Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

قصور شہرکی بے قصور بیٹی

جلسے اور جلوسوں کے لئے مخصوص فیصل آباد شہر کے ’’دھوبی گھاٹ گرائونڈ‘‘ کو وہی حیثیت حاصل ہے جو تحریک پاکستان کے زمانے میں لاہور کے موچی گیٹ کی تھی۔جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ایک دِن اعلان ہوا کہ دھوبی گھاٹ گراونڈ میں ایک مجرم کو سر عام پھانسی پر لٹکایا جائے گا ،مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل گرائونڈ میں پھانسی گھاٹ بنایا گیا، لوہے کی ٹکٹکی لگائی گئی، پھانسی کے لئے سہ پہر کا وقت مقرر تھا ،لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر جمع ہو گیا، عین وقت مقررہ پر ڈسٹرکٹ جیل کی نیلے رنگ والی وین آئی، مجرم کو وین سے اتارکرپھانسی کے چبوترے پر لایا گیا ،یہ منظر دیکھ کر لوگوں پر سناٹا طاری تھا ،مجرم کو تختہ دار پر کھڑا کیا گیا، حکم ہوا اور جلاد نے لبلبہ دبا دیا ،تختے نیچے سے کھل گئے اور لاش پھانسی کے پھندے پر جھول گئی ،چند منٹ بعد ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور موت کی تصدیق کر دی، پھانسی لگنے والے مجرم کا قصور یہ تھا کہ اس نے ایک بچے کو اغوا کیا پھر بد فعلی کرنےکے بعد اسے قتل کر دیا ،اسی دورِ حکومت میں دوسرا واقعہ لاہور میں پیش آتا ہے ،1981 میںلاہور کے باغبانپورہ تھانہ کی حدود سے پپو نامی بچہ اغواہوتا ہے، کچھ دنوں بعد اُس کی لاش ریلوے کے تالاب سے ملتی ہے ،پپو کے قاتل گرفتار ہوتے ہیں، فوجی عدالت سے قاتلوں کے لئے پھانسی کا حکم جاری ہوتا ہے ،تین دن بعد ٹکٹکی وہاں لگائی جاتی ہے جہاں آجکل بیگم پورہ والی سبزی منڈی ہے، پورا لاہور پھانسی دیکھنے اُمڈ آیا ،چاروں مجرمان سارا دن پھانسی کے پھندوں میں جھولتے رہے ،حکم تھا کہ لاشیں غروبِ آفتاب کے بعد اُتاری جائیں، فیصل آباد اور لاہور کی سر عام پھانسیوں کا یہ اثر ہوا کہ پھر کئی سال نہ تو کوئی بچہ اغوا ہوا اور نہ ہی کسی بچے کو قتل کیا گیا،پھر جمہوریت آگئی جس سے عصمتوں کے لٹیرے ،قاتل، اغواکار، بردہ فروش اور چور اچکوں کو چند بااثر لوگوں اور پولیس کی پناہ مل گئی ۔اُن مجرموں کوملنے والی پناہ کا نتیجہ آج ہم اپنے بچوں کے اغوا، اُن سے زیادتی اور انہیں قتل کئے جانے جیسی شکلوں میں بھگت رہے ہیں ،آج نہ تو سر عام ٹکٹکی ہے اور نہ ہی سزائوں پر فوری عمل درآمد ہوتا ہے ،ویسے تو پورے پاکستان میں جنسی اسکینڈلز، بچوں کے اغوا اور اُن سے زیادتی کے بعد قتل کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں لیکن قصور میں ہونے والے واقعہ نے ظلم و بربریت کی نئی داستاں رقم کر دی ہے ۔بابا بلھے شاہ کی نگری پر افسردگی کی چادر تن چکی ہے ،قصور شہر کی سات سالہ زینب قرآن پاک کی تعلیم لینے جاتی ہے تو کچھ دِن بعد اُس کی لاش ملتی ہے ،والدین عمرہ کی سعادت کے لئے گئے ہوئے ہیں، وہاں زینب کے بہترمستقبل اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے دعائیں کی جا رہی ہیں، اِس نتیجے سے بے خبر کہ اُس معصوم کی درندوں کے ہاتھوں نوچی جانے والی لاش پاکستان میں ان کی منتظر ہے ۔
