Latest Posts

Vision 21

A Company Registered under Section 42 of Companies Ordinance 1984. Corporate Universal Identification No. 0073421

Vision 21 is Pakistan based non-profit, non- partisan Socio-Political organisation. We work through research and advocacy. Our Focus is on Poverty and Misery Alleviation, Rights Awareness, Human Dignity, Women empowerment and Justice as a right and obligation.

We act and work side by side with the deprived and have-nots.

We invite you to join us in this mission. We welcome your help. We welcome your comments and suggestions. If you are interested in writing on Awaam, please contact us at: awaam@thevision21.org

Awaam      by   Vision21

↑ Grab this Headline Animator

بھوک

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھاکہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رورہی ہو؟ اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں۔۔۔

ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین رو سے طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی۔۔

کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔کیا بات ہے؟” مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی ۔۔۔

کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی۔۔۔

ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں۔۔ نہیں مس میں چور نہیں ہوں

”چور۔۔۔نہیں ہو تو پھربیگ کی تلاشی لینے دو” ”نہیں” ۔۔

کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگالیا “نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی” ۔۔۔

ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی ۔اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگی ۔

ٹیچر پھر آگے بڑھی ابھی اس نے طالبہ کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی ۔۔۔

رک جاو ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں نہ جانے کب کسی نے انہیں خبرکردی تھی۔۔۔

انہوں نے طالبہ اورٹیچرکو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں ۔۔۔

پرنسپل نے پوچھا کیا معاملہ ہے ٹیچرنے تمام ماجراکہہ سنایا۔۔۔

انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا ”تم نے پیسے چرائے؟۔””نہیں” اس نے نفی میں سرہلا دیا۔۔۔

کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ”بالفرض مان بھی لیا جائے۔۔۔”

پرنسپل متانت سے بولیں “جب تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟”

کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی ۔۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے۔۔

ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا، جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا۔۔۔

اس میں کیا راز ہے ؟ وہ سوچنے لگی۔۔

اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔۔۔

پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق، تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔۔۔

مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔

طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو۔ کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر، سموسے اور پیزے کے ٹکڑے، نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں۔۔۔

سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا ۔۔

وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی۔۔۔۔

کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں۔۔۔

دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گذارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا۔

میں ایک تکہ کباب کی د کان کے آگے سے گذری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھاکرکھا لیا قریبی نل سے پانی پی کر خداکر شکر ادا کیا۔۔۔

پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھررہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتاہی رہ گیا ندیدوں کی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میں نے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا ،برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پررکھ دیتا ہے۔
جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں۔ہ چھوٹی سی سچی کہانی کسی بھی درد ِ دل رکھنے والے کو جنجھوڑ کر رکھ سکتی ہے ہم غور کریں تھوڑی سی توجہ دیں تو ہمارے اردگرد بہت سی ایسی کہی ان کہی کہانیوں کے کردار بکھرے پڑے ہیں اس سفید پوشوں کیلئے کوئی بھی جمہوری حکومت کچھ نہیں کرتی ایسے پسے، کچلے سسکتے اور بلکتے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان میں کوئی ڈکٹیٹر راج کررہا ہے یا جمہوریت کا بول بالا ہے۔۔۔

نہ جانے کتنے لاکھوں اورکروڑوں عوام کا ایک ہی مسئلہ ہے دو وقت کی روٹی جو بلک بلک کر تھک گئے ہیں اے پاکستان کے حکمرانوں………

خدا کے واسطے رحم کرو۔۔۔

غریبوں سے ہمدردی کرو ۔۔۔

ان کو حکومت یا شہرت نہیں دو وقت کی روٹی چاہیے حکمران غربت کے خاتمہ کیلئے اناج سستا کر دیں تو نہ جانے کتنے لوگ خودکشی کرنے سے بچ جائیں۔۔۔

یقینا ہم میں سے کسی نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کرتے ہیں اور کتنے لوگ بھوک ،افلاس کے باعث دانے دانے کیلئے محتاج ہیں –

رزق کی حرمت اور بھوکے ہم وطنوں کا احساس کرنا ہوگا حکمران کچھ نہیں کرتے نہ کریں ہم ایک دوسرے کا خیال کریں ایک دوسرے کے دل میں احساس اجاگر کریں یہی اخوت کا تقاضا ہے اسی طریقے سے ہم ایک دوسرے میں خوشیاں بانٹ سکتے ہیں آزمائش شرط ہے۔

اگر دل اجازت دے تو دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
Copy

ہیرو کیپٹن عزیز

پرواز کے بیس منٹ بعد درازقد جوان کاک پٹ کی جانب بڑھا، ایئر ہوسٹس نے بڑے ادب سے کہا: ’’سر آپ تشریف رکھیں، کاک پٹ میں جانیکی اجازت نہیں۔‘‘ مگر خوبرو فضائی مہمان کو جواب دینے کے بجائے یہ نوجوان دھکا دیتے ہوئے کاک پٹ میں گھس گیا۔ ایئر ہوسٹس جو گرتے گرتے سنبھلی تھی، اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اسے یہ سانسیں بھی آخری لگ رہی تھیں۔ ایک لمحے میں اس کا چہرہ خوف سے پسینے سے شرابور ہوا اور سرخ و سفید سے زرد پڑ گیا۔ نوجوان نے کاک پٹ میں داخل ہوتے ہی پسٹل نکال کر پائلٹ کی کن پٹی پر رکھ دیا۔ اسی دوران اس دہشتگرد کے دو ساتھی بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور پسٹل مسافروں پر تان لئے۔

یہ فلمی کہانی نہیں، یہ pk- 554 پرواز تھی۔ یہ پاکستان میں 25 مئی 1998ء کو اغوا ہونیوالے مسافر جہاز کا ناقابل فراموش واقعہ ہے جس میں ہر لمحے ڈرامائی موڑ آتے رہے۔
پی آئی اے فوکر -27 تُربت ایئرپورٹ سے اڑا، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے مزید مسافروں کو لے کر کراچی روانہ ہوا۔ اس میں 33 مسافر اور عملہ کے پانچ افراد سوار تھے۔ اسے ساڑھے چھ بجے کراچی پہنچنا تھا مگر اب اسکی منزل کا فیصلہ ہائی جیکروں نے کرنا تھا۔

