Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

The Battle over dishonour

Here we are sharing an article written by Sherry Rehman, published in ‘The News’ on July 30th, 2016.

The heinous murder of social media star Qandeel Baloch has triggered a long-overdue wave of introspection in Pakistan about how it treats its women. Her ‘honour killing’, at the hands of her own brother, has embarrassed the state into taking action against the impunity clause for such crimes – which was built into the law by a military dictator. Read More

It’s not the same Kashmir

Here we are sharing an article written by Yaqoob Khan Bangash Published in ‘Express Tribune’ on July 23, 2016.

The recent spate of violence in Indian-held Kashmir has opened the eyes of many people and must be taken seriously. It is not business as usual in Kashmir, and both Pakistan and India must take the changed circumstances into consideration and engage with the issue in a new manner. Both Pakistan and India still repeat the narrative they decided upon decades ago. Both Foreign Offices act as if it’s still 1980 and statements from Foreign Offices are the final word. Therefore, while India howls that Kashmir is its internal matter and Pakistan should stop interfering, Pakistan complains that India has ignored the UN resolutions on Kashmir. In 2016, both these stances are rather quaint and silly. Read More

We love to talk of terror – but after the Munich shooting, this hypocritical catch-all term has finally caught us out

Here we are sharing an article written by Robert Fisk published in ‘Independent’ on 25th July 2016.

How come a Muslim can be a terrorist in Europe but a mere ‘attacker’ in south-west Asia?

The frightful and bloody hours of Friday night and Saturday morning in Munich and Kabul – despite the 3,000 miles that separate the two cities – provided a highly instructive lesson in the semantics of horror and hypocrisy. I despair of that generic old hate-word, “terror”. It long ago became the punctuation mark and signature tune of every facile politician, policeman, journalist and think tank crank in the world. Read More

الحمداللہ

تحریر :سائرہ ظفر

کسی  جنگل میں ایک کوا رہتا تھا۔ کوا اپنی زندگی سے بڑا مطمئن اور خوش باش تھا۔ ایک دن کوے نے پانی میں تیرتے سفید ہنس کو دیکھا۔ کوا ہنس کے دودھ جیسے سفید رنگ اور خوبصورتی سے بڑا متاثرہوا اور سوچنے لگا کہ یہ ہنس تو یقینادنیا کا خوبصورت ترین اور خوش ترین پرندہ ہوگا اوراس کے مقابلے میں

Read More

ایک اور قاتل کا اضافہ

تحریر:محمد ثاقب

انسان اپنے اعمال کا اچھا وکیل اور دوسروں کے اعمال کے کا بہترین جج ہے۔اسلام ایک

کا ایسا مزہب ہے جو کہ اپنے تخظ کے ساتھ ساتھ دوسروں کے تحفظ کی تلقین کرتا ہے۔اسلام برابری کا درس دیتا ہے۔لیکن آج کل کے ہماری طرح کے مسلمانوں نے ہی اس سنہرے اُصول سے بغاوت کی ہے۔اور بغیر تصدیق کیے ہمیشہ عورت ہی کو اپنے ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔غلطی انسان سے ہوتی ہے۔لیکن اگر ہمارے مُعاشرے میں کوئی مرد غلطی کرتا تو کہا جاتا ہے خیر ہے کوئی بات نہیں ہے۔لیکن اس کے برعکس یہی غلطی ماں ،بہن ،بیوی کرے تو قیامت آجاتی ہے۔ہمیں اسلام اور اسلام کی بتائی سزائیں یاد آجاتی ہیں۔سنگسار اورکاروکاری نظر آجاتی ہے کیا  یہ تضاد نہیں ہے؟

قندیل بلوچ ایک عام پاکستانی لڑکی تھی۔اُس کے اعمال کوصیح اور غلط کہنے والے میں اور آپ کون ؟اور اگر وہ غلط تھی تو کیا صرف وہ ہی غلط تھی؟کیا اُس کے قتل کے ساتھ فحاشی ختم ہو گئی ہے؟کیا اب کسی لا ئیو شو میں کوئی مفتی کسی لڑکی سے نہیں پوچھے گا کہ آپ کہاں رہتی ہیں؟تو اگر میں آپ کے شہر آیا تو آپ سے ضرور ملوں گا۔

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہمارے مُعاشرے میں بُرائی ختم یا کم ہونے کے بجائےاور بھی بڑھ گئی ہے۔کیونکہ کہ ہمارے معاشرے میں ایک اور قاتل کا اضافہ ہو گیا ہے۔اور نبی کا فرمان ہے جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اُس نے ساری انسانیت قتل کیا ہے۔