کیا اِسے جمہوریت کہتے ہیں؟ کہ ڈھائی سوبچوں سے جنسی تشدد کی فلمیں بنیں اُس میں با اثر لوگ ملوث ہوں اور کسی کو کوئی سزا نہ ملے ،کیا یہی جمہوریت ہے کہ زینب سے پہلے قصور شہر کے گردو نواح میں 12نو عمر جنسی تشدد کا شکار ہو کر مارے جا چکے ہیں اور سب وارداتوں کے پیچھے جو ڈی این اے ٹیسٹ کا رزلٹ آیا ہے وہ ایک ہی درندے کا ہے ؟کیا جمہوریت اِس عمل کا درس دیتی ہے کہ زینب کی نوچی ہوئی لاش پر احتجاج کرنے والوں کو گولیوں سے بھون دیا جائے ؟ جمہوریت اِس بات کی اجازت دیتی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرز کا واقعہ دوبارہ سے دہرایا جائے ؟اِس جمہوری حکومت کے صوبائی وزیر قانون کو زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے بیان میں کہیں کہ ایسے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں، میڈیا عوام کو مشتعل نہ کرے ،پولیس کی فائرنگ سے کوئی زخمی نہیں ہوا، تمام زخمی صرف میڈیا کو ہی کیوں نظر آ رہے ہیں ،افسوس کی بات ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے مرنے والوں کے فوٹیج تک موجود ہیں اور حکومتی نمائندے ماننے کو تیار نہیں۔
ایک درندگی زینب کے ساتھ ہوئی اور دوسری درندگی اُن کے ساتھ ہوئی جو انصاف مانگنے آئے تھے، زینب کا قاتل گرفتار نہیں ہو رہا اور وزیر مملکت طلال چوہدری کہہ رہے ہیں دوسرے صوبوں میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں ،زینب کے واقعہ پر سیاسی دکانیں نہ چمکائی جائیں، ان وزراء کو اللہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ اس کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، ایک دن ہم سب کو حساب دینا پڑے گا ،آج جو زینب کے ساتھ ہوا وہ کل کو کسی اورکے بچے کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ،میں تو کہتا ہوں کہ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو سرعام پھانسیاں دیں، مختلف شہروں کے چوراہوں میں مجرمان کو لٹکایا جائے، ایران، سعودی عرب، یمن اور چائنا کی طرح فوری سزاؤں پر عمل درآمد کرایا جانا حکومت کی ذمہ داری ہے، کیا ہماری حکومت کو کسی دوسرے ملک سے پوچھ کر سزائیں دینا شروع کرنی ہے ؟زینب اور اُس جیسی جتنی بیٹیاں چلی گئیں وہ تو واپس نہیں آئیں گی لیکن سرعام پھانسیوں سے ہمارے بچے جو زندہ ہیں وہ آئندہ محفوظ ہو جائیں گے یہ وقت ہے کہ زینب اور اُس جیسی بیٹیوں پر ہونے والی ظلم و بربریت کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان مل بیٹھیں اور خدارا ایک دوسرے پر کیچڑ نہ اچھالیں۔
مجھے شہر دیکھ کر اندازہ ہوا
درندے اب نہیں رہتے جنگلوں میں
میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ سزائے موت کے قیدیوں کو پھانسیاں نہ دینے میں کیا حکمت ہے ؟سوائے اِس کے کہ مجرمان کے پیچھے کسی نہ کسی بڑے آدمی یا سیاستدان کا ہاتھ ہے، صلح ،دیت کی آڑ اور عدالتوں میں فیصلوں کی تاخیر پھانسیوں پر عمل درآمد ہونے کی راہ میں رکاوٹ کیوں بنی ہوئی ہے ۔اِس نظام کو کون بدلے گا ؟یہ وہ سوال ہے جو قصور کی رہنے والی بے قصور بیٹی زینب کی روح ہم سے پوچھ رہی ہے، وہ پوچھ رہی ہے کہ میرے قاتل کب گرفتار ہوں گے ؟کیا میرے قاتلوںکو لاہور اور دھوبی گھاٹ فیصل آباد کی طرح سر عام پھانسیاں دینے والا کوئی حکمران ہے یا ایسا جرات مندانہ فیصلہ صرف مارشل لا میں ہی ممکن ہے۔

