Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

توہینِ رسالت کے نام پر قتلِ عام

20. Apr, 2017

 دو روز قبل کسی نجم ولی خان نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان تھا ” بس ہمارے نبی کی توہین غلطی سے بھی مت کیجئے” اس مضمون میں انہوں نے اپنے جذبات اور رسول ﷺ سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے مشال خان کے طلباء کے ہاتھوں قتل کے حوالے سے لکھا ہے کہ ” ایک شخص نے مجھے کہا کہ اگر یہ الزامات سو فیصد بھی درست ہیں تو بھی معاملہ عدالت میں جانا چاہئے تھا اور میں کہتا ہوں کہ اگر میں مسلمان ہوں ، اپنے نبی کی حرمت کے تحفظ کی غیرت رکھتا ہوں تو سو فیصد درست ہونے کے بعد تھانے اور عدالت میں جانا اس مجرم کو تحفظ دینے کے سوا کچھ بھی نہیں تھا”  یہ خطرناک مضمون شائد صرف چند افراد تک ہی محدود رہتا لیکن محترمہ سمیعہ راحیل قاضی صاحبہ نے اسے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ کے ذریعے ساری دنیا میں مشتہر کردیا اور اسی دن پسرور میں تین خواتین نے توہینِ رسالت کے ایک ملزم کے گھرمیں گھس کر اسے قتل کردیا

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کے رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان کی زندگی کا اثاثہ ہے ۔ یہ نجم ولی خان کا بھی اثاثہ ہے اور ڈاکٹر سمعیہ قاضی صاحبہ کا بھی۔ یہ محبت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بھی متاع حیات تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اسی محبت میں سرشار تھے اور حضرت خالد بن ولید بھی ۔ اب اگر ہم غور کریں تو ایسا محسوس ہوتا کہ ہے کہ نعوذ باللہ رسول اللہ کے ان جلیل القدر صحابہ میں کوئی بھی اتنی غیرتِ ایمانی نہیں رکھتا تھا جتنی نجم ولی صاحب میں ہے کیونکہ نجم ولی صاحب تو اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ توہین کا الزام درست بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے سامنے تو روزانہ ایک عورت زبان سے کچھ کہنے کی بجائے عملی طور پر ہمارے دل و جان سے پیارے نبی صل اللہ علیہ وسلم پر اپنے گھر کی چھت سے کوڑا پھینکتی تھی اور کسی صحابی نے غیرت ایمانی کا مظاہرہ نہیں کیا اور جاکر اسکا کام تمام نہیں کیا بلکہ اگر وہ گھائل ہوئی تو رسولِ اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے خلقِ عظیم سے۔ اسی طرح رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے چند ایک لوگوں کے قتل کا حکم جاری فرمایا جوکہ اپنی گستاخی میں بھی مشہور تھے۔ ان میں ایک عورت تھی جوکہ عرصہ دراز سے آپ ﷺ کی شان اقدس کے خلاف شعر کہتی تھی لیکن کسی صحابی نے رسولﷺ کے حکم سے پہلے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے انکا کام تمام نہیں کیا۔ کیا ان صحابہ میں غیرتِ ایمانی کی کمی تھی؟ رسول اللہﷺ نے تو فرمایا ہے کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جسکی بھی پیروی کروگے مجھ تک پہنچ جاو گے۔ نجم ولی صاحب کس کی پیروی کر رہے ہیں؟

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ پاکستان میں بعض نوجوان توہین آمیز مواد شائع کر رہے ہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں تک پیارے نبی ﷺ کا صحیح اسوہ پہنچایا گیا ہے؟  ان بیچاروں نے تو وہی کچھ دیکھا ہے جو منبروں سے دکھایا جارہا ہے؟ کیا یہ اسوہ رسول ﷺ مولانا فضل الرحمن صاحب میں دیکھیں یا مولوی سمیع الحق صاحب میں یا مولانا طاہر اشرفی صاحب میں؟ انکو اسوہ رسول کی جھلک افغانستان کے پہاڑوں میں چھپے ہوئے مجاہدین میں نظر آئے گی یا شام و عراق کی امارت میں؟

پہلے خدارا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا روشن چہرہ تو ان لوگوں پر عیاں کریں اور پھر دیکھیں کس طرح یہ سب پروانہ وار اس شمع رسالت پر فدا ہوتے ہیں ۔ اگر کبھی کوئی دیوانہ اور نیم پاگل شخص ولی نجم صاحب کی کوئی تحریر پڑھ کر یا ڈاکٹر سمعیہ قاضی صاحبہ کےکسی خطاب کو سن کر اپنی طرف سے اس میں سے کوئی توہین آمیز پہلو نکال کر انکا کام ماورائے عدالت تمام کردے تو؟؟؟

نعمان محمود

سورة الحجرات کے 9 اہم نکات* ‎

Golden principles of QURAN for uplifting of individuals and communities, socially, morally and pshycologicaly.

*سورة الحجرات کے 9 اہم نکات*

‎1.-فتبينوا:
” *Fa Tabayyanu* “: Investigate: when you receive an information, lest you harm people out of ignorance.
تحقیق کر لو جب تمہیں کوئی خبر موصول ہو ،اس سے پہلے کہ تم لا علمی میں لوگوں کو نقصان پہنچائو۔

‎2.-فأصلحوا :
” *Fa Aslihu* “: Make settlement: between your brothers as believers are brothers.
اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرادو کیونکہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

‎3.-وأقسطوا :
” *Wa Aqsitu* “: Act justly: whenever there is a dispute try for settlement and act justly among both parties as Allah loves those who act justly.
جب بھی کوئی اختلاف ہو تو دونوں جماعتوں کے درمیان صلح کی کوشش کرو اور انصاف سے کام لو کیونکہ اللہ انصاف سے کام لینے والوں سے محبت کرتا ہے۔

‎4.-لا یسخر :
” *La Yaskhar* “: Don’t ridicule people, perhaps they may be better than you to Allah.
لوگوں کا مذاق نہ اڑائو ۔ہو سکتا ہے وہ اللہ کی نگاہ میں تم سے بہتر ہوں۔

‎5.-ولا تلمزوا:
” *Wa La Talmizu* “: Don’t insult one another.
ایک دوسرے کو ذلیل نہ کرو۔

‎6.-ولا تنابزوا:
” *Wa La Tanabazu* “: Don’t call each other with offensive nicknames.
ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو۔

