Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

Another Pakistan fiasco: Punjab’s ‘parallel public sector’

Unaudited accounts. Missing records. Dodgy appointments. Punjab province has been running a parallel municipality that has devoured public funds

 NOVEMBER 11, 2017 11:52 AM (UTC+8)

Pakistan’s powerful Sharif family, already facing trial in an accountability court on money laundering and disproportionate assets charges, has become embroiled in yet another scandal involving billions of dollars.

Punjab province is the focus of a story in which Shahbaz Sharif, as Chief Minister, has been running a parallel municipality into which funds have disappeared.

With pressure mounting on the government over the experiment’s failure, Punjab’s Finance Minister, Dr Ayesha Ghous Pasha, hurriedly called a press conference in Lahore at the end of last month to explain that the provincial government had decided to shut down 10 out of the 63 companies. The remaining 53 concerns, she said, would be scrutinized to detect any financial irregularities.

Ghous had no answer as to why the government had previously failed to conduct annual audits of all the companies. Only 17 companies, she admitted, had been audited. Moreover their audited accounts have not been made public.

“The procedure requires of the public limited company to share its financial affairs with the ministry of finance and the Security & Exchange Commission of Pakistan, which in this case was not fulfilled”

Earlier last month multiple petitions were filed in Lahore High Court against alleged irregularities and financial bungling in the administration of Punjab’s public sector companies. Among other infractions, they question why two Turkish companies – namely Al-Bayraq and Azbaq – were awarded contracts by the provincial government in violation of established procedures and rules. The Turkish consultants were also inducted into various companies on fat salaries, with generous perks.

The picture gets even murkier in light of allegations that the Punjab government appointed a number of serving bureaucrats as heads of these companies and that they drew dual salaries: one from their parent department and another from the companies’ accounts. The seriousness of the maladministration and mismanagement now being uncovered is illustrated by the fact that financial records from at least 38 companies have gone missing.

It is known that Shahbaz’s government appointed 12 sitting members of Punjab’s provincial assembly on the Boards of Directors of the Lahore Transport Company, the Lahore Parking Company, the Punjab Saaf Pani Company, the Lahore Waste Management Company and the Punjab Agriculture and Meat Company. Large funds were placed at their disposal to undertake regular foreign trips and travel in costly bulletproof vehicles.

A source in the Punjab revenue department told Asia Times that the audits of the 17 companies so far assessed have alone unearthed irregularities worth US$761 million. He asserted that the Punjab finance ministry had not been in the loop with regard to these companies’ affairs or running expenses. “The procedure requires of the public limited company to share its financial affairs with the ministry of finance and the Security & Exchange Commission of Pakistan, which in this case was not fulfilled,” he said. The ministry had not bothered to ask for annual audit reports, he added.

رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر

گناہگار تو شاید سب ہیں لیکن میں تو بہت ہی زیادہ گناہگار ہوں۔ مغفرت کی امید ہے تو اپنے عمل کے سہارے نہیں بلکہ غفورالرحیم کی صفت رحمت اور رحمت اللعالمینﷺ کے جذبہ رحمت کو دیکھ کر بخشش کی توقع لگائے بیٹھا ہوں۔ تاہم حیرت زدہ ہوں کہ وہ لوگ روزقیامت اللہ کو کیا جواب دیں گے جو اس کے نبی پاکﷺ کے پاک نام اور مقدس دین کو اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور اس کی آڑ میں آپﷺ کی امت کو تکلیف پہنچاتے ہیں ۔
میں تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی مسلمان ہوکر نبی آخرالزمان ﷺ کے خاتم النبین ﷺہونے میں رتی برابر بھی شک کرے ۔ سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان جان بوجھ کرختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قوانین میں تبدیلی یا ان سے متعلق سوال اٹھانے کا سوچ سکتاہے۔ ذہن نہیں مانتا کہ مسلمان ہوکر بھی کوئی دانستہ ختم نبوت ﷺ کے عقیدے اور قانون کو متنازع بنانے کا خیال ذہن میں لاسکتا ہے۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ جو کچھ ہوا وہ کوئی سازش تھی یا پھر حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کی حماقت ۔ ممبران پارلیمنٹ کے حلف نامے میں تبدیلی کی جو غیرضروری حماقت کی گئی ، اس کے اگر ذمہ دار ہیں بھی تو حکمران ہیں یا پھر ان کے اتحادی ۔ بنیادی ذمہ داری بلاشبہ وزیر قانون زاہد حامد کی بنتی ہے ، پھر کابینہ اور پارلیمنٹ کی۔ وزیرداخلہ احسن اقبال میرے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں آن ریکارڈ دعویٰ کرچکے ہیں کہ قومی اسمبلی کی جس کمیٹی نے حلف نامے میں تبدیلی کے قانون کی منظوری دی اس میں جے یو آئی کے ممبربھی موجود تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان صاحب کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ اجتماعی گناہ کی مرتکب ہوئی ہے۔ اب اگرچہ قانون واپس لے لیا گیا لیکن بہرحال جو جرم سرزد ہوا ، اس کا ذمہ دار اگر کوئی ہے تو حکومت یا پھر بقول مولانا فضل الرحمٰن پوری پارلیمنٹ ، لیکن اس میں راولپنڈی میں رہنے والے رحمۃ للعالمین ﷺ کے امتی اس مزدور کا تو ہرگز کوئی قصور نہیں کہ جو روزانہ بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر اسلام آباد میں دیہاڑی لگانے جاتا ہے اور رستہ بندہونے کی وجہ سے وہ گزشتہ ایک ہفتے سے مزدوری نہیں کرسکا۔ اسی طرح رحمۃ للعالمین ﷺ کے اس امتی کا بھی کوئی قصور نہیں کہ جوذاتی گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد اور پنڈی کے مابین آنے جانے کے لئے میٹرو استعمال کرتا تھا لیکن اس کی بندش کی وجہ سے اب وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا میٹرو کے کھلنے کا انتظار کررہا ہے ۔ اسی طرح گوجر خان سے تعلق رکھنے والے رحمۃ للعالمینﷺ کے اس امتی کا تو قانون بدلنے کے عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو اپنی بیمار والدہ کو شفا اسپتال لارہا تھا لیکن رستہ بند ہونے کی وجہ سے اسے بلک بلک کر روتے ہوئے اپنی والدہ کواسپتال پہنچائے بغیر ان کی لاش کے ساتھ واپس جانا پڑا۔ وہ باپ تو وزیر ہے اور نہ کابینہ کا رکن بلکہ شاید موجودہ حکومت سے خادم حسین رضوی سے بھی زیادہ نالاں ہیں کہ جو اپنے جگرگوشے کو سڑکوں کی بندش کی وجہ سے اسپتال نہ پہنچا سکا۔ اسی طرح پیغمبرانہ پیشے سے وابستہ ان سینکڑوں اساتذہ کرام کا تو مجھے کوئی قصور نظر نہیں آیا ،جو دھرنے کی وجہ سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لئے متعلقہ تعلیمی اداروں تک آنے جانے سے قاصر ہیں۔ کیا فیض آباد، کنہ پل ، آئی ایٹ اور گردونواح کے علاقوں میں رہنے والے لاکھوں پاکستانی اس رحمۃللعالمین ﷺ کے امتی نہیں کہ جس کے نام کی آڑ لے کر گزشتہ ایک ہفتے سے ان سب کو گھروں میں محصو رکردیا گیا ہے اور کیا روز قیامت ان لوگوں کے ہاتھ ، حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے گریبانوں پر نہیں ہوں گے کہ جنہوں نے دھرنے کے ذریعے ان کا جینا حرام کردیا ۔ کون یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کے دلوں میں رحمۃللعالمین ﷺ کی محبت کسی دھرنا دینے والوں سے کم ہے۔ جس رحمۃ للعالمین ﷺ کے پاک نام پر اس کی امت کو تکلیف دی جارہی ہے ، اس نبیﷺ نے تو مسلمان کی شان یہ بتائی ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں ۔ آپﷺ نے رستہ کھلا رکھنے کے لئے مسجد تک کو ڈھانے کا رستہ دکھایا ہے ۔ آپﷺ نے تو بندئہ مومن کی حرمت کعبۃ اللہ سے زیادہ بیان فرمائی ہے ۔