قاتل۔ حاکم وقت

قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے قوم کو بری طرح سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ننھی زینب پر گزرنے والی قیامت نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے ۔پچھلے کئی روز سے میڈیا لگاتار اس اندوہناک واقعہ کی کوریج کر رہا ہے،” جسٹس فار زینب ” کے نام سے سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی جا رہی ہے ۔معاشرے کے ہر حصہ سے صرف یہی صدا بلند کی جارہی ہے کہ اس گھنائونے فعل کو سرانجام دینے والے شیطان کو اس کے کئے کی سزا دی جائے۔ غم و غصے کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ مجرم کی سر عام پھانسی کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ یقیناََ اس کیس کو ملنے والی کوریج سے معصوم زینب کے لواحقین کو کم از کم یہ حوصلہ تو ضرور ہوا ہے کہ ا ن کی معصوم بیٹی کا قاتل شاید اپنے انجام کو پہنچ ہی جائے لیکن دوسری طرف جو بات ایک بار پھر سے کھل کر سامنے آئی ہے وہ پاکستان کے ریاستی نظام کا بوسیدہ پن ہے۔ زینب کا اغوا قصور میں ہونے والا اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اخباری رپورٹوں کے مطابق دو کلومیٹر کے دائرہ میں صرف چند ماہ کے عرصے میں گیارہ سے زائد بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا نے کے بعد قتل کر دیاگیا لیکن کسی ایک بھی کیس میں مجرم گرفتار نہیں ہو ا۔ ایسے حالات میں مقامی لوگوں کا غم و غصہ با لکل بجا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گزشتہ واقعات کے پس منظر میں زینب کے لواحقین کی جانب سے اس کی گمشدگی کے بارے میں اطلاع ملنے پر پولیس تفتیش میں سستی نہ دکھاتی۔ لیکن پولیس نے ان کی کوئی خاطر خواہ مدد نہیں کی اور تھانہ کلچر تبدیل کرنے کا خادم اعلیٰ کا نعرہ محض نعرہ ہی ثابت ہوا۔ چار روز تک پولیس روایتی انداز سے معاملے کی تفتیش کرتی رہی پھر جب بچی کی لاش ایک کچرے کے ڈھیر پر پڑی ملی تو علاقہ مکینوں کا رد عمل فطری تھا،ان میں غم وغصے اور نفرت کی لہر دوڑ گئی۔عوام باہر نکلے تو ایک اور نہایت افسوسناک واقعہ ہوگیا، پولیس کے چند جوانوں نے مظاہرین کو منتشرکرنے کی کوشش میں عوام پر سیدھی گولیاں چلا دیں۔ یہ مظاہرین آتشی اسلحہ سے مسلح نہ تھے، ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور وہ اپنے بازوئوں کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں گز دور ایک برآمدے کے باہر کھڑے ہوئے پولیس والوں پر پتھرائو کر رہے تھے۔ پولیس کی فائرنگ سے دو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان دونوں واقعات نے پولیس کے نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی ۔ سوال یہ ہے کہ زینب کی گمشدگی کی رپورٹ ملنے سے لے کر اس کی لاش ملنے تک کے عرصے میں پولیس نے کیا تفتیش کی ؟
پرانے زمانے میں پولیس کے نظام کا اہم جز مخبری کا نظام ہوتا تھا، ہر علاقے میں تھانے کی سطح پر مخبروں کا ایک ایسا نیٹ ورک ہوتا تھا جن کی مدد سے علاقے کا ایس ایچ او اپنے علاقے میں ہونے والی سرگرمیوں سے بخوبی واقف رہتا تھا۔ ہر مخبر اپنے علاقے میں ہونے والے کسی بھی جرم کے حوالے سے تفصیلات اکٹھی کرتا اور اس کی مدد سے پولیس مجرمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی تھی۔ لیکن موجودہ زمانے میں پولیس کا مخبری نظام بری طرح سے ناکام ہو گیا ہے۔ اس خرابی کے پیچھے بہت سے عوامل ہیں لیکن غالباََ ہمارے شہری علاقوں کی بڑھتی ہوئی آبادی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پرانے زمانے میں جن علاقوں میں دو چار گائوں ہوا کرتے تھے اب کئی ہزار گھرانوں پر مشتمل رہائشی کالونیاں بن چکی ہیں۔
ماڈرن پولیسنگ میں جہاں مجاہد فورس، ڈولفن فورس اور پولیس رسپانس یونٹ اور سیف سٹی جیسے اربوں روپے کے منصوبے بنائے گئے ہیں، وہیں تفتیشی نظام کی بنیادی کمزوریوں کو بہت حد تک نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جرائم کی روک تھام کی کوشش میں کرائم انوسٹی گیشن پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ آج سے کئی سال قبل جب انویسٹی گیشن کو ایک علیحدہ شعبہ بنایا گیا تو یہی خیال تھا کہ اس سے جرائم کی تفتیش بہتر کرنے میں مدد ملے گی لیکن نتائج کچھ زیادہ اچھے نہیں دکھائی دیتے۔ اگر ایک ہی علاقے میں گیارہ ایک جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن کسی ایک بھی مقدمے میں کوئی مجرم نہیں پکڑا جاتا تو کیا ان حالات میں کوئی بھی پولیس پر اعتماد کرے گا؟ اور پھر اگر اشتعال میں آکر عوام مظاہرے کرنے لگیں تو پولیس کے جوان انہیں منتشر کرنے کی کوشش میں سیدھی گولیاں چلا دیں؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ماڈل ٹائون واقعہ سے سبق سیکھتے ہوئے کم از کم پولیس کے جوانوں کی اتنی ٹریننگ ہی کر دی جاتی کہ کسی بھی صورت میں ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے لائیو ایمونیشن کا استعمال نہ کیا جاتا۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے والے خصوصی یونٹس میں موجود افراد اتنے تربیت یافتہ اوراتنی تعداد میں ہیں جو بڑے ہجوموں کو کنٹرول کرسکیں؟
قصور میں پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات میں علاقے کی سیاسی قیادت کا رویہ بھی کچھ سمجھ سے باہر ہے۔کسی بھی سانحہ کے بعد عوام کی داد رسی کی سب سے پہلی ذمہ داری مقامی قیادت اور منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔ علاقے میں ہونے والے گیارہ واقعات کے بارے میں اگر پولیس کچھ نہیں کر پائی تو ان سیاستدانوں نے کتنی مرتبہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی؟ حکمران جماعت کے کتنے سیاستدانوں نے مظلوم خا ندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا؟ اگر ان کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا توپھر اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلے کو اٹھانے میں کوئی کردار ادا کر کے سیاسی فائدہ حاصل کر لیا، تو اس پر واویلا کیوں؟ پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ جہاں بھی کوئی خلا پیدا ہو گا اسے بھرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ضرور آگے آ ئے گا۔ جب سیاسی جماعتیں، حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنےعوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کے لئے آواز نہیں اٹھاتیں تو پھر انہیں اس بات کا گلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کہ کوئی اور ادارہ یا جماعت ان کے اختیارات میں بے جا مداخلت کر رہے ہیں۔اگر گیارہ معصوم جانوں کے جانے کے بعد بھی ایک سات سالہ بچی کے لواحقین کو انصاف کے حصول کے لئے مظاہرے کرنے پڑیں ،تو نظام کی خرابی کو دور کرنے کے لئے دیگر قوتوں کو آگے بڑھنا ہی ہو گا۔ بہتر ہے سیاستدان اختیارات کے حصول کے لئے جتنی جدوجہد کرتے ہیں ،اتنی ہی جدوجہد عوام کی حفاظت اور انہیں انصاف کی فراہمی کے لئے بھی کریں۔ ایس ایچ او کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ نے اپنے ذمہ لے کر نظام کو مکمل طور پر اپاہج کر دیا ہے ۔ مقتولین کو لاکھوں روپے کا معاوضہ دے کر مسائل کو بھول جانا خرابی میں اضافہ کر رہا ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ جس مقتول کا قاتل نا معلوم ہو، اس کا قاتل حاکم وقت ہوتا ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ حاکموں، بچیوں کے قاتلوں کو پکڑ کر قانون کے مطابق سزا دلوائو۔ روز قیامت تم سے ان قتلوں کا بھی حساب لیا جا سکتا ہے۔