‎7.-اجتنبو كثيرا من الظن:
” *Ijtanibu Kathiiran min Aldhan* “: Avoid negative assumptions, indeed some of the assumptions are sins.
منفی گمان سے بچو۔ بےشک کچھ گمان گناہ ہوتے ہیں۔
‎8.-ولا تجسسوا:
” *Wa La Tajassasu* “: Don’t spy on each other.
ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔

‎9.-ولا يغتب بعضكم بعضا:
” *Wa La Yaghtab* “: Don’t backbite each other. Its a major sin equivalent to eating your dead brother’s flesh.
ایک دوسرے کے غیبت نہ کرو۔ یہ کبیرہ گناہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے۔

حضرت علی نے گستاخِ رسول (ص) کی زبان کاٹ دی

حضرت علی نے گستاخِ رسول (ص) کی زبان کاٹ دی

رسولِ خدا کے مدنی دور میں (جب وہ مدینہ ہجرت کرچکے تھے، تب) کسی گستاخ شاعر نے نبی کریم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے۔

اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے حضور کے سامنے پھینک دیا..
سرکار دوعالم نے حکم دیا: اس کی زبان کاٹ دو۔

تاریخ لرز گئی، مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا. کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کی تیمار داری کرتا تھا… اسے مدینے میں آکے آخر ہو کیا گیا۔

بعض صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟
حضور نے فرمایا: نہیں، تم نہیں
تب رسولِ خدا نے حضرت علی کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو…
مولا علی بھوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے..
اور حضرت قنبر کو حکم دیا: جا میرا اونٹ لے کر آ

اونٹ آیا مولا نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور 2000 درہم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پہ بیٹھایا، پھر فرمایا: تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا…

اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ، حضرت علی نے تو رسول کی نافرمانی کی

رسول خدا کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے: یا رسول اللہ آپ نے کہا تھا زبان کاٹ دو، علی نے اس گستاخ شاعر کو 2000 درہم دیے اور آزاد کر دیا…

حضور مسکرائے اور فرمایا علی ع میری بات سمجھ گئے…
افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی

وہ لوگ پریشان ہوکر یہ کہتے چل دیے کہ: یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو … علی نے تو کاٹی ہی نہیں…

اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتا ہے وہ شاعر وضو کررہا ہے.. پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد ص کے پاؤں چومنے لگتا ہے. جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے: حضور آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں…

اور یوں ہوا کہ حضرت علی نے گستاخ رسول کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا۔

حوالہ: دعائم الاسلام، جلد 2، صفحہ 323

Panama judgement

The ultimate cynicism that afflicts a society is the acceptance of corruption as a way of life. Pakistan cannot progress unless the foundations of corruption are destroyed

Panama judgement
By:

Dr Ikramul Haq
22-Apr-17

After 56 days of nerve-breaking wait, the Supreme Court announced its judgement in Panama case. The 3-2 decision saved the sitting Prime Minister from disqualification. Now a Joint Investigation Team (JIT) will have to conduct an investigation within 60 days and file a fortnightly report to the Supreme Court. Both PML-N and Pakistan Tahreek-e-Insaaf (PTI) declared it as “victory”. The verdict by two senior members of the bench that Nawaz Sharif is no longer eligible to hold the office will have repercussions for the incumbent prime minister in days to come.

In the day-to-day herculean hearings for 26 days in the case: Imran Ahmad Khan Niazi v Mian Nawaz Sharif & 9 Others [CP No. 29 of 2016], the moot question was the trail of investment outside Pakistan and income declarations in Pakistan of the family of the incumbent prime minister and his children. According to the three members of the bench, the evidence needs a further probe to authoritatively determine direct connections of prime minister with any business or property outside Pakistan.

It is worthwhile to mention that even before the case was taken up by the Supreme Court – earlier petition was declared as frivolous by the Registrar – there were multiple legal battles in Election Commission of Pakistan (ECP) between rival politicians of PTI and PML-N for disqualification on various allegations. During the pendency of the same, cognizance of the issue as public interest litigation surprised the vast majority of legal experts.

Unfortunately, the politicians failed to realise that purging politics from corruption, tax evasion, political loan sharking and plundering of national wealth required systemic solutions and not legal battles. The decision of apex court will not have any consequences for purging the politics of money power. The Supreme Court, at best, can remove the corrupt individual (s) but cannot remove the causes of corruption.

One thing that has clearly emerged so far is that as long as state institutions remain subservient to rulers of the day, we cannot effectively check corruption and plundering of national wealth.

All over the world, the main issue arising from Panama Papers is the lack of moral standards for those who represent people and hold public offices. They cannot and should not hide their financial matters behind laws of secrecy and privileges. In this context, it is necessary for all the elected representatives, not just the Prime Minister alone, to come forthwith and make public sources funding their luxurious lives.

Most of the elected members have a fleet of expensive cars and palatial bungalows. These are either not shown in their asset declarations or claimed to have been received as gifts in declarations filed before ECP. Many elected representatives have an army of servants and guards. They must tell the public who are the donors of gifts that fund their luxuries. Such donors are certainly not doing so as charity! Many members own huge agricultural lands and have investments in industrial units like sugar, textile and paper mills. Many have properties outside Pakistan. Any elected member, who is the beneficiary of “wealth” and “gifts” from family members or friends at home or abroad, must explain the sources and modes of these “financial favours”. This is the requirement of various laws like Representation of People Act, 1976 and Income Tax Ordinance, 2001.

In the wake of Panama case judgement, the assets of politicians, generals, judges and high-ranking civil officers should also be made public on priority basis vis-à-vis their tax returns. The chairmen of NAB, FBR, Director General of FIA, and Governor SBP should also explain to the public the reasons behind the inefficiency of their respective organisations in countering unlawful outflows/inflows, tax evasion and corruption.

It is an incontrovertible fact that Pakistan is a unique case where the state, instead of combating corruption, sponsors and patronises all kinds of undesirable practices. Pakistan is a victim of reverse capital flows and capital flights due to policies of appeasement by successive governments towards the corrupt and criminals.

The ultimate cynicism that afflicts a society is the acceptance of corruption as a way of life. Pakistan cannot progress unless the foundations of corruption are destroyed. For this, it is necessary to forfeit all benami assets in favour of the state. Immunities and amnesties for criminals, plunderers of the national wealth and tax-evaders must be abandoned without any further delay.

The majority of the members of Parliament have declared shamelessly low incomes as evident from tax directories for 2013, 2014 and 2015 published by FBR. The elected members, politicians, public officeholders, bureaucrats, generals and judges should be investigated by an independent commission, comprising experts and men of impeccable integrity. This process alone will ensure true accountability in Pakistan and not a mere judgement in any case by the Supreme Court.