دہشتگرد کی انگلی ٹریگر پر تھی، اس نے کیپٹن عزیر کو حکم دیا۔ ’’جہاز کراچی نہیں انڈیا دہلی ائیرپورٹ جائے‘‘۔ دہشتگرد نے کیپٹن کو انڈیا سول ایوی ایشن سے رابطہ کر کے اترنے کی اجازت مانگنے کو کہا۔ کیپٹن عزیر نے ایسا ہی کیا اور ساتھ ہی جہاز کی سمت بھی بدل دی۔ اسی لمحے ایئرہیڈ کوارٹرکو بھی خبر ہو گئی اور آناً فاناً دو فائٹر جیٹ ایف 16 فضا میں بلند ہو گئے۔ کیپٹن عزیز دہشتگردوں کے اناڑی پن کو بھانپ گئے تھے۔ دہشتگرد کے کہنے پر کیپٹن عزیر نے دہلی ایئر پورٹ سے رابطہ کیا۔ وہ دراصل اپنے ملک میں ہی ہیڈ کوارٹر کیساتھ رابطے میں تھے جبکہ دہشتگردوں کو باور کرایا جارہا تھا کہ دہلی ایئر پورٹ سے رابطہ ہے۔ ہیڈ کوارٹر میں حکام کی ارجنٹ میٹنگ میں ایکشن پلان بنایا گیا، ایکشن پلان میں فیصلہ یہ ہوا کہ فوکر کو حیدر آباد سندھ ایئرپورٹ پر اتارا جائے۔
کیپٹن عزیر نے دہشتگردوں کو بتایا کہ ہمارے پاس کافی ایندھن نہیں ہے جو ہمیں دہلی لے جا سکے، ہمیں قریبی ایئر پورٹ سے ایندھن اور خوراک لینا پڑیگی۔ ہائی جیکر ہر صورت جہاز دہلی لے جانا چاہتے تھے۔ انکے پاس نقشہ تھا۔ وہ نقشہ دیکھتے ہوئے بھوج ایئرپورٹ کا ذکر کر رہے تھے۔ انکی باتیں سن کر کیپٹن نے کہا کہ انڈیا کا بھوج ایئر پورٹ قریب پڑتا ہے۔ دہشتگردوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ اب اگلا مرحلہ تھا بھوج ایئرپورٹ رابطہ کر کے اترنے کی اجازت کا تھا۔ کیپٹن عزیرنے وہاں رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہائی جیکر بھوج ایئر پورٹ پر اترنا چاہتے ہیں۔ جواب میں ٹھیٹھ ہندی میںایئر پورٹ آفیسر نے کال ہینڈل کرنا شروع کر دی۔ دہشتگردوں نے اسے بتایا کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں وہ حکومت پاکستان کے انڈیا کے مقابلہ میں نیوکلیئر تجربے کرنے کے کیخلاف ہیں اور اس ہائی جیک سے وہ پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ ایٹمی تجربہ نہ کرے۔ تھوڑے انتظار کے بعد دوسری طرف بتایا گیا کہ پردھان منتری نے انکو بھوج ایئر پورٹ پر لینڈ کرنیکی اجازت دیدی ہے۔ جس پرخوشی سے دہشتگردوں نے جے ہند اور جے ماتا کی جے کے نعرے لگائے۔
یہ سب کچھ حیدر آباد ایئرپورٹ کے اردگرد فضا میں ہو رہا تھا۔ ہنگامی طور پر حیدر آباد ایئر پورٹ سے تمام جہاز ہٹا دیئے گئے۔ پولیس فورس نے ایئر پورٹ کی جانب جانیوالے تمام راستے بند کر دیئے۔ ایس ایس جی کمانڈوز، پولیس اور رینجرز مستعد کھڑے تھے، افسران کی نگاہیں سکرین پر تھیں، اب جہاز نے ٹائم پاس کرنا تھا اس لئے کہ وہ پہلے ہی حیدر آباد کی حدود میں ہی تھا۔ کیپٹن عزیر کمال ہوشیاری اور ذہانت سے جہاز مزید بلندی پر لے گئے اور وہیں ایک ہی زون میں گھماتے رہے اور ظاہر یہ کرتے رہے کے وہ انڈیا جا رہے ہیں جبکہ ایف 16 فائٹر جیٹ انکے اردگرد تھے۔ رات کو اس وقت حیدر آباد ایئر پورٹ پر تمام لائٹس بند کر دی گئیں۔ ایئر پورٹ سے ہلالی پرچم اتار کر ترنگا لگا دیا گیا۔ ہیڈ کوارٹر سے ہدایات ہندی میں ہی دی جا رہی تھیں۔ کیپٹن صاحب جہاز کو جعلی بھوج ایئرپورٹ پر لینڈ کرانے والے تھے۔ سارا ایئرپورٹ خالی تھا۔ وہاں دہشتگردوں نے انڈیا کا پرچم لہراتے دیکھا تو جے ہند کے نعرے بلند کئے، ساتھ ہی کیپٹن عزیر کو گالیاں دیں۔ جہاز کو ایک سائیڈ پر پارک کر دیا گیا تو مذاکراتی ٹیم جہاز میں داخل ہوئی۔ یہ ٹیم ایس ایس پی حیدر آباد اختر گورچانی، اے ایس پی ڈاکٹر عثمان انور اور ڈپٹی کمشنر سہیل اکبر شاہ پر مشتمل تھی انہوں نے اپنا تعارف باالتریب اشوک بھوج ایئرپورٹ منیجر، رام اسسٹنٹ ایئرپورٹ منیجر کے طور پر کرایا سہیل اکبر شاہ نے خود کو ڈی سی راجستھان ظاہر کیا۔ انہوں نے ہندی میں دہشتگردوں سے بات چیت کی گویا یہ انڈیا تھا اور یہ بھوج ایئر پورٹ۔ دہشتگرد ایندھن اور خوراک چاہتے تھے لیکن بات چیت طویل ہوتی جارہی تھی، تینوں اہلکاروں کا ہدف تھا کہ وہ جہاز کے اندر کی صورتحال کا جائزہ لیں۔ خاص طور پر وہ شخص جس نے جسم پر پیکٹ باندھ رکھے تھے وہ انکے ہتھیاروں کو بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ اس ٹیم نے دہشتگردوں سے کہا کہ عورتوں بچوں کو یہیں اتار کر آپ دہلی چلے جائیں یہ چونکہ دہشتگردوں کے ہمدرد تھے اس لئے بات مان لی۔ رات گیارہ بجے جہاز سے عورتیں اور بچے اترنا شروع ہوئے ان مسافروں کے جہاز سے اترنے کی دیر تھی کہ جہاز کے چاروں طرف اندھیرے میں خاموشی سے رینگتے ہوئے کمانڈوز ایک ہی ہلے میں تیزی کے ساتھ پہلے اور دوسرے دروازے سے اللہ اکبر کے نعروں کیساتھ حملہ آور ہوگئے۔ اللہ اکبر کے نعرے نے دہشتگردوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ بد حواسی میں ایک دہشتگرد نے ڈپٹی کمشنر پر فائر کردیا تاہم نشانہ خطا گیا۔ دو منٹ کے اندر تینوں دہشتگردوں کو قابو کر کے باندھ دیا گیا۔ وہ حیران پریشان تھے اور یہ بھوج ایئرپورٹ پر اللہ اکبر والے کہاں سے آگئے۔ چیف کمانڈو نے آگے بڑھ کر زمین پر بندھے ہوئے دہشت گردوں کیطرف جھکتے ہوئے انکی حیرت زدہ آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہو کہا۔ ’’ویلکم ٹو پاکستان‘‘ کپیٹن عزیر بڑے سکون سے بیٹھے ساری صورتحال دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ ا پنا بیگ اٹھاتے ہوئے دہشتگردوں کے قریب سے مسکراتے ہوئے جہاز سے اتر گئے۔ حواس بحال رہیں تو کیپٹن عزیز جیسے کارنامے انجام دینا ناممکن نہیں۔
اس واقعہ کے ہیرو کپٹن عزیر کو اعزازی میڈل دیئے گئے۔ ان دنوں سندھ میں معین الدین حیدر گورنر تھے۔ انہوں نے پولیس کیلئے خصوصی اعزازات کی سفارش کی۔ سترہ سال بعد دو ہزار پندرہ کو تینوں دہشتگردوں کو اٹھائیس مئی کو سزائے موت دے دی گئی۔ یہ وہی دن ہے جب ایٹمی دھماکوں کی یاد میں قوم پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی سالگرہ مناتی ہے۔

Great British Commentator Rob Smyth writes these memorable words about Team Pakistan.

