Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

مٹھائی سے موت تک

 

اس میں کیا شک ہے کہ محکم ہےیہ ابلیسی نظام

پختہ تر اس سے  ہوئےخوئےغلامی میں عوام

راجہ صاحب کا گھر رنگ برنگی لائٹوں سے سجا ہوا تھا۔اس بار راجہ صاحب نے اپنے گھر کو شادی گھر بنایا ہوا تھا۔نہ صرف محلے والوں کو  راجہ صاحب نے  اپنے گھر بُلایا تھا بلکہ محلے سے باہر جن لوگوں سے تھوڑی بہت  جان پہچان تھی اُن کو بھی بُلایا  ۔دراصل راجہ صاحب کے گھر میں آج دس سال کے بعد اُن کے گھر میں پہلے پوتے کی آمد ہوئی تھی۔راجہ صاحب بڑی خوشی سے سب کو بتا رہے تھے کہ آج میں دادا بن گیا ہوں۔سب مہمانوں کے آنے کے بعد  راجہ صاحب نےفورا رانی صاحبہ کو مٹھائی لانے کا کہا  اور ساتھ ہی سب میں مٹھائی تقسیم کرنے کا کہاخوشی میں کسی نے بھی مٹھائی کم نہیں کھائی سب نے جی بھر کے کھائی مٹھائی کھانے کے بعد گھر کے تمام افراد سمیت  لوگوں کی آنکھیں بند ہو گئی  ۔

لیہ کے ایک گھر میں بچے کی آمد پر گھر والوں نے خوشی کے موقعہ کو دوبالا کرنے کے لیے محلے کی دکان سے مٹھائی  لائی اور سب گھر والوں میں تقسیم کی۔مٹھائی کھاتے ہوئے تقریبا 12 افراد اسی موقعے پر بے ہوش ہو گئے۔آہستہ آہستہ  2 دن کے اندر خاندان کے 30 افراد جان کی بازی ہار گئے۔خوشی کے موقعہ پر گھر میں صف ماتم بچھ گیا ۔ایک ہی باپ کے 8 بیٹے مٹھائی کھانے سے چل بسے باپ رو رو کر دعا کرتا رہا جب ہسپتال والوں نے اُس کے چار بچوں کے مر جانے کی اطلاع دی ۔باپ نے پھر   صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈاکٹروں سے التجا کرتا رہا خدا کے لیے میرے ایک بیٹے کو بچا لیں۔لیکن  لیہ کے گاؤں سے شہر کے ہسپتال تک ریل گاڑی میں سفر کرتے کرتے ہی اکثر مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں جنوبی پنجاب کے نام  کڑوڑوں روپے ہر سال لیے جاتے ہیں لیکن یہ پیسے کہاں جاتے ہیں؟اورنج ٹرین منصوبے پر خرچ کیے گے اربوں  روپے اور میٹرو بس میں لگائے گے پیسے اگر لیہ میں اس کا تیسرا حصہ بھی لگا دیا جاتا تو آج ایک باپ اپنے 8 جوان بیٹوں سے محروم نہ ہوتا ۔حکومت کے کسی نمائندے نے  نہ ہی کوئی کمیشن بنایا نہ ہی تحقیقات کی محلے والوں اور گھر کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ جس دکان سے مٹھائی لائی گئی تھی  اُس دکان مالک نے بتایا کہ فصلوں کے لیے لائی گئی دوائی کو غلطی سے مٹھائی کے ساتھ رکھ دیا گیا تھا جس سے تقریبا ایک ہی خاندان کے 30 افراد جان کی بازی ہار گئے۔لیکن اس کی سزا کون دے گا ؟کوئی حکومت نام کی چیز ہے جو اس غریب خاندان کو سہارا دے گی ان سب سوالوں کا جواب شاید ہمیں کبھی مل سکے۔

کون کر سکتا ہے اُس کی آتش زوں کو سرد

جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوزودروں

 

Saudi Arabia threatens to sell off US assets if held responsible for 9/11

Here we are sharing an article published in Tribune on April 17, 2016 .

The Saudi Arabian government has threatened to sell of hundreds of billions of dollars’ worth of American assets should the US Congress pass a bill that could hold the kingdom responsible for any role in the September 11, 2001 attacks, the New York Times reported on Friday. Read More

Let’s stop talking about ‘honour killing’. There is no honour in murder

Here we are sharing an article written by Dexter Dias and Charlotte Proudman published in The Guardian.