انکل شہباز کے نام ننھی زینب کا خط

انکل شہباز !میں بابا بلھے شاہ اور وارث شاہ کے استاد خواجہ غلام محی الدین کے قبرستان قصور سے خط لکھ رہی ہوں، 5دن کی شدید تھکاوٹ اور ظلم کی چکی میں پس کر پرسکون جگہ پہنچی ہوں جہاں خواجہ صاحب کے علاوہ سینکڑوں حفاظ کرام مدفون ہیں۔ انکل میں زینب بنت محمد امین ناظم تبلیغ تحریک منہاج القرآن قصورا سکول ٹیچر کی بیٹی ہوں۔ مجھے 7سال کی زندگی میں ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، بلھے شاہ کہہ رہے تھے آج 21کروڑ عوام کی غیرت کا جنازہ دیکھ کر بیٹا میرا دل کہہ رہا ہے کہ آخر میں بھی مر جائوں۔ انکل ظالموں کے ظلم کی وجہ سے تھک گئی ہوں، انکل اس شمر کو نہ چھوڑنا جس نے میرا پھول سا چہرہ مسلا ہے، انکل اب کی بار انصاف پھر اندھا، قانون بہرہ اور قوم کی طرح حسب سابق آپ بھی رسمی آہوں دعائوں، روایتی بیان بازیوں میں نہ رہنا۔ انکل صرف معطلیاں، تبدیلیاں، کمیٹیاں، تحقیقاتی رپورٹیں کہیں میری چیخوں، سسکیوں، ہچکیوں اور آہوں کے آگے دیوار نہ بن جائیں، میں تو رحمت بن کر آئی تھی، میرا یہ قصور تھا کہ میں آپکے دور حکمرانی میں پیدا ہوئی، آپکے ہوتے ہوئے خنزیروں نے میری ننھی عصمت کو تار تار کیا۔ کیوں اپنی ہوس و درندگی کا نشانہ بنایا، میرے قاتل اب اپنا چہرہ چھپانا چاہتے ہیں! انکل یاد رکھیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے منقول ہے کہ ’’جس مقتول کا قاتل نامعلوم ہو جائے اسکا قاتل حکمران ہوتا ہے‘‘۔ میں قرآن کی تعلیم کیلئے گھر سے نکلی تھی اور اسی قرآن میں ایسے درندوں کو سنگسار کرنیکا حکم ہے۔ میرے ابو امی حرم کعبہ اور روضہ رسولﷺ پہ حاضر تھے، انکل ذرا تصور کیجئے ایک عام شخص کو بھی اپنے بچوں سے اٹوٹ محبت ہوتی ہے، انکل قانون کی حکمرانی ہوتی تو ایک شمر لعین مجھ تک آسانی سے نہ پہنچتا، انکل مجھے بتائو چار روز تک میری لاش شدید سردی میں کوڑے پر بغیر گور و کفن کیوں تڑپتی رہی؟ انکل آپکا قصور میں اتنا بڑا سیاسی، انتظامی اور خفیہ نظام جس میں ایم پی اے ن لیگ حاجی نعیم صفدر انصاری، ایم این اے پیر عمران ولی، ایم این اے وسیم اختر، چیئرمین میونسپل کمیٹی حاجی ایاز احمد، ڈی پی او چوہدری ذوالفقار، ڈی سی سائرہ عمر، ڈی ایس پی عبدالقدوس، ایس ایچ او ذوالفقار حمید، ایس ایچ او حاجی اکرم، اے ایس آئی امیر حسین، نائب ریڈر محمد اقبال، پی آر او ساجد حسین کے علاوہ ڈولفن فورس، مجاہد اسکواڈ، ہیوی سیکورٹی سسٹم، ریسیکو ٹیم، اعلیٰ کوالٹی کے کیمروں نے میری آہوں، درد بھری چیخوں کو کیوں نہ سنا۔ انکل میں رات سو کر صبح قصور کی ننھی پریوں فوزیہ، لائبہ، ایمان سے ملوں گی۔ انکل! الیکشن دو ہزار اٹھارہ سے پہلے ہمارے قاتلوں کو پکڑو ورنہ قیامت تک کیلئے میرا سوال آپ کے قدم لڑکھڑا دے گا۔ انکل ڈینگی خاتمہ، میڑوبس، اورنج ٹرین اور انڈرپاسز کی بھرمار کی طرز پر اس وبا کے خلاف بھی اخلاقی اقدار کا مضبوط بند باندھیں، ان بھیڑیوں کیخلاف ایسا نظام بنائیں کہ میرے والدین کے رونے کے بعد کسی اور زینب کے گھر والوں کو رونا نہ پڑے۔
میں انہی 280سے زائد قصور کے بچوں کی مانند ہوں جنکا کیس 2015میں سامنے آیا تھا کاش! انکل اس وقت آپ حرکت میں آتے اور سی ایم ہائوس لاہور کی بجائے قصور میں ڈیرے ڈال دیتے تو شاید آج میرا یہ حال نہ ہوتا۔