Great British Commentator Rob Smyth writes these memorable words about Team Pakistan.

“I used to think that Pakistan were the most interesting team in the history of sport. I now realise that they’re the most interesting team in the history of mankind. Their ability to teleport between farce and genius is unparalleled, and at best they are like watching sport directed by David Lynch. Nothing makes a blind bit of sense, key characters appear out from nowhere, supernatural forces are at work and inanimate objects can talk. All you can do is run with the mood and the madness.

“This Captain is different:-
He is not glamorous. Is not shy to express himself in rustic & broken English in front of cameras, even to the extent of consciously creating humor about his lack of fluency in English language.
With least regard to his star image with Lollywood or Bollywood crowd or bill board attraction, he very proudly holds his infant son in his arms & affectionately shares jubilation & smiles with his hijab wearing wife standing in middle of Oval ground with her after the spectacular win.
These images are flashed on screen before he walks up to the victory stand to receive the championship trophy.
He is hafize Quran & now we know why this singular honor has been bestowed upon him during Ramadan.

He is different but he is champion of the champions 👑💖

The debutant of the tournament became “man of the match” in final…
The guy playing his first major tournament gathered the “man of the series” and “golden ball” awards…
The spot fixer who was exiled for his sins, came back to decapitate the top batting order of india to atone for his sins…

A bunch of renegades rebelled against the aristocrats of cricket and humbled them…
The Underdogs defeated the Champions…
David has brought the Goliath down…
Modesty got the better of arrogance…

The weakest batting side scored the highest total of the tournament…
The strongest batting side was dismantled to pave way for the biggest margin of defeat in any ICC tournament final…
The records shattered like glass…
And The lowest ranked team became the Champion of The Champions…

Stats don’t mean anything…opinions don’t count either…paper and analysis mean nothing…

On one’s best day, the ball doesn’t dislodge the bails and the opponents overstep the lines…

The divine has finally spoken approvingly…
And the universe is in admiration of the phenomenon called Team Green

