوئی بچہ اپنے نہ آنے کی وجہ بتا رہا تھا تو کوئی پنسل کاپی ر بڑ نہ ہونے کی داستان سنا رہا تھا اس گہما گہمی کے باوجود آج کلاس کے کونے میں پڑی کرسی اپنی اداسی کو صاف ظاہر کر رہی تھی کرسی بے جان ہونے کے باوجود باربار توجہ اپنی طرف دلا رہی تھی خیر یوں لگا کہ شاہد میرا وہم ہو یا میں سوچ ایسا رہی ہوں انھی خیالات میں گم اچانک مجھے خیال آیا آج وہ آواز وہ مودبانہ لہجہ اور وہ امید بھری آنکھیں کیوں نہں کہہ رہی ٹیچر میرا گھر کام چیک کریں میرا گھر کا ہوم ورک مجھ سے سن لیں خیر کلاس کا ٹائم ختم ہوا گھر جانے کے لیے جونہی اپنا بیگ اٹھایا پھر نظر اسی کرسی پر پڑی وہی آوازیں بار بار ذہن میں گونجنے لگی زہین میں کئی سوالات نے جنم لیا آخر آج ذین سکول کیوں نہں آیا ؟
Continue reading