انکل سنا ہے میرے درد کی کچھ آواز، کرب، آہیں آرمی چیف، وزیراعظم، لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی سنی ہیں۔ انکل تحقیقات ماتحت عملہ سے آئین کی روح سے کرانا ۔ ہاں انکل میری آواز اعتزاز احسن، بابر ستار، سلمان اکرم راجہ، فاروق ایچ نائیک، اکرم شیخ، خالد حبیب الٰہی جیسے نامور وکلا تک پہنچا دینا، کہ اگر ہو سکے تو وہ فی سبیل اللہ میرے کیس کی پیروی کرکے میرے غمزدہ والدین کا کچھ غم کم کریں۔ انکل یہ اس لئے کہہ رہی ہوں کہ مجھے خدشہ ہے کہیں کوئی ’’پیشہ ور‘‘ وکیل قصور میرا ہی ثابت نہ کر دے کہ میں کیوں گھر سے اکیلی نکلی، ہاں انکل آپ کی بااختیار وساطت سے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذمہ داران سے بھی اپیل کروں گی کہ خدارا اخلاق باختہ ڈرامے، فلمیں، پروگرامز بند کریں، انٹرنیٹ پر گندی اور حیا سوز ویب سائٹس کے خلاف بھی قانون سازی کریں۔
انکل کہاں ہیں وہ این جی اوز، مبلغین، اساتذہ جو اعلیٰ دینی اقدار کو دلوں میں اتارنے میں ناکام ہوئے ہیں۔ انکل اس دردندہ صفت انسان سے پوچھ کر بتانا آخر میرا قصور کیا تھا۔ میرے ساتھ گھنائونا فعل کیوں کیا؟ انکل ہم یہاں جنت میں سوچ رہی ہیں کہ سب نے ہمیں ویران جگہوں پر کیوں پھینکا۔ انکل رسول اللہ ﷺنے تو ہمارے لئے فرمایا تھا کہ اپنے بچوّں کا اکرام کرو اور انہیں اچھی تربیت دو۔ انکل میں70سال میں جنسی زیادتی کی واقعات کی بات نہیں کروں گی بلکہ ان واقعات کی تعداد 2010میں 2252، 2011 میں2303، 2012 میں 2788، 2013میں3002، 2014میں 3508، 2015میں 3768، 2016 کے دوران 4139ہے جو مجموعی طور پر اکیس ہزار سات سو ساٹھ ہے۔ انکل آپ شرعی، آئینی، اخلاقی تقاضوں سے ہٹ کر جنسی تشدد کے شکار بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے کے آرٹیکل نمبر34 کے پابند ہیں۔ انکل یاددہانی کیلئے عرض ہے ایران نے میری ہم عمر سات سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو سرعام پھنسی دی۔ اس کے بعد آج تک ایران میں دوبارہ کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ انکل ایک بار میرے جیسے بچوں کے تحفظ کیلئے تشہیری مہم ہی چلا دیں۔ انکل میرا معاملہ صرف کمیٹیوں، تحقیقی رپورٹوں اور رسمی کاروائیوں کے حوالے کیا تو میں کائنات میں سب سے زیادہ حوّا زادیوں کی جنگ لڑنے والے نبی رحمت ﷺکی پیاری صاحبزادی زینب ؓاور تاجدار کربلا حضرت امام حسین ؓکی پیاری ہمشیرہ بی بی زینبؓ کا دامن تھام کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں جائوں گی اور عرض کروں گی پیارے آقاﷺ میں تو معصوم ہوں، میرے لئے کوئی حسینؓ میدان میں نہ آیا، یارسول اللہ ﷺمیں چیختی رہی کوئی عباس گھوڑا لیکر نہ پہنچا، یارسو ل اللہ ﷺمیں تو معصوم ہوں، صرف اتنا عرض کناں ہوں کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں یزیدیت کی بربریت نے اتنے گہرے پنجے گاڑے ہیں کہ میرے لئے آواز اٹھانے والے 3بھائیوں کو بھی پولیس نے صرف اس بنیاد پر مار ڈالا کہ وہ اپنی بیٹی زینب کیلئے آواز بلند کر کے انصاف کیوں مانگ رہے ہیں۔ انکل اب تھک چکی ہوں، سانس بند ہو رہا ہے، لمبا سفر ہے، تنہائی بھی ہے، واپسی ممکن نہیں، میرے گھر والوں کو ظالم نظام کے ظلم سے بچانا۔ صبح 70سالوں کے دوران مارے گئے بچوں کو تلاش بھی کرنا ہے۔انکل آخر میں یہ کہوں گی کہ والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے خصوصی نظر رکھا کریں اور اور نبیﷺ کی اس دع کو روزانہ اول و آخر درود شریف کے ساتھ یاد کرائیں ان شاء اللہ حفاظت میں رہیں گے۔ الحمد للہ الذی عافانی ممن ابتلاک بہ و فضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا۔ آپ کے جواب کی منتظر زینب امین ۔