سوالات۔جواب مانگتے ہیں

ایک عزیز دوست جے آئی ٹی کے حوالے سے چند اہم نکات سامنے لائے ہیں جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتاہوں ، ملاحظہ فرمائیں:۔
پاناما لیکس کے بارے میں قائم پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کو سامنے آئے ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ 20اپریل کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے عدالت ِعظمیٰ نے 2مئی کو ایک تین رکن بنچ قائم کردیا۔ یہ بنچ بڑے پانچ رکنی بنچ میں شامل ان تین جج صاحبان پر مشتمل تھا جنہوں نے اکثریتی فیصلہ لکھا۔ اس فیصلے کی روح معاملے کی مکمل چھان بین کرنے کے لئے ایک ایسی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا قیام تھی جسے 60دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں نہایت واضح اور دوٹوک انداز میں لکھا کہ:
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ان ارکان پر مشتمل ہوگی۔
(۱) ایف آئی اے کا ایک سینئر آفیسر جو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے کم نہ ہو اس ٹیم کی سربراہی کرے گا۔
(۲) نیب کا ایک نمائندہ
(۳) سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا نامزد کردہ ایک نمائندہ
(۴)ا سٹیٹ بنک آف پاکستان کا ایک نمائندہ
(۵) ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے نامز کردہ آئی ایس آئی کا ایک تجربہ کار نمائندہ
(۶) ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کی طرف سے نامزد کردہ ایم آئی کا ایک تجربہ کارنمائندہ
عدالتی فیصلے میں اس جے آئی ٹی کے لئے جو طریقہ کار طے کیا گیا وہ یہ تھا کہ اان نامزد ارکان کی سفارش کا اختیار کلی طور پر متعلقہ محکموں/اداروں کے سربراہوں پر چھوڑ دیا گیا۔عدالت خوداس عمل سے الگ ہوگئی۔ وضع کردہ طریقہ کاریہ طے تھا:۔
The heads of the aforesaid departments / institutions shall recommend the names of their nominees for the JIT within seven days from today which shall be placed before us in chambers for nomination and approval.
’’سات دن کے اندر اندر مذکورہ بالا محکموں / اداروں کے سربراہ جے آئی ٹی کے لئے اپنے نامزد کردہ افراد کی سفارشات مرتب کریں گے جو چیمبرز میں ہمارےسامنے حتمی نامزدگی اور منظوری کیلئے پیش کئے جائیں گے۔‘‘
گویا یہ د و مرحلوں پر مشتمل عمل تھا۔
(۱) JIT کے لئے ممبران کی نامزدگی اور سفارش جس کا مکمل اختیار متعلقہ محکموں اور اداروں کےسربراہوں کو دیا گیا۔
(۲) کامل آزادی اور صوابدیدی اختیار کے تحت مرتب کی گئی یہ فہرستیں چیمبرز میں جج صاحبان کو پیش کی جائیں گی اور جج صاحبان ان سفارش کردہ ناموں میںسے کسی ایک رکن کو نامزد کرکے اس کے نام کی منظوری دیںگے۔
پہلے مرحلے کا تعلق محکموں /اداروں کے سربراہوں سے تھا جس سے عدالت ِ عظمیٰ کا قطعی طورپر کوئی واسطہ نہ تھا۔
جبکہ دوسرے مرحلے کا تعلق خود عدالت ِعظمیٰ سے تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنےفیصلے کے تحت عدالت نے اپنے اختیار کو محدود کرلیا۔ جج صاحبان نے خود کوپابند کرلیا کہ وہ انہی ناموں میں سے نام چنیںگے جو ان کے سامنے پیش کئےجائیں گے۔ انہیں کسی مخصوص فردکا نام، محکموں/اداروں کی طرف سے سفارش کردہ ناموں کی فہرست میں ڈالنے یا ڈلوانے کا اختیار نہ تھا۔ عدالتی فیصلے سے تمام متعلقہ محکموں /اداروں کو آگاہ کردیاگیا۔ ان محکموں اور اداروں نے عدالتی فیصلے اور ہدایات کے مطابق تین تین افرادنامزد کرکے 26اپریل تک عدالت ِعظمیٰ کو بھیج دیئے۔
یہاں سے واقعات کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو آج تک میڈیا پر زیربحث ہے لیکن اس کی پراسراریت کم ہونے کے بجائے گہری ہوتی جارہی ہے۔ محکموں /اداروں کی طرف سے سفارشات بھیج دیئے جانے کے صرف ایک دن بعد 27اپریل کو کم از کم دو اداروں سکیورٹی اینڈایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور اسٹیٹ بنک کو تحریری طور پرہدایت کی گئی کہ وہ دو دو مزید نام بھیجیں۔ اسی روز رجسٹرار سپریم کورٹ کے دفتر کے سرکاری ٹیلیفون نمبرز سے دونوں اداروں کو کالز موصول ہوئیں۔ کالز کرنےوالے نے خود کو عدالت کے رجسٹرار اربا ب محمد عارف کے طور پر متعارف کروایا۔ سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین سے گفتگو میں کہا گیا کہ میں ابھی آپ کو وٹس ایپ نمبر سے کال کرتاہوں۔ فوراً بعد وٹس ایپ نمبرسے کال موصول ہوئی۔ خود کو رجسٹرار ظاہر کرنے والے شخص نے چیئرمین ظفرحجازی سے تصدیق کی کہ کیاانہیں دومزید نام بھیجنے کا خط موصول ہو گیا ہے؟ انہوں نے تصدیق کی تو کہا گیا کہ آپ ان دو ناموں میں بلال رسول کا نام شامل کریں۔ رجسٹرار کی طرف سے فیکس کئے گئے خط میں بلال رسول کا کوئی تذکرہ نہ تھا بلکہ صرف اتنا کہا گیا کہ دو مزید نام ارسال کئے جائیں۔ چیئرمین نے اپنے رفقا سے مشورے کے بعد پراسرار وٹس ایپ کال کے بجائے تحریری ہدایت کو ترجیح دی اور دو نئے نام (علی عظیم اکرام اور یاسر منظور) ارسال کردیئے۔ ان میں بلال رسول کا نام شامل نہیں تھا۔