Every time the term “honour killing” is used, we view the murder of women through the eyes of their killers. By adding the word “honour” to killing, we use the language of those who justify this odious crime on the basis of “honourable” motives. We use the language of their excuses. We must stop doing this. Read More

ابھی ہم سورہےہیں۔

ایک صاحب کہتے ہیں کہ مردان میں تھا تو اچا نک ایک چرسی سڑک کے کنارے بھیک مانگتا ہوا نظر آیا میں نے تھوڑی دیر اُس کا بغور مشاہدہ کیا اور پھر اپنے سے آگے والی گاڑیوں کے جانے کا انتظار کرنے لگا۔تھوڑی ہی دیر میں ٹریفک کھلی تو گاڑیاں چلنے لگی میں نے چرسی  کے پاس پہنچ کر گاڑی سائیڈ پر لگائی اور   رُک گیا بغیر کچھ کہے اُس کے سوال کا انتظار کرنے لگا۔لیکن فورا ًسے چرسی بولا اللہ کا نام ہے چرس کے پیسے دے جاؤ۔اُس کا یہ سوال سنتے ہی جیسے میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو۔اور جھٹ سے خود سے مخاطب ہوا اور خود کو تسلی دینے کے لیے خود سے سوال کرنے لگا کہ آج تک بہت سارے لوگ دیکھے جو مانگ رہے ہوتے ہیں لیکن مانگنے والوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہمیں چرس کے لیے پیسے دے دو۔خیر میں نے دل ہی دل میں اس بات کو بُرا  جانا اور فورا بھکاری کو  کہا کہ میں ہر گز تمھیں چرس کے پیسے نہیں دیتا  ہاں  کھانا کھانے کے  پیسے تمھیں دے سکتا ہوں۔اس نے کہا کھانا کھلانے والا کوئی اور ہے تم بس چرس کے لیے کوئی پیسے دے دو۔میں نے نہ چاہتے ہوئےبھی چرسی کو  چند روپے کھانا کھانے کے لیے دے دیے۔جب وہ چلا گیا تو میں اسے دیکھنے لگا کہ  یہ کہاں جائے گا۔قریب ہی ایک شادی کا  پروگرام تھا لوگ شادی میں برتن ادھر اُدھر لے کر جا رہے تھے۔اچانک ایک آدمی  کے ہاتھ سے   ایک برتن چھوٹ  گیا اورٹوٹ گیا۔اس آدمی نے اپنے ٹوٹے ہوئےبرتن کے ٹکڑے اُٹھائے اور آگے چل دیا۔وہ چرسی اسی چاول کے سامنے بیٹھ گیا اور کھانے لگ گیا۔جب  اُس کی نظر  مجھ پر پڑی تو اس نے ایک جملہ کہا اس کے ساتھ تعلقات کچھ آج کل خراب ہیں۔ورنہ برتن میں ہی دیتا ہے۔کریم اتنا ہے کہ  ناراض بھی ہو  تو بھوکا نہیں سونے دیتا  کراچی میں بھتہ خوری دہشت گردی اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے صبح شام ہر گھر میں موت کےپیغام کے نام سے ہر گھر میں پرچی آتی ہے۔وزیراعظم صاحب  اپنی مل کے لوہے کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کبھی میٹرو بس کا ڈرامہ رچا رہے ہیں تو کبھی اورنج ٹرین کا  منصوبہ شروع کروا رہے ہیں۔اور پاکستانی  عوام کو ایک بات باور کروائی ہوئی ہے کہ اللہ بہت رحمان ہے وہ کبھی آپ کو بھوکا نہیں مارے گا۔دراصل ہم چرسی ہیں اور چرسیوں  کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ہماری آنے والی نسل کا کیا ہو گا۔بس ہمیں دن گزارنے کے لیے صرف تھوڑے سے چرس کے پیسے چاہیں ہوتے ہیں۔ اور شادی کے پروگرام کی طرح  اقتدار میں بیٹھی ہوئی کالی بھیڑوں    کے گھر  میں ہر روز کھانے کا معمول کسی شادی سے کم نہیں ہوتا ہے شاباش ہے    چند سیاسی پارٹیوں کو جنہوں نے ہمیں باور کروا دیا ۔آپ سوئیں رہیں ہم ہیں نہ ملک کو لُوٹنے کے لیے۔

Sharif’s summer of discontent

Here we are sharing an article written by ZAHID HUSSAIN published in Dawn on 27th April 2016.

It is quite evident that Nawaz Sharif is not willing to give in to the opposition pressure. He has already addressed the nation twice since the Panama Papers leak. To many, it is reminiscent of his embattled days in the twilight of his first term in office in 1993. The parallel may not be fully relevant here, but what is common is the desperate situation in which the prime minister has landed himself. Read More

Philosophy of Iqbal

Allama Muhammad Iqbal was a brilliant philosopher, poet and undoubtedly the most influential Muslim of the twentieth century.

In the post classical period of Islamic philosophy Iqbal alone stand as the person who set the Muslim world in motion. He is the only Muslim philosopher who worked really hard to grabble with the problem of the modern western philosophy within Islamic context. His thoughts and ideas are considered very influential in the Islamic world today. Read More

PHILOSOPHY OF IQBAL

Allama Muhammad Iqbal was a brilliant philosopher, poet and undoubtedly the most influential Muslim of the twentieth century.

In the post classical period of Islamic philosophy Iqbal alone stand as the person who set the Muslim world in motion. He is the only Muslim philosopher who worked really hard to grabble with the problem of the modern western philosophy within Islamic context. His thoughts and ideas are considered very influential in the Islamic world today. Read More