پاک پانی سے ناپاک پروٹوکول تک

سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں اور پھر کہاں کہاں سے ہوتا ہوا شکریہ ادا کرنے کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک پہنچوں جو اصل مسائل کی طرف پوری یکسوئی سے متوجہ ہیں۔ عدلیہ! شکریہہلکے سُروں آغاز کروں تو سریلی ترین خبر یہ ہے کہ چکوال آمد پر نااہل شریف کا استقبال جعلی نوٹوں سے کیا گیا جس کی علامتی حیثیت کا جواب نہیں کہ جیسی جمہوریت ویسے نوٹ، جیسا لیڈر ویسے ووٹر۔ دلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ جب ’’قدم بڑھائو نواز شریف‘‘ کرائوڈ انتہائی جوش و خروش سے عظیم قائد بلکہ قائد اعظم ثانی پر تھوک کے حساب سے جعلی نوٹ نچھاور کر رہا تھا، بیچارے میاں صاحب اصل سنجیدگی کے ساتھ انہیں اس ’’اظہار عقیدت‘‘ سے روک رہے تھے۔ حیرت ہے کہ میاں صاحب بھی اصلی اور نقلی نوٹوں میں تمیز نہ کر سکے لیکن شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرصۂ دراز سے روپوں نہیں ڈالروں، پائونڈوں، ریالوں اور درہموں وغیرہ میں ڈیل کر رہے ہیں ورنہ پاکستانی روپیہ اس طرح رسوا اور ٹکے ٹوکری نہ ہوتا جیسا ہو چکا کہ یہی اس ترقی کا سب سے بڑا ثبوت ہے جس کا ذکر میاں صاحب تکرار سے کرتے رہتے ہیں۔ چکوال میں ہونے والی اس جمہوریت زدہ واردات سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ آئندہ الیکشن (؟) میں ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔اوپر عرض کیا ہے کہ جیسے لیڈر ویسے ہی فالوئر تو حاضر سروس وزیر اعظم نے بھی ایک بار پھر نااہل نواز شریف کو اپنا لیڈر قرار دے دیا ہے جس پر وہ شاباش کے مستحق ہیں۔وفاداری بہ شرطِ استواری اصل ایماں ہےمَرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کولیکن وزیر اعظم عباسی کو اصل مبارکباد اس تاریخی بیان پر بنتی ہے جو آپ نے اپنی اعلیٰ ترین عدالت کے بارے جاری فرمایا کہ ان کے فیصلے ردی کی ٹوکری میں ہوں گے۔ شاید بھول گئے کہ جہاں عدالتی فیصلے ردی کی ٹوکری کا رزق بن جائیں وہاں سب کچھ ردی کی ٹوکری میں تبدیل ہو جاتا ہے اور مت بھولو کہ یہ فیصلے سیاست کے نہیں، دیانت اور امانت کے حوالے سے ہیں لیکن اس نجاست نما سیاست میں سب جائز ہے کیونکہ اس سے نفع بخش تجارت ممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے سیکرٹری کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا کہ بھاری کرپشن میں ملوث تھا۔ ایوب قریشی نامی اس بیورو کریٹ نے وضاحت دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ چار وزارتوں سے ماہانہ 60کروڑ روپے وصول کر کے ’’اوپر‘‘ پہنچاتا تھا تو خود ہی سوچ لیں کہ اختیار و اقتدار کے وفاقی سرچشمہ پر کیسے کیسے اور کتنے کتنے چڑھاوے چڑھتے ہوں گے۔ اسی وجہ سے تو سردھڑ کی بازیاں لگتی ہیں کہ ہر ایوان اپنی قسم کی سونے کی کان ہے ورنہ کون ہے جسے عوام کی خدمت کا بخار اس بری طرح چڑھا رہتا ہو۔ بلوچستان کے حوالہ سے خوبصورت ترین بات سرفراز بگٹی نے کی ہے کہ…. ’’میرے قائدین میرے آقا نہیں اور نہ ہی میں ان کا غلام ہوں۔‘‘ کاش یہ ’’بگٹی وائرس‘‘ پنجاب تک بھی پہنچ جائے کہ قیادت کا مطلب عبادت نہیں ہوتا۔ لیڈر دیوی، دیوتا یا اوتار نہیں ہوتے اور شخصیت پرستی، بت پرستی سے بھی بدتر ہے کیونکہ بت کی پرستش سے اس کا دماغ خراب نہیں ہوتا جبکہ انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور بقول چوہدری نثار علی خان اسے بار بار یاد دلانا پڑتا ہے ’’سیزر یو آر ہیومن‘‘۔ یہاں تو اصلی سیزر اور سکندر خاک ہو گئے، یہ تو جعلی نوٹوں کی طرح دو نمبر لوگ ہیں۔عوام کو صاف پانی کی فراہمی سے لے کر ناپاک پروٹوکول کے خاتمہ تک، عدالتی اصلاحات سے لے کر تعلیمی اور طبی اصلاحات تک سپریم کورٹ سپریم ترین فیصلے کر رہی ہے۔ابن مریم ہوا کرے کوئیمیرے دکھ کی دوا کرے کوئیگزشتہ 25سال میں 50کالم تو ضرور اس ناپاک پروٹوکول کلچر پر لکھے ہوں گے کہ جن کے ووٹوں کی بھیک لے کر اقتدار میں آتے ہیں، پروٹوکول کے نام پر انہی کمی کمینوں کے رستے روک کر انہیں سرعام ذلیل کرتے ہیں۔ میں بیسیوں بار لکھ چکا ہوں کہ اگر ہماری بدکار جمہوریت میں سے بے تحاشا پیسہ اور پروٹوکول نکال دیا جائے تو سیاسی جماعتوں کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے امیدوار نصیب نہ ہوں۔پاک پانی سے ناپاک پروٹوکول کے خاتمہ تک، عدالتی اصلاحات سے تعلیمی طبی اصلاحات تک کچھ ہو جائے تو سمجھو سب کچھ ہو گیا۔ عوام کھیلن کو چاند نہیں تھوڑا سا چین سکون چاہتے ہیں۔عدلیہ! شکریہ