تقریباً اسی طرح کی کہانی اسٹیٹ بنک کی ہے۔ بنک کے ڈپٹی گورنر کے مطابق انہیں 27اپریل کو ہی ویسی ہی ایک کال رجسٹرارکے سرکاری نمبر سے موصول ہوئی۔اسی طرح کہا گیا کہ آپ کو دو مزید نام بھیجنے کے لئے لکھا جارہا ہے۔ اسی طرح کہا گیا کہ ابھی آپ کو میں وٹس ایپ کال کر رہا ہوں۔ اسی طرح وٹس ایپ کال کرکے کہا گیا کہ میں رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب محمد عارف بول رہاہوں۔اسی طرح ہدایت کی گئی کہ آپ دو ناموں میں عامر عزیز کا نام شامل کریں۔
2مئی 2017کو سہ رکنی عملدرآمد بنچ قائم ہو گیا۔ 3مئی کو مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران جج صاحبان نے برہمی کا اظہار کیا اور دونوں اداروں کی طرف سے بھیجے گئے نام مسترد کردیئے۔ جج صاحبان نے کہا کہ ’’ہمارے ساتھ کھیل مت کھیلیں۔ ہیرے جیسے شفاف لوگ چاہئیں۔ کسی کے ہاتھ یرغمال نہیں بنیں گے۔ جے آئی ٹی کے لئے ناموں کا انتخاب خود کریں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ بنک اور سکیورٹی ایکسچینج کے سربراہوں کواگلے روز عدالت میں طلب کرلیا گیا۔ یہ ہدایت بھی جاری کردی گئی کہ دونوں ادارے گریڈ 18 سے اوپر کے تمام افسروں کے نام اپنی فہرست سفارشات میں شامل کریں۔ عدالتی حکم کے مطابق دونوں اداروں نے گریڈ 18 سے اوپر کے افسران کی فہرستیں جمع کرادیں۔ ان فہرستوں میں سے عدالت نے دو نام چن لئے۔ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن سے بلال رسول اور اسٹیٹ بنک سے عامر عزیز۔ یوں JIT تشکیل پاگئی۔
انصار عباسی کی پہلی سٹوری ’’جنگ‘‘ اور ’’دی نیوز‘‘ میں چھپی جس کے بعد اک بھونچال سا آگیا۔ اس کے بعد کئی مزید متعلقہ خبریں سامنے آئیں۔ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور اسٹیٹ بنک نے اپنا تفصیلی موقف پیش کیا۔ میڈیا پر اٹھنے والی بحث نے متعدد سوال پیدا کردیئے۔ اگرچہ نہال ہاشمی کیس کی سماعت کے دوران بنچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہہ دیا کہ نام ہم نے منگوائے تھے لیکن سوالات اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کے واضح جوابات نہیں آرہے۔ مثلاً یہ کہ:۔
(۱) کیا عدالتی فیصلے کے مطابق جج صاحبان کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ متعلقہ اداروں کو مخصوص نام بھیجنے کیلئے کہیں؟
(۲) کیا سکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور اسٹیٹ بنک کو مخصوص ناموں کی نامزدگی کی ہدایت دے کر عدالت نے خود اپنے فیصلے سے انحراف نہیں کیا ؟
(۳) اگر عدالت نے ایسا کیا بھی تو اس کے لئے شفاف طریقہ کار کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟
(۴) 27اپریل کو کی جانے والی کالز کا حکم کس نے دیا؟
(۵) اگر یہ سب کچھ عدالت کی ہدایت پر ہو رہا تھا تو ’’وٹس ایپ‘‘ کی خفیہ کال کا سہارا کیوں لیاگیا؟
(۶) 27اپریل ہی کو دو مزید نام بھیجنے کی تحریری ہدایت میں بلال رسول اور عامر عزیز کے نام کیوں شامل نہیں کئے گئے۔
(۷) ان ناموں کا ذکر نہ تو دفتری نمبر سے ہونے والی فون کال میں تھا نہ تحریری ہدایت میں۔ صرف وٹس ایپ کال میں تھا۔ یہ رازداری کیوں برتی گئی؟
(۸) 3مئی کو سماعت کے دورا ن عدالتی بنچ نے دونوں اداروں کی سرزنش کی۔ گریڈ 18سے اوپر کے افسران کے نام بھی مانگے۔ لیکن کسی مرحلے پر نہیںکہا کہ ہم نے جن دو ناموں کی ہدایت کی تھی وہ کیوں شامل نہیں کئے گئے۔ ایساکیوں ہوا؟
(۹) یہ حسن اتفاق کیسے ممکن ہوا کہ طویل فہرستوں میں سے وہی دو نام چنےگئے جن کی ہدایت وٹس ایپ کالز میں دی گئی تھی۔
(۱۰) کھلے کمرہ ٔ عدالت کی کارروائی اور چیمبرز کے اندر کی کارروائی میں تضاد کیوں ہے؟
(۱۱) کیا سکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور اسٹیٹ بنک کی نمائندگی کرنے والے افراد ، ان اداروں کے سربراہوں کے سفارش کردہ ہیں یا خود عدالت کے نامزد کردہ؟
(۱۲)اگر یہ خود عدالت کے نامزد کردہ ہیں (جیسا کہ وہ ہیں) تو کیا یہ 20اپریل کے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی نہیں؟
(۱۳) کیا یہ سارا عمل ’’شفافیت‘‘ اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے؟
(۱۴) میڈیا میں اٹھنے والے طوفان اور لاتعداد سوالات کے باوجود ابھی تک عدالت کی طرف سے کوئی واضح جواب کیوں نہیں آیا؟
ان سوالات کے جوابات شریک ِ مقدمہ کسی فریق کے مفاد میں ہوں یا نہ ہوں، عدالت کی اپنی ساکھ اور انصاف کے مسلمہ تقاضوں کے لئے بے حد ضروری ہیں کیونکہ ایک چیز پوری طرح جھلک رہی ہے کہ JIT میں مخصوص افراد کو لانے کے لئے کچھ نہ