بات صرف زاہد حامد اور احسن اقبال کی ذات تک محدود ہوتی تو ہم جیسے گناہگار پھر بھی خاموش رہتے لیکن اب تو عاشق رسولﷺ جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی فیصلے کی صورت میں بول اٹھے ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ماضی کے بعض اقدامات اور فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے ایک سچے عاشق رسول ﷺ ہونے میں کوئی کلام نہیں ۔ ان کے ماضی کے بعض فیصلوں اور کمنٹس پر لبرل حلقوں کی طرف سے اس بنیاد پر اعتراض اٹھایا جاتا رہا کہ شاید ان سے خادم حسین رضوی جیسے لوگوں کو شہ ملتی ہے لیکن اب کی بار تو جسٹس صاحب بھی خاموش نہیں رہ سکے ۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی، علمی میدان میں اس نعیم صدیقی کے جانشین اور پیروکار ہیں جنہوں نے محسن انسانیت ﷺ جیسی شہرہ آفاق کتاب تصنیف کی ۔ جسٹس صاحب کسی کو تحفہ دیتے وقت کوئی اور چیز نہیں بلکہ سیرت النبیﷺ پر مبنی اس کتاب یعنی محسن انسانیت ﷺ کا تحفہ دیتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر شان رسول ﷺ میں گستاخی سے متعلق کیس میں ان کا تفصیلی اور علمی فیصلہ نبی رحمت ﷺ سے ان کی محبت اور اس موضوع کے علمی نزاکتوں پر ان کے عبور کا بین ثبوت ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ کسی بھی حوالے سے کسی مصلحت یا خوف کا شکارتو ہوسکتے ہیں لیکن اس موضوع پر وہ کسی مصلحت یا خوف کا شکار ہوں گے ، میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اب جب اس جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی فیصلہ دینا پڑا کہ لبیک تحریک والوں کو اپنا دھرنا ختم کردینا چاہئے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ حد سے نکل گیا ہے ۔ جسٹس صاحب نے اپنے فیصلے میںکیا خوبصورت بات کہی ہے کہ محمد مصطفی ﷺ نے رستے سے کانٹے اٹھائے اور آپ لوگوں نے راستے بند کردئے ہیں ۔ ان کے اس فیصلے نے ثابت کردیا کہ نہ صرف دھرنا غیرقانونی ہے بلکہ رحمت اللعالمینﷺ کی تعلیمات کے بھی منافی ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس کے بعد بھی دھرنے کے منتظمین دھرنا ختم کرنے پر آمادہ نہیں ۔
دلیل ان کی یہ ہے کہ احتجاج کرنا اور دھرنا دینا ان کا قانونی حق ہے لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے خلاف قانون قرار دلوائے جانے کے بعد بھی وہ اپنا دھرنا ختم نہیں کررہے ۔ عدالت عالیہ کا حکم آگیا کہ معصوم عوام کے رستے بند کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے لیکن دھرنا دینے والے پھر بھی اپنی عدالت لگائے بیٹھے ہیں ۔ اندیشہ ہے کہ دھرنا کے منتظمین خود یا کسی کے ایماء پر ایک اور سانحہ لال مسجد برپا کرنے کے مشن پر آئے ہیں لیکن مجھے حیرت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر اور صاحبزادہ فضل کریم وغیرہ بھی خاموش ہیں۔ وہ حکومت کا حصہ بھی ہیں اور خادم حسین رضوی کی طرح اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے بھی ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ میدان میں کیوں نہیں آتے ۔ اگر حکومت غلط کررہی ہے تو اس کو سمجھا دیں یا پھر اس سے الگ ہوجائیں اور اگر دھرنا دینے والے غلط کررہے ہیں تو ان کو سمجھا دیں یا پھر فتویٰ دے دیں کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ اسلامی تعلیمات اور قانون کے منافی ہے ۔ کیا یہ حضرات بھی ایک اور سانحہ لال مسجد کے انتظار میں بیٹھے ہیں تاکہ بعد ازاں ان لاشوں پر اپنی سیاست چمکا سکیں ۔
افتخار عارف صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے کہ :
رحمت سید لولاک ﷺ پہ کامل ایمان
امت سید لولاکﷺ سے خوف آتا ہے