 

The writer is Advocate Supreme Court and Adjunct Faculty at Lahore University of Management Sciences (LUMS). Email: ikram@huzaimaikram.com; Twitter: @drikramulhaq

مشال خان قتل،ایک غیر جانبدار تجزیہ اور حقائق

ترتیب و تحریر۔۔احید حسن
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••
صوابی ،خیبر پختونخواہ پاکستان سے تعلق رکھنے والا واقعہ مردان سے بعد از مرگ توجہ حاصل کرنے والا نوجوان مشال خان26 مارچ 1992ء میں ایک پشتون مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔آئ سی ایم ایس ایجوکیشن سسٹم پشاور سے 2012ء میں میٹرک پاس کیا۔بعد ازاں آئ سی ایم ایس کالج سسٹم پشاور سے ایف ایس سی پری انجینئرنگ کا امتحان پاس کر کے 2013ء میں سکالر شپ پر پہلے تاشقند،ازبکستان،پھر سینٹ پیٹرز برگ،روس چلا گیا۔بعد ازاں بلغراد سٹیٹ یونیورسٹی روس۔۔۔The National Research University “Belgorod State University” (BelSU) (Russian: Белгородский государственный национальный исследовательский университет (НИУ БелГУ))۔۔۔۔میں 2013ء میں سول انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔درمیان میں وہ برلن،بیلاروس اور پولینڈ میں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا۔2014ء میں وہ واپس پاکستان آگیا جہاں اس نے اگست 2014ء میں AWKUM_KP یعنی عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں جرنلزم اور ماس کمیونیکیشن کے شعبے میں داخلہ لیا۔اس کا یہ کورس 10 اگست 2018ء میں مکمل ہونا تھا کہ موصوف 13 اپریل 2017 بروز جمعرات بوقت چار بجے شام اپنی یونیورسٹی کے طلباء اور کچھ ہم جماعت ساتھیوں کے ہاتھوں گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سےمارے گئے۔تب سے سیکولر اور دیندار دونوں حلقوں کے درمیان ایک تصادم کی فضا قائم ہے۔مختلف لوگ مختلف رائے قائم کر رہے ہیں۔راسخ العقیدہ مسلمانوں کی طرف سے اسے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور لبرل و سیکولر طبقے کی طرف سے اسے شہید قرار دیا جارہا ہے لیکن حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ اصل حقائق عوام کی نظر سے اب تک پوشیدہ ہیں اور میڈیا اور اخبار سب اس معاملے میں مکمل حقائق بیان نہیں کر رہے۔
اس تناظر میں،ہم نے سوچا کہ مشال خان کے خیالات و نظریات،عقائد اور سرگرمیوں کا جائزہ لے کر جتنا ممکن ہو غیر جانبدار حقائق حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔اس مقصد کے لئے لازمی تھا کہ موصوف کے ذاتی فیس بک اکاؤنٹ جسے وہ 2012ء سے استعمال کر رہے تھے،ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤ،خیالات و نظریات میں تبدیلی کا جائزہ لیا جائے اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ وہ واقعی مسلمان تھے یا بے دین اور ملحد۔اس مسئلے کے لیے جب میں نے موصوف کے ذاتی فیس بک اکاؤنٹ کا چھ سے سات گھنٹے گہرا مطالعہ کیا تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئ کہ موصوف 2014 ء تک یعنی روس سے واپس پاکستان آنے تک مسلم تھے۔پھر 2015ء میں مردان یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران موصوف کا رجحان پہلے سوشلزم،کمیونزم اور پھر آہستہ آہستہ الحاد کی طرف ہونا شروع ہوا اور 2015 کے قسط کے بعد یا ستمبر 2015ء تک موصوف اسلام کو مکمل طور پر چھوڑ چکے تھے۔ اس بات کا ثبوت ان کا ذاتی فیس بک اکاؤنٹ ہے جس میں بتدریج ان کے خیالات مذہب سے کمیونزم اور پھر الحاد کی طرف مائل دکھائ دیتے ہیں۔2014 ء تک ان کے فیس بک اکاؤنٹ میں اسلامی پوسٹ بھی مل جاتی ہیں لیکن 2015ء خصوصا جولائ 2015ء کے بعد ہمیں ان کا مذہب کی طرف رجحان کم ہوتا دکھائ دیتا ہے۔اس حوالے سے ان کی پوسٹس کا جو تجزیہ میں نے کیا وہ 2014ء سے بتدریج 2017کی طرف درج ذیل ہے
مشال خان کا الحاد کی طرف تدریجا سفر ۔اس کی وال کے تجزیے کے بعد
دعا کرتے ہوئے
https://m.facebook.com/story.php…
رمضان پہ اعتراض
https://m.facebook.com/story.php…
ملحدین کے گروپ کا حوالہ اور عقیدے پہ اعتراض
https://m.facebook.com/story.php…
الحادی پوسٹ
https://m.facebook.com/story.php…
ہندی تہواروں سے محبت
https://m.facebook.com/story.php…
جہنم کا مذاق
https://m.facebook.com/story.php…
عیسائ تہوار
https://m.facebook.com/story.php…
سوشلسٹ کمیونسٹ 2014 سے آہستہ آہستہ الحاد
نومبر 2015 میں اللٰہ تعالٰی کی یاد پر
https://m.facebook.com/story.php…
لیکن سوشلسٹ ہو چکا تھا
https://m.facebook.com/story.php…
شروع میں اس کو بیوقوف بنایا گیا کہ سوشلسٹ کمیونسٹ اسلام کے خلاف نہیں۔پھر آہستہ آہستہ ملحد کیا گیا
https://m.facebook.com/story.php…
جولائ 2015 میں بھی اللٰہ تعالٰی کی تعریف
https://m.facebook.com/story.php…
مئ 2015 میں خدا کی تعریف
https://m.facebook.com/story.php…
مئ 2015 میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کا بیان
https://m.facebook.com/story.php…
مسلمانوں کا دفاع
https://m.facebook.com/story.php…
قرآن کی تعریف اپریل 2015
https://m.facebook.com/story.php…
اپریل 2015 میں اللٰہ تعالٰی کی تعریف
https://m.facebook.com/story.php…
فروری 2015 میں یہ کمیونزم سے متعارف ہورہا تھا
https://m.facebook.com/story.php…
نومبر 2014 میں اللٰہ تعالٰی کی تعریف
https://m.facebook.com/story.php…
ہم جنس پرستی کی حمایت میں
https://m.facebook.com/story.php…
سوشلزم کی حمایت میں
https://m.facebook.com/story.php…
قوم پرستی پر مبنی جس میں پنجابیوں کو شیطان کہا گیا