عطا ء الحق قاسمی
JUNE 15, 2017 | 12:00 AM

 کچھ ایساضرور ہو رہا تھا جو کھلی عدالت میں سب کے سامنے نہیں تھا۔

قران کی موسیقی

قران سے متعلق ایک ایسی عجیب و غریب حقیقت جو انتہائ حیران کن بھی ہے اور متاثر کن بھی۔
کچھ منٹ نکال کر پورا پڑھ لیجئے۔ حیران آپ بھی رہ جائیں گے۔۔ اور شاید دل بھی بھر آئے۔ شکریہ

۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب ”محاضرات قرآنی “کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔ غازی صاحب لکھتے ہیں:
” آپ نے ڈاکٹر حمیداللہ صاحب کا نام سنا ہوگا، انہوں نے خود براہ راست مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ غالباً 1958-1957ء میں ایک شخص ان کے پاس آیا۔ ان کی زندگی کا یہ ایک عام معمول تھا کہ ہر روز دو چار لوگ ان کے پاس آتے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔
ڈاکٹر صاحب نے حسب عادت ان کو کلمہ پڑھوایا اور اسلام کا مختصر تعارف ان کے سامنے پیش کردیا۔ اپنی بعض کتابیں انہیں دے دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کا معمول تھا کہ جب بھی کوئی شخص ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا تھا تو وہ اس سے یہ ضرور پوچھا کرتے تھے کہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا ہے؟
1948ء سے 19966ء تک یہ معمول رہا کہ ڈاکٹر صاحب کے دست مبارک پر اوسطاً دو افراد روزانہ اسلام قبول کیا کرتے تھے۔عموماً لوگ اسلام کے بارے میں اپنے جو تاثرات بیان کیا کرتے تھے ،وہ ملتے جلتے ہوتے تھے۔ ان میں نسبتاً زیادہ اہم اور نئی باتوں کو ڈاکٹر صاحب اپنے پاس قلم بند کرلیا کرتے تھے۔ اس شخص نے جو بات بتائی، وہ ڈاکٹر صاحب کے بقول بڑی عجیب وغریب اور منفرد نوعیت کی چیز تھی اور میرے لیے بھی بے حد حیرت انگیز تھی۔ اس نے جو کچھ کہا ،اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا ارشاد تھا کہ میں اسے بالکل نہیں سمجھا اور میں اس کے بارے میں کوئی فنی رائے نہیں دے سکتا۔
اس شخص نے بتایا: میرا نام ژاک ژیلبیر ہے۔ میں فرانسیسی بولنے والی دنیا کا سب سے بڑا موسیقار ہوں۔ میرے بنائے اور گائے ہوئے گانے فرانسیسی زبان بولنے والی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت میں جانے کا موقع ملا۔ جب میں وہاں پہنچا تو وہاں سب لوگ جمع ہوچکے تھے اور نہایت خاموشی سے ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔
جب میں نے وہ موسیقی سنی تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے یہ موسیقی کی دنیا کی کوئی بہت ہی اونچی چیز ہے، جو یہ لوگ سن رہے ہیں۔ میں نے خود آوازوں کی جو دھنیں اور ان کا جو نشیب وفراز ایجاد کیا ہے ،یہ موسیقی اس سے بھی بہت آگے ہے، بلکہ موسیقی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے ابھی دنیا کو بہت وقت درکار ہے۔ میں حیران تھا کہ آخر یہ کس شخص کی ایجاد کردہ موسیقی ہوسکتی ہے اور اس کی دھنیں آخر کس نے ترتیب دی ہیں۔جب میں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ یہ دھنیں کس نے بنائی ہیں تو لوگوں نے مجھے اشارہ سے خاموش کردیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پھر یہی بات پوچھی، لیکن وہاں موجود حاضرین نے مجھے خاموش کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اس گفتگو کے دوران میں وہ فن موسیقی کی کچھ اصطلاحات بھی استعمال کررہا تھا، جن سے میں واقف نہیں، کیوں فن موسیقی میرا میدان نہیں۔
قصہ مختصر جب وہ موسیقی ختم ہوگئی اور وہ آواز بند ہوگئی تو پھر اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ سب کیا تھا ۔لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں تھی، بلکہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اور فلاں قاری کی تلاوت ہے۔ موسیقار نے کہا کہ یقینا یہ کسی قاری کی تلاوت ہوگی اور یہ قرآن ہوگا، مگر اس کی یہ موسیقی کس نے ترتیب دی ہے اور یہ دھنیں کس کی بنائی ہوئی ہیں؟ وہاں موجود مسلمان حاضرین نے بیک زبان وضاحت کی کہ نہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی ہیں اور نہ ہی یہ قاری صاحب موسیقی کی ابجد سے واقف ہیں۔اس موسیقار نے جواب میں کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں لیکن اسے یقین دلایا گیا کہ قرآن مجید کا کسی دھن سے یا فن موسیقی سے کبھی کوئی تعلق ہی نہیں رہا۔ یہ فن تجوید ہے اور ایک بالکل الگ چیز ہے۔ اس نے پھر یہ پوچھا کہ اچھا مجھے یہ بتاؤ کہ تجوید اور قراء ت کا یہ فن کب ایجاد ہوا؟ اس پر لوگوں نے بتایا کہ یہ فن تو چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کو قرآن مجید عطا فرمایا تھا تو فن تجوید کے اصولوں کے ساتھ ہی عطا فرمایا تھا۔ اس پر اس موسیقار نے کہا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لوگوں کو قرآن مجید اسی طرح سکھایا ہے جیسا کہ میں نے ابھی سنا ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس لیے کہ فن موسیقی کے جو قواعد اور ضوابط اس طرز قراء ت میں نظر آتے ہیں ،وہ اتنے اعلیٰ وارفع ہیں کہ دنیا ابھی وہاں تک نہیں پہنچی۔
ڈاکٹر حمیداللہ صاحب فرماتے تھے کہ میں اس کی یہ بات سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ بعد میں ،میں نے اور بھی قراء کی تلاوت قرآن کو سنا، مسجد میں جاکر سنا اور مختلف لوگوں سے پڑھواکر سنا اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور اگر یہ اللہ کی کتاب ہے تو اس کے لانے والے یقینا اللہ کے رسول تھے، اس لیے آپ مجھے مسلمان کرلیں۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیا لیکن میں نہیں جانتا کہ جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ کس حد تک درست تھا، اس لیے کہ میں اس فن کا آدمی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ میں نے ایک الجزائری مسلمان کو جو پیرس میں زیر تعلیم تھا، اس نئے موسیقار مسلمان کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے اور کچھ پریشان سے معلوم ہوتے تھے۔الجزائری معلم نے مجھے بتایا کہ وہ نو مسلم قرآن مجید کے بارے میں کچھ ایسے شکوک کا اظہار کررہا ہے جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ جس بنیاد پر یہ شخص ایمان لایا تھا ،وہ بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی اب اس کے شکوک کا میں کیا جواب دوں گا اور کیسے دوں گا۔لیکن اللہ کا نام لے کر پوچھا کہ بتاؤ تمہیں کیا شک ہے؟ اس نومسلم نے کہا کہ آپ نے مجھے یہ بتایا تھا اور کتابوں میں بھی میں نے پڑھا ہے کہ قرآن مجید بعینہ اسی شکل میں آج موجود ہے جس شکل میں اس کے لانے والے پیغمبر علیہ الصلاة والسلام نے اسے صحابہ کرام کے سپرد کیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اب اس نے کہا کہ ان صاحب نے مجھے اب تک جتنا قرآن مجید پڑھایا ہے ،اس میں ایک جگہ کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کوئی نہ کوئی چیز ضرور حذف ہوگئی ہے۔اس نے بتایا کہ انہوں نے مجھے سورہٴ نصر پڑھائی ہے اور اس میں افواجاً اور فسبح کے درمیان خلا ہے۔ جس طرح انہوں نے مجھے پڑھایا ہے ،وہاں افواجاً پر وقف کیا گیا ہے۔وقف کرنے سے وہاں سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے جو نہیں ٹوٹنا چاہیے جبکہ میرا فن کہتا ہے کہ یہاں خلا نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ سن کر میرے پیروں تلے زمیں نکل گئی، اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شبہ کا جواب کیا دیں اور کس طرح مطمئن کریں۔ کہتے ہیں کہ میں نے فوراً دنیائے اسلام پر نگاہ دوڑائی تو کوئی ایک فرد بھی ایسا نظر نہیں آیا جو فن موسیقی سے بھی واقفیت رکھتا ہو اور تجوید بھی جانتا ہو۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ چند سیکنڈ کی شش وپنج کے بعد بالکل اچانک اور یکایک میرے ذہن میں ایک پرانی بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی کہ اپنے بچپن میں جب مکتب میں قرآن مجید پڑھا کرتا تھا تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجاً پر وقف نہیں کرنا چاہیے بلکہ افواجاً کو بعد کے لفظ سے ملا کر پڑھا جائے۔ ایک مرتبہ میں نے افواجاً پر وقف کیا تھا تو اس پر انہوں نے مجھے سزا دی تھی اور سختی سے تاکید کی تھی کہ افواجاً کو آگے ملا کر پڑھا کریں۔میں نے سوچا کہ شاید اس بات سے اس کا شبہ دور ہوجائے اور اس کو اطمینان ہوجائے۔ میں نے اسے بتایا کہ آپ کے جو پڑھانے والے ہیں، وہ تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔ دراصل یہاں اس لفظ کو غنہ کے ساتھ آگے سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ افواجاً فسبح۔ ڈاکٹر صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ وہ خوشی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا اور مجھے گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگا اور کہنے لگا کہ واقعی ایسے ہی ہونا چاہیے۔
یہ سن کر اس کو میں نے ایک دوسرے قاری کے سپرد کردیا جس نے اس شخص کو پورے قرآن پاک کی تعلیم دی۔ وہ وقتاً فوقتا ًمجھ سے ملتا تھا اور بہت سردھنتا تھا کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ وہ بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب اسلامی زندگی گزارنے کے بعد 1970ء کے لگ بھگ اس کا انتقال ہوگیا۔
اس واقعے سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی جو صوتیات ہے، یہ علم وفن کی ایک ایسی دنیا ہے جس میں کوئی محقق آج تک نہیں اترا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کے اس پہلو پر اب تک کسی نے اس انداز سے غور وخوض کیا ہے۔
(محاضرات قرآنی ، ڈاکٹر محمود احمد
-بشکریہ