وقت سے پہلے مرتے پاکستانی

ال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قدرت جس بھی آفت کی نمائش کرنا چاہتی ہے اس کے لیے پاکستان جیسے اسلامی ملک کا انتخاب ہی کیوں کرتی ہے؟؟؟ چاہے زلزلوں کے نقصانات ہوں، یا سیلاب کی تباہ کاریاں یا کچھ اور… پاکستان ہی کیوں…؟؟؟آپ اخبار یا ٹی وی پر تقریباً ہر روز کسی ایسے بچے کی تصویر دیکھتے ہوں گے جس کے دو دھڑ ہیں، چار بازو ہیں ، دو، سَر ہیں یا جڑواں بچوں کے وجود آپس میں جُڑے ہوئے ہیں… ایک ایسا ملک جہاں صبح سے شام تک اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا ہے موبائل SMS پر درود پاک کی chainچلائی جاتی ہے اور کروڑوں اربوں کی تعداد میں 17 کروڑ سے زائد مسلمان پانچ وقت باری تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں ایک محلے میں کئی کئی مسجدیں ہیں اور الحمداللہ سب کی سب شاد آباد… جن سے دن رات میں کسی بھی وقت والیم فل کر کے خلق خدا کو باری تعالیٰ کی یاد دلائی جاتی رہتی ہے سیدھی سی بات ہے ایک مسلمان ملک میں کس کی جرأت ہے کہ جب جی چاہے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے کرنے والے ذکر الٰہی کو روک سکے۔اگر آزاد اور مسلمان مملکت کا اتنا فائدہ بھی مسلمانوں کو حاصل نہ ہو تو خاک ڈالنی چاہیے ایسی آزادی پر…
بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں جا نکلی سوال یہ اٹھایا تھا کہ دہشت گردی سے لوڈ شیڈنگ تک اور زلزلوں سے لے کر سیلاب تک قدرت، ہر قسم کی انسانی وقدرتی آفت کی ڈیمانسٹریشن کیلئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انتخاب ہی کثرت سے کیوں کرتی ہے؟؟؟ اور کیا یہ بے جا اور انتہائی سرعت سے بڑھتی ہوئی بیماریاں اور عجیب الخلقت بچوں کی پیدائش صرف قدرت کی ہم سے ناراضگی کا نتیجہ ہے یا اس کی وجہ کچھ اور بھی ہے…؟؟؟
کم ازکم انتہائی محنت سے تیار کی گئی رپورٹس اور ریسرچزتو کچھ اور ہی کہانیاں سناتی ہیں ایک رپورٹ میں جعلی خوراک خصوصاً غلاظت اور گندگی سے تیار کردہ جعلی اور انتہائی غیر معیاری گھی کے پاکستانی معاشرے کی صحت پر پڑنے والے خوفناک اور بھیانک اثرات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملاوٹ شدہ اور غیر معیاری خوراک، جس میں گھی، مصالحہ جات سے لے کر چائے کی پتی ،آٹا، دودھ، مرچیں اور دالیں وغیرہ سبھی کچھ شامل ہیں کی وجہ سے پاکستان میں اضافی بازؤں، ٹانگوں ، چہروں اور دھڑوں والے بچوں کی پیدائش کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔پیدائشی طور پر معذور اور کٹے ہونٹ کٹے تالو والے بچوں کی پیدائش میں اضافے کی بنیادی وجہ بھی خوراک میں ملاوٹ اور ناقص خوراک ہی بتائی جاتی ہے ان نقائص سے بھرپور نسلوں کی پیدائش کی ایک اور وجہ ماحولیاتی آلودگی خصوصاً رکشوں سے نکلنے والا دھواں بھی ہے۔
دودھ گاڑھا کرنے کے لیے دودھ میں بال صفا پاؤڈر کی ملاوٹ، مرچوں میں لال اینٹوں کے بُرادے کی آمیزش، چائے کی پتی میں کالے چنے کے چھلکے اور پلاسٹک یا ریگزین کے ٹکڑوں کو پیس کر ملانا، بکرے یا گائے کے گوشت کے وزن میں مخصوص ٹیکوں کے ذریعے اضافہ کرنا، مختلف جوسز میں کینسر پیدا کرنے والی سکرین یا کیمیکل کی آمیزش، جب کہ دعویٰ خالص پھلوں کے جوس بیچنے کا، یہ ساری پریکٹس پاکستان کے چاروں صوبوں میں عام ہے اور تو اور بچیوں کے وقت سے پہلے بالغ ہونے کی بھی ایک وجہ غیر معیاری اور گھٹیا خوراک ہوا کرتی ہے۔
اس چشم کُشا رپورٹ میں بازار میں دستیاب مختلف اشیاء میں سے صرف ایک شے یعنی غیر معیاری اور کھلے گھی کے بارے میں جو تفصیل درج ہے اگر انسان صرف اس کو ہی پڑھ لے تو کئی دن تک نہ کچھ کھانے کو رغبت ہوتی ہے نہ حوصلہ پڑتا ہے کہ جو گھی چاروں صوبوں میں فروخت ہو رہا ہے خصوصاً کھلا گھی اس میں جس کثرت سے بیکٹیریا اور آلائشیں پائی جاتی ہیں وہ کثرت سے فری فیٹی ایسڈز، کینسر، پیپاٹائٹس، السر اور دل کے امراض کا باعث بنتی ہیں۔
مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ اشرافیہ تو زیادہ تر imported olive oil استعمال کرنے پر لگ گئی ہے یا پاکستان میں جگہ جگہ imported خوراک کی ”عیسیٰ جی“ یا ”HKB“ جیسی دوکانوں سے imported خوراک خریدکر دہشت زدہ پاکستان کی مختلف پاکٹس میں رہتے ہوئے بھی یورپ یا امریکہ یا برطانیہ میں رہنے کا لطف اٹھاتی ہے مگر تقریباً 80فیصد سے زیادہ غرباء یعنی تقریباً 15,16کروڑ کے لگ بھگ پاکستانی یہی گھٹیا، دو نمبر، غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ خوراک کھا کر بیمار ہونے اور قطرہ قطرہ گُھٹ گُھٹ کر اذیت کے ساتھ مرنے پر مجبور ہیں۔پتہ نہیں یہ سب دہشت گردی کہلاتا ہے کہ نہیں۔۔ پتہ نہیں اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہونا یا اس کی روک تھام نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے یا نہیں؟ پتہ نہیں اس پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے یا نہیں۔؟ کسی کو خبر ہو تو مجھے ضرورمطلع کرے۔
سات ارب سے زیادہ کی اس دنیا میں بیس کروڑ نفوس پر مبنی قوم کے 80 فیصد لوگوں کی صحت کا جب یہ عالم ہو گا تو وہ اقوام عالم میں کیسے سروائیو کرے گی اس کا اندازہ خود ہی لگا لیجئے ۔کوئی تو وجہ ہے کہ دنیا میں اوسط عمر اسی سال سے بڑھ چکی ہے اور ہمارے ہاں صرف 65کے لگ بھگ ہے۔ 65سال کی عمر کا تجربے سے بھرپور انسان اگر معاشرے کو 15سال اور دستیاب ہو تو معاشرے کی ترقی میں کتنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے یہ سمجھنے کے لیے بھی بقراط ہونے کی ضرورت نہیں۔ میرے آقا سرکار دو عالم کی حدیث کا مفہوم یاد آتا ہے آپ نے فرمایا کہ ”ایک توانا مومن ایک کمزور مومن سے بہتر ہے“
اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے آقا کی ہر حدیث کی طرح اس حدیث مبارکہ میں بھی بے پناہ گہرائی ہے اور کمزور اور توانا کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے مگر ایک اینگل صحت کا بھی ہے اور جو یقینا انتہائی اہم ہے…
بقول شاعرِبے بدل …

تنگ دستی اگر نہ ہو غالب
تندرستی ہزار نعمت ہے

پنڈی کا حجام کونسلر اور فیس بک کے دانشور

2002

 کے بلدیاتی انتخابات ہوئے ، راولپنڈی کا ایک حجام بھی اس میں کسان کونسلر کی سیٹ پر آزاد حیثیت میں الیکشن جیت گیا ۔ جیتنے کے بعد اس نے اپنی الیکشن کے پوسٹر والی تصویر کی پانچ ہزار فوٹو کاپیاں بنوا لی ۔

Read More

محبت اور اطاعت!!

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ محبت کا لازمی نتیجہ اطاعت ہونا چاہیے، اگر محبت اطاعت میں نہیں ڈھل رہی تو محبت کے دعوے کو جھوٹا تصور کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس بعض لوگوں کا تصور یہ ہے کہ محبت بجائے خود ایک عمل ہے، اگر محبت Read More