https://m.facebook.com/story.php…
ایک کمنٹ میں جزاک اللٰہ کہا۔پوسٹ کا لنک یہ ہے
https://m.facebook.com/story.php…
ہندوؤں سے محبت کا اظہار
https://m.facebook.com/story.php…
اسی پوسٹ پر اسلام کی دعوت کا کمنٹ لائیک بھی کیا۔لیکن یہ بھی کہا کہ ہر کوئ آزاد ہے
ایک دوست کے والد کی وفات پر دعا کی اپیل کی ہے
https://m.facebook.com/story.php…
نصاب، تاریخ اور نظریات پر اعتراض
https://m.facebook.com/story.php…
سوشلسٹ کمیونسٹ
https://m.facebook.com/story.php…
داڑھی کا مذاق
https://m.facebook.com/story.php…
حلب کے واقعات پر افسوس
https://m.facebook.com/story.php…
https://m.facebook.com/story.php…
دسمبر 2016 میں فیک آئ ڈی کے بارے میں تنبیہ
https://m.facebook.com/story.php…
سوشلسٹ کمیونسٹ
https://m.facebook.com/story.php…

ملا کا مذاق
https://m.facebook.com/story.php…
شعائر اسلام یعنی حج کا مزاق
https://m.facebook.com/story.php…
ملحدین جیسا کہ سبط حسن کی کتابوں کا مطالعہ
https://m.facebook.com/story.php…
خدا کا مذاق۔اس پوسٹ کے سکرین شاٹ محفوظ کیے ہیں میں نے۔اس میں جہنم کا مذاق اڑایا اور جنت کو عیاشی کا مقدس اڈہ کہا
https://m.facebook.com/story.php…
ملحدین کی کتابوں کی تلاش
https://m.facebook.com/story.php…
پختون کی پاکستان سے علیحدگی؟
https://m.facebook.com/story.php…
سوشلسٹ کمیونسٹ
https://m.facebook.com/story.php…
رمضان کو خدا حافظ کہنا
https://m.facebook.com/story.php…
اس طرح ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف 20144میں کمیونزم کی طرف مائل ہوئے لیکن تب تک ان کے مذہبی خیالات میں کوئ بگاڑ پیدا نہیں ہوا تھا۔پھر آہستہ آہستہ انہوں نے اسلامی شعائر جنت،جہنم،حج،رمضان شریف کے روزوں،اسلامی عقیدے،نصاب،داڑھی،مولوی اور خدا کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ساتھ ہی موصوف زیادہ سے زیادہ قوم پسند ہوتے گئے اور ان کی 2015ء کے بعد کی پوسٹس میں پنجابیوں کو شیطان کہنا،پختونوں کی پاکستان سے علیحدگی پر بات کرنا شروع کر دی۔اس کے ساتھ ہی موصوف نے ملحدین جیسا کہ سبط حسن کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اسکے مذہب اور قوم پرستی کے جذبات میں شدت آتی گئ۔ساتھ میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے 2016 ء میں ملحدین کے ایک فیس بک پیج کی پوسٹس شیئر کی ہیں بلکہ اس کا رکن بھی ہے۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ مشال خان کی فیس بک پروفائل پر انہیں کوئ مذہب دشمن پوسٹ نہیں ملی وہ میرے دیے گئے لنکس پڑھ کر خود ہی فیصلہ کر لیں جس میں وہ جنت کو عیاشی کا اڈہ قرار دیتا ہے، رمضان پہ اعتراض کرتا ہے،ملحدین کے گروپس میں شمولیت اختیار کرتا ہے،عقیدے پہ اعتراض شروع کر دیتا ہے،الحادی پوسٹس دینا شروع کرتا ہے،غیر مسلم تہواروں جیسا کہ ہندوؤں کی ہولی اور عیسائیوں کے کرسمس سے کھلم کھلا محبت کا اظہار کرتا ہے لیکن اسلامی تہوار حج کا مزاق اڑاتا ہے،داڑھی کا مذاق اڑاتا ہے اور پنجابیوں کو شیطان قرار دیتا ہے۔اس کی ان پوسٹس مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ جولائ 2015 ء کے بعد وہ مسلمان نہیں رہا تھا۔اب جو لوگ اسکو مسلمان کہ کر اس کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں،ان کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ حقائق پڑھ کر براہ مہربانی اپنی اصلاح فرمائیں اور ایک ملحد کو شہید کہنے سے گریز
اب بات یہ آتی ہے کہ مان لیا وہ ملحد ہوگیا تھا لیکن کیا حقیقت میں وہ اللٰہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر بھی اتر آیا تھا تو اس بات کا ثبوت مجھے مشال خان کی فیس بک پروفائل سے کہیں نہیں ملا۔لیکن مشال خان ایک پختون فیس بک گروپ THE LAND OF PAKHTOONS کا ممبر تھا جہاں وہ گروپ کے مسلمان پشتون دوستوں کے ساتھ بار بار مذہب اور اللٰہ تعالٰی کی ذات پر بحث کرتا رہتا تھا۔گروپ کا لنک یہ ہے
https://mbasic.facebook.com/groups/758313137595502?_rdr
یہ گروپ جوائن کریں۔پھر اس کی پوسٹس میں سے اس پوسٹ پر جائیں جس کا لنک پیش کیا جارہا ہے اور پھر اس پوسٹ کے سارے کمنٹس بغور پڑھ لیں اور دیکھ لیں کہ یہ پوسٹ اور اس کے کمنٹس مشال خان کی اسی آئ ڈی سے کیے گئے ہیں جس میں وہ اپنی ایک فیک آئ ڈی کے خلاف بتاتا ہے لیکن گروپ میں اللٰہ تعالٰی کی گستاخی اور مذہب کے انکار پر مبنی کمنٹس کے لیے وہ اپنی اصل 2012 سے استعمال ہونےوالی آئ ڈی استعمال کر رہا ہے۔پوسٹ کا لنک یہ ہے
https://www.facebook.com/groups/…/permalink/969155829844564/
https://web.facebook.com/groups/…/permalink/968137959946351/
ان کمنٹس کو پڑھ کر آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس بندے نے انگلش میں کمنٹس کرتے ہوئے اللٰہ تعالٰی کی بدترین گستاخی کی اور کارل مارکس،رچرڈ ڈاکنز کا دفاع کرتے ہوئے واضح طور پر عقیدے،جنت،جہنم،خدا اور قرآن کا انکار کر رہا ہے۔https://m.facebook.com/groups/758313137595502… لنک پے۔
اس میں وہ قرآن کو ایک تھیوری قرار دیتا ہے۔اسلام کو پسلام یعنی پیشاب قرار دیتا ہے،حجر اسود کے چومنے کو بت کی پوجا قرار دیتا ہے،انسانوں کو آدم علیہ السلام کے بیٹے بیٹیوں کے درمیان سارے رشتے بالایے طاق رکھ کر جنسی اولاد قرار دیتا ہے اور خدا کا انکار کرتا ہے،اپنے آپ کو دنیا کا بہترین انسان قرار دیتا ہے۔کسی رات 9 بجے کو مطالعہ کرتے وقت شاید آذان یا کچھ اور سن کے پوسٹ کرتا ہے
مذہبی جنونیت مسجدوں کے لاوڈ سپیکروں سے شروع ہوگئی ہے یہ نہیں دیکھتے کہ کوئی مطالعہ کر رہا ہوگا وغیرہ
جہنم کے ماننے یا نہ ماننے پہ جواب دیتا ہے کہ جہنم کو مانتا ہوں 19477 میں بنا۔یعنی پاکستان کو جہنم قرار دیتا ہے۔
اسی گروپ میں ایک اور پوسٹ میں وہ دوقومی نظریے کا انکار کرتا ہے،پاکستان کو ہیرا منڈی ریپبلک آف پاکستان یعنی زنا کا اڈہ قرار دیتا ہے،اور آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعے پر اللٰہ تعالٰی کی شدید گستاخی کرتا ہے،سجدے کو محض ایک فرضی خدا کا خوف قرار دیتا ہے۔اس پوسٹ میں طاہر علی کے ساتھ ہونے والی بحث کے کچھ کمنٹس جو آج صبح تک موجود تھے وہ شاید گروپ انتظامیہ کی طرف سے ڈیلیٹ کر دیے گئے ہیں۔اس پوسٹ کا لنک یہ ہے
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…
اگر آپ کو یہ پوسٹس نہ ملیں تو گروپ میں مشال خان پوسٹس لکھ کر آپ اس کی پوسٹس سرچ کر کے اس میں کمنٹس پڑھ سکتے ہیں۔یہ بالکل ممکن ہے کہ یہ پوسٹس بھی ڈیلیٹ کر دی جائے جیسی پہلے کمنٹس ڈیلیٹ کر دیے گئے ہیں۔اس لئے بعض ساتھیوں کی طرف سے ان پوسٹس اور مشال خان کے ان گستاخانہ کمنٹس کی ویڈیو بنا لی گئ ہے۔ایک اور پوسٹ کے سکرین شاٹ میں اس نے اللٰہ تعالٰی کو نعوذ بااللہ پاخانے والی جگہ سے خارج ہونے والی ہوا قرار دیا۔جس کا لنک ہے۔https://m.facebook.com/groups/758313137595502…
اس میں اللٰہ تعالٰی کی گستاخی کر کے نعوذ بااللہ ریح کہا
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…
لیکن وہ پوسٹ نہیں اوپن ہورہی جو صبح تک ہورہی تھی اور اس میں اللٰہ تعالٰی کی ذات کے خلاف اس کے گستاخانہ کمنٹس موجود تھے لیکن اس پوسٹ کے بھی سکرین شاٹس اور ویڈیو بنا لی گئ ہے۔سکرین شاٹس نیچے دیے گئے ہیں۔یہ فروری 2016،ء کی پوسٹس ہیں۔
مشال خان کے ان گستاخانہ کمنٹس کے انکار کے لیے پہلے یہ کہا گیا کہ یہ سکرین شاٹ فیک ہیں،پھر یہ کہا گیا کہ مشال خان کے نام کی ایک فیک آئ ڈی استعمال ہورہی تھی پھر یہ کہا گیا کہ اس کی آئ ڈی ہیک ہوگئ تھی۔بیان در بیان تبدیل کیا گیا جب کہ مشال خان کے گستاخانہ کمنٹس اس کی اسی اصل آئ ڈی سے لینڈ آف پختون گروپ میں کیے گئے جسے وہ 2012ء سے استعمال کر رہا تھا۔
.مجھے یہ سمجھ نہیں ارہا کہ پہلے کہتے تھے کہ سکرین شارٹ ایڈیٹ بھی ہوسکتا ہے یہ مشال کے کمنٹ نہیں ہے یہ فوٹو شاپ پہ ایڈیٹ کئے گیے ہیں. پھر کہنے لگے مشال کی فیک آئی ڈی بنائی گئی تھی اور اس فیک آئی ڈی سے غلط پوسٹ اور کمنٹ ہورہے تھے. اب جب لینک کے ساتھ ثبوت پیش کیا تو کہتے ہیں آئی ڈی کوئی اور ہیک کرکے استعمال کرتا تھا.
سب لوگوں نے شور ڈال رکھا ہے کہ فیک آئ ڈی فیک آئ ڈی فیک آئ ڈی۔ابھی تک کسی نے اس کی فیک آئ ڈی کا لنک نہیں دیا۔کبھی کہتے ہیں آئ ڈی فیک تھی کبھی کہتے ہیں آئ ڈی ہیک ہوگئ تھی؟آخر دال میں کچھ کالا تو ہے جس کو چھپانے کے لیے یہ بہانے کیے جا رہے ہیں۔
گستاخی کے عینی گواہ کی لوڈ کردہ ویڈیو

https://www.facebook.com/groups/…/permalink/664626043728439/
ایک اور ویڈیو جس میں ہوبہو یہی گستاخی ہے جو پہلی ویڈیو میں کی گئ یہ ہے
https://m.facebook.com/story.php…
اب اگلا سوال یہ ہے کہ یہاں تک تو ثابت ہوگیا کہ مشال خان سوشلسٹ کمیونسٹ اور ملحد تھا۔اس نے اللٰہ تعالٰی کی بدترین گستاخی بھی کی اور وقتا فوقتا اسلام اور شعائر اسلام کا مذاق اڑاتا رہتا تھا۔اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا 13 اپریل 2017 جمعرات کے روز اس نے واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی؟یہاں معاملہ کچھ مبہم ہوجاتا ہے۔لیکن اگر حالات کا غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے گستاخی کی تھی۔15 اپریل 2017ء کو روزنامہ اوصاف میں یونیورسٹی کے ایک طالبعلم محمد شبیر کے حوالے سے روزنامہ اوصاف نے درج ذیل خبر دی
“مشال خان کو میڈیا ’’شہد ‘‘کہتا رہا لیکن حقیقت نے چہرے بے نقاب کر دیئے
15 اپریل‬‮ 2017 | پاکستان
اسلام آباد (روز نامہ اوصاف)” مقتول نظریاتی طور پر انتہائی متعصب قوم پرست اور کمیونسٹ تھا۔یونیورسٹی کا طالب علم محمد شبیر کا مذید کہنا ہے کہ مشال اکثر اسلام کے خلاف گستاخانہ ریمارکس پاس کرتا تھا اور اسلام پسند طلباء کوکھٹیا ثابت کرنے کیلئے خدا کی ذات کا انکار کرتا تھا۔یونیورسٹری میں چرس اور شراب نوشی کیلئے مقتول مشہور تھااور اسکے باپ نے اس کی بے مذہبی و بے راہ روی سے تنگ آکر اسے گھر سے نکال دیا تھا جبکہ وہ چھپ چھپ کر ماں سے ملنے جاتا تھا۔مشال جنرلزم ڈیپارٹمنٹ کے 2 ساتھی طلباء عبداللہ اور زبیر کی ساتھ مل کر اسلام و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدترین گستاخی کی جس پر طلباء نے یونیورسٹری انتظامیہ کو اس واقعے کی شکایت کی تو جمعرات مورخہ 13 اپریل کو نوٹفیکیشن کے ذریعے ان تینوں طلباء پر لگائے گئے الزام کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیاگیا اور اس کمیٹی کے فیصلے کے آنے تک تینوں کے یونیورسٹری میں داخلے پر پابندی لگا دی۔واقعہ کے دن مشال اپنے ساتھیوں کے ہماہ اسلام پسند طلباء کو ہوٹنگ کررہے تھے جس پر پہلے سے مشتعل طلباء نے انکو گھیر لیا۔ اس دوران مشال کے ساتھ موقع پا کر فرار ہو گئے جبکہ مشال فرار ہونے میں ناکام رہا “۔ سزا دینا عدالتوں کا کام ہے لیکن اگر عدالتیں اپنا کام وقت پر کریں تو عوام قانون ہاتھ میںنہ لیں ۔سارے واقعہ کے بعد ابھی تک مشال کا Face Book آئی ڈی کون استعمال کررہا ہے ؟ اور ایک مذہبی جماعت کو واقعے سے کیوں جوڑا جا رہا ہے؟ اصل حقیقت سے پاکستانی بے خبر ہیں

http://dailyausaf.com
مشال خان اے این پی سے تعلق رکھتا تھا، اور باچاخان ااور گاندھی کو آئیڈیل مانتا تھا، اے این پی کے رہنماؤں کے ساتھ اس کی تصاویر بھی موجود ہیں۔
اسے بے چارہ سمجھنے والے لوگ ہی دراصل یا تو بے چارے ہیں، جنہیں دہریت کے طریقہ وارات کی خبر نہیں، یا تو وہ غیراعلانیہ دہریئے اور ان کے سہولت کار ہیں، جو لوگ انجانے میں مشال خان کو معصوم یا مظلوم سمجھ رہے ہیں ، دراصل یہ ان کی سادگی، رحمدلی اور نزاکت ہے کہ وہ گستاخانِ رسولﷺ کی چالیں اور ان کے کوڈ ورڈز نہیں سمجھتے، جو احباب سوشل میڈیا پر ردِالحاد اور ردِ دہریت پر کام کررہے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ ایسے مشکوک افراد کی آئی ڈی پر ایک ہی نظر کافی ہوتی ہے سمجھنے کیلئے، جس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ موصوف کن خیلات کا حامل ہے۔
جنت کو عیاشی کا مرکز اور باقی بھی ایسے مغلظات کہ جسے دیکھنے کے بعد کم از کم کوئی کلمہ گو مسلمان اسے مسلمان تسلیم نہیں کرسکتا، میرے پاس وہ سکرین شاٹس موجود ہیں، جس مختلف موبائلز سے لئے گئے ہیں، جس کی دلیل یہ ہے کہ مختلف موبائلز میں فونٹ مختلف ہوتا ہے، اور سکرین شاٹ میں اوپر درج وقت اور موبائل کی بیٹری کی پرسنٹیج سے پتہ چل جاتا ہے کہ مختلف ڈیوائسز سے سکرین شاٹس لئے گئے، بہت سے سکرین شاٹس کمپیوٹر سسٹم سے بھی لئے گئے ہیں، گویا اس شخص کے اسلام مخالف اور توہین آمیز نظریات کے جو ثبوت تاحال منظرِ عام پر آئے ہیں، وہ کسی بھی سورت اتنے معمولی نہیں کہ نظر انداز کیا جائے۔
دوسری جانب جس اکاؤنٹ سے مشال خان نے دوسرے فیک اکاؤنٹ کا ذکر کیا ، اسی اکاؤنٹ سے وہ مختلف فیس بک گروپس میں دہریوں اور ملحدین کے ساتھ ان کی حمایت میں اسلام مخلاف مواد میں ساتھ شامل رہے، جبکہ اسی آئی ڈی سے کئے گئے ک کچھ ایسے کمنٹس جو اس پوسٹ سے کافی عرصے قبل کئے گئے ہیں، بھی اسی آئی ڈی سے ہیں، کیونکہ کمنٹ پر درج نام “مشال خان” پر کلک کرنے وہی پروفائل کھلتی ہے، جس میں مشال خان نے اپنی آخری پروفائل پکچر گزشتہ اتوار کو تبدیل کی ہے، یہ کچھ ٹیکنیکل اور عام فیس بک صارف کی سمجھ میں بھی آسانی سے آنے والی باتیں ہیں۔
مشال خان کا اپنا تعلق اے این پی اور پشتون سٹوڈنٹس فیدریشن سے تھا، جبکہ اسی پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلباء کے ہاتھوں مشال خان کو قتل کردیا گیا ہے، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ذمہ دار کاشف خان صافی کو مردان یونیورسٹی کے ذمہ داران نے میسج کرکے حالات سے آگاہ کیا ، جس میں پی ایس ایف کے ایک عہدیدار مہران خان نے اپنے ذمہ دار کاشف صافی کو بتایا کہ صدر صاحب ! مشال خان کبھی کہتا تھا میں خدا ہوں (العیاذ باللہ) کبھی نبی کریمﷺ کو گالیاں دیتا تھا، میں اسے جانتا تھا، وہ میرے ساتھ فیس بک پہ بھی ایڈ تھا، مہران خان نے اپنے صدر کاشف صافی کو مزید بتایا کہ مشال خان گالیاں دے کر چھپ گیا تھا اسے تلاش کر پ ایس ایف کے لڑکوں نے 10 فائر مارے، اس کے بعد 7 سے 800 افراد کے درمیان اسے سگنسار کیا گیا، جبکہ ایک اور کارکن یا عہدیدار کاشف جواد نے کاشف صافی کو بتایا کہ ” صدر صاحب (کاشف صافی)! اس (مشال) کے مرگ پر خفت کا اظہار مت کرنا، کیونکہ یہ شخص اللہ اور رسول کو گالیاں دیتا تھا، کبھی کہتا تھا میں خدا ہوں، کبھی کہتا تھا قران جھوٹ ہے (معاذاللہ ) اس کو ماں باپ نے گھر سے اسی وجہ سے عاق کیا ہوا تھا، کام بھی نہیں کرتا تھا، پھر بھی اس کے پاس ہر وقت 40 ، 50 ہزار روپے موجود ہوتے تھے، لگتا ہے قادیانیوں نے سپورٹ کر رکھا تھا” یہ وہ حقائق ہیں جو خود مشال خان کی تنظیم پی ایس ایف کے کارکنان بتا رہے ہیں ، جبکہ پشتوم سٹودٹنس کے مرکزی عہدیدار کاشف صافی نے اپنے فیس بک پیغام میں پشتو میں لکھا ہے ، ”
)منجانب۔۔محمد بلال خان
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…)
“مشعال کیس “مثال بنا دیں !
تحریر : محمد عاصم حفیظ
جب تک بے لاگ انصاف نہیں ہوگا تو ہم مسائل حل نہیں کر سکتے۔ مذہب کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنیوالے بھی مجرم ہیں تو دوسری جانب اپنے مخصوص مفادات کے لئے مذہب کو ہدف تنقید بنانے والے اور توہین آمیز مواد کا سہارا لینے والے بھی مجرم ہیں۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ ہر مجرم کو پکڑا جائے اور ہر قصوروار کو سزا ملے۔ اسی میں ہماری بقا ہے اور ان شاء اللہ اسی سے ملک میں امن و امان کا راستہ نکلے گا!
(محمد عاصم )
اور قتل کے حقائق کے حوالے سے سماء ٹی وی کا درج ذیل تبصرہ پڑھ لیجیے۔
“مشال خان قتل،یونیورسٹی نوٹیفکیشن میں قتل کےدن کی تاریخ درج
By: Samaa Web Desk پاکستان April 15, 2017
مردان : مشعال خان قتل کیس میں نیا موڑ سامنے آگیا، مشعال خان سمیت تین طالب علموں کو یونیورسٹی سے معطل کرنے کا نوٹی فکیشن سامنے آگیا، نوٹی فکیشن پر قتل کے دن ہی کی تاریخ لکھی ہے۔
عبدالولی خان یونیورسٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ نوٹی فکیشن اسسٹنٹ رجسٹرار نے جاری کیا ہے۔ نوٹی فکیشن پر 13 اپریل کی تاریخ لکھی ہے اور یہ وہی تاریخ ہے جس روز مشعال خان کو قتل کیا گیا تھا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق ایک کمیٹی مشعال سمیت 3طالب علموں پر توہین مذہب کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔
MARDAN NOTIFICATION New 2400 14-04
نوٹی فکیشن میں کمیٹی کے66 ارکان کے نام بھی شامل ہیں، تاہم کمیٹی کے کنوینر کو ایسی کسی کمیٹی کے قیام کا علم مشعال کے قتل کے اگلے روز ہو سکا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق تینوں طلبہ کے یونی ورسٹی میں داخلے پر تاحکم ثانی پابندی بھی لگائی گئی ہے۔”
https://www.samaa.tv/urdu/pakistan/2017/04/744127/
پی ایس ایف کے ارکان کے تبصروں،اوصاف ٹی وی اور سماء ٹی وی کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ملزم واقعی مذہب کی توہین اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کا مرتکب ہوا تھا۔لیکن اگر اس کی گستاخی کی سزا اسے ریاست دیتی تو بہتر تھا اور لاش کی بے حرمتی شریعت میں سختی سے منع ہے۔
حکومت اور میڈیا یہ حقائق چھپانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں۔واقعے کے عینی شاہدین اور یونیورسٹی انتظامیہ کو ہر طرح کے دباؤ سے بالاتر ہو کر اس واقعے کی حقیقی تفصیل کیوں نہیں بتائی جا رہی۔پہلے یونیورسٹی انتظامیہ اور وزیر اسے ملزم قرار دیتے ہیں پھر اچانک اسے بیگناہ قرار دیا جاتا ہے لیکن آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ وہ مجرم تھا۔
مضمون کے حوالہ جات:
https://www.samaa.tv/urdu/pakistan/2017/04/744127/
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…)
http://dailyausaf.com
https://m.facebook.com/story.php…
https://www.facebook.com/groups/…/permalink/664626043728439/
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…
https://m.facebook.com/groups/758313137595502…
https://web.facebook.com/groups/…/permalink/968137959946351/
https://www.facebook.com/groups/…/permalink/969155829844564/
https://mbasic.facebook.com/groups/758313137595502?_rdr
#بشكرية_ختم_نبوت_واٹس_ایپ_گروپ

یہ بی بی سی اردو ہے

یہ بی بی سی اردو ہے
آج اس کی ویب سائٹ پر گتنی کی آٹھ سٹوریز ہیں جن میں پانچ مردان میں قتل ہونے والے مشال پر ہیں ..البتہ پرسوں امریکہ کی واحد مسلمان جج جو قتل ہوئی اس کی خبر ایک دن تو اس پر رہی مگر اگلے روز اس کا ذکر نہیں ملا
یہ وائس آف امریکہ کا اردو پیج ہے اس کی لیڈنگ سٹوری وزیر اعظم کا مشال پر بیان ہے ، اور اس کے پہلو میں ملالہ خاتون کا بیان ہے جو مشال سے متعلق ہیں البتہ ڈھونڈنے سے بھی اس دریا میں تیرتی لاش کا کوئی تذکرہ نہ ملا جس کو امریکہ کی پہلی مسلم خاتون جج ہونے کا اعزاز ملا …
اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کے انسانیت کے معیار کیا ہیں ؟
اور ہمارے ہاں کے ڈارک براؤن “انگریز ” ان کی اتباع میں اپنے بچوں کے سفید جوتوں کی کیوی پالش اپنے منہ پر لگا کر “روشن خیال بننے کی کوشش کرتے ہیں
حیرت اس بات پر ہے کہ ایک قتل ، بھلے ناحق ہی کیوں نہ ہوں ، پشاور میں ہوتا ہے تو قطب شمالی سے قطب جنوبی تک صف ماتم بچھ جاتی ہے ..
اور دوسرا قتل خود ان “انکل مہذب ” کے آنگن میں ہوتا ہے اور قتل بھی جج ، یعنی منصف …مگر صف ماتم تو کیا اگلے روز خبر بھی گم …
حیرت تو مجھے اپنی تھذیب کی خالہ جان ویب سائٹ “ہم سب ” پر ہے جہاں “سب سپ ” جمع ہیں کہ ان کو اس مظلوم خاتون کا جنت سے کوئی خط نہیں ملا …. پچھلے کچھ مہینوں سے اس لبرل ویب سائٹ پر اوپر تلے جنت سے خط آ رہے ہیں …کمال یہ کہ ابھی مشال کی تدفین بھی نہ ہوئی تھی کہ جنت سے خط اس ویب سائٹ پر چھپ چکا تھا …بلے وے تیریاں پھرتیاں ….
اور کمال یہ ہے کہ بی بی سی کی سائٹ پر ننگر ہار کے بم کی کوئی خبر آج مجھیے نہیں ملی …البتہ امریکیوں نے سو کے لگ بھگ افراد کی شہادت کی خبر دی ہے جو ان کی سفید چمڑیوں کی طرح کا سفید جھوٹ ہے …. بھلا کیسے ممکن ہے کہ اکیس ہزار کلو وزنی بم ، جس کو لڑاکا جہاز اٹھا بھی نہ سکے ، جس کے طاقت چھوٹے ایٹم بم جتنی تھی ، جس کو بموں کی مان کہا جاتا ہے ، جو دو میل کے قطر میں ہر شے تباہ کر دے …وہ گرا اور صرف ایک سو بندے مارے ….. ہزار بار لعنت تمہاری اس انسانیت پر ، اس جھوٹ پر

( ﺍﺳﯽ ﺍِﯾﻨﮯ ﺟُﻮﮔﮯ ﺍﯼ ﺳﺎﮞ)

ﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍﺛﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﺍ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ۔ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮭﺎ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﺏ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ؟ ﺍﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭘﮍﯼ ﭘﮍﯼ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻭﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﺎﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﺎﻣﮯ ﻣﯿﺮﺍﺛﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮨﮯ ۔ ﮨﺮ ﺑﻨﺪﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺁﺝ ﭘﻮﺭﮮ ﮔﺎﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﮯ؟
ﮔﺎﻣﺎ ﻣﯿﺮﺍﺛﯽ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮔﺎﻣﮯ ﻣﯿﺮﺍﺛﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺩﻋﻮﺕ ﮨﮯ؟ ﮔﺎﻣﺎ ﻣﯿﺮﺍﺛﯽ ﺳﯿﻨﮧ ﭼﻮﮌﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻮﻻ ﺗﻮ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﯽ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﻤﺮﺍ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﮐﻮﻥ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﺟﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﭼﻠﻮ ﮔﺎﻭﮞ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺍﻧﮑﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺁﺝ ﺯﺭﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮑﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻼ ﺩﻭﮞ ۔ ﮔﺎﻣﮯ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﭘﻮﭼﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﻭ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﻤﺮﺍ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﺎ ۔ ﺑﯿﭽﺎﺭﺍ ﺑﮍﺍ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺑﮩﺖ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﭼﻠﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻞ ﻧﺌﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﺭﺙ ﺍﮮ ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺩﺭﯾﺎﮞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﭽﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺎﻭﮞ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﺭﯾﻨﺞ ﮐﺮﻟﻮﻧﮕﺎ
ﺟﺐ ﺷﺎﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻭﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮔﺎﻣﺎ ﺍﯾﮏ ﺗﻮﻟﯿﮧ ﺻﺎﺑﻦ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﭨﺎ ﻟﯿﮑﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﻭﮦ ﺻﺎﺑﻦ ﺳﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﮬﻠﻮﺍﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﻟﯿﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﺎ ۔ ﺁﻭﺟﯽ ﻣﻠﮏ ﺻﺎﺏ ﮨﺘﮫ ﺩﮬﻮ ﻟﻮُ ،ﺁﻭ ﺟﯽ ﺭﺍﻧﺎ ﺻﺎﺏ ﮨﺘﮫ ﺩﮬﻮ ﻟﻮُ ، ﺁﻭ ﺟﯽ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺏ ﮨﺘﮫ ﺩﮬﻮ ﻟﻮُ ۔۔۔ ﻏﺮﺽ ﮐﮧ ﭘﻮﺭﮮ ﮔﺎﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺎ ۔ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﺎﻣﮯ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ VIP ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﮔﺎﻣﺎ ﺣﺴﺐ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺏ، ﻣﻠﮏ ﺻﺎﺏ، ﺭﺍﻧﺎ ﺻﺎﺏ ﺗﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﻨﺪ ﻭﺍﻟﯿﻮ ‏( ﻣﯿﮟ ﺍِﯾﻨﮯ ﺟُﻮﮔﺎ ﺍِﯼ ﺳَﺎﮞ ‏)
ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺣﺼﯿﺖ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺑﺲ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺩﮬﻠﻮﺍ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺠﻠﯽ ﺁﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﮐﻮ ﺑﯿﭻ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺲ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﺑﻠﻮﺍ ﻟﯽ
ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﻮ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻟﭩﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ
ﺁﭖ ﻧﮯ ﻭﻭﭦ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﺠﻠﯽ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﮦ ﮨﻢ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ
ﺍﺏ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻭﻭﭦ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻗﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﮬﯽ ﮨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻨﮧ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮔﺎﻣﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻓﮑﺮ ﻧﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ( ﺍﺳﯽ ﺍِﯾﻨﮯ ﺟُﻮﮔﮯ ﺍﯼ ﺳﺎﮞ n
 ﻭﮦ ﺁﮐﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﮕﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰ ﮨﻢ ﻭﻃﻨﻮ