بے روزگار احباب متوجہ ہوں !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب منجھے ہوئے کالم نگار ہیں !!روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحے کی زینت ہیں ! اتفاقاً کل اُن کا کالم نظر سے گزرا !! کسی بہت ہی پہنچے ہوئے بابا جی کا ذکر تھا !!
پُورے کالم میں بابا جی کی تین کرامتوں کا ذکر تھا ! ایک تو بابا جی نے ڈاکٹر صاحب کے انتہائی قابل دوست کو امریکہ میں نوکری کی خوشخبری دی !! دوم اُس دوست کو تیسری اولاد کا مژدہ جانفزا سُنایا !! اور پھر کافی عرصے بعد جب ڈاکٹر صاحب کے وہ دوست دوبارہ بابا جی سے ملنے آئےتو بابا جی اُن سے شدید ناراض تھے !! کیونکہ اُن کے ہاتھوں سے اُنہیں کسی قتل کی بُو آ رہی تھی !! ڈاکٹر صاحب کے وہ دوست اس بار بھی بہت حیران ہوئے کہ اتنے خفیہ طریقے سے انجام دیے گئے تیسرے بچے کے اسقاطِ حمل کی خبر بابا جی تک کیسے پہنچ گئی !!!
لگتا ہے یہ بابوں کا موضوع اب میری جان چھوڑنے والا نہیں !! مُجھ سے جبراً کُچھ نہیں لکھا جاتا !! بس دماغی رو کسی سمت بہک جائے تو پھر بریک نہیں لگتی !!
ہمارے لیے مقامِ فخر ہے کہ ہمارا معاشرہ بابوں کے معاملے میں اس حد تک خود کفیل ہو چُکا ہے کہ ہم بابے ایکسپورٹ بھی کر سکتے ہیں !!
دُنیا بھر میں انتہائی امیر کبیر اور پڑھے لکھے لوگوں کو بھی چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے لیے مہنگے مہنگے ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں !!
بابے جب گھر بیٹھے امریکی کمپنیوں کے معاملات جان سکتے ہیں اور نا محرم عورتوں کے رحم کے حالات تک کی خبر رکھتے ہیں تو چھوٹے موٹے لیبارٹری ٹیسٹ اور ہلکی پھلکی موسم کی پیشنگوئیاں کون سا بڑا مسئلہ ہے !!
گھر کی دال مرغی برابر والا معاملہ ہے کہ ہمیں اپنے بابوں کی کوئی قدر نہیں !! ورنہ اُن کے کمالات کی خبر ترقی یافتہ قوموں تک پہنچ جائے تو وہ ہمارے تمام بابے ریمنڈ ڈیوس کی قیمت سے دوگنی قیمت میں خرید کر لے جائیں !!
بابوں کی متعدد اقسام سے ہمارا معاشرہ مالا مال ہے !! جنکی اِکا دُکا خبریں کبھی کبھار میڈیا میں بھی آ جاتی ہیں !
ایک خبر چینی سے ذیابیطس کا علاج کرنے والے بابے کی بھی آئی تھی !!
جس نے سینکڑوں مریضوں کو شوگر سمیت کیفر کردار تک پہنچایا تھا !!
اُس وقت میرا گمان تھا کہ یہ اس سلسلے کا پہلا اور آخری بابا ہو گا !! لیکن ایک تازہ ترین واقعے سے پتا چلا کہ چینی والے بابے وسیع پیمانے پر سرگرمِ عمل ہیں !!
مبلغ پانچ سو روپے کے عوض وہ مُٹھی بھر چینی مریض کو دیتے ہیں اور ذیابیطس ختم !! بس مریض پر ایک شرط لگاتے ہیں کہ ٹیسٹ نہیں کروانا !! اگر ٹیسٹ کروایا تو ٹیسٹ کی نحوست اور بابا پر شک کی سزا کے طور پر ذیابیطس واپس پازیٹو آ جائے گی !! !!
اِن بابوں کی سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ یہ صرف لاعلاج امراض کا علاج کرتے ہیں تاکہ بعد میں کسی بھی قسم کی گواہی یا منفی پروپیگنڈے کے لیے مریض باقی نہ رہے !!
ایک ذاتی گھڑا ہوا واقعہ سُناتا ہوں کہ اپنے ایک قریبی دوست کے ساتھ ایک ہیپاٹائٹس بی اور سی کا علاج کرنے والے بابا کے پاس جانا ہوا !! بابے کی فیس اڑھائی ہزارروپے تھی اور شرط وہی کہ علاج کے بعد ٹیسٹ نہیں کروانا !! بابا شکل سے کُچھ اَن پڑھ اَن پڑھ سا لگا تو میری متجسس طبیعت نے ایک سوال داغ دیا کہ بابا جی آپ ہیپاٹائٹس بی اور سی کا علاج تو کرتے ہیں کیا سی سے اگلے حرف کے بارے میں کُچھ بتائیں گے کہ وہ کونسا ہے !!
بابا جلال میں آ گیا !!
دھاڑ کے بولا کہ تُو ہمیں جاہل سمجھتا ہے !!
ہم ہیپاٹئٹس اے بی سی ڈی ای ایف جی ایچ آئی جے سے ہیپاٹائٹس زیڈ تک کا علاج کرتے ہیں !!
اور جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو تُو نے میٹرک کا امتحآن ایک بار دیا ہوگا ہم نے چار بار دیا تھا !! پانچویں بار بھی دیتے لیکن ہم سلوک کے راستے کے مسافر بن گئے ! اور آج دیکھ لے کہ پڑھ پڑھ کے سر سفید کرنے والے بھی ہمارے سامنے دو زانو بیٹھے ہوتے ہیں !!
کینسر والے بابوں کی تو بات ہی کیا ہے !! یہ وہ بابے ہوتے ہیں جو صرف لاعلاج کینسر کا ہی علاج کرتے ہیں !! اور تقریباً ہر کیس میں لواحقین کے لیے آخری جملہ یہی ہوتا ہے کہ رب کی لکھی سے کون لڑ سکتا ہے !!
ہمارے ایک دوست پانچ سالہ پُرانے آدھے سر کے درد کے علاج کے لیے سندھ بھر میں مشہور ترین ایک بابے کے ڈیفنس والے آستانے پر تشریف لے گئے !! یہ بابا جی تو اتنے مشہورو مقبول ہیں کہ اگر نام لے لُوں تو کم از کم سو دو احباب مجھ پر لعنت بھیجتے ہوئے میرے حلقہ احباب سے رخصت ہو جائیں گے !!
خیر وہ دوست جب اُن بابا جی کے دو ہزار گز پر بنے آستاے پر پہنچے تو وہ اپنے گارڈز کے ہمراہ آستانے سے باہر کہیں تشریف لے جارہے تھے !!
اس دوست کو بابا جی کے جو مُرید ساتھ لے گئے تھے انہوں نے آستانے کی انتظامیہ سے پُوچھا کہ بابا جی کہاں کے لیے رُخصت ہوئے ہیں !! تو جواب مِلا کہ اپنے کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کے مسائل کے حؤالے سے بابا جی کی کسی کارڈیالوجسٹ کے ساتھ اپائنٹمنٹ تھی! میرے دوست کے بقول بابا جی کی اس سے بڑی کرامت کیا ہوگی کہ میرا سر درد تو حیرت سے ہی ٹھیک ہو گیا !!
آپ مانیں یا نہ مانیں بابوں کی صنعت سے ہمارے مُلک میں بیروزگاری کی شرح میں خاطر خواہ کمی آئی ہے !!
ایک تو بابوں کا اپنا روزگار اوپر سے جو قریبی مُریدین ہوتے ہیں وہ دراصل بابوں کے دھندے میں پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں !! یہ قریبی مریدین نئے سائلین کے راز اکھٹے کرتے ہیں جو بوقت ضرورت بابے سائلین کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں !!
بحیثیت کیرئیر کاؤنسلر پُورے اعتماد کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ آپ بھی اگر اپنے معاشی حالات سے پریشان ہیں تو اس شعبے میں قسمت آزمائی کر سکتے ہیں !!
یہ کام واجبی سی انویسٹمنٹ سے شروع کیا جا سکتا ہے !! بس ٹیم مضبو ط ہونی چاہیے !! پہلے مرحلے میں آپ کسی ایسے علاقے کا انتخاب کیجیے جہاں آپ کو ذاتی طور پر جاننے والا کوئی نہ ہو !!
شروع کے ایک دو ماہ کا راشن اور آستانے کا کرایہ آپ کے پاس ہونا لازمی ہے !!
آپ کے آستانے کے باہر آپ کا جو نام لکھا ہو اُس میں کم از کم سات الفاظ لازم ہیں !!
آپ اپنے آپ کو کسی نئے منفرد سلسلے سے بھی منسلک کر سکتے ہیں اور روایتی مشہور سلاسل کو بھی بطور چارہ استعمال کیا جاسکتا ہے !!
بے شک انتظار گاہ میں ایک سائل ہی کیوں نہ ہو !! اُسے تھکا کر اِذنِ باریابی دیجیے !! ہماری قوم بسہولت مُلاقات کے لیے دستیاب ہستیوں کو کبھی عظیم نہیں مانتی !!
بہت جلدی رزلٹ درکار ہو تو رینٹ پر کوئی لش پش گاڑی بھی لے کر آستانے کے باہر کھڑی کی جا سکتی ہے !! دو چار مہینے میں ویسی ہی گاڑی آپ کو بطور نذرانہ بھی مل سکتی ہے !!
سائل کے ساتھ فری ہونا تو اس پیشے میں حرام ہے !! جتنا آپ سائل کو ذلیل کریں گے اُتنا آپ کا درجہ سائل کے دماغ میں بلند ہوتا چلا جائے گا !!
ہفتے کے ست دنوں میں صرف تین دن اپنا دیدار کروائیے !! کامیاب ترین حکمت عملی یہ ہے کہ سائلین کی خدمت بلامعاوضہ کیجیے !! اس حکمت عملی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سائلین حیلوں بہانوں سے آپ کا نذرانہ آپ کو دے کر ہی جائیں گے !! اور آپ کی شہرت بھی کُچھ یُوں ہو گی کہ بابا جی تو بطورِ اجرانہ کُچھ لیتے ہی نہیں !!
ہر سائل کو مثبت دعا دیجیے !! اللہ کے ہاں کام تو یہودیوں کے بھی نہیں رُکتے !! جس جس کا کام ہوتا چلا جائے گا وہ آپ کا پکا مُرید ہوتا چلا جائے گا !! !!
اور ہاں آخری اور کام کا مشورہ کہ اپنے قریبی مُریدین یعنی پارٹنرز کو اُن کا حصہ بروقت اور فراخ دِلی سے ادا کرنا ضروری ہے !! ورنہ وہ آپ کے آستانے کو آپ کے مزار میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں !! پھر آپ کو قبر میں بھی سُکون کی نیند نصیب نہیں ہو گی !! ایک تو فرشتوں کی چھترول اُوپر سے وقت بے وقت کی محافلِ سماع !!
بحیثیت کیرئیر کاؤنسلر آخری گِھسا پِٹا مشورہ بھی سُن لیں !! کہ کسی بھی کام میں شاندار کامیابی کے لیے مستقل مزاجی ، مشقت اور مثبت طرزِ فکر لازمی عناصر ہیں !! اِن کا دامن تھام کر رکھیے اللہ برکت عطا فرمائے گا !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابی مکھنوی
٭ ہمارے سلسلہ رزقیہ روٹیہ و کاہلیہ کا ہفتہ وار اجتماع بروز ہفتہ بوقت ظہر تا عصر منعقد ہوتا ہے !! سائلین و شائقین آستانہ عالیہ کے ایڈریس کے لیے ان باکس میں رابطہ فرما سکتے ہیں !! دعا اور مشورہ فی سبیل اللہ دیے جاتے ہیں !! علاج آپ کو اپنے خرچے پر کروانا ہو گا !!!