آفاق گیرہستیاں

تحریر :سائرہ ظفر

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آتے ہیں اور دُنیا پر چھا جاتے ہیں۔لیکن چند آفاق گیر ہستیاں اپنا مقام خود بناتی ہیں ۔سوچتی ہوں یہ ہستیاں جب دُنیا سے رُخصت ہوئی ہیں تو اللہ تعالی کی نوری مخلوق نے کتنے ادب اور احترام سے اعلان کیا ہو گا کہ آج اللہ تعالی تیرے اُن بندوں کو لائے ہیں جہنوں نے شاید ہی کوئی حقوق االعباد میں غلطی کی ہو۔عبدالستار ایدھی کے نام شاید کوئی بندہ ایسا ہو جو ناواقف ہو۔آپ کی خدمات ،سادگی،رہن سہن سے ہر کوئی واقف ہے ۔لیکن سیاست وہ واحد پیشہ ہے صرف پاکستان جس میں لوگ  خالی جیب آتے ہیں اور واپس سات نسلوں کا خرچہ لے کر جاتے ہیں ۔

عبدالستار ایدھی کو جنرل ضیاالحق نے بے حد اصرار کرکے انھیں مجلس شوری کی رکنیت دی مگر سادہ زندگی گزارنے والے عبدالستارایدھی اس پوزیشن سے خوش نہ ہو سکے جب وہ مجلس شوریٰ کے پہلے اجلاس میں شرکت کیلیے اپنے خرچ پرراولپنڈی پہنچے توتیسرے درجے کے ہوٹل میں قیام کیا،فٹ پاتھ پربیٹھ کر کھانا کھایا اور بذریعہ بس اسلام آباد پہنچ گئے جب وہ پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پرپہنچے تو افسران دوڑے چلے آئے اور کہا کہ آپ کہاں تھے ہم نے آپ کے قیام اورطعام کا بندوبست کر رکھا تھا لیکن انھوں نے عاجزی سے کہا کہ میں ساری زندگی عیش و عشرت سے دور رہاہوں اسی مزاج کی وجہ سے وہ بہت کم اجلاسوں میں شرکت کرسکے اور بتدریج حکومت سے دوری اختیارکرلی۔
Read More

بد خصال

تحریر :ساحرہ ظفر

 

سلطان مراد نے ایک رات بڑی گھٹن اور تکلیف میں گزاری ۔لیکن وہ اس کا سبب نہ جان سکا ۔ اس نے اپنے سیکورٹی انچارج کو بلایا اس کو اپنی بےچینی کی خبر دی ۔ بادشاہ کی عادت تھی ، کہ وہ بھیس بدل کر عوام کی خفیہ خبرگیری کرتا تھا ۔ کہا چلو چلتے ہیں اور کچھ وقت لوگوں میں گزارتے ہیں ۔ شہر کے ایک کنارے پر پہنچے تو دیکھا ایک آدمی گراپڑا ہے ۔ بادشاہ نے اسے ہلا کر دیکھا تو مردہ انسان تھا ۔ لوگ اس کے پاس گزرے جارہے تھے ۔ بادشاہ نے لوگوں کو آواز دی  کہ ادھر آؤ لوگ جمع ہوگئے اور وہ بادشاہ کو پہچان نہ سکے  پوچھا کیا بات ہے بادشاہ نے کہا آدمی مرا ہوا ہے اس کو کسی نے کیوں نہیں اٹھایا کون ہے یہ اور اس کے گھر والے کہاں ہیں لوگوں نے کہا یہ  اسفلشخص ہے بڑا شرابی اور زانی آدمی تھا ۔ بادشاہ نے کہا کیا یہ امت محمدیہ میں سے نہیں ہے چلو اس کو اٹھاؤ اور اس کے گھر لے چلو لوگوں نے میت گھر پہنچا دی اس کی بیوی نے خاوند کی لاش دیکھی تو رونے لگی لوگ چلے گئے بادشاہ اور اس کا سیکورٹی انچارج وہیں کھڑے عورت کا رونا سنتے رہے وہ کہہ رہی تھی  میں گواہی دیتی ہوں بیشک تو اللہ تعالٰی کا ولی ہے اور نیک لوگوں میں سے ہے سلطان مراد بڑا متعجب ہوا یہ کیسے ولی ہو سکتا ہے ؟لوگ تو اس کے متعلق یہ یہ باتیں کررہے تھے اور اس کی میت کو ہاتھ لگانے کو تیار نہ تھے اس کی بیوی نے کہا مجھے بھی لوگوں پر یہی توقع تھی

Read More