سیاست اورسیاستدانوں سے نفرت؟

آپ کو یاد ہوگا کہ چند روز پہلے میں نے بڑے دکھی دل کےساتھ ن لیگ کے مفتاح اسماعیل کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر پر لکھتے ہوئے عرض کیا تھا کہ میرا دل نہیں مانتا لیکن تردید کا انتظار کرنے کے بعد کچھ لکھنے پر مجبور ہوں۔ مزید یہ کہ مفتاح کے بارےمیں میری رائے بہت مثبت ہے وغیرہ وغیرہ۔ کالم کی اشاعت کے بعد بھی میرے دل پر ایک بوجھ سا تھا جو بیرسٹر بابر ستار کی ایک فون کال نے اتار دیا۔ بابر ستار ہیوی ویٹ کالم نگار ہی نہیں ’’رپورٹ کارڈ‘‘میںمیرے ساتھی بھی ہیں۔ انہو ںنے جوحقائق بتائے، دل سے منوں بوجھ اتر گیا کہ مفتاح اسماعیل ویسے ہی ہیں جیسا میں نے سوچا تھا۔ تھینک یو بابر ستار! تھینک یو مفتاح اسماعیل ورنہ ET TU BRUTE? ہوتا۔اپنے ’’تھینک یو‘‘‘ سے برنارڈ شا یاد آئے جو کسی پارک میں واک کررہے تھے۔ خوبصورت دوشیزہ سے پر نظر پڑی، رُکے، تھوڑا مسکرائے اور کہا ’’تھینک یو‘‘ دوسرے چکر پر پھر وہی دوشیزہ دکھائی دی، پھر بولے ’’تھینک یو‘‘ تیسرے رائونڈ پر بھی یہی ہوا۔ ادھر وہ حسینہ پریشان کہ ’’بابا‘‘ جانا پہچانا سا ہے لیکن ہے کون جو بار بار مجھے ’’تھینک یو‘‘ بول رہا ہے۔ اگلے چکر تک لڑکی کو یاد آ گیا کہ اوئے یہ تو عظیم قلمکار برنارڈ شا ہے۔ چوتھے رائونڈ پر بھی جب شا نے شکریہ ادا کیا تو حسین لڑکی نے پوچھا ’’مسٹر شا! آپ بار بار کس بات پر مجھے ’’تھینک یو‘‘ بول رہے ہیں؟‘‘ “For being so beautiful” میرابھی دل کہتا تھاکہ مفتاح جیسا متوازن مہذب اس گندے کام میں ملوث نہیں ہوسکتا حالانکہ میرے بارےمیں عام تاثر یہ ہے کہ مجھے سیاست اور سیاستدانوں سے شدید نفرت ہے۔ہرگز نہیں ….. یہ بالکل بے بنیاد ہے۔ غیر منطقی ہے۔ مجھے کسی بھی جائز قانونی کام، پیشہ یا پیشہ ور سے نفرت نہیں۔ رزق حلال کھانے کمانے والا خاکروب بھی میرے لئے قابل صد احترام ہے اور منافق مبلغ اتنا ہی قابل نفرت بھی تو سیاست اورسیاستدانوں سے نفرت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو پھر مسئلہ کیا ہے؟’’مجھے اس نے توقع سے زیادہ مار ڈالا ہے‘‘….. یہ ہے اصل مسئلہ میرا۔درزی، دھوبی، موچی، نائی، انجینئر، ڈاکٹر، وکیل، گلوکار، موسیقار، کوئی فوجی، سول سرونٹ، مصور وغیرہ وغیرہ زیادہ سے زیادہ آپ کا، معاشرہ کا کیا بگاڑ لے گا؟ انجینئر دو نمبر ہوگا۔ عمارت گرجائے گی اور سینکڑوں لوگ مرجائیں گے۔ ڈاکٹر دونمبر ہوگا تو اس کے کیریئر میںزیادہ سے زیادہ کتنے لوگ ہلاک ہوں گے۔ گلوکار بے سرا ہوگا تو آپ اسے سنیں گے نہیں۔ مصور بونگا ہوگا تو اپنی موت مرجائے گا۔ جرنیل برا ہوگا تو جنگ ہار جائے گا، وکیل ماٹھا ہوگا مؤکل کو مروا دے گا علیٰ ہذالقیاس لیکن اگر سیاستدان دو نمبر، نااہل، عطائی، بے ایمان ہوگا تو آنے والی کئی نسلیں بھی کھا جائے گا۔ پیغمبروں کے بعد قوموں کےبنائو بگاڑ میں یہ صرف اورصرف سیاستدان ہے جس کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اس کے کئے نہ کئے کے اثرات نسل در نسل جاری رہتے ہیں اوروہ سوفیصد آپ کے ووٹ کی پیداوار ہوتا ہے۔سیاست کے ’’پیشے‘‘کا دوسرا پہلو بہت ہی انوکھا ہے۔ کوئی ہنرمند، کوئی پیشہ ور اپنے ’’ہنر‘‘اور ’’پیشہ‘‘ کے لئے عوام کامحتاج نہیں ہوتا سوائے سیاستدان کے جس کا اکلوتا ’’کلیم ٹو گلوری‘‘ صرف اور صرف عوام کی پشت پناہی ہوتا ہے سو اس کی ذمہ داری بھی بے پناہ، بے کراں، بے انداز، بے شمار اور ناقابل بیان ہوتا ہے۔ لاکھوں کروڑوں معصوم لوگ خود اپنا آپ، اپنی لاڈلی اولادیں رضاکارانہ طور پر اس کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ اپنے بچوں تک کا مقدر انہیں سونپ دیتے ہیں۔ یہ اپنی مائوں باپوں کے بڑھاپے، اپنے بیٹوں بیٹیوں کا مقدر ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اور جب یہ دغابازی کرتا ہے، جمہوری ڈبل شاہ ثابت ہوتا ہے تو پھر وہی بات کہ…..’’مجھے اس نے توقع سے زیادہ مار ڈالا ہے‘‘جتنی بڑی توقع، اتنی ہی بڑی مایوسی اور اصولاً اتنا ہی بڑا غصہ اور بھیانک انتقام ان کا مقدر ہونا چاہئے۔ برسہا برس پہلے اسی ’’چوراہا‘‘ میں میرا تکیہ کلام بلکہ تکیہ کالم رہا کہ حکمرانو! کچھ اور نہیں تو عوام کے ساتھ بھوک ہی برابر بانٹ لو۔جو میں کر رہا ہوں اسے مقامی زبان میں ’’رنڈی رونا‘‘کہتے ہیں لیکن کچھ ہونا ہے یا نہیں؟ میرا کام ہے میں دیانتدار مالی کی طرح بھر بھر ’’مشکاں‘‘ ڈالتا رہوں، گوڈی کرتا رہوں، یہ ’’مالک‘‘ کی ذمہ داری ہے کہ پودے اگائے نہ اگائے، پھل پھول لگائے یا نہیں۔آخری بات کہ جس قسم کی سیاست اور سیاستدانوں سے مجھے نفرت ہے، وہ دراصل نہ سیاست ہے نہ سیاستدان ورنہ 70سال بعد بھی کیا ہمارا تمہارا پاکستان آج اس حال میں ہوتا؟ یہ نااہل چمپو چاٹ فوج کو بلیم کرتے ہیں تو غور کریں اگر یہ حضرت عمر ؓبن عبدالعزیز کیا، بابائے قوم کا عشر عشیر بھی ہوتے تو یہ نوبت کبھی نہ آتی لیکن یہ تو 70سال بعد بھی صرف ’’زرداری‘‘ ہیں یا ’’نوازشریف‘‘….. ’’سرے محل‘‘ ہیں یا ’’پاناما‘‘میں ہی برا ہوں جو ایسے موضوع چھیڑ بیٹھتا ہوں،اخباری کالم جن کا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکتے لیکن یہ سوچ کر جھک مارنے سے باز نہیں آتا کہ عقل مندوںکے لئے اشارے ہی کافی ہوتے ہیں۔ اپنے ہی دو بھولے بسرے شعر؎خون پی لے گی مرا، اک دن بلوغت کی بلامجھ کو مری ہوش مندی کی سزا دی جائے گیکاٹ دی جائیں گی شاخیں ہر تناور پیڑ کیفصلِ تازہ اچھے بیجوں کی جلا دی جائے گیآئندہ کبھی ایسے سیاستدانوں کا ذکر کروں گا جن سے محبت احترام کے رشتے رہے کہ وہ سچ مچ سیاستدان تھے، بہروپئے نہیں لیکن یہاں تو سب گڈ مڈ۔

Capital suggestion: Drawing board

We are where we are because of three things: our political culture, our model of governance and lack of institutionalised accountability. Our political culture is dynastic and dynastic politics across the world has five notable outcomes: high levels of poverty; underinvestment in education and health; the state fails to provide basic services (water, electricity and justice); political parties lack internal democracy; and financial rewards to dynastic politicians are extremely high.

We need competition in politics to let the best people rise. What we have is elevation based on loyalty to dynasties as oppose to merit. We need fresh minds to lead. The bicameral congress of the Philippines is debating House Bill 3587 or the Act Prohibiting the Establishment of Political Dynasties. House Bill 3587 “proposes to limit clans from building political dynasties by prohibiting relatives up to the second degree of consanguinity to hold or run for both national and local posts in successive, simultaneous and overlapping terms”. The Election Commission of Pakistan ought to take on the restructuring of our political culture.

Next: our model of governance. We have had 10 elections over the past 47 years. There are 30.2 million families in Pakistan (Census 2017). Of these, there are 1,174 families who have routinely taken part – over and over again – in the past 10 elections. Members of these 1,174 families continue to occupy 1,174 seats in the Senate, the National Assembly and the provincial assemblies.

For the record, over the past 47 years, our elected legislatures have been extremely poor managers. For the record, over the past 47 years, our elected legislatures have failed to deliver. We need professionals, subject specialists and domain experts as managers and elected legislatures as part of oversight committees. Simple, isn’t it?

Next: institutionalised accountability. Democracy is about three things: elections, accountability and responsive governance. We have had 10 elections over the past 47 years but our democracy is completely devoid of both accountability and responsiveness. All that we have is one-third of democracy. We need more democracy, not less.

For the record, Pakistan has one of the largest anti-corruption infrastructures in the world: the National Accountability Bureau (NAB), the Federal Investigation Agency (FIA), an Anti-Corruption Establishment in all four provinces, the Khyber Pakhtunkhwa Ehtesab Commission, the Wafaqi Mohtasib, the Federal Tax Ombudsman, Mohtasib-e-Aala offices in Punjab, Balochistan and Sindh, the Banking Mohtasib, the Federal Insurance Ombudsman and the Federal Ombudsman for the Protection of Women against Harassment at Workplace.

Institutionalised accountability means three things: legislation, physical infrastructure and leadership. Our accountability mechanism has two things: legislation and physical infrastructure. The only thing that is missing is leadership. And effective leadership is all about political intent (there’s no shortage of talent in this country). Simple, isn’t it?

In this day and age, taking a country forward is no rocket science. We need to enforce internal democracy within our political parties, detach elected legislatures from executive authority and institutionalise accountability. Simple, isn’t it?

In this day and age, taking a country forward is about four things: political intent, domain specialists, a roadmap and an implementation mechanism. The only element that is lacking in the land of the pure is political intent. Simple, isn’t it?

The writer is a columnist based in Islamabad.

Email: farrukh15hotmail.com. Twitter: saleemfarrukh

Raising taxes of Rs 8 trillion

“At present, Pakistan’s public debt is almost 600 percent of tax revenues and development spending is significantly less than interest payments.”, says Unlocking Pakistan’s revenue potential by Ms. Serhan Cevik, Country Report 16/2 (January 2016), IMF.

Achieving revenue targets by keeping the rich and mighty outside the ambit of personal income tax according to their actual ability to pay is the real dilemma of Federal Board of Revenue (FBR). The stalwarts sitting in Ministry of Finance and FBR are totally indifferent towards a fair, simplified, low-rate, broad-based, growth-oriented tax system. Their single-minded, target-oriented approach is the root cause of prevalent fiscal crisis. They want to stick to narrow tax base with higher taxes, rather than broadening tax base with lower rate of taxes. Fiscal consolidation should be as growth-friendly as possible. Tax-base-broadening reforms are identified as growth-oriented if aimed at reducing distortions in economic decisions, saving, investment and consumption, increasing output and improving social welfare.

Unfortunately, this is not the vision of our economic managers. It is tragic that in a country where billions are spent for the luxuries of the elites — militro-judicial-civil complex and ruling-predators — over 60 million live below the poverty line. Tax evaders are buying plots and luxurious bungalows, but the high-ups of FBR express their helplessness in taxing them — rather begging them, through amnesty schemes to pay just a few thousands more and get everything whitened. The definition of ‘business’ given in section 2(9) of the Income Tax Ordinance, 2001 covers even speculative transactions being ‘adventure in the nature of trade’ and yet the apex revenue authority is sitting idle causing colossal loss to the national exchequer. It is not taxing buying and selling in real estate as adventure in the nature of trade but wants capital gains tax on it which is a provincial subject. Our tax-to-GDP ratio can rise to 20 per cent in one year if we tax absentee landlords, real estate developers, beneficiaries of State lands under section 13(11) of the Income Tax Ordinance, 2001 and confiscate assets created out of untaxed money by deleting section 111(4) of the Income Tax Ordinance, 2001.

Pakistan’s tax potential at federal level alone is Rs. 8 trillion, says Unlocking Pakistan’s revenue potential, Country Report 16/2, January 2016, IMF. According to Household Integrated Economic Survey (HIES) 2011-12 conducted by Pakistan Bureau of Statistics, 5 million individuals have annual taxable income of Rs 1.5 million. If all of them file tax returns, income tax collected from them at the prevalent tax rates would be Rs. 1650 billion. If income tax collected from corporate bodies, other than non-individual taxpayers and individuals having income between Rs 400,000 to Rs 1,000,000 is added, the gross figure would not be less than Rs. 3000 billion. FBR in 2016-17 collected less than Rs. 1500 billion as direct taxes (which included almost 40 per cent of indirect taxes in the garb of income taxation).

The government is not making any effort to improve productivity and economic growth. Resultantly, Pakistan is facing a dilemma: neither can it afford to give any meaningful tax relief package to the common people, trade and industry [due to huge fiscal deficit] nor can it achieve a satisfactory level of economic growth [due to retrogressive tax measures]. Regressive taxation, non-realisation of actual tax potential and wastage of whatever is collected is our real predicament. The existing unfair and unjust taxation is destroying Pakistan’s trade and industry by levying exorbitant sales tax, blocking undisputed refunds under one pretext or the other, making excessive tax demands which in 99 per cent of cases do not stand the test of appeal and resorting to all kinds of negative tactics and highhandedness to meet budgetary targets. These actions of the tax machinery are detrimental for economy, social justice and growth of business and industry to generate much-needed employments — we need annual jobs of 2 million for young people alone.

According to Household Integrated Economic Survey (HIES) 2011-12 conducted by Pakistan Bureau of Statistics, 5 million individuals have annual taxable income of Rs 1.5 million. If all of them file tax returns, income tax collected from them at the prevalent tax rates would be Rs. 1650 billion

The way forward is introduction of simplified, lower, certain and predictable taxes — details can be found at http://primeinstitute.org/wp-content/uploads/2016/08/Towards-Flat-Low-rate-Broad-and-Predictable-Taxes.pdf. In this study, a complete roadmap has been given that can accelerate economic growth and yield revenues of Rs. 8 billion for the government, much more than what is being presently collected.

Income taxation at the moment is highly complex and fragmented. According to various estimates, our tax base is around Rs. 40 trillion (after taking into account informal economy). Flat-rate, broad-based taxation of just 10 per cent, with strong enforcement system, will yield Rs. 3 trillion under income tax from individuals and around Rs. one trillion from corporate entities (to be taxed at the rate of 20 per cent).

Presently, collection of sales tax is related to a few commodities. This is confirmed by the fact that petroleum products alone contribute around 44 per cent of the total sales tax domestic collection. Against the prescribed rate of 17 per cent, the effective sales tax rate for total domestic sales is not more than 5 per cent. If we introduce simplified sales tax at the rate of 8 per cent, collection will be around Rs. 3 trillion.

Customs collection in Pakistan faces serious issues of smuggling, under invoicing, over invoicing, misdeclarations and valuation rulings etc. These are not only causing a loss to national exchequer but also hurting open markets. The rationalisation of customs revenue is not possible through narrow bases (10 items contribute more than 80 per cent receipts), in the presence of hundreds of statutory regulatory orders (SROs) and numerous valuation rulings — all leading to complexity and leakages. There are presently four tariff slabs with the peak of 20 per cent and floor of 2 per cent. A single rate of 5 per cent for all items will eliminate the menace of smuggling, arbitrary and/or favourable valuations, complicated registration processes as well as the SRO-ridden system. It will bring revenues of Rs. one billion. Since there will be no sales tax on import stage or any withholding income tax, the industry and trade will flourish.

The writer, Advocate Supreme Court, is Adjunct Faculty at Lahore University of Management Sciences (LUMS). Email: ikram@huzaimaikram.com; Twitter: @drikramulhaq

Published in Daily Times, November 12th 2017.

ختم نبوت کا تحفظ

 

ستر سال مسلسل ختم نبوت کا تحفظ کر کر کے آج پاکستانی قوم دنیا کی بہترین اور ترقی یافتہ قوم بن چکی ھے ۔ ۔ ایمانداری ۔ نیکی ۔ تقویٰ اور پاکیزگی کا یہ عالم ھے کہ کوئی ایک بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ھوتا ۔ اتنا زیادہ تحفظ ختم نبوت کا کِسی مسلمان ملک نے نہیں کِیا ۔ ۔ آج قوم کے افراد قوم کو کتے اور گدھے کا گوشت کھلاتے ھیں ۔ قبروں سے مردہ خواتین کی لاشیں نکال کر ان کے ساتھ زنا کِیا جاتا ھے ۔ مولوی پانچ پانچ چھ چھ سال کے لڑکوں کے ساتھ مساجد کے اندر بدفعلیاں کر کے گلے گھونٹ کر قتل کر رھے ھیں ۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں ریب کر کے قتل کی جا رھی ھیں ۔ خواتین سڑکوں پر بچے جنتی ھیں ۔ ھسپتالوں میں بچے پیدا ھوتے ھی اغواء ھو جاتے ھیں یا چُوھے ان کو کھاتے ھیں ۔ حج میں کروڑوں کی کرپشن کی جاتی ھے ۔ ڈاکٹرز جعلی ۔ دوائیاں بھی جعلی ۔ پِیر بھی جعلی ۔ فقیر بھی جعلی ۔ بارہ بارہ سال کی بچیاں اسلحے کے زور پر گھروں سے اُٹھوا کر ریب کِیے جاتے ھیں ۔ سیاسی رھنما سارا ملک لُوٹ کر کھا گئے ھیں ۔ علماء شراب پیتے ھیں ۔ کار کی ڈگی بھری پکڑی جاتی ھے ۔ انتہا پسندی ۔ تنگ نظری ۔ دھشت گردی ۔ قتل و غارت ۔ شراب ۔ جُوا ۔ زنا ۔ عریانی ۔ بے حیائی ۔ شادی پر طوائفوں کے ڈانس اور ان پر نوٹوں کی بارش ۔ کچھ بھی غیر اسلامی نہیں ۔ کچھ بھی غیر اسلامی نہیں ۔ سب حلال ھے ۔ صرف تحفظ ختم نبوت کا عقیدہ رکھو تو سب حلال ھے ۔ دینی مدرسوں میں طلباء کے ساتھ جتنی چاھو بدفعلیاں کرو ۔ گلے گھونٹ کر قتل بھی کرو ۔ ختم نبوت کا عقیدہ رکھو تو سب جائز ھے ۔ ۔ پندرہ من اعلیٰ کوالٹی کی ھیروئن پکڑی گئی ۔ آٹھ سو بوتل شراب برآمد ۔ ۔ ایک ھی خاندان کے آٹھ افراد کو قتل کر دیا گیا ۔ ۔ کوئی بات نہیں ۔ عقیدہ ختم نبوت ھے تو بس ٹھیک ھے ۔ دوسروں کے حق مارو ۔ چوریاں کرو ۔ ڈاکے مارو ۔ تشدد کرو ۔ عورتوں کے جِن نکالو اور زنا کرو جو چاھے کرو بس عقیدہ ختم نبوت کا رکھو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترسو ۔ بجلی اور گیس کو ترسو ۔ عدل و انصاف کے لئے ترستے رھو ۔ ۔ بس عقیدہ ختم نبوت کا رکھو دنیا کی سب سے بہترین اور ترقی یافتہ قوم بن جاؤ گے ۔ لہٰذا آج ستر سالوں کی محنت اور تحفظ کر کر کے ختم نبوت کا قوم دنیا کی بہترین ترقی یافتہ قوم بن چکی ھے ۔ کوئی ملک مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ سچا اسلام ۔ سچائی ۔ ایمان ۔ امن ۔ سلامتی ۔ عدل و انصاف ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ۔ تقویٰ ۔ اعلیٰ کردار ۔ اعلیٰ اخلاق ۔ کوئی اور قوم ایسی شاندار نہیں دنیا میں ۔ واہ جی واہ ۔ یوں جیسے نعوذ باللہ محبوبِ خدا، وجہِ تخلیقِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس تقدس اور مقام اِن بد زبان، غلیظ دہن اور مفسد ملاؤں کا مرہونِ منت ہے۔ گویا خدا تعالی کا کام ان مشرکوں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