An ignoramus par excellence

In Pakistan, two-thirds of the professional elite – lawyers, doctors, engineers, architects, chartered accountants, literary writers, artists, players, athletes, professors, corporate managers and media persons, as well as the business elite, political elite, military elite, bureaucratic elite and judicial elite – is relatively uninformed and unconcerned about, uninterested in and unimpressed by the macro-level issues threatening social, national, regional and global life. How far can you go with the one-third elite that are articulate enough to run state and society?

Why are financial, social and educational resources not building the nation? Why are our Afghan, Iran, India and US policies in a mess? Why is the social space increasingly violent? The answer to that is the way the elite of various persuasions are de-institutionalising public life: parliamentarians conducting their business outside parliament; lawyers operating beyond the purview of the law; police regularly committing human rights abuses; and media blatantly taking sides with some forces against others. Half of the elite are India-sick. The other half, America-sick. The two categories are massively overlapping.

While the middle class has been gaining access to higher education by leaps and bounds, both at home and abroad, the counter-currents of the medievalisation of intellect keep it bound to pre-scientific and illiberal patterns of thought and practice. There is a craze for information technology. But, the mind is blocked because the schooling is heavily ideologised. At the age of 16-18, a young man or woman moves into higher education without a modern intellectual postulate rooted in social sciences to support him or her through the career ahead.

The highly educated professional elite at the one end and the half-literate mass of humanity on the other carry similarly uninformed opinions about the West, the Islamic world, corruption, Indian bellicosity and modernity in general. At home, both are more or less equally ignorant about the impending dangers of population explosion, water shortage, global warming, diplomatic isolation of the country and oppressive cultural practices relating to women, minorities and the working classes in rural and urban sectors.

The intellectual postulate of a school graduate in Western society is characterised by developments in the world of ideas: about the solar system from Kepler and Galileo onwards; scientific thinking from Roger Bacon down to Spencer, Parsons and others; medicine from dozens of men like Louise Pasture; various approaches to historical evolution from Hegel, Marx and others; the ancient world of Dinosaurs; the primitive man; pre-historical developments on Planet Earth such as the glacial and post-glacial ages; and the tumultuous modern history dotted by the discovery of the new world, colonialism, religious and national wars and the march towards a global civilisation.

As opposed to this, the modernist elite of Pakistan have an intellectual postulate based on a school education that remains insular, medieval and self-serving at best. Those who pursue professional training are cut off from the social sciences at the tender age of 18-20 – never to come back. The same happens to young cadets who enter the armed forces at the most impressionable age. After that, they are cut off from the social science tradition. Their ‘educational’ pursuits after joining the military, the so-called ‘post-recruitment socialisation’, can at best be called institutional training but hardly ‘liberal’ education. The civil bureaucracy is relatively exposed to Western ideas and practices because it acquires a ‘liberal’ framework of social and cultural studies through training abroad. But the ideologically-laden intellectual postulate internalised at a young age continues to operate at least on a majority of civilian officers.

There are three major routes to de-educating the minds of the educated elite. One is the overbearing ideological hold over the present and future decision-makers whose judgement is thus tainted by lack of pragmatism and sound objective knowledge. Two, educational textbooks have kept the scope of knowledge limited by time and space. A range of perspectives, from world politics to the leading idea-systems, remain outside the intellectual landscape of the educated Pakistanis. Similarly, history – through the medieval age, ancient civilisations, and pastoral life down to the industrial revolution – remains alien to the imagination of the articulate public.

Thirdly, this state of affairs – the closing of the world on oneself – is the product of an acute sense of insecurity that has turned into paranoia over time. As a result, Pakistani elite groups of various persuasions became increasingly introverted. The defence perspective on external relations has massively contributed to securitisation of the national vision. After 70 years, the elite’s world starts and ends at our borders. They show insensitivity towards the way the world looks at Pakistan as an exporter of terrorism, a failing state and a place of religio-sectarian conflict.

A large part of the expanding middle class – drawing on men and women from the business community, civil bureaucracy, military cadres and higher judiciary – finds the clash among Islamic and Western civilisations imminent. The GDP of Pakistan (at $1500 per annum) as compared to the Swiss GDP (at $78,000) is not part of the calculation of the state elite about their power. The acute dependence of all elite groups on the prevalent Western health system, education system, bureaucratic system, parliamentary system and justice system in Pakistan is most typically not part of their intellectual kit.

Ignorance about the contemporary world has led to a worldview based on alternative globality, based on a home-spun vision of the international community. From textbooks leading to misconception of history, politics and culture to the media-sponsored narrative of denial of Pakistan’s growing isolation and upholding of ideological causes, the process of the radicalisation of the middle class is alarmingly visible, except to itself. There is no effort to eliminate brutal cultural practices against religious minorities and women under customary law. The elite are ignorant about these practices, except in the form of horrifying news headlines.

An equally dreadful phenomenon is the population explosion. The generation of elite groups in the 21st century Pakistan is far behind those in the 1960s and 1970s who struggled to address the issue of an increasingly adverse relationship between resources and eating mouths through a viable population planning programme. While the population pressure is a drain on the available resources, these resources are themselves depleting. The most obvious example is water. From melting of glaciers in the north to the changing climate in general, the issue of water supply for future generations is hardly a part of the elite’s everyday discourse. Beyond the national level, the issue of global warming as highlighted by the Paris Agreement is also relegated to a secondary position only fit for diplomats to deal with.

A majority of the elite are ignoramuses par excellence. They offer soft, partial and partisan solutions of hard and imposing problems that demand immediate and comprehensive actions. Only a minority of the elite represent the light at the end of the tunnel. A larger section suffers from insularity of vision and thought. This points to an acute crisis of social sciences in Pakistan that is responsible for providing value-based and ideologically-laden facts in the name of data-input for the purpose of policy formation.

The writer is a professor at